کاش چین کی طرح 500 کرپٹ لوگ جیل بھیجوں ,سرمایہ کاری نہ ہونیکی وجہ کرپشن ,سرخ فیتہ کاروبار اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ :عمران خان

پاکستان
8
0
sample-ad

بیجنگ، اسلام آباد ( رائٹرز، ایجنسیاں، وقائع نگار) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ چین نے 400کرپٹ وزراء کو جیل میں ڈالا، کاش میں بھی پاکستان میں500کرپٹ لوگوں کو جیل بھیج سکوں، پاکستان میں سرمایہ کاری نہ آنے کی وجہ کرپشن ہے ،سرخ فیتہ کاروبار اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی چینی ہم منصب سے بھی ملاقات کی،جس میں مسئلہ کشمیر اور باہمی تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا گیا، پاکستان اور چین نے دو طرفہ اقتصادی شراکت داری مزید مضبوط بنانے کے عزم کا ا ظہار کیا۔ وزیراعظم لی کیانگ نے پاک چین تعلقات کو مضبوط قراردیتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ پاکستان کے اہم قومی مفادات کی حمایت جاری رہے گی۔ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے ۔ منگل کی دوپہر 2 بجے وزیراعظم عمران خان اپنے وفد کے ہمراہ بیجنگ کے گریٹ ہال آف پیپل پہنچے جہاں چینی ہم منصب لی کی کیانگ نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ مہمان وزیر اعظم کو چینی فوج نے گارڈ آف آنر پیش کیا اور 19 توپوں کی سلامی دی گئی۔پاکستان اور چین کے قومی ترانے بجائے گئے ۔ وزیراعظم نے چینی ہم منصب کے ہمراہ پریڈ کا معائنہ کیا۔ عمران خان نے چینی ہم منصب سے اپنے وفد کا ، جب کہ چینی وزیراعظم نے بھی اپنے وفد کا عمران خان سے تعارف کرایا۔ وفد میں وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر ریلوے شیخ رشید، عبدالرزاق داؤد، خسرو بختیار، ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر حکام شامل تھے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے چینی ہم منصب سے ون آن ون ملاقات کی، جس میں باہمی تعلقات، خطے کی صورت حال، مسئلہ کشمیر اوردیگر امور پر غور کیا گیا۔ چینی وزیراعظم نے پاکستان کے اہم مسائل پر تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔ون آن ون ملاقات کے بعد وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے ،جس میں پاک چین اقتصادی راہداری سمیت دیگر منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم لی کی کیانگ نے اپنے پاکستانی ہم منصب اور وفد کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا۔ اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس سے جاری تفصیلات کے مطابق ملاقات کے دوران عمران خان نے چین کی 70 ویں سالگرہ پر چینی قیادت کو مبارک باد دی۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاک چین شراکت داری بنیادی مفادات کو تحفظ فراہم کرتی ہے ، یہ خطے میں امن ، ترقی اور استحکام کی ضامن ہے ۔ سی پیک پاکستان کی معاشی ترقی اور علاقائی خوشحالی کو تیز کرنے کے لیے اہم ہے ۔ چینی وزیراعظم کو سی پیک منصوبوں کو تیز رفتار رکھنے اور گوادر میں ترقی کی رفتار کو آگے بڑھانے کے لیے حال ہی میں کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا گیا ۔چینی وزیراعظم نے پاکستان کے بنیادی قومی مفاد کے امور کے لیے چین کی حمایت کا اعادہ کیا۔ لی کی کیانگ نے سی پیک منصوبوں کو آگے بڑھانے کے اقدامات پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔ لی کی کیانگ نے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی معاشی ترقی کو بہتر کرتے ہوئے چینی سرمایہ کاری میں بے تحاشا اضافہ کرے گا، معیشت مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھلیں گی۔ عمران خان نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین سدا بہار شراکت داری ہمیشہ سے قومی مفاد ات کے مطابق رہی ہے ۔ باہمی تعلقات نے ہمیشہ عوام میں قریبی تعلق قائم کیا ہے اور امن،استحکام و ترقی کے لیے اپنا کردارادا کیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں کی اہمیت پرزور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی یہ اولین ترجیح ہے کہ منصوبوں کو تیز رفتاری کے ساتھ مکمل کیا جائے ۔ سی پیک منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار کو بڑھانے اور خطے کی خوشحالی میں اہم کردار کا حامل ہے ۔ چینی وزیراعظم کو پاکستان کی جانب سے سی پیک منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات اور گوادر میں تعمیر و ترقی کے کاموں کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ تجارت کو بڑھاوا دینے پر تبادلۂ خیال کیا اور چین کو پاکستان کی برآمدات بڑھانے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ چین پاکستان آزاد تجاری معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد سے دونوں ممالک کے مابین مزید تجارتی، معاشی اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ دونوں اطراف کے مابین ریلوے ، سٹیل ، تیل ، گیس ، صنعت، سائنس اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور وادی میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پربھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے چینی ہم منصب کو کشمیر کی تازہ ترین صورت حال، لاک ڈاؤن میں کشمیری عوام کی پریشانیوں کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کی طرف سے فوری اقدامات کی اہمیت سے آگاہ کیا۔دونوں رہنما ؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دوطرفہ متواتر اور ٹھوس تبادلہ پائیدار حکمت عملی پر مبنی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے ۔ عوام سے عوام کے تعلقات کو تقویت بخش رہا ہے ۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے اقتصادی شعبوں میں پاک چین تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے مختلف معاہدوں اور ایم او یوز پر بھی دستخط کیے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے چینی ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ رائٹرز کے مطابق ملاقات کے دوران چینی وزیر اعظم لی کی کیانگ نے کہا کہ وہ پاکستان کی علاقائی سالمیت اور آزاد خودمختاری کے تحفظ کی حمایت کرتاہے ۔ ہمارے تعلقات سے کوئی ڈور منسلک نہیں ہے اور یہ تعلقات کسی بھی تیسرے ملک کے خلاف نہیں ہیں۔ قبل ازیں بیجنگ میں عالمی تجارت کے فروغ کے لیے قائم چینی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ چین نے کس طرح جدوجہد کی اور اپنی غلطیوں سے سیکھا ۔ آج چین دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت میں سے ایک ہے ۔پاکستان کو سب سے اہم چیزجو چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ کس طرح انہوں نے لوگوں کو غربت سے نکالا اور جو میں اب تک سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ چین نے کاروبار کو دولت بنانے کی اجازت دی۔ انہوں نے اپنے خصوصی اقتصادی زونز، برآمدات پر توجہ دی، باہر سے سرمایہ کاری لائے اور دولت بنائی، جسے معاشرے کے غریب طبقے پر خرچ کیا، جب کہ ہم بھی پاکستان میں اسی طریقے پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے چین نے پاکستان سے سیکھا، اب پاکستان چین سے سیکھے گا۔ میں چین کی طرف سے 70 کروڑ افراد کو غربت سے نکالنے پر بہت متاثر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چین سے میں نے دوسری چیز جو سیکھی وہ بدعنوانی سے نمٹنا تھا،اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان چین سے سیکھے ۔ میں نے اخبارات میں پڑھا کہ ایک چینی میئر کے گھر سے کئی ٹن سونا برآمد ہوا اور 5 روز میں اس کو سزا دی گئی۔ صدر شی جن پنگ کی سب سے بڑی لڑائی کرپشن کے خلاف تھی،کرپشن ملک میں سرمایہ کاری آنے کا راستہ بند کرتی ہے ۔میری خواہش ہے کہ میں بھی چینی صدر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے 500کرپٹ پاکستانیوں کو جیل میں ڈال سکوں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ عمل بہت پیچیدہ ہے ۔ کرپشن پاکستان کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے ۔ چین نے کرپشن کے خلاف کامیابی حاصل کی اور اب چین دنیا میں تیز ترین ترقی کرنے والا ملک ہے ، یہ آئندہ دہائی میں دیگر ممالک کو پیچھے چھوڑ دے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں آکر سرمایہ کاری کرنے کا یہ بہترین وقت ہے کیوں کہ ہم نے اپنے ملک کو کاروبار کے لیے کھول دیا ہے ، ملک میں امن و امان کی صورت حال بہت بہتر ہوئی ہے ، لہٰذا یہ لوگوں کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ آئیں اور سرمایہ کاری کریں کیوں کہ ہم نے پاکستان میں ذہنیت کو تبدیل کیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ کاروبار آئے اور رقم بنے ۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کی 5 اہم وجوہات ہیں، پاکستان کامحل وقوع اور آبادی اہمیت کی حامل ہے ۔ چین کے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کریں گے ۔ تیل و گیس، ہاؤسنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو سراہیں گے ۔ سیکیورٹی صورت حال بہتر ہے ۔ چینی شہریوں کے لیے سپیشل فورس بنائی ہے ۔ ویز۱جاری کرنے میں سہولتیں پیدا کی ہیں، چین کے ساتھ اگلے فیز میں فری ٹریڈ کا معاہدہ کر رہے ہیں۔ 70 ممالک کے لیے ایئرپورٹ پر ویزا سہولت مہیا کر دی۔ چاہتے ہیں سرمایہ کار پاکستان آکر پیسہ کمائیں۔ہم نے سرمایہ کاروں کے پاکستان آنے کے لیے اقدامات کو آسان بنایا اور ہماری حکومت تاجروں کو کاروبار اورپیسہ کمانے میں سہولت دے رہی ہے ۔ پاکستان دنیا کا آٹھواں ملک ہے ، جس نے بزنس کو آسان بنایا۔ ہم چاہتے ہیں مزید چینی سرمایہ کار پاکستان آکر کام کریں کیوں کہ یہاں کاٹن ،آئی ٹی، فوڈ پراسیسنگ کے شعبے میں اچھے مواقع ہیں۔ ہاؤسنگ کے شعبے اور تیل کی صنعت، کوئلہ اور سونے کی صنعت میں بھی چین کی سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں۔ سی پیک سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں میں کئی وزارتوں کے عمل دخل کی وجہ سے سی پیک اتھارٹی بھی بنائی گئی، اس کے علاوہ گوادر سمارٹ پورٹ سٹی منصوبے کو بہتر بنایا گیا ہے ۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان چین کے تین روزہ دورے پربیجنگ پہنچے تو چین کے وزیر ثقافت اور پاکستان میں تعینات چینی سفیر نے وزیراعظم کا پُرتپاک استقبال کیا اور پھول پیش کیے ۔ چینی فوجی دستے نے سلامی پیش کی۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.