کینولا کا تیل گھر میں صاف کریں اور بازاری کوکنگ آئل سے جان چھڑائیں

زراعت
35
0
sample-ad

گزشتہ مضمون میں ہم نے آپ کو تفصیل سے بتایا تھا کہ کینولا، سویا بین یا سن فلاور کے نام پر فروخت ہونے والے آئل میں پام آئل مکس ہونے کے امکانات ہوتے ہیں. پام آئل ایک غیر صحت مند تیل ہے جو کولیسٹرول، بلڈ پریشر، دل کی بیماریاں اور کینسر پیدا کرنے کا باعث ہو سکتا ہے. بتایا گیا تھا کہ کینولا آئل دنیا میں ایک صحت بخش تیل کے طور پر دیکھا جاتا ہے. لہذا مشورہ دیا گیا تھا کہ آپ اپنے گھر میں کینولا تیل صاف کر کے استعمال کریں. لہذا اس مضمون میں گھریلو سطح پر آئل صاف کرنے کے حوالے سے بات کی گئی ہے.

اگر آپ نے اس سال کینولا سرسوں کاشت کی تھی تو پھر ڈالڈا گھی یا کوکنگ آئل خریدنے کی ضرورت نہیں. کینولا سرسوں کا تیل نکلوائیں، گھر میں ہی اس تیل کو صاف کریں اور اطمینان سے استعمال کریں۔
طریقہ آپ کو ہم بتا دیتے ہیں۔

دیسی کوہلو یا ایکسپیلر سے کینولا سرسوں کا تیل نکلوائیں. اور اس تیل کوگاچنی (جسے ملتانی مٹی بھی کہتے ہیں) کی مدد سے صاف کر لیں.
تیل کو صاف کرنے کا طریقہ کچھ یوں ہے.

اس کام کے لئے آپ کو جن چند اشیاء کی ضرورت ہے وہ نوٹ فرما لیں.

1. تیل کو فلٹر کرنے کے لئے موٹا کپڑا (سفید جینز کا کپڑا)
2. گاچنی ( جسے ملتانی مٹی بھی کہتے ہیں) یا فلر ارتھ
3. تھرمامیٹر (اگر ہو سکے تو)
4. دو کھلے برتن

طریقہ
1. تیل کو فلٹر کرنے کے لئے موٹے کپڑے یا موٹے فلٹر پیپر کا بندوبست کریں.
تیل کو فلٹر کرنے کے لئے آپ کو موٹے کپڑے کی ضررت ہے. جو کپڑا جین کی پینٹ بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے بالکل وہی کپڑا آپ نے استعمال کرنا ہے. ہمارے ہاں فیصل آباد میں تو جین کے کپڑے کی پوری ایک مارکیٹ ہے جہاں سے یہ کپڑا تقریباََ 100 روپے میٹر کے حساب سے مل جاتا ہے. لیکن آپ اپنے شہر سے بھی یہ کپڑا ڈھونڈ سکتے ہیں. اس سلسلے میں کوئی بھی کپڑے کی دوکان والا آپ کی رہنمائی کر سکتا ہے.
ایک چیز کا خیال رہے کہ کپڑا سفید رنگ کا ہو کیونکہ رنگ دار کپڑے کے ساتھ تیل فلٹر کرتے ہوئے اس کا رنگ بھی تیل میں شامل ہو سکتا ہے.
موٹے کپڑے کا تھیلا یا پونی سی بنا کر اسے چارپائی یا سٹینڈ کے ساتھ مناسب بلندی پر لٹکا دیں اور اس کے نیچے صاف برتن رکھ دیں.

جین کے کپڑے کا تھیلا سا بنا کر لکڑی کے سٹینڈ میں لٹکایا گیا ہے

اگر آپ کو اپنے شہر سے جین کا کپڑا نہ ملے تو آپ موٹے فلٹر پیپر کو بھی کام میں لا سکتے ہیں. یہ فلٹر پیپر بعض کتابوں کی دکان والوں نے بھی رکھے ہوتے ہیں. لیکن سائنس لیبارٹری کے سامان والی دکان سے تو یہ فلٹر پیپر لازمی مل جائے گا. یہ پیپر عام طور پر دو فٹ تک لمبا اور دو فٹ تک ہی چوڑا ہوتا ہے. نیچے دی گئی تصویر میں آپ فلٹر پیپر کا استعمال دیکھ سکتے ہیں.

فلٹر پیپر کے ذریعے تیل صاف کیا جا رہا ہے۔ آپ یہ کام بڑی قیف اور بڑے برتن سے بھی کرسکتے ہیں

2. ملتانی مٹی (گاچنی) یا فلر ارتھ حاصل کریں.
بہتر یہ ہو گا کہ آپ گاچنی کی بجائے سائنس لیبارٹری والی کسی دکان سے فلر ارتھ خرید لیں. فلر ارتھ دراصل گاچنی سے ملتی جلتی مٹی کی ایک قسم ہے جسے پیس کر میدے کی طرح باریک کیا ہوا ہوتا ہے. فلر ارتھ لینے کا فائدہ یہ ہو گا کہ آپ کو اسے پیس کر میدے کی طرح بنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی.

یہ فلر ارتھ ہے جو میدے کی طرح باریک پسی ہوئی ہے

لیکن اگر آپ کو فلر ارتھ نہ ملے تو پھر آپ ملتانی مٹی یا گاچنی کو بھی کام میں لا سکتے ہیں. یہ گاچنی آپ کو کسی بھی کریانے کی دکان سے مل جائے گی. یہ وہی گاچنی ہے جو آج سے بیس پچیس سال پہلے تختیوں کو پوچنے کے لئے استعمال ہوتی تھی. آپ نے اس گاچنی کو پیس کر بالکل میدے کی طرح بنا لینا ہے. لیجئے آپ کا یہ مرحلہ بھی مکمل ہوا.

3. کینولا تیل کو گرم کریں

کوہلویا ایکسپیلر سے حاصل کیا ہوا 5 کلوگرام تیل دیگچےمیں ڈال کر جلتے ہوئے چولہے پر رکھ دیں اور اسے گرم ہونے دیں. جب درجہ حرات 85 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے (یعنی جب دیگچا اتنا گرم ہو جائے کہ اسے ہاتھ نہ لگے) تو اسے چولہے سے اُتار لیں. یاد رہے کہ تیل کو ابلنے سے پہلے چولہے سے اتار لینا ضروری ہے۔

4. گرم تیل میں ملتانی مٹی یا فلر ارتھ مکس کریں
اب 5 گلوگرام تیل میں 150 گرام میدہ کی طرح پسی ہوئی فلر ارتھ، گاچنی یا ملتانی مٹی ڈال دیں اور اسے کسی ڈوئی یا چمچ کی مدد سے 5 منٹ تک مسلسل ہلائیں. جیسے ہی یہ مٹی تیل میں حل ہو گی تو تیل میں موجود میل اور ذرات کو وہ اپنے اندر جذب کر کے پیندے میں بیٹھ جائے گی۔

5. تیل کو فلٹر کر لیں

اب اس نیم گرم تیل کو کپڑے سے بنائے گئے تھیلے یا فلٹر پیپر میں ڈال کر دو دفعہ فلٹر کر لیں.

دائیں جانب غیر صاف شدہ اور بائیں جانب ایک مرتبہ صاف شدہ تیل۔ دوسری مرتبہ صاف کرنے سے یہ تیل اور بھی زیادہ چمکدار ہو جائے گا

لیجئے آپ کا کوکنگ آئل تیار ہے. اب آپ اسے کھانا بنانے یا دیگر مقاصدکے لئے استعمال کر سکتے ہیں.

6. صرف تازہ تیل ہی استعمال کریں

واضح رہے کہ آپ صرف اتنا ہی تیل تیار کریں جتنا آپ ایک مہینے میں استعمال کر لیں. اور اگلے مہینے کے لئے تازہ تیل تیار کریں.
تیل اگر زیادہ دیر تک پڑا رہے تو اس میں ایک خاص قسم کی مہک سی پیدا ہو جاتی ہے جسے کھانے والے پسند نہیں کرتے. دراصل کوکنگ آئل کمپنیاں اس تیل میں خاص قسم کے کیمیکل ملاتی ہیں جن کی بدولت تیل جلدی خراب نہیں ہوتا. لیکن پھر بھی اگر آپ کوکنگ آئل کی پیکنگ کو دیکھیں تو اس پر لکھا ہوتا ہے کہ تیل ایک سال کے اندر اندر استعمال کریں ورنہ خراب ہو سکتا ہے.

ایک بات ذہن میں رہے کہ گاچنی یا فلر ارتھ کوکنگ آئل بنانے والی ملوں میں بھی استعمال ہوتی ہے.
تاریخی طور پر مشرق وسطی کے لوگ زیتون کے تیل کو استعمال میں لانے سے پہلے گاچنی سے صاف کیا کرتے تھے. وہ اسی طرح گاچنی کو پیس کر تیل میں حل کرتے اور پھر کپڑے کے ذریعے اسے فلٹر کر لیتے تھے۔
سترہویں صدی عیسوی میں ایک امریکی سیاح جب مشرق وسطی سے گزرا تو اس نے لوگوں کو زیتون کے تیل کو گاچنی سے صاف کرتے ہوئے دیکھا. لہذا دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ میں بھی اس کا رواج پڑ گیا.
ایک عرصہ تک امریکہ یہ گاچنی برطانیہ سے درآمد کرتا رہا یہاں تک کہ امریکہ میں بھی گاچنی دریافت ہو گئی.
آپ کو یہ بات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ کوئی وقتی جگاڑ نہیں بلکہ کئی صدیوں سے بنی نوع انسان گاچنی کو تیل صاف کرنے کے لئے استعمال کرتا چلا آ رہا ہے. حتی کہ آج کی جدید کوکنگ آئل انڈسٹری میں بھی گاچنی کا استعمال ہو رہا ہے. یہ الگ بات ہے کہ آج کے دور میں گاچنی کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی کیمیکل استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ کیمیکل ڈالنے سے آئل زیادہ چمکدار اور دلکش تو نظر آنے لگتا ہے لیکن کیمیکل کے ذریعے تیل کو صاف کرنے سے تیل کی افادیت کم ہو جاتی ہے۔
گھر میں صاف کیا گیاتیل ہر طرح کے کیمیائی عمل اور کیمیائی اجزاء سے پاک ہوتا ہے.
اس لئے ہم آپ کو یہ ضرور مشورہ دیں گے کہ آپ کم از کم چار پانچ لیٹر تیل ضرور اس طرح سے گھر میں صاف کر کے تجرباتی طور پر کھائیں. اگر آپ کو یہ تیل پسند آ گیا تو آپ کی بازاری تیل سے مستقل جان چھوٹ جائے گی.
یوں تو گاچنی سے تیل کو صاف کرنا ایک پرانا طریقہ ہے لیکن موجودہ سالوں میں ایوب زرعی تحقیقاتی ادارے کے شعبہ آئل سیڈز ریسرچ کے محققین اس طریقے کو عام کر رہے ہیں۔ راقم (ڈاکٹر شوکت علی) کئی ایسے پڑھے لکھے لوگوں کو جانتا ہے جو اس طریقے سے صاف کیا گیا کینولا تیل اپنے گھروں میں استعمال کر رہے ہیں اور بہت مطمئن ہیں.
اس لئے آپ کے لئے مشورہ ہے کہ ایک مرتبہ ضرور اس طریقے کو آزمائیں ہمیں امید ہے کہ آپ کا یہ تجربہ خوشگوار رہے گا.

1. ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد
2. حافظ سعد بن مصطفی
ریسرچ آفیسر، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد
3. محمد طارق
آئل سیڈ باٹنسٹ، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.