میاں نواز شریف لندن پہنچ گئے، علاج کے انتظامات مکمل

تازہ خبر
11
0
sample-ad

لندن:میاں نواز شریف قطر ایئرویز کی ایئر ایمیولینس اے 7، ایم ای ڈی کے ذریعے لندن پہنچے۔ اس سے قبل انہوں نے دوحہ میں ڈیڑھ گھنٹہ قیام کیا جہاں طیارے کی ری فیولنگ کی جبکہ سابق وزیراعظم کا رائل ٹرمینل لاؤنج میں طبی معائنہ بھی کیا گیا۔
اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف لاہور ائیرپورٹ جانے کیلئے سخت سیکیورٹی میں جاتی امرا سے روانہ ہوئے۔ اس موقع پر ان کی رہائشگاہ کے باہر کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ جنہوں نے اپنے قائد کے حق میں نعرہ بازی کی اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔

ائیرپورٹ پہنچنے کے بعد امیگریشن کی کارروائی مکمل کی گئی جس کے بعد نواز شریف کا ائیر ایمبولینس میں چیک اپ کیا گیا۔ ائیر ایمبولینس نے تقریباً ساڑھے 10 بجے علامہ اقبال ائیرپورٹ سے اڑان بھری۔

میاں نواز شریف کے ہمراہ ان کے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان سمیت 7 افراد لندن روانہ ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اپنے صاحبزادے حسن نواز کی رہائشگاہ پر ابتدائی طور پر قیام کریں گے۔

یاد رہے کہ وزارت داخلہ نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم کی مصدقہ نقل ملنے کے بعد نواز شریف کو بیرون ملک جانے دینے کا ہدایت نامہ جاری کر دیا تھا۔

عبوری انتظام کے تحت نواز شریف کو باہر جانے کی ایک بار اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا اور انہیں 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک علاج کی غرض سے جانے کی اجازت لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر دی گئی۔

واضح رہے کہ 16 نومبر کو لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے ہوئے انہیں اور شہباز شریف کو 4 ہفتوں میں وطن واپسی کے لیے حلف نامے جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

اس سے قبل وفاقی کابینہ نے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت 7 ارب روپے کے انڈیمنٹی بانڈ جمع کروانے کے ساتھ مشروط کی تھی جسے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مسترد کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت اور قوم کی دعاؤں سے قائد محمد نواز شریف بحفاظت لندن پہنچ گئے ہیں۔ اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں کہ سفر کے دوران کوئی طبی پیچیدگی نہیں ہوئی۔ ان کا برطانیہ میں معالجین معائنہ کریں گے۔ قوم کی دعاؤں پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان سے اپیل ہے کہ دعاؤں کا یہ سلسلہ جاری رکھیں۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.