سینیٹ :یہ احتساب نہیں سیاسی انتقام لیا جارہا ہے: اپوزیشن

پاکستان
7
0
sample-ad

اسلام آباد(نامہ نگار،نیوزایجنسیاں)سینیٹ میں حزب اختلاف کی مختلف جماعتوں کے ارکان نے کہا ہے کہ احتساب کے نام پر اپوزیشن کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، جن حکومتی شخصیات کے کیس نیب میں ہیں انہیں بھی جیلوں میں ڈالا جائے جبکہ حزب اقتدار کے ارکان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے جو رہنما اس وقت جن کیسوں کی بنیاد پر جیلوں میں ہیں، وہ موجودہ حکومت نے نہیں بنائے ، نیب قانون میں سقم درست کرنے کیلئے اپوزیشن کو مل بیٹھنے کی دعوت دیتے ہیں تاہم جو لوگ کرپشن میں ملوث ہیں، نیب انہیں نہ چھوڑے ، لوگوں کو پتہ چلنا چاہیے کہ بلاتفریق احتساب ہورہا ہے ۔ پیر کو سینیٹر راجہ ظفرالحق کی تحریک پر بحث کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہا ان کے وزیر داخلہ ایک انٹرویو میں کہتے ہیں اگر نواز شریف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ نہ لگاتے تو وہ چوتھی مرتبہ وزیراعظم ہوتے ، وزیر اعظم خود کہتے ہیں میں بے رحم ہوں، یہ احتساب نہیں سیاسی انتقام ہے ، نواز شریف پر بدعنوانی کا کوئی الزام نہیں، صادق اور امین بننے کیلئے ضروری ہے کہ آپ پی ٹی آئی میں شامل ہو جائیں ۔سینیٹر کلثوم پروین نے کہا نیب کی کارروائیوں میں توازن نہیں رکھا گیا۔ سینیٹر سیمی ایزدی نے کہا آصف زرداری کی زبان کس کی حکومت میں جیل میں کاٹی گئی، عدالت نے نواز شریف سے منی ٹریل مانگی، انہوں نے آج تک منی ٹریل نہیں دی۔ سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے کہا حافظ حمد اﷲ کی شہریت کا معاملہ ابھی بھی التوا میں ہے ، انہیں کس بات کی سزا دی گئی، کیا یہ سیاسی انتقام نہیں، منی ٹریل کی بات کرتے ہیں تو جہانگیر ترین سے مانگی جائے ، اگر آپ کے پاس امپائر کی انگلی ہے تو ہمارے پاس مولانا فضل الرحمن کا انگوٹھاہے ،مولانا فضل الرحمن نے جو ڈبری ٹائٹ کرنی ہے لگ پتہ جائیگا۔ سینیٹر رحمن ملک نے کہا سیاسی انتقام نے زرداری کے ہشاش بشاش چہرے کو مرجھا دیا ، آج ہمارا احتساب ہو رہا ہے ، کل کسی اور کا ہوگا، اس روایت کو ختم ہونا چاہیے ۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور سینیٹر اعظم سواتی نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا نیب قانون میں سقم ہے ، اسے درست کرنے کیلئے اپوزیشن کو مل بیٹھنے کی دعوت دیتا ہوں تاہم جو لوگ بھی کرپشن میں ملوث ہیں چیئرمین نیب انہیں نہ چھوڑیں، یہاں جہانگیر ترین کا نام لیا گیا، حقائق توڑ مروڑ کر انہیں سزا دی گئی، جہانگیر ترین نے ایک ایک پائی کی منی ٹریل دی،سینیٹر حافظ حمد اﷲ کی شہریت کے حوالے سے نوٹس ناپسندیدہ فعل ہے ، وزیراعظم سمیت کسی نے اس فعل کو پسند نہیں کیا۔ بعدازاں اجلاس آج منگل کو سہ پہر ساڑھے 3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.