لکڑ سیب: ایک انوکھا درخت جو پنجاب میں بھی پھل دے رہا ہے

زراعت
7
0
sample-ad

آج ہم آپ کو ایک ایسے پھل دار درخت سے متعارف کروا رہے ہیں جو پنجاب سمیت پاکستان میں کامیابی سے پھل دے رہا ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ آپ اس کے نام سے بھی واقف نہ ہوں

اس درخت کا نام ہے wood Apple

یہ تو آپ کو معلوم ہی ہے wood کو اردو میں لکڑ اور Apple کو سیب کہتے ہیں۔

تو اس طرح سے جٹکی بولی میں ہم اسے لکڑ سیب کہ سکتے ہیں۔

لکڑ سیب کے بارے میں سوشل میڈیا سے خبر آئی ہے کہ یہ پتوکی، علی پور (مظفر گڑھ)، میاں چنوں (خانیوال)، قصور اور کراچی میں پھل دے رہا ہے۔
بلکہ ہمارے دوست نرسری مینیجر چھانگا سرکار نے تو آج سحری میں لکڑ سیب کا جوس بھی پیا ہے۔

لکڑ سیب کا درخت جو 15 سے 20 میٹر کی بلندی تک چلا جاتا ہے

آئیے اب اس پودے کے متعلق کچھ بات کریں۔ پھر اس کی کاشت اور طبی فوائد پر کچھ بات کریں گے۔

ویسے تو اس درخت کا آبائی وطن بھارت ہے لیکن آج کل یہ بھارت کے علاوہ، بنگلہ دیش، سری لنکا اور کہیں کہیں پاکستان میں بھی پایا جاتا ہے۔

یہ ایک صبر آزما درخت ہے جو کاشت کے 15 سال بعد پھل دیتا ہے۔ ایک درخت پر 200 سے 250 پھل لگ جاتے ہیں۔

پھل کے اعتبار سے لکڑ سیب کی دو اقسام ہیں۔ پہلی قسم وہ ہے جس کا پھل قدرے چھوٹا اور کھٹا ہوتا ہے جبکہ دوسری قسم کا پھل بڑا اور میٹھا ہوتا ہے۔ اس کے پھل کا سائز بڑے لیموں یا پھر کینو کے سائز کا ہو سکتا ہے۔

اس پھل کو لکڑ سیب کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا چھلکا اخروٹ کی طرح سخت ہوتا ہے۔ جسے ہتھوڑی یا کسی سخت چیز سے توڑنا پڑتا ہے۔ لیکن اندر سے اس کا گودا ہلکے پکے ہوئے امرود کی طرح نرم سخت ہوتا ہے۔

لکڑ سیب کا پھل جس کا چھلکا انتہائی سخت لیکن اندر سے گودا قدرے نرم سخت ہوتا ہے

جس طرح تربوز پر ہاتھ مار کر اس کے کچا یا پکا ہونے کا اندازہ لگایا جاتا ہے، اسی طرح لکڑ سیب کے پھل کی کچی یا پکی حالت کو جاننے کے لئے اسے گیند کی طرح زمین پر پٹخا جاتا ہے۔ اگر پھل گیند کی طرح اچھل پڑے تو کچا لیکن اگر نہ اچھلے تو پکا سمجھا جاتا ہے۔

میں نے بنگلہ دیش میں یہ پھل ریڑھیوں پر بکتے ہوئے دیکھا ہے۔ ریڑھیوں والے لکڑ پھل کا شربت یا پھر گودے کی چاٹ وغیرہ بنا کر بیچتے ہیں۔

ایک ریڑھی بان لکڑ سیب کی چاٹ بنانے کے لئے پھل کا گودا نکال رہا ہے۔

لکڑ سیب، جامن کے درخت کی طرح قد کاٹھ کرتا ہے اور زیادہ سے زیادہ 20 میٹر تک بلند ہو سکتا ہے۔

آئیے اب اس کی کاشت پر بات کرتے ہیں۔

جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ اس درخت کو پنجاب کے میدانی علاقوں سے لیکر ساحل سمندر تک کامیابی سے کاشت کیا جا سکتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ لکڑ سیب سخت گرمی اور پانی کی کمی کو برداشت کرنے والا سخت جان درخت ہے جس کی زیادہ دیکھ بھال نہیں کرنا پڑتی۔

مجھے امید ہے کہ یہ درخت آپ کو پتوکی میں واقع نرسریوں سے مل سکتا ہے۔ اس کے پودے بیج سے بھی تیار ہو سکتے ہیں لیکن زیادہ تر اس کے پودے درخت کی شاخ کو گٹی باندھ کر تیار کئے جاتے ہیں۔

دوسرے درختوں کی طرح فروری یا اگست میں اس کے پودے لگائے جا سکتے ہیں۔ اس پر پھل اکتوبر نومبر میں آتا ہے جو مارچ اپریل تک درخت پر موجود رہتا ہے۔

آئیے اب اس درخت کے طبی فوائد پر کچھ بات کر لیتے۔

ورلڈ جرنل آف فارمیسی اینڈ فارماسوٹیکل سائنسز میں شائع ہونے والے ایک ریسرچ آرٹیکل کے مطابق لکڑ سیب کا پھل دل، جگر اور پھیپھڑوں کے عارضے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔

اسی طرح اس پھل کو بانجھ پن، اور چھاتی و مثانے کے کینسرکے علاج کے لئے بھی روائتی طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح زہریلے جانوروں خصوصاََ سانپ کے کاٹے کا علاج بھی لکڑ سیب سے کرنے کی روائیت بڑی پرانی ہے۔

اس کے علاوہ لکڑ سیب کا کچا پھل اسہال کی شکائیت میں مفید ہے اور پیشاب کے نظام سے منسلکہ بیماریوں میں اکسیر کا کام کرتا ہے۔

اسی طرح معدے میں گیس و اپھارے کے علاوہ بواسیر کے مسائل میں بھی لکڑ سیب استعمال کیا جاتا ہے۔

شوگر کے مرض میں لکڑ سیب استعمال کرنے کے علاوہ اسے متلی یا قے کو روکنے اور بلغم کے مسائل میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

لکڑ سیب کے پتوں کا جوس پینے سے چہرے کے کیل و مہاسوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

تو پھر کیسا ہے یہ لکڑ سیب کا درخت؟

مجھے امید ہے کہ کچھ لوگ اس درخت کو لگا کر آنے والی نسلوں کے لئے صدقہ جاریہ کے طور پر چھوڑ جائیں گے۔

تحریر

ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت، فیصل آباد

Facebook Comments

POST A COMMENT.