قدرتی کاشتکاری کا دوسرا اصول: زمین کبھی ننگی نہ رہنے دیں

زراعت
44
0
sample-ad

اس سے پہلے ہم قدرتی کاشتکاری کا پہلا اصول تفصیلاََ بیان کر چکے ہیں جس میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی تھی کہ مستقل بیڈ یا پٹڑیاں بنا کر فصل کاشت کرنے کے پیچھے کون کون سی حکمتیں پوشیدہ ہیں اور اس سے آپ کو کون کون سی بچتیں حاصل ہو سکتی ہیں۔

آج ہم قدرتی کاشتکاری کے نہائیت اہم اور دوسرے اصول پر بات کریں گے۔

قدرتی کاشتکاری کا دوسرا اصول یہ ہے کہ آپ نے زمین کو کبھی بھی ننگا نہیں رہنے دینا۔ بلکہ اسے فصلوں کی باقیات یا گھاس پھوس وغیرہ سے ڈھانپ کر رکھنا ہے۔

آئیے اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ زمین کو ڈھانپ کر رکھنے کے کیا کیا فوائد ہیں اور بظاہر معمولی نظر آنے والا یہ عمل کس قدر غیر معمولی ہے۔

سب سے پہلے آپ اس بات کو سمجھیں کہ مٹی، جس میں ہم بیج بوتے ہیں، بنیادی طور پر پانچ چیزوں کا مجموعہ ہے۔

نمبر 1۔ ہوا

نمبر 2 پانی

نمبر 3 ٹھوس ذرات

نمبر 4 فصلوں کی گلی سڑی باقیات یا گوبر وغیرہ (جسے ہم نامیاتی مادہ کہتے ہیں)

نمبر5 عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے مفید جراثیم

کھیت کی صحت مند مٹی پانی، ہوا، نامیاتی مادے، جراثیم اور مٹی کے ذرات پر مشتمل ہوتی ہے

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ مٹی کے اندر ہوا کیسے اور کہاں سے داخل ہو جاتی ہے؟ تو آئیے سب سے پہلے اسی پر بات کر لیتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب آپ کھیت کو پانی لگاتے ہیں تو چند ہی گھنٹوں میں وہ پانی کہاں غائب ہو جاتا ہے؟ اس کا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ وہ مٹی میں جذب ہو جاتا ہے۔ لیکن اگلا سوال یہ ہے کہ اگر مٹی میں پانی جذب ہو جاتا ہے تو پھر پتھر میں یہ پانی جذب کیوں نہیں ہو پاتا۔

دراصل بات یہ ہے کہ کھیت کی مٹی کے اندر باقائدہ رستے بنے ہوتے ہیں جن کے ذریعے پانی مٹی کے اندر اترتا ہے اور ہوا بھی انہی رستوں میں سے ہوتی ہوئی مٹی میں داخل ہوتی ہے۔

ان راستوں کے اندر نہ صرف ہوا اور پانی موجود ہوتا ہے بلکہ عام آنکھ سے نظر نہ آنے والے جراثیم بھی انہیں راستوں میں گھر بنا کر رہتے ہیں۔

البتہ پتھر کے ذرات ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان کے درمیان راستے نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ پتھر میں نہ تو پانی جذب ہوتا ہے، اورنہ ہی اس میں ہوا داخل ہوتی ہے۔ ظاہر جہاں نہ پانی ہو گا اور نہ ہی ہوا، تو پھر وہاں جراثیم کیسے پائے جا سکتے ہیں۔

پانی، ہوا اور مفید جراثیم پر بات کرنے کے بعد آئیے اب مٹی کے ٹھوس ذرات پر بات کرتے ہیں۔

مٹی کے یہ ٹھوس ذرات 3 طرح کے ہوتے ہیں۔

نمبر 1۔ ریت کے ذرات

،نمبر 2۔ بھل کے ذرات

نمبر 3۔ چکنے ذرات

ریت کے ذرات جسامت میں سب سے بڑے جبکہ چکنے ذرات سب سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ اسی طرح بھل کے ذرات قدرے درمیانی جسامت کے ہوتے ہیں۔

لہذا آپ کے کھیت کی مٹی میں اگر ریت کے ذرات زیادہ ہوں گے تو زمین ریتلی نظر آئے گی۔ اسی طرح اگر بھل کے ذرات زیادہ ہوں گے تو زمین چکنی اور ریتلی کے درمیان درمیان محسوس ہو گی۔ اور اگر چکنے ذرات زیادہ ہوں گے تو زمین چکنی ہو گی۔

فصلیں اگانے کے لئے ایسی زمین بہترین سمجھی جاتی ہے جس میں 40 فیصد ذرات ریت کے، 40 فیصد ہی بھل کے اور 20 فیصد چکنے ذرات کے ساتھ ساتھ فصلوں کی گلی سڑی باقیات یا گلے سڑے گوبر وغیرہ کی مناسب مقدار موجود ہو۔ ایسی زمین کو ہم مَیرا زمین کہتے ہیں۔

اب لگے ہاتھ یہ بات بھی سمجھ لیں کہ ریت کے ذرات چونکہ بڑے ہوتے ہیں اس لئے ان میں راستے بھی کھلے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریتلی زمین میں جیسے ہی آپ پانی لگاتے ہیں وہ پانی دیکھتے ہی دیکھتے اِن کھلے کھلے راستوں سے زمین میں اتر جاتا ہے۔

لیکن چکنے ذرات چونکہ بہت چھوٹے ہوتے ہیں اس لئے ان کے درمیان بننے والے راستے بہت تنگ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چکنی مٹی والے کھیت کو لگایا گیا پانی زمین میں گھنٹوں کھڑا رہتا ہے۔

زمین کے متعلق چند بنیادی باتیں سمجھنے کے بعد اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ قدرتی کاشتکاری میں زمین کو ڈھانپنا کیوں ضروری ہے۔

ڈھانپ کر رکھنے سے زمین کا درجہ حرارت مناسب رہتا ہے جس سے پانی کی بچت ہوتی ہے

گرمیوں میں دوپہر کے وقت زمین کس قدر گرم ہو جاتی ہے اس کا اندازہ آپ کو تب ہوتا ہے جب آپ دوپہر کو ننگے پاؤں زمین پر چل کر دیکھیں۔ تپتی ہوئی زمین پر دو چار قدم چلنے سے ہی انسان کے پاؤں جلنے لگتے ہیں۔ تو ذرا سوچئے کہ وہ پودا جو سارا دن اسی تپتی ہوئی زمین پر کھڑا رہتا ہے اس کا کیا حشر ہوتا ہو گا۔

زمین کا درجہ حرارت ہمیشہ ہوا کے درجہ حرارت سے زیادہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہوا کا درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ ہے تو ننگی زمین جس میں نامیاتی مادے کی بھی قدرے کمی ہو اس کا درجہ حرارت 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔

جب زمین اس قدر گرم ہو جائے تو پھر پودے کی ساری توجہ نشوونما کی بجائے اپنے آپ کو ٹھنڈا کرنے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ پودا اپنے آپ کو مسلسل ٹھنڈا کرنے کے لئے پتوں کے ذریعے پانی بخارات کی صورت ہوا میں اڑاتا رہتا ہے اور اس عمل میں بہت سا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔

خیال رہے کہ جب بھی پانی، بخارات میں تبدیل ہوتا ہے تو ٹھنڈک پیدا ہوتی ہے۔ انسان کو پسینے کا آنا بھی بالکل یہی عمل ہے۔ جب انسان کو گرمی لگتی ہے تو اس کی جلد کے مساموں سے پسینے کی شکل میں پانی نکل آتا ہے۔ جب یہ پانی، بخارات کی صورت ہوا میں اڑتا ہے تو جلد پر ٹھنڈک کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ فریج اور اے سی وغیرہ بھی اسی اصول کے تحت کام کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ اگر زمین کا درجہ حرارت 21 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتو پودے کو دیا جانے والا سارا پانی پودا اپنی نشوونما کے لئے استعمال کرتا ہے۔

لیکن اگر زمین کا درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ ہو جائے تو پودے کو دئیے جانے والے پانی کا صرف 15 فیصد حصہ ہی پودا اپنی نشوونما کے لئے استعمال کرتا ہے۔ باقی 85 فیصد پانی کا ایک بڑا حصہ پودا اپنے آپ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ہوا میں اڑا دیتا ہے۔

اسی طرح جب زمین کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے تو پانی کے ضیاع کے ساتھ ساتھ زمین میں موجود نامیاتی مادہ بھی گرمی کی وجہ سے جل کر ضائع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ جب زمین کا درجہ حرارت 54 ڈگری سینٹی گریڈ ہو جائے تو پودے کو دیا جانے والا سارا پانی پودا اپنے آپ کو ٹھنڈا کرنے کے چکر میں ضائع کر دیتا ہے اور ایک فیصد پانی بھی پودا اپنی نشوونما کے لئے استعمال نہیں کر پاتا۔

جب زمین کا درجہ حرارت 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے تو شدید گرمی کی وجہ سے زمین کے اندر موجود ہر طرح کی حیات اور مفید جراثیم وغیرہ مر جاتے ہیں جس سے ہماری زمین بانجھ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پنجاب اور سندھ وغیرہ جہاں زمین کا درجہ حرات 60 ڈگری سینڈی گریڈ سے بھی بڑھ جاتا ہے وہاں زمین کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے کیا کچھ کیا جا سکتا ہے؟

تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ ہم اپنی زمینوں کو گھاس پھوس اور فصلوں کی باقیات وغیرہ سے ڈھانپ کر رکھیں۔ اس سے نہ صرف یہ کہ ہماری زمینیں گرمیوں میں ٹھنڈی رہیں گی بلکہ شدید سردی میں بھی زمین کا درجہ حرارت معتدل رہے گا جس کا پیداوار پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

اب اگلی بات یہ ہے کہ زمین کو فصلوں کی باقیات اور گھاس پھوس وغیرہ سے ڈھانپ کر رکھنے سے زمین کتنی ٹھنڈی رہے گی؟

تو ظاہر ہے اس بات کا دارومدار اس بات پر ہے کہ زمین پر گھاس پھوس وغیرہ کی تہہ کتنی موٹی ہے؟ اگر تہہ زیادہ موٹی ہوگی تو زمین زیادہ ٹھنڈی رہے گی لیکن اگر یہ تہہ پتلی ہو گی تو پھر زمین چند ڈگری سینٹی گریڈ ہی ٹھنڈی ہو پائے گی۔

یہاں آپ کے ذہن میں یہ بات آ سکتی ہے کہ اتنی موٹی تہہ بچھانے کے لئے آپ فصلوں کی باقیات یا گھاس پھوس وغیرہ کہاں سے اکٹھا کریں گے؟

تو جناب بات یہ ہے کہ گھاس پھوس وغیرہ آپ نے کہیں سے بھی اکٹھا نہیں کرنا۔ بس آپ نے زمین میں ہل نہیں چلانا۔ یہ تہہ خود بخود بنتی چلی جائے گی۔ اور دو تین سال کے اندر اندر دو تین انچ موٹی تہہ آپ کی زمین پر بن جائے گی۔ پچھلے مضمون میں بھی بہت سے کاشتکاروں نے سوال کیا تھا کہ اگر ہل نہیں چلائیں گے تو فصل کیسے کاشت کریں گے؟ اس بات کا تفصیلی جواب اس سے اگلے آرٹیکل میں قدرتی کاشت کاری کے تیسرے اصول کے تحت تفصیل سے دیا جائے گا۔

زمین کو ڈھانپنے کی بدولت ایک تو زمین ٹھنڈی رہے گی اور دوسرے کھیت کی سطح سے براہ راست پانی ہوا میں اڑ کر بھی ضائع نہیں ہو گا۔ اگر ہم بیڈ یا پٹڑیاں بنا کرفصل کاشت کریں اور پھر ان پٹڑیوں کو فصلوں کی باقیات وغیرہ سے ڈھانپ دیں تو ایک اندازے کے مطابق پانی کی 80 فیصد تک بچت ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ پانی کہ یہ بچت ڈرپ آبپاشی کے مقابلے میں دوگنی ہے۔ اور اس کام پر خرچہ ڈرپ کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

زمین کو ڈھانپ کر رکھنے سے جڑی بوٹیوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔

بیج کو اگنے کے لئے تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک گرمائش اور دوسرا نمی اور تیسرا ہوا۔ جب تک یہ تینوں چیزیں بیج کی طلب کے مطابق اسے نہیں ملیں گی بیج کا اگاؤ نہیں ہوگا چاہے وہ سالہا سال تک ہی کیوں نہ پڑا رہے۔

اگر ہم درجہ حرارت کے حوالے سے گندم کی مثال لیں تو گندم کے بیج کو اگنے کے لئے 4 ڈگری سے 37 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان گرمائش چاہئے ہوتی ہے۔ اگر بیج کو 4 ڈگری سے کم یا 37 ڈگری سے زیادہ گرمائش مل رہی ہو تو گندم کے بیج کا اگاؤ نہیں ہو گا۔

دوسری چیز جو بیج کو اگنے کے لئے چاہئے وہ نمی ہے۔ نمی کے بغیر بیج نہیں اگ سکتا۔ بعض بیجوں کو اگاؤ کے لئے اپنے وزن سے چار پانچ گنا زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔ گندم کی بات کریں تو بیج کو اگنے کے لئے اپنے وزن سے ڈیڑھ تا دو گنا زیادہ پانی جذب کرنا پڑتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ بیج یہ نمی یا پانی کہاں سے حاصل کرتا ہے؟

بیج نمی حاصل کرنے کے لئے زمین کا محتاج ہے۔ اگر گندم کی مثال لیں تو بیج مسلسل دو دن تک پانی جذب کرتا رہتا ہے تب جا کر اس کا اگاؤ یقینی بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یا تو بیج کو وتر زمین میں بوتے ہیں یا پھر خشک زمین میں بو کر اوپر سے پانی لگا دیتے ہیں تاکہ بیج مطلوبہ نمی حاصل کر کے کامیابی سے اگاؤ کر لے۔

اب اگر بیج کو زمین کے اندر دبا دیا جائے تو بیج زمین سے باآسانی پانی جذب کر کے اپنا اگاؤ مکمل کرسکتا ہے۔ لیکن اگر بیج کو مٹی میں دبایا نہ جائے اور وہ زمین کے اوپر ہی پڑا رہے تو ایسی صورت میں بیج زمین سے مطلوبہ نمی جذب نہیں کر سکے گا اور اس کا اگاؤ خطرے میں پڑ جائے گا۔

ایک بات ذہن میں رہے کہ قدرتی کاشتکاری میں بار بار ہل نہیں چلایا جاتا۔ ہل نہ چلانے کی وجہ سے جڑی بوٹیوں کے بیج زمین کے اوپر ہی پڑے رہتے ہیں اور مطلوبہ نمی نہ ملنے کی وجہ سے زیادہ تر بیجوں کا اگاؤ ہی نہیں ہوتا۔

یہاں آپ کو ایک بات سمجھ لینی چاہئے کہ بیج دیکھنے کو تو ایک چھوٹا سا دانہ ہے لیکن حقیقیت میں یہ قدرت کا ایک بہت بڑا شاہکار ہے۔

بیج کی کوکھ میں پودے کا بچہ زندہ حالت میں پڑا ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت نے اس بچے کی خوراک بھی اس کےساتھ ہی باندھی ہوئے ہے کہ جب بھی اس بچے کو مطلوبہ گرمائش، نمی اور ہوا میسر آئے تووہ قدرت کی طرف سے عطیہ کردہ خوراک کو استعمال کر کے اپنی ابتدائی نشوونما کر سکے۔

اس بچے اوربچے کی خوراک کو گرم و سرد حالات سے بچانے کے لئے اللہ تعالی بیج کے باہر ایک خول یا سخت سی تہہ چڑھا دیتا ہے تاکہ وہ ہر طرح کے سخت حالات کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ الٹ پلٹ کے دوران بھی محفوظ رہ سکے۔

بیج کے متعلق بنیادی بات سمجھنے کے بعد اب میں آپ کو اگلی بات بتاتا ہوں۔

بیج جب اگتا ہے تو ابتدائی نشوونما کے لئے وہ اپنے ساتھ بندھی ہوئی خوراک استعمال کرتا ہے۔ اس خوراک کو استعمال کر کے بیج سب سے پہلے اپنی جڑیں نکالتا ہے جو زمین میں داخل ہو کر وہاں سے پانی اور خوراک وغیرہ جذب کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس کے بعد بیج اپنے ابتدائی سبز رنگ کے پتے نکالتا ہے۔ پتوں کی مدد سے پودا اپنی خوراک ازخود تیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔

لیکن یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ پودے کو خوراک بنانے کے لئے سورج کی روشنی کی ہر حال میں ضرورت ہوتی ہے۔ اگر پودے کے پتوں پر سورج کی براہ راست روشنی نہیں پڑے گی تو پودا اپنی مطلوبہ خوراک تیار نہیں کر سکے گا اور خوراک کی کمی کا شکار ہو کر پودا اپنی نشوونما جاری نہیں رکھ سکے گا اور اس قدر لاغر و کمزور ہو جائے گا کہ اس کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہو جائے گا۔

لہذا جب ہم زمین کو گھاس پھوس سے ڈھانپ دیتے ہیں تو جڑی بوٹیوں کے وہ بیج جن کا اگاؤ ہو جاتا ہے، اگاؤ کے بعد گھاس پھوس کے نیچے پڑے ہونے کی وجہ سے انہیں مناسب روشنی نہیں ملتی۔ لہذا جڑی بوٹیوں کے یہ ننھے منھے پودے سورج کی روشنی نہ ملنے کی وجہ سے مطلوبہ خوراک تیار نہیں کرپاتے اورخوراک کمی کا شکار ہو اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔

ہو سکتا ہے آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا ہو کہ ان حالات میں اگر جڑی بوٹیوں کے پودے مر جاتے ہیں تو فصل کے پودے کیسے بچ جاتے ہیں؟ اس پر ہم قدرتی کاشتکاری کے تیسرے اصول میں بات کریں گے۔

زمین کو ڈھانپ کر رکھنے سے مفید جراثیموں کی آبادی انتہائی تیزی سے بڑھتی ہے۔

اگر آپ کے کھیت کی مٹی صحت مند ہے تو صحت مند مٹی کے ایک چمچ میں 7 ارب سے زیادہ مفید جراثیم پائے جاتے ہیں۔ ہے ناں حیران کن بات۔ یعنی کرہ ارض پر جتنے انسان بستے ہیں ان کی کل آبادی سے زیادہ حیات صحت مند مٹی کے ایک چمچ میں پائی جاتی ہے۔ دراصل یہی وہ جراثیم ہیں جو زمین کی زرخیزی کی ضمانت ہیں۔ اگر ہماری زمینوں میں یہ جراثیم پرورش پانا شروع کر دیں تو ہمیں اپنی فصلوں کو کسی طرح کی کھاد ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

اگرصحت مند مٹی کو طاقتور خوردبین کے نیچے رکھ کر دیکھیں تو اس میں اس طرح کے مفید جراثیم نظر آتے ہیں

اب اگلا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی زرعی زمینوں میں بھی یہ مفید جراثیم اتنی ہی تعدا میں پائے جاتے ہیں؟ تو اس کا جواب بدقسمتی سے ہاں میں نہیں ہے۔ ہمارے ہاں 90 فیصد سے زیادہ زمینوں کو ہم نے اس قدر غیر قدرتی طریقے سے استعمال کیا ہے کہ ان فائدہ مند جراثیموں کا ایک بڑا حصہ اپنی زندگی کی بازی ہار چکا ہے۔

لیکن گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ قدرت نے ان جراثیموں کا نظام کچھ اس طرح سے بنایا ہے کہ جب بھی انہیں سازگار ماحول میسر آئے گا یہ دو تین سال میں ہی نشوونما پا کر اپنی تعداد پوری کر لیں گے۔

اس بات کی مثال کچھ یوں ہے کہ جیسے ہم نے کسی جگہ سے درختوں کا جھنڈ کاٹ دیا ہو اور وہاں پر بسنے والے ہزاروں پرندے غائب ہو چکے ہوں۔ اب جیسے ہی ہم وہاں نئے درخت لگائیں گے تو ان درختوں کے بڑے ہوتے ہی پرندے پھر سے لوٹ آئیں گے۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ یہ انتہائی مفید جراثیم ہماری زمینوں میں واپس لوٹ آئیں۔

اس کے لئے ہمیں قدرتی طریقہ کاشتکاری کی طرف لوٹنا پڑے گا۔ جس میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم مستقل بیڈ بنا کر فصلیں کاشت کریں (یہ بات ہم قدرتی کاشکاری کے پہلے اصول میں تفصلا بیان کر چکے ہیں)۔ اور دوسرا کام یہ کرنا ہو گا کہ ہمیں اپنی زمینوں کو گھاس پھوس یا فصلوں کی باقیات وغیرہ سے ڈھانک کر رکھنا ہو گا۔ جب ہم زمین کو ڈھانک دیں گے تو ہماری زمین ٹھنڈی رہے گی۔ اور پھر ٹھنڈی زمین میں وہ ماحول میسر آ سکے گا جس میں یہ مفید جراثیم اپنی افزائش نسل اور نشوونما کرکے اپنی آبادی بڑھا سکیں گے۔

جس طرح ایک حد سے زیادہ گرمی یا ایک حد سے زیادہ سردی انسان برداشت نہیں کر سکتا ان جراثیموں کا معاملہ بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ گرمی لگے تو انسان سائے میں جا بیٹھتا ہے سردی ہو تو چادر اوڑھ لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ شدید سردی یا شدید گرمی میں یہ جراثیم بے جاری کیا کریں؟ اگر ہم زمین کو ڈھانپ کر نہیں رکھیں گے تو ان کی موت واقع ہو جائے گی۔ اور ان مفید جراثیموں کی موت کا مطلب ہے کہ آپ نے اپنی زمین کو زرخیز رکھنے والی مضلوق کا خاتمہ کر دیا ہے۔

زمین کو ڈھانپ کر رکھنے سے فصلوں کو کھادیں وغیرہ ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی

اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ زمین کو ڈھانپنے سے اربوں جراثیم مٹی میں پیدا ہو جاتے ہیں جو زمین کی زرخیزی کو یقینی بناتے ہیں۔

دراصل قدرت نے زمین کے اندر ہر وہ چیز رکھ دی ہے جس کی پودے کو ضرورت ہے۔ مثلاََ نائٹروجن، فاسفورس، پوٹاش، زنک، بوران اور نہ جانے کون کون سے غذائی اجزاء جو کسی بھی پودے کو درکار ہوتے ہیں وہ سب کے سب وافر مقدار میں کروڑوں سالوں سے زمین میں موجود ہیں۔

اگلے کروڑوں سالوں میں بھی ان غذائی اجزاء میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ کیونکہ غذائی اجزاء کی جتنی مقدار پودے استعمال کرتے ہیں، قدرت کے ایک خود کار نظام کے تحت یہ غذائی اجزاء خود بخود بحال ہو جا تے ہیں۔ اس کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کروڑوں سالوں سے سورج اس کرہ ارض کو روشنی دے رہا ہے اور سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اگلے کروڑوں سالوں تک بھی یہ سورج ٹھنڈا نہیں ہو گا۔ یہی معاملہ زمین کا ہے۔ دنیا میں کئی ایسے جنگل موجود ہیں جہاں کروڑوں سالوں سے سبزہ پیدا ہو رہا ہے لیکن زمین کی زرخیزی کم نہیں ہوئی ہے۔

یہاں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ زمین کے اندر جو غذائی اجزاء پڑے ہوئے ہیں وہ ایسی حالت میں موجود ہیں کہ پودا انہیں براہ راست استعمال نہیں کر سکتا۔ جراثیم ان غذائی اجزاء کو اس قابل بناتے ہیں کہ پودا انہیں استعمال کر سکے۔

یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی بھوکے شخص کے پاس کئی من کچا گوشت رکھ دیا جائے۔ ظاہر ہے اس کچے گوشت سے انسان اپنی بھوک تو نہیں مٹا سکتا۔ ضروری ہے کہ کوئی باورچی اس گوشت میں مناسب مرچ مصالحہ ڈال کر اسے ہنڈیا پر چڑھائے تاکہ وہ اس قابل ہو سکے کہ حضرتِ انسان اس گوشت کو کھا سکے۔

دراصل زمین میں موجود یہ ارب ہا جراثیم پودے کے لئے باورچی کا کام کرتے ہیں۔ وہ زمین میں موجود غذائی اجزاء کو اس قابل بناتے ہیں کہ پودا انہیں استعمال کر سکے۔ اور یہ جراثیم پودے کی ضرورت کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر کام کر رہے ہوتے ہیں اور پودے کو خوراک مہیا کر رہے ہوتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ اگر یہ جراثیم زمین میں نہیں ہوں گے تو پھر پودا خوراک کی کمی کا شکار ہو جائے گا۔ جسے پورا کرنے کے لئے ہمیں بار بار اپنی زمینوں میں کھادیں ڈالنا پڑیں گی۔ آج کل ہمارے کاشتکاروں کے ساتھ بس یہی کچھ ہو رہا ہے۔

اگر آپ اپنی زمین کو فصلوں کی باقیات وغیرہ سے ڈھانک دیں تو دو تین سال میں ہی آپ کی زمین میں اربوں جراثیم پیدا ہو جائیں گے جو آپ کی فصل کو غذائی اجزاء مہیا کریں گے۔ شروع والے ایک دو سال آپ کو فی ایکڑ چار چار پانچ پانچ کلو کھاد ڈالنا پڑ سکتی ہے۔ لیکن جب یہ جراثیم اپنی تعداد بڑھا لیں گے تو پھر آپ کو کھاد کا ایک دانہ بھی اپنے کھیتوں میں نہیں ڈالنا پڑے گا۔ موجودہ سلسلے کے آخری مضامین میں ہم آپ کو ان کسانوں سے ملوائیں گے جنہوں نے گزشتہ سال گندم کے کھیت میں چار پانچ کلو فی ایکڑ کھاد استعمال کر کے 60 من فی ایکڑ سے زیادہ پیداوارحاصل کی ہے۔

فصلوں کی باقیات کو زمین پر رہنے دینے سے زمین کے نامیادتی مادے میں اضافہ ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں مختلف فصلوں خاص کر دھان اور کماد کی باقیات کو آگ لگانا ایک عام بات ہے۔ جب ہم فصلوں کو آگ لگاتے ہیں تو زمین کی سطح کے آس پاس مفید جراثیم ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ذرا سوچئے کہ وہ جراثیم جو 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک کا درجہ حرارت برداشت نہیں کر سکتے وہ آگ کی وجہ سے پیدا ہونے والےکم و بیش 500 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں کیسے زندہ رہ سکتے ہیں۔ لہذا آگ لگانے سے دو نقصانات ہوئے۔ ایک تو یہ کہ فصلوں کی وہ باقیات جنہیں گل سڑ کر زمین میں نامیاتی مادے کی صورت میں شامل ہونا تھا اس کو ضائع کر دیا گیا۔ اور دوسرے وہ مفید جراثیم جنہوں نے فصلوں کی باقیات کو گلا سڑا کر نامیاتی مادے میں بدلنا تھا انہیں بھی مار دیا گیا۔ یعنی آپ نے نہ صرف پرندے کو مار دیا بلکہ اس درخت کو بھی کاٹ دیا جس پر پرندے نے گھونسلا بنا کر انڈے بچے دینے تھے۔ اس طرح آگ لگا کر آپ نے اپنے ہاتھوں اپنی زمین کو برباد کر دیا۔ لہذا ضروری ہے کہ ہم آگ لگانے کی بجائے فصلوں کی باقیات کو زمین پر ہی پڑا رہنے دیں۔ اس سے نہ صرف یہ کہ آپ کی زمین میں مفید جراثیم محفوظ رہیں گے بلکہ زمین کے نامیاتی مادے میں بھی اضافہ ہوگا۔

زمین کو ڈھانپ کر رکھنے سے پودوں پر کیڑوں مکوڑوں کا بہت کم حملہ ہوتا ہے۔

عام طور پر کیڑے مکوڑے پودوں پر دو صورتوں میں حملہ کرتے ہیں۔

پہلی صورت

پہلی صورت وہ کہ جب پودا اس قدر لاغر اور کمزور ہو جائے کہ اس کے دفاعی نظام میں کیڑے مکوڑوں کو روکنے کی سکت نہ رہے۔

اگر آپ کسی سنڈی کو ادھ موا کر کے زمین پر پھینک دیں تو دیکھتے ہی دیکھتے چیونٹیاں سنڈی پر حملہ آور ہو جائیں گی اور سنڈی کے مسلسل تڑپتے رہنے کے باوجود اسے گھسیٹتے ہوئے اپنی بل میں لے جائیں گی۔ لیکن وہی سنڈی اگر صحت مند اور چوکس ہو تو کوئی چیونٹی اس کے پاس بھی نہیں پھٹکے گی۔

اسی طرح آپ نے دیکھا ہو گا کہ سینکڑوں گدھ آسمان پر اڑتے رہتے ہیں لیکن ہمیشہ وہ اسی جانور پر گرتے ہیں جو مر چکا ہوتا ہے۔ کیا اس بات کا تصور کیا جا سکتا ہے کہ گدھ کسی صحت مند اور زندہ جانور کو نوچنے کے لئے زمین پر اتر آئیں۔

بالکل یہی حال پودوں کا ہے۔ جب پودے کا کوئی حصہ لاغر یا کمزوریا بے جان ہو جاتا ہے تو کیڑے مکوڑے اس پودے پر حملہ کر دیتے ہیں۔ اس بات کا بہت کم امکان ہوتا ہے کہ ہر لحاظ سے صحت مند پودے پر کیڑے حملہ آور ہو جائیں۔

اب سوال یہ ہے کہ پودے کی صحت کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے؟

صرف اور صرف صحت مند زمین ہی پودوں کی صحت کی ضمانت دے سکتی ہے۔ اورفصلوں کی باقیات وغیرہ سے ڈھانپے بغیر زمین کی صحت کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔

لہذا زمین کو ڈھانکنے سے فصل کو کیڑے مکوڑوں کے حملے سے بلاواسطہ بچایا جا سکتا ہے۔

دوسری صورت

دوسری صورت میں کیڑے مکوڑے فصل پر اس وقت حملہ کرتے ہیں جب پودوں کے پتے اور شاخیں بہت زیادہ نازک اور رسیلے ہو جائیں۔ اور یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب فصل پر کھادوں خاص طور پر یوریا کھاد کا استعمال کیا جائے۔

جی ہاں! آپ بالکل درست سمجھے ہیں کہ یوریا کھاد کا استعمال فصل پر کیڑے مکوڑوں کے حملے کا سبب ہے۔

لہذا اگر ہم یوریا کھاد کا استعمال بالکل ترک کر دیں تو فصل پر کیڑے مکوڑوں کے حملوں کا امکان بہت کم رہ جائے گا۔

تو یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کھادوں کے بغیر فصل کی بہتر پیداوار کیسے حاصل ہو گی؟ اس سے پہلے ہم اسی مضمون میں بیان کر چکے ہیں کہ زمین کو ڈھانپنے سے آپ کے کھیت میں مفید جراثیم پیدا ہو جائیں گے تو آپ کی زمین کو زرخیز رکھنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اور اس طرح کھادوں کے بغیر ہی آپ بہتر پیداوار حاصل کر سکیں گے۔ اور جب آپ کھادیں استعمال نہیں کریں گے تو آپ کی فصل پر کیڑوں مکوڑوں کے حملہ کرنے کے امکانات بھی بہت کم رہ جائیں گے۔

زمین کو ڈھانپ کر رکھنے سے پودوں پر بیماریوں کا بہت کم حملہ ہوتا ہے۔

پودوں پر بیماری دو صورتوں میں آتی ہے۔

پہلی صورت

قدرت نے زمین کے اندر جو مفید جراثیم پیدا کئے ہیں وہ دوسرے بہت سے کاموں کے ساتھ ساتھ بیماریاں پھیلانے والے جراثیموں کو شکار بھی کرتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے فصل میں بہت سے شکاری کیڑے، نقصان دہ کیڑوں کو کھا جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کرائی سوپا یا ریڈ بیٹل وغیرہ ایسے کیڑے ہیں جو خود فصل کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے جبکہ فصل کو نقصان پہنچانے والے رس چوسنے والے کیڑوں کو شکار کر کے کھاتے رہتے ہیں۔

لیکن مفید جراثیموں کی غیر موجودگی میں بیماریاں پھیلانے والے جراثیم زمین کے اندر اپنا اثرورسوخ پیدا کر لیتے ہیں اور جیسے ہی پودا بیج سے نکل کر زمین میں اپنا پاؤں رکھتا ہے تو بیماریاں پھیلانے والے یہ جراثیم پودے پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔

لہذا فصل کو بیماریوں سے بچانے کے لئے ایک تو ضروری ہے کہ زمین میں مفید یا شکاری جراثیموں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس حوالے سے اسی آرٹیکل میں ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ زمین کو ڈھانک کر رکھنے سے مفید جراثیم خوب نشوونما پاتے ہیں جو بیماریاں پھیلانے والے جراثیموں کو شکار کرنے کے ساتھ ساتھ زمین کی زرخیزی کو بھی یقینی بناتے ہیں۔

دوسری صورت

بیماریاں پھیلانے کا دوسرا سبب فصل پر حملہ کرنے والے کیڑے مکوڑے ہیں۔ کپاس کے زیادہ تر کاشتکار یہ بات جانتے ہیں کہ سفید مکھی پودوں میں وائرس پھیلانے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اسی طرح رس چوسنے والے کیڑے پتوں کو زخم لگا کر رس چوستے ہیں اور بعد میں یہ زخم مختلف بیماریوں کے جراثیموں کو پروان چڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح رس چوسنے والے کیڑے شربتی مادہ خارج کرتے ہیں جن پر کئی طرح کی پھپھوندیاں نشوونما پا کر فصل کی پیداوار اور معیار میں کمی واقع کر دیتی ہیں۔

لہذا کیڑے مکوڑوں کو فصل پر حملہ کرنے کا موقع نہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی فصل کو بیماریوں سے بچا رہے ہیں۔ اور زمین کو ڈھانپنے سے مفید جراثیموں کی بھر پور نشوونما ہو گی۔ مفید جراثیم ہوں گے تو زمین صحت مند اور اس کی زرخیزی بحال رہے گی۔ زمین زرخیز اور صحت مند ہو گی تو اس سے دو باتیں ہوں گی۔ ایک تو پودوں کا دفاعی نظام مضبوط رہے گا اور دوسرا فصل کو کھادیں بھی نہیں ڈالنا پڑیں گی۔ اور ایسی فصل جس کا دفاعی نظام مظبوط ہو گا اس پر کیڑے مکوڑے حملہ آور نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ کھادوں کا عدم استعمال بھی کیڑوں کے حملے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہو گا۔ اور جب فصل پر کیڑے نہیں آئیں گے تو بیماریاں بھی کم سے کم ہوں گی۔

زمین کو ڈھانک کر رکھنے کے جو فوائد ہم نے بتائے ہیں پاکستان میں بہت سے کاشتکار اس پر عمل پیرا ہو کر یہ تمام فوائد سمیٹ رہے ہیں۔ قدرتی کاشتکاری کے آخری مضامین میں ہم ان کاشتکاروں سے آپ کی براہ راست ملاقات کروائیں گے۔

تحریر

ڈاکٹر شوکت علی
ماہر توسیع زراعت، فیصل آباد

یہ مضمون لکھنے کے لئے محترم آصف شریف کے افکارو تجربات سے خوشہ چینی کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ سائنسی جرائد میں شائع ہونے والے تحقیقی مضامین سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔

نقد و نظر کے لئے تمام قارئین کو دعوت عام ہے۔ آپ ایگری اخبار فیس بک پیج کے ذریعے اپنا پیغام ہم تک پہنچا سکتے ہیں۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.