کشمیر پر حکمرانوں کا رویہ غیر سنجیدہ , پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس

پاکستان
12
0
sample-ad

اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے ،نیوز ایجنسیاں)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے نیشنل ایکشن پلان برائے کشمیر، بھارت پر عالمی پابندیاں لگانے ،سیز فائرلائن کو ختم کرنے ، او آئی سی کی طرف سے بھارت کے ہر قسم کے سماجی، معاشی بائیکاٹ کرنے اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر کشمیر کے لئے عالمی مہم چلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر حکمرانوں کے غیر سنجیدہ رویے پر پوری قوم حیران اور پریشان ہے ۔27 اگست کے بعد پاکستان میں داخلی اختلافات کو فروغ دیا گیا۔ قومی اتفاق رائے کو سبوتاژ کیا گیا اور سیاسی لڑائی اور اختلافات کی وجہ سے مسئلہ کشمیر دب کر رہ گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جلد از جلد پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائے اور قومی قیادت کی وسیع تر مشاورت کے بعد ایک روڈ میپ طے کیا جائے ۔پاکستان بھارت کے ساتھ شملہ و لاہور معاہدے توڑ دے ۔کشمیر کی آزادی کے مسئلہ پر پوری قوم متحد ہے اور حکمرانوں سے مطالبہ کررہی ہے کہ اس مسئلہ کے حل کے لیے فوری کوئی عملی قدم اٹھایا جائے مگرحکمران باتوں ،و عدوں اور دعوئوں سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں، ہمارے حکمران کشمیریوں کو مرتا، بلکتا اور جلتا دیکھ رہے ہیں، لگتا ہے احساس مر چکا ہے ۔ 22 دسمبر کو لاکھوں لوگ حکمرانوں کے ضمیر کو جگانے کیلئے اسلام آباد کی سڑکوں پر نکلیں گے ،حکمران جاگ جائیں ،وگر نہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام اب ہمارے منتظر ہیں، جہاد فی سبیل للہ کا ماٹو رکھنے والے ادارے خاموش کیوں ہیں، اپنے ماٹو کی لاج رکھیں، ہماری نہیں سنتے تو اللہ کے پیغام کو سنیں۔کشمیر پر خاموش تماشائی نہ بنیں، اس سے پاکستان کا مستقبل وابستہ ہے ۔عمران خان نے فتویٰ جاری کیا کہ جو ایل او سی کی طرف جائے گا وہ غدار ہو گا ،جس نے قوم میں انتہائی مایوسی پیدا کی ۔ قوم کشمیر کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے ۔بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے وزیر اعظم کو آخری خط بھی لکھ دیا ،اقوام متحدہ میں 27اگست کی تقریر کے بعد حکمرانوں سے امید کی جارہی تھی کہ وہ قوم کو جہاد کے لیے تیار کریں گے اور کشمیر کی آزادی کے لیے کوئی واضح اور ٹھوس قدم اٹھائیں گے ،مگر حکمران ٹس سے مس نہیں ہورہے ۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.