تازہ ترین

کسی کی خیر نہیں

آج کے مضامین
5
0
sample-ad
ہو سکتا ہے کہ آج کا پورا کالم جملہ معترضہ کی نظر ہو جائے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کے سب نمایاں سیاست داں ساتھ کیوں نہیں چل پا رہے جب کہ وہ اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ موجودہ حکومت ملک کی بقا سلامتی اور ترقی کے لئے خطرہ ہے۔ میں نہیں کہتا یہ تجزیہ درست ہے۔ مگر اس کی خبر ضرور دیتا ہوں کہ تینوں سرگرم عمل پارٹیوں کے سنجیدہ لوگ اپنے دل کی گہرائیوں سے نہایت دیانتداری سے یہی سمجھتے ہیں۔ ان کی دیگر غرض مندیاں بھی ہوں گی‘ ان سے انکار نہیں‘ مگر اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ان کا دیانتدارانہ تجزیہ بھی یہی ہے۔ ہو سکتا ہے ان کا تجزیہ اور ان کا مفاد ایک ہو گئے ہوں۔ پھر یہ ایک کہیں نہیں ہو پا رہے۔ یہ سوال مرے لئے بڑا اہم ہے۔ دو ٹوک اور کھری کہوں گا تو بہت برا لگے گا۔ اپنی سیاسی تاریخ کے چند تضادات یاد آ رہے ہیں۔ جو شخصیات کے حوالے سے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر میں لٹھ مارتے ہوئے سیدھا یہ کہہ دوں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو مولانا فضل الرحمن پر اعتبار نہیں ہے‘ تو بھی غلط نہ ہو گا۔ ان کے دل میں ایک کھد بدسی ہے کہ مولانا کس کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ ان کے پیچھے کون ہے۔ کوئی تو ہو گا جو یہ ’’نظام ہستی‘‘ چلا رہا ہے۔ ایسی سیاست میں ڈوریاں ہلانے والے ضرور ہوتے ہیں۔ جانے ان کے مقاصد کیا ہوں۔ تحریک ناکام ہو گئی تو کہیں ہم بھی ساتھ نہ ڈوب جائیں اور اگر کامیاب ہو گئی تو اس کا پھل کس کی جھولی میں جائے گا۔ صاف پوچھا جا رہا ہے‘ مارشل لاء تو نہیں لگ جائے گا۔ جواب ملتا ہے اب کون سا مارشل لاء نہیں ہے۔ کہیں ہم کسی کے ہاتھوں کھیل نہ جائیں۔ یا کم از کم مولانا کے ہاتھوں کھلونا بن جائیں۔ مولانا کے بارے میں ایک طرف تو یہ رائے ہے کہ وہ سیاست کے میدان کے دھنی ہیں۔ زیرک اور جہاندیدہ ہیں۔ دوسری طرف یہ خیال ہے کہ ان کی اسی خوبی سے تو ڈر لگتاہے۔ بات مفتی محمود تک جاتی ہے جنہوں نے ایوب خاں کے ساتھ ایسا حسن سلوک دکھایا تھا کہ تاریخ میں رقم ہو گیا ہے۔ پھر انہوں نے صرف 5نشستوں کے زورپرصوبہ خیبر پختونخواہ (سرحد) کی وزارت اعلیٰ حاصل کر لی تھی۔ یہ معمولی بات نہیں۔ تحریک نظام مصطفی کا وقت آیا تو وہ قومی اتحاد کے صدر چن لئے گئے۔ اگرچہ اصل عوامی حمایت اصغر خاں کے ہاتھ میں تھی۔ یہ سب کہانیاں اپنی گہرائی میں مجھ جیسوں کو بھی ازبر ہیں۔ مخالفت کا یہ عالم تھا کہ آغا شورش کشمیری انہیں ملائے ڈبل میم اور مولانا غلام غوث ہزاروی کو ملائے ڈبل غین لکھا کرتے تھے۔ اشعار نقل نہیں کروں گا کہ گفتنی ہیں۔ پھر بھی وہ اپنی قوت کے بل بوتے پر بھی ایک مسلمہ لیڈر گنے جاتے تھے۔ بھٹو نے 70ء میں 4جگہ سے الیکشن لڑا۔ صرف ایک جگہ سے ہارے۔ وہ ڈیرہ اسماعیل خاں میں مفتی محمود صاحب کے مقابلے میں۔ بے پناہ خوبیاں‘ مگر بے پناہ مسائل۔ آج بھی مولانا فضل الرحمن میں کیڑے نکالنے والے ان کی سیاسی بصیرت کے گن گاتے ہیں۔ ان کا ایک انداز ہے۔ جماعت اسلامی کے ایک معتبرشخص نے مجھ سے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے لوگوں کا بھی سیاست میں ماڈل مولانا فضل الرحمن بن گئے ہیں یہ کوئی معمولی بات نہیں ہوا کرتی۔ پھر ان کے پیچھے سیاست کی ایک پوری روایت ہے جو قیام پاکستان سے پہلے کی ہے۔ علماء کی وہ شاخ جسے کانگرسی علماء کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنے وجود کو منوانا جانتے ہیں۔ شاید یہی اس طرز سیاست کی خرابی ہے۔ اب حالیہ تاریخ میں مولانا فضل الرحمن نے جہاں متحدہ مجلس عمل بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ وہاں اس کی تباہی کا بھی سبب بنے۔ جنرل مشرف کے آخری دنوں میں ایک حکمت عملی طے کی گئی کہ مشرف صدر منتخب ہو نہ ہو سکیں۔ خیبر پختونخواہ کی اسمبلی کو استعفیٰ دینا تھا۔ ان دنوں کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ قاضی حسین احمد منہ دیکھتے رہ گئے۔ اس کے بعد آج تک مذہبی جماعتوں کا ویسا اتحاد نہ ہو سکا۔ ذاتی طور پر مجھے بھی مولانا کی ان دنوں کی درفنطنیاں سمجھ نہیں آئیں۔ پر کیا کریں ‘ پیپلز پارٹی نے بھی تو یہی کیا تھا۔ مشرف کا ساتھ دیا تھا‘ طریقہ دوسرا تھا اسمبلی کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ کیوں دیا تھا۔ یہ کون بتائے۔ تو کیا میں یہ کہہ رہا ہوں کہ مولانا کا ساتھ نہ دیا جائے۔ نہیں مرا یہ مطلب نہیں ہے مولانا اس وقت اکیلے ہی میدان میں اس طرح نکلے ہیں کہ باقی سب کو بھی ان کی راہ سے گریز کرنا مشکل ہو جائے گا۔ بلاول نے انکار کرکے دیکھ لیا۔ ان کی پارٹی کو احساس ہو گیا کہ یہ بات چلنے کی نہیں۔ اب وہ بڑا سیاسی قسم کا موقف اختیار کئے ہوئے ہیں۔ اگر ماضی کو اس طرح کھنگالنا ہے تو پیپلز پارٹی کی اپنی داستان بھی اتنی صاف اور سادہ نہیں ہے۔ اس پارٹی کی مگر خوبی یہ ہے کہ اس کے کارکن مخلص اور جی دار ہیں۔ ان میں بہت سے نظریاتی بھی ہیں۔ بھٹو اور بے نظیر تک نہ جائیں۔ زرداری نے اپنے آغاز ہی سے مسلم لیگ سے معاہدہ کر کے وہ تاریخی بیان دے ڈالا کہ معاہدے کوئی قرآن و حدیث تھوڑے ہوتے ہیں۔ مجھے ماضی کی ایک بات یاد آئی۔ اچھے دنوں کے ہمارے ایک معتبر سیاستدان نے ایک امیدوار سے قرآن پر لکھ کر کوئی معاہدہ کیا۔ پھر اس سے یہ کہہ کر مکر گئے کہ اس معاہدہ کے لئے قرآن پر نہیں اس کے حاشیے پر دستخط کئے گئے تھے۔ اس پارٹی کا خاندان اب مسلم لیگ میں ہے اور بڑے ناموراور معتبر ہیں۔ ہمارے سیاستدان کیا کرتے رہے ہیں‘ آپ کو یقین نہیں آئے گا۔ ممتازدولتانہ ہمارے بہت ذہین اور تعلیم یافتہ سیاستدان تھے۔ آکسفورڈ کے پڑھے ہوئے تھے۔ اس زمانے کے گویا بھٹو اور عمران تھے۔ وہ زرعی اصلاحات لے کر آئے تو ان کی اتنی مخالفت ہوئی کہ نواب کالا باغ‘ نوابزادہ نصراللہ خاں‘ کرنل عابد حسین اور نوبہار شاہ وغیرہ نے ایک تنظیم بنائی جس کا نام انجمن تحفظ حقوق زمینداراں تحت الشریعہ رکھ دیا۔ ملاحظہ کیا آپ نے ۔ ہم نوابزادہ کو بابائے جمہوریت کہتے ہیں اگر ان کی باتیں سنائوں تو الامان والحفیظ اب میں نے یہ لکھ دیا ہے تو یہ بھی بتاتا چلوں کہ قرآن پر دستخط کرنے والے سیاستدان ممتاز دولتانہ تھے۔ جب وہ سیاست میں آئے ان کی زمین5ہزار مربع تھی۔(یا ایکڑ) جب گئے تو 500رہ گئی تھی۔ اس زمانے کے کسی سیاست دان پر آپ کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتے۔ کہنے کو تو ہم ہر روز 70سال کے گند کا راگ الاپتے ہیں وہ تو گویا اس حساب سے پارسا تھے۔ پارسا۔ ان پر بھی پابندیاں لگیں۔ سہروردی‘ خواجہ ناظم الدین پر بھی پابندیاں لگیں۔ کہتے ہیں اگر خواجہ ناظم الدین پر پابندی نہ ہوتی تو اپوزیشن کو ایوب خاں کا مقابلہ کرنے کے لئے مادر ملت کے پاس نہ جانا پڑتا۔ اوپر دولتانہ کا ذکر کر رہا تھا۔ پاکستان بنتے ہی ان کی اور ممدوٹ میں ٹھن گئی۔ پھر بھی جب ایوب خاں کا زمانہ آیا تو بہت سے لوگ ایوب کے حامی اس لئے ہو گئے کہ کہتے تھے ہم ان دولتانوں کی حمایت کریں۔ یہ سب باتیں میں نے اپنے کانوں سے سنی ہیں۔ مختصر بات یہ کہ آپ جو کہانی چاہے بنا لیں۔ لیکن سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اصل تباہی ان سیاستدانوں کی وجہ سے نہیں آئی۔ بلکہ ملک میں بار بار فوجی مداخلت کی وجہ سے آئی۔ ہم ڈنڈی مار جاتے ہیں۔ مجھے اور آپ کو کیا لینا اگر فضل الرحمن کامیاب ہو جاتے ہیں یہ صرف مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی کا مسئلہ نہیں‘ ہر کسی کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ کسی کو مارشل لاء کی چاپ سنائی دے رہی ہے۔ کوئی کہتا ہے اب بھی کس کی حکومت ہے ۔ پھر کہا جاتا ہے نواز شریف کا بیانیہ ہے تو درست نا۔ اس حوالے سے میں آج عجیب مخمصے میں ہوں۔ یہ کیا ہوا کہ کیپٹن صفدر کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف نے حسین نواز کو لندن میں خط لکھ دیا ہے۔ وہ مولانا فضل الرحمن سے رابطے میں رہیں گے۔ ملک عجیب کشمکش میں ہے۔ ہر پارٹی کے اندر جو کشمکش ہے۔ اس کے نتیجے میں پارٹیاں خرابی کی طرف نہیں جا رہیں۔ ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ شہباز شریف کے اپنے مسائل بھی ہوں گے۔ مگر انہیں فضل الرحمن سے مل جانے میں چند سنجیدہ تحفظات بھی ہیں۔ پس منظر میں نے بیان کر دیا۔ نواز شریف کا بیانیہ درست ہے۔ مگر اس پر عملدرآمد کیسے ہو گا۔ پہلے تو یہ بحث تھی کہ قیادت مریم نواز کے پاس کیوں جائے۔ بہت سے سوال اٹھائے جا رہے تھے۔ اب کیپٹن صفدر پھر سے متحرک ہو گئے ہیں اور حسین نواز کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ بتا تیرے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں۔ آج میں نے نواز شریف کے چہرے اور آنکھوں میں ایک عجیب کیفیت دیکھی ہے۔ میں پریشان ہو گیا ہوں۔ کہیں امید کی کرن نظر نہیں آتی۔ دل کرتا ہے ایک ایک ادارے کا اور ایک ایک اہم فرد کا تجزیہ کروں‘ مگر بے فائدہ ہے۔ یہ جو میں نے جملہ معترضہ کہا تھا۔ یہ تو سارا سیاست دانوں کے خلاف کہا۔ کیا باقی سب پارسا ہیں۔ وہ جو یہ سارا نظام چلانے کا دعویٰ کر رہے ہیں‘ کیا وہ صراط مستقیم پر ہیں۔ کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا۔ ملک بہت مشکل میں ہے اور حکمرانوں کو اس کی خبر تک نہیں۔ ان کو نہیں اندازہ کہ اگر ملک غلط سمت چل رہا ہے تو ان کی بھی خیر نہیں۔
sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.