جعلی اسنادپرنوکریاں لینے والوں کوریلیف نہیں مل سکتا

تازہ خبر
10
0
sample-ad

سپریم کورٹ میں او جی ڈی سی ایل ميں جعلی اسناد پر نوکرياں حاصل کرنے والے ملازمين کی درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس گلزار احمد نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے واضح کیا کہ جعلی ڈگری پر کوئی نوکری حاصل نہیں کرسکتا، اِن کو کوئی ریلیف بھی نہیں دے سکتے، پتہ نہیں یہ دفتروں میں بیٹھ کر کون سا کالا کام کرتے ہیں، ہم نے فیصلہ قانون کے مطابق کرنا ہے۔

سپریم کورٹ نے آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے ملازمین کی جعلی ڈگریوں پر نوکریاں حاصل کرنے سے متعلق کیس میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کردیا کہ جعلی ڈگريوں والے سرکاری ملازمت کا خواب ديکھنا چھوڑ ديں، کسی کو سرکاری نوکری ملے گی نہ کوئی ترقی۔

ملازمین کے وکيل نے مؤقف اپنايا کہ ملازمین کو 29 سال بعد یہ کہہ کر فارغ کیا گیا کہ ان کا میٹرک سرٹيفکيٹ جعلی تها۔ جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ريمارکس دیئے کہ کیا جعلی ڈگری پر نوکری لیگل قرار دے دیں؟، کس قانون کے تحت ان کی بھرتی ہوئی ؟، جعلی ڈگری پر کبهی بهی کوئی نوکری حاصل نہیں کرسکتا۔

جسٹس گلزار نے کہا جعلی ڈگری والوں کو کوئی ریلیف نہیں دے سکتے، جنہوں نے جعلی ڈگری پر نوکری یا ترقی لی وہ دونوں برابر ہیں، یہ دفتروں میں بیٹھ کر پتہ نہیں کیا کالا کام کرتے ہیں، ہم نے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔

عدالت نے او جی ڈی سی ایل ملازمین کی جانب سے درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردیں، 32 ملازمین نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کيخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تها۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.