کیا عمران خان کا استعفی اپوزیشن کی جیت ہے

تازہ خبر
19
0
sample-ad

ملک خداداد پاکستان کو بنے ہوۓ 72 سال ہو چکے ہیں اس کے قیام کے بعد اکثرتوفوجی حکمرانوں کا دور رہا اور اس میں سیاسی حکومتیں بھی آئیں لیکن جو بھی سیاسی حکومت آئی اس کی اپوزیشن نے کہا کہ حکومت وقت انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے آئی ہے ہے آج تک یہ اخلاقی جرات کسی نے نہیں کی کہ انتخابات کے نتائج کو تسلیم کر لیا جائے سبھی یہی گردان لیے پھر رہے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی اگر وہ خود جیتیں تو ٹھیک ورنہ انتخابات غلط کو ئی اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے تیار نہیں
باقی الیکشن کو چھوڑیں 2013 کے الیکشن کو لے لیں عمران خان دھرنا لے کر اسلام آباد آ گیاکہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے اور نواز شریف استعفی دے 126دن تماشا لگا رہا اس کے بعد 2018 کے الیکشن ہوئےتو اپوزیشن نے پھر وہی دھاندلی کا شور مچا دیاکہ ہم ہار گئے لہذا انتخابات ہی دھاندلی زادہیں اور وزیراعظم کو سلیکٹڈکے تانے سننا پڑئے اس کے بعد فضل الرحمان اقتدار سے باہر ہوکر پاگل ہوئے پھرتا ہے انہوں نے اسلام آباد میں دھرنا دے دیا اور وزیراعظم سے ایک مرتبہ پھر استعفے کا مطالبہ شروع کر دیا اور ساتھ ہی نئے انتخابات کا مطالبہ بھی کردیا
پہاں یہ بات ہے کہ کچھ لوگ اس کو مولانا کی ہار اور کچھ جیت سمجھ رہے ہیں لیکن یہاں سوچنے کا مقام ہے کہ بالفرض وزیراعظم نے استعفی دے دیا اور نئے انتخابات بھی ہوگئے اور فضل الرحمان صاحب جیت کے آگئے تو کیا ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرلیا جائے گا پھر انتخابات غلط کانعرہ نہیں بلند ہو گا
اب ہر سیاسی کو سوچنا چاہیے کہ ملک پاکستان کے ساتھ کھلواڑ بند کیا جائے اور عدم برداشت کا رویہ ترک کر کے ملک کے بارے میں سوچا جائے ورنہ عوام سب کو جانتے ہیںعوام اب صحیح معانیؤں میں دلبرداشتہ ہو چکے ہیں اب عمران جاہے گا تو ساےھی سب اپنی سیاسی دکانیں بند سمجھیں.عمران کے جانے مقصد یہ نظام ہی ٹھیک ہے.اور صدارتی نظام کی طرف ملک چل پڑئے گا.یہ بات اب سیاسی پنڈتون کو سمجھ لینا چاہیے عمران حکومت سے زیادہ اپوزیشن اچھی کر لیتا ہے،جس طرح آپ نے اس کا سکون برباد کیا ہوا.اس دوگنا زیادہ وہ آپ کو برباد کر کے رکھ دے گا.اور یہ بھی سمجھ لیں کہ پی ٹی آئی زیادہ ورکر نوجوان ہے.اور نوجوان جوشیلے ہوتے ہیں.کہیں سے بھی پھر سکون نہیں لینے دیا جائے گا
لہذا سب کو سمجھ لینا چاہیے عمران کو پانچ سال پورے کرنے میں مدد کریں نظام کو بچائیں ورنہ اب سب گھر کی ٹکٹیٹں کٹوائیں
نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری

تجزیہ:محمداویس گل خان(آرسی نیوز)

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.