معیشت مستحکم , سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ تیزی , بیرونی ادائیگیاں بہتر

پاکستان
14
0
sample-ad

کراچی ، اسلام آباد(بزنس رپورٹر،خبرنگارخصوصی، مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں)سٹاک مارکیٹ میں نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر ریکارڈ تیزی دیکھی گئی ،کے ایس ای100انڈیکس836پوائنٹس اضافے سے 10ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جبکہ کارو باری حجم 30ماہ کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ پیر کے روزکے ایس ای100انڈیکس 836.57پوائنٹس اضافے سے 40ہزار کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 40124.22پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچ گیا جبکہ 74.32فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، کاروباری حجم بھی گزشتہ ٹریڈنگ سیشن کی نسبت 29فیصد زائد رہا ،کاروباری ہفتے کے پہلے روز سٹاک مارکیٹ میں بینکنگ ،توانائی ،سیمنٹ ،فوڈز اور کیمیکل سیکٹرز میں ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس 9بالائی حدوں کو عبور کرتے ہوئے 40142پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچ گیا، اس دوران معمولی پرافٹ ٹیکنگ بھی ہوئی لیکن مجموعی طور پر زبردست تیزی کا رجحان ٹریڈنگ کے آخر تک برقرار رہا اور مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 836.57پوائنٹس اضافے سے 40124.22پوائنٹس پر بند ہوا،اسی طرح کے ایس ای30انڈیکس 377.62پوائنٹس اضافے سے 18387.87پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 432.93پوائنٹس ا ضافے سے 28271.45پوائنٹس پر بند ہوا، تیزی کے باعث مارکیٹ کے سرمائے میں ایک کھرب16ارب82کروڑ31لاکھ روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم بڑھ کر76کھرب28ارب 79کروڑ16لاکھ روپے ہو گیا،55کروڑ73لاکھ 94ہزار حصص کا کاروبار ہوا،گزشتہ روز مجموعی طور پر 409کمپنیوں کا کاروبار ہوا ،جن میں سے 304کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،89میں کمی اور16 کے حصص میں استحکام رہا۔معاشی ماہرین کے مطابق تیزی کی بڑی وجہ سٹاک مارکیٹ کا چینی کمپنی کیساتھ معاہدہ بتایا جا رہا ہے ، سیاسی حالات میں غیر یقینی کے خاتمے اور موڈیز سمیت بین الاقوامی اداروں کی طرف سے بہترین خبروں کے باعث سرمایہ کار زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں، امکان یہی ہے کہ رواں ہفتے یہ تسلسل برقرار رہے گا۔ اے پی پی کے مطابق عالمی معاشی درجہ بندی کرنے والی مالیاتی ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی معیشت پرتازہ رپورٹ جاری کر دی ، جس میں پاکستان کی آؤٹ لک کو منفی سے بی تھری مستحکم کر دیا گیا ،رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان نے بین الاقوامی ادائیگیوں کی صورتحال بہتر کی ہے ،مثبت اقدامات کی وجہ سے معاشی صورتحال میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں،حکومتی پالیسیوں سے محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان کی ادائیگیوں کی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔ موڈیزنے دوسری اور تیسری پاکستان انٹرنیشنل سکوک کمپنی لمیٹڈ کے حوالے سے بی تھری فارن کرنسی ریٹنگ کی تصدیق کر دی ،کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی، پالیسی فریم ورک اور دیگر اقدامات سے بیرونی معاشی خطرات میں کمی رہے گی، تاہم غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے ،رواں اور آئندہ مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں جی ڈی پی کے تقریباً 2.2 فیصد تک کمی جاری رہنے کا امکان ہے ، جو مالی سال 18-2017میں 6 فیصد سے زائد اور مالی سال 19-2018میں تقریباً 5 فیصد تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پالیسی اقدامات اور دیگر وجوہات کی بنا پر ادائیگیوں کے توازن میں بہتری کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے ،پاکستان کی بی اے تھری لوکل کرنسی بانڈ اور ڈیپازٹ سیلنگ میں تبدیلی نہیں کی گئی،بی ٹو فارن کرنسی بانڈ سیلنگ اور سی اے اے ون فارن کرنسی ڈیپازٹ سیلنگ بھی وہی رہے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ درآمدات میں کمی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی جبکہ بجلی کے منصوبوں کی تکمیل سے بھی درآمدات میں کمی آئے گی اور بجلی کی پیداوار میں ڈیزل کے بجائے کوئلے ، قدرتی گیس کے استعمال اور پن بجلی کی پیداوار سے بتدریج تیل کی درآمدات کم ہوں گی۔ موڈیز نے کہا پچھلے 18 ماہ کے دوران ایکسچینج ریٹ میں ردوبدل سے برآمدات میں بتدریج اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی آئی،حکومت ملک کی تجارتی مسابقت بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے اور حال ہی میں نیشنل ٹیرف پالیسی تیار کی گئی ، جس کا مقصد برآمدات کیلئے سہو لتیں فراہم کرنا ہے ،اگر تجارت کے تناظر میں بہتری کیلئے اقدامات کئے جاتے ہیں تو اس سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت نیا سٹیٹ بینک ایکٹ متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ حکومتی قرضوں کیلئے مرکزی بینک کی فنانسنگ روکی جا سکے اور سٹیٹ بینک کے قیمت کے استحکام کے بنیادی مقصد کی وضاحت کی جا سکے ، پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کچھ ماہ کے دوران7سے 8 ارب ڈالر کے لگ بھگ رہے جو 2 سے ڈھائی ماہ تک اشیا کی درآمد کیلئے کافی ہیں۔ موڈیز نے توقع ظاہر کی کہ مالی سال 20-2019میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 8.6 فیصد کے لگ بھگ رہے گا جو 19-2018میں 8.9 فیصد تھا اور اسے 23-2021تک تقریباً 7 فیصد تک لایا جائے گا، جی ڈی پی کے تناسب سے حکومت کا ریونیو بڑھنے کا امکان ہے اور ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کیلئے مالیاتی حکام نے کئی ٹیکس استثنیٰ اور رعایتیں ختم کی ہیں اور انکم ٹیکس کیلئے کم از کم تھریش ہولڈ میں کمی لائی گئی، حکام ٹیکس چوری روکنے اور سیلز ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کیلئے آٹو میٹک انکم ٹیکس فائلنگ کا نظام بھی متعارف کرا رہے ہیں، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی حمایت سے ریونیو اقدامات موثر بنائے جا سکتے ہیں ،تاہم موڈیز نے یہ تخمینہ لگایا کہ اقتصادی نمو کے ماحول میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقرر کیا جانے والا ریونیو ہدف مکمل طور پر حاصل کرنا چیلنج ہوگا، مالی سال 20-2019میں پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو پچھلے مالی سال کے 3.3 فیصد کے مقابلے میں 2.9 فیصد تک رہنے کی توقع ہے ، اخراجات کے شعبہ میں حکومت نے نیا پبلک فنانشل مینجمنٹ ایکٹ متعارف کرایا ہے ، جس کی جون 2019 میں منظوری دی گئی ، اس کا مقصد بجٹ کے شعبہ میں نظم و ضبط پیدا کرنا ہے ، رپورٹ میں کہا گیا کہ 2023تک حکومتی قرضے تقریباً 75 سے 76 فیصد کی شرح تک کم ہونگے ، جو اس وقت جی ڈی پی کے 82 سے 83 فیصد کے لگ بھگ ہیں۔ دوسری جانب ترجمان وزارت خزانہ کے مطابق معاشی آؤٹ لک کی ‘منفی’ سے ‘مستحکم’ درجے میں ترقی ملکی معیشت سنبھالنے اور مستحکم بنانے کی حکومتی کوششوں پر اعتماد کا اظہار ہے ،حکومت مستقبل میں تیز تر، پائیدار اور یکساں معاشی ترقی کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر گامزن رہے گی، درجہ بندی پاکستان کی بڑی معیشت اور طویل المدتی شرح نمو کی صلاحیت کیساتھ ساتھ ادارہ جاتی اقدامات کی عکاس ہے ۔ ادھر ایک ٹویٹ میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا پاکستان کی درجہ بندی کومنفی سے بی تھری مستحکم کیا جانا ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کا عکاس ہے ، عالمی ادارے نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو کامیاب قرار دیا ۔ اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشکل حالات کے باوجود حکومتی اقدامات کے نتیجے میں معاشی استحکام آیا ،کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور تاجروں کے مثبت جذبات کو مزید تقویت دینے کیلئے ضروری ہے کہ ان کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق عمران خان کی زیر صدارت حکومت کی معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا، جس میں معاشی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں میں پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی سے نومبر تک سامنے آنیوالے اعدادوشمارکے مطابق برآمدات کا حجم اور ڈالر کے اعتبار سے آمدن میں اضافہ دیکھنے میں آیا ، برآمدات میں پچھلے سال کے مقابلے میں رواں سال اکتوبر میں 6 فیصد جبکہ نومبر میں 9.6 فیصد اضافہ ہوا، وزیراعظم نے مثبت رجحان پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اٹارنی جنرل نے بتا یا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ایف بی آر سے متعلق1089 کیسوں میں سے 551 کا فیصلہ ہو چکا جبکہ 285 مقدمات زیر التوا ہیں، دیگر مقدمات کا فیصلہ محفوظ ہے یا زیر سماعت ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ زیر التوا کیسوں کے جلد از جلد حل کیلئے کوششیں کی جائیں،ایف بی آر سے متعلقہ مقدمات میں حکومت کا نقطہ نظر موثر انداز میں عدالت کے سامنے رکھنے کیلئے اٹارنی جنرل آفس کو درکار تمام وسائل فراہم کئے جائیں گے ،مقدمات کے جلد حل سے کاروباری برادری کے مسائل حل ہونگے ۔ چیئرمین ایف بی آر نے ایکسپورٹرز کے ریفنڈز کی ادائیگیوں کے حوالے سے بریفنگ دی ۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ریفنڈز کی ادائیگیوں کے سلسلہ میں متعارف کرائے جانیوالے نظام کو مزید آسان بنایا جائے ۔معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر نے تاپی گیس پائپ لائن کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔سیکرٹری خزانہ نے نان ٹیکس ریونیو میں اضافے کے حوالے سے بریفنگ دی،وزیراعظم نے نان ٹیکس ریونیو بڑھانے کی کوششوں کو سراہا۔ سیکرٹری منصوبہ بندی نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں کا پہلا سہ ماہی جائزہ 21 اکتوبرسے یکم نومبر کے دوران لیا گیا ،جس میں تمام اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ ترقیاتی منصوبوں پر بروقت عملدرآمد اور ان کی بلاتعطل روانی کو یقینی بنائیں،سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے لاہور میں ‘‘فوڈ بینک ’’کے اجرا کے حوالے سے پیشرفت سے آگاہ کیا، وزیراعظم نے مستحق افراد کو ان کی دہلیز پر کھانے کی فراہمی کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت اس منصوبے کی کامیابی کیلئے ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی، معاشی استحکام ،نوجوانوں اور ہنرمندوں کیلئے نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ،اس مقصد کیلئے تجاویز پیش کی جائیں، حکومت کی تمام تر توجہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے ،ترقیاتی منصوبوں پر بلاتعطل پیشرفت یقینی بنانے سے جہاں معاشی عمل میں تیزی آئے گی وہاں نوجوانوں کیلئے نوکریوں کے مواقع پیدا ہونگے ،اس ضمن میں بین الوزارتی اور محکموں کے درمیان ربط و تعاون کو مزید بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ اجلاس میں وزیر اقتصادی امور حماد اظہر، وزیرنیشنل فوڈ سکیورٹی خسرو بختیار، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر توانائی عمرایوب، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر اقتصادی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، اٹارنی جنرل انور منصور خان، معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ڈاکٹر زبیر گیلانی، گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر، سابق وزیرخزانہ شوکت ترین اور سینئر افسرشریک ہوئے ۔ وزیر اعظم سے ترقی پانے والے وفاقی سیکرٹریوں نے بھی ملاقات کی ، عمران خان نے کہا آپ کو ترقی کارکردگی اور میرٹ کو مدنظر رکھ کر دی گئی،پاکستان تاریخ کے اہم دوراہے پر کھڑا ہے ،ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے جہاں سیاسی قیادت نے وژن دینا ہے ، وہاں بیوروکریسی نے اس کو عملی جامہ پہنانا ہے ،60کی دہائی میں گورننس کے لحاظ سے مثالی سمجھاجانے والا ملک آج خطے میں دوسرے ممالک سے قدرے پیچھے رہ گیا ، جس کی مختلف وجوہات ہیں،آج سیاسی قیادت اور بیوروکریسی نے ملک کے مستقبل کا تعین کرنا ہے ،اس کیلئے نئی سوچ اور بہتر طرز حکومت کی ضرورت ہے ،وہ اپنی ذمہ داریاں جہاد اور قومی فریضہ سمجھ کر ادا کریں،اللہ نے پاکستان کو بے پناہ وسائل اور افرادی قوت سے نوازا ہے ، 15 ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے معیشت کے ہر شعبے میں دلچسپی کا اظہار کیا ،حکومت کی کوششوں سے آج ملک میں معاشی استحکام ہے ،سرمایہ کار پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں،بین الاقوامی ادارے بھی ملکی معیشت میں بہتری کا اعتراف کر رہے ہیں،ماضی میں گورننس کی وجہ سے بیرون ملک پاکستانیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوئی،ہم نے اس ماحول کو بہتر کرنا ہے ، بہتر طرز حکومت کے حوالے سے بیوروکریسی مثال قائم کرے ۔ وزیراعظم سے نئے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا بھی ملے ، اس موقع پر معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر بھی موجود تھے ۔عمران خان نے اس عزم کو دوہرایا کہ بلاتفریق احتساب حکومت کا بنیادی ایجنڈا ہے ، ایف آئی اے کو کرپشن ،سائبر کرائم ، معاشی جرائم اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات کرنا ہونگے ۔ دوسری جانب وزیر اعظم سے مصر کے سرمایہ کارایگزیکٹو چیئرمین اور ٹیلی کام میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی نجیب ساویرس نے ملاقات کی، جس میں ہاؤسنگ کے منصوبے اور سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا ،نجیب ساویرس معاون خصوصی سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری سے بھی ملے ۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.