تازہ ترین

’’لنگر پرؔوگرام ، بے صبرؔ عوام اور “Wheel Chair”

آج کے مضامین
8
0
sample-ad
جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے نتیجہ میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت قائم ہونے کے بعد 16 مارچ 2019ء کو میرے کالم کا عنوان تھا ۔’’غریبوں کا بھلا ہوگا ، مگر ، آہستہ آہستہ!۔معزز قارئین!۔ کالم میں شامل میرے دوست ’’ شاعرِ سیاست‘‘ کے دو شعر یوں تھے / ہیں … کٹے گا اِبتلائوں کا سفر ،آہستہ ، آہستہ! گِریں گے جبر کے ،دیوار و در ، آہستہ آہستہ! ابھی تو اہلِ ثروت کے ،مسائل ہو رہے ہیں حلّ! غریبوں کا بھلا ہوگا ، مگر آہستہ ، آہستہ! پرسوں ( 7 اکتوبر کو ) ’’ شاعرِ سیاست‘‘ کی پیش گوئی کا آغاز ہوگیا ، جب وزیراعظم عمران خان نے ( اسلام آباد میں ) غریب اور ضرورت مند پاکستانیوںکو مفت کھانا فراہم کرنے کے لئے ’’ احساس سیلانی لنگر خانہ ‘‘ کا افتتاح کِیا۔ مسکینوں اور فقیروں کو روزمرہ کھانا تقسیم کئے جانے کھانے (خیرات) کو لنگر کہتے ہیں اور اُس جگہ کو ’’ لنگر خانہ ‘‘ جہاں لنگر تقسیم کِیا جاتا ہے ۔ معزز قارئین!۔ وزیراعظم عمران خان کے اِس ’’کارِ خیر‘‘ کا “Credit” اُن کی اہلیہ “First Lady of Pakistan” ۔ محترمہ بشریٰ مانیکا ؔ کو جاتا ہے ۔ موصوفہ اور اُن کا خاندان پنجابی زبان کے نامور شاعر اور چشتیہ سلسلہ کے ولی حضرت فرید اُلدّین مسعود المعروف بابا شکر گنج ؒ کے عقیدت مند ہیں۔لنگرخانہ کا افتتاح کرتے ہُوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’’ عوام کو صبر نہیں ہے ۔ (ابھی ہماری حکومت کو ) 13 ماہ ہُوئے نہیں اور کہتے ہیں ’’ کدھر ہے نیا پاکستان‘‘ 70 سال کے مسائل حل کرنے میں کچھ وقت تو لگے گا؟۔ مرحلہ وار تبدیلی آئے گی۔’’Ideal۔ ریاست مدینہ‘‘ بھی پہلے ہی دِن وجود میں نہیں آگئی تھی؟‘‘۔ صبر تو بہت ہی تکلیف دہ ہوتا ہے؟ ۔ جن غریبوں کی شادی کے قابل بیٹیاں اپنی اپنی شادی کے انتظار میں بیٹھی ہیں اور جن بوڑھے والدین کے پڑھے لکھے اور بے روزگار (لیکن ) اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹے دہشت گردوں یا جرائم پیشہ عناصر کے آلۂ کار بن جائیں ، اُن کا صبر کہاں تک؟۔ عدالتی انقلاب! معزز قارئین!۔ 28 جولائی 2017ء کو( موجودہ چیف جسٹس ) جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے پانچوں جج صاحبان نے ، آئین کی دفعہ “62-F-1” کے تحت وزیراعظم میاں نواز شریف کو صادقؔ اور امینؔ نہ ہونے پر تاحیات نااہل کردِیا تھا۔ تو 30 جولائی کو میرے کالم کا عنوان تھا ۔ ’’ سلام !۔ عدالتی انقلاب تو شروع ہوگیا!‘‘۔ مَیں نے لکھا تھا کہ ’’ اِس پر کیوں نہ ہم سب پہلے اللہ تعالیٰ کا شُکر ادا کریں اور پھر پنچ تن پاک ؑ کا کہ جن کی شفقت سے سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے پانچوں جج صاحبان ’’ عدالتی انقلاب‘‘ کے بانِیان بن گئے ہیں ۔ اب ہمیں یقین کرنا چاہیے کہ’’ نہ صِرف شریف خاندان بلکہ آصف زرداری اور اُس قبیل کے کئی گروپس پر بھی عدالت انقلاب کا “Law Roller” تیز رفتاری سے چلے گا‘‘۔مَیں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’’ میرے پیارے پاکستان کے 4 ستونوں (Pillers) میں سے صِرف “Judiciary” (جج صاحبان ) اور “Media” ۔ ( اخبارات اور نشریاتی ادارے) ہی ریاست کے خیر خواہ ستون ہیں ، اگر کبھی “Legislature” ( پارلیمنٹ ) اور “Executive” ( حکومت ) عوام کی بھلائی پر توجہ دیتیں تو پاکستان میں 60 فی صد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی کیوں بسر کر رہے ہوتے؟‘‘۔ “Wheel Chair” معزز قارئین!۔ 9 جون 2015ء کو مَیں حسبِ عادت ؔاپنے بیٹوں اور اُن کے اہل و عیال‘‘ کے ساتھ چھٹیاں گزارنے لندن گیا تو وہاں پتہ چلا کہ ’’ مَیں تو ’’ عارضۂ جگر‘‘ کا مریض ہُوں‘‘ ۔ میرے بیٹوں نے مجھے “Saint George Hospital” میں داخل کرادِیا ۔وہاں کے ڈاکٹر صاحبان میرے کمرے میں آ کر مجھے دلاسہ دیتے اور پیشگی صحت یابی کی “Good News” سُنایا کرتے تھے ۔ 31 دِن کے بعد مَیں صحت یاب تو ہوگیا لیکن، نقاہت (کمزوری) کا معاملہ وہی تھا جس کے بارے میں اُستاد محمد ابراہیم ذوقؔ نے کہا تھا کہ … ایسا جو نقاہت سے گھٹے گا ، بدن اُس کا ! خود ، پائوں میں ، مجنوںؔ کے ، سَلاسل نہ رہے گی! صحت یابی کے کچھ عرصہ بعد میرے اصرار پر انتصار علی چوہان مجھے لاہور لے آیا ۔ زندگی میں یہ پہلی مرتبہ ہُوا کہ مَیں نے ہوائی سفر میں “Wheel Chair” استعمال کی ۔ لاہور میں انتصار کے دو “England Return” دوست ڈاکٹر محمد اعظم خان کے بعد ڈاکٹر عمران حسن خان ، نہ صِرف میرے معالج ہیں بلکہ “Care Taker” کی بھی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر عمران حسن کے بھائی، لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ مجتبیٰ حسن خان ( لاء کالج لاہور میں ) انتصار علی چوہان کے کلاس فیلو رہے ہیں ۔ مَیں جب بھی مریض کی حیثیت سے ڈاکٹر عمران حسن خان کے پاس گیا ( اور جاتا ہُوں) تو وہ میرے ساتھ مہمانوں کا سا سلوک کرتے ہیں ۔ اُنہوں نے مجھ سے فیس نہ لینے کی تو قسم ہی کھا رکھی ہے !۔ 30 ستمبر 2016ء کو مجھے اپنے پانچ بیٹوں میں سے چوتھے نمبر پر انتظار علی چوہان کی 39 ویں سالگرہ پر لندن پہنچنا تھا ۔ مَیں نے ڈاکٹر عمران حسن خان سے مشورہ کِیا تو اُنہوں نے کہا کہ “Uncle” ۔ آپ کے لئے ضروری ہے کہ ’’ طیارے پر سوار ہونے سے پہلے اور اُترنے کے بعد “Wheel Chair” کا استعمال ضرور کِیا کریں !‘‘ ۔ مَیں نے اُن کا ’’مفت مشورہ ‘‘ مان لِیا۔ لاہور سے مجھے (اُن دِنوں) ڈائریکٹر پریس انفارمیشن (P.I.D) سیّد اعجاز حسین کے معاون عزیزم شہباز ظفر لودھی نے مجھے “Wheel Chair” پر بٹھا کر طیارے میں سوار کرایا۔ سرے شام طیارہ لندن کے’’ہیتھرو ائیر پورٹ‘‘ پر اُترا۔ تھوڑی دیر میں میرے سمیت کُل13 ۔ ” Wheel Chairpersons’ کو دو ویگنوں پر بٹھا کر کچھ فاصلے پر احاطۂ ائیر پورٹ ہی میں صوفوں پر بٹھا دِیا گیا ۔ چند منٹ بعد ایک”Black Beauty” نے ہم سب کو مخاطب ہو کر کہا کہ “Wheel Chairs” پہنچنے میں زیادہ دیر ہوسکتی ہے لیکن “U.K. Border Agency” ۔ تک راستہ پیدل چل کر صِرف دس منٹ میں طے کِیا جاسکتا ہے ‘‘۔ 13 مسافروں میں سے مَیں اور مجھ سے کم عمر دو مسافر اُٹھ کر چل پڑے تو مجھے گلوکارہ (اور ہیروئن) مسرت نذیر کے گائے ہُوئے ایک فلمی گیت کا یہ مصرع یاد آگیا کہ … ’’چلے تو کٹ ہی جائے گا ، سفر ، آہستہ ،آہستہ‘‘ …O… “Baggage Haal” سے جنوبی بھارت کا “Porter” بھاردواج ، مجھے اور میرے سامان کو باہر لے گیا ۔ جہاں انتصار علی چوہان اور میرے پوتے حیدر علی چوہان نے میرے ساتھ جھپّیاں ڈال کر مجھے ’’ جی آیاں نُوں ‘‘ کہا۔ پاکستان کی “Wheel Chair” مَیں ائیر پورٹ سے گھر تک اپنے بیٹے اور پوتے کے ساتھ اُن کی گاڑی کے شیشوں سے لندن کے مناظر دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ ’’ پاکستان کے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور بالائی طبقے کے دوسرے اشخاص (خواتین و حضرات )نے قائداعظمؒ کے پاکستان کے 60 فیصد عوام کو ’’ غربت کی لکیر سے ’’ نیچے کیوں دھکیل دِیا ہے ؟ ‘‘ ۔ اُن دِنوں صدرِ پاکستان سیّد ممنون حسین تھے اور وزیراعظم میاں نواز شریف۔ اب صورت یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دَور میں بھی میرا پیارا پاکستان آئی ۔ ایم ۔ ایف ، اور دوسرے بین الاقوامی اداروں کے سہارے “Wheel Chair” پر چل رہا ہے اور پاک فوج بھی ’’مملکت کا پانچواں ستون ‘‘ ہے۔ معزز قارئین!۔ مَیں 9 جون 1992ء کو اور پھر 8 اکتوبر 2013ء کو اِسی عنوان سے کالم لکھ چکا ہُوں۔ پاکستان کے “Business Leaders” سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات کے بعد اللہ کرے کہ’’ نیا پاکستان‘‘ اپنا سفر مثبت طریق سے جاری رکھ سکے؟ لیکن، کیا کِیا جائے کہ ’’ عدالتی انقلاب‘‘(Judicial Revolution)کو ناکام بنانے کے لئے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر بھی غیر جمہوری قوتیں ’ ’ ردِ انقلاب‘‘ (Counter Revolution) جاری رکھنے پر شرمندہ بھی تو نہیں ہو رہیں؟۔ کیوں نہ ہم سب مل کر اللہ تعالیٰ سے دُعا کریں کہ ’’ پاکستان مکمل طور پر صحت مند ہو جائے اور “Wheel Chair” کا محتاج نہ رہے؟‘‘۔
sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.