کاروبار

کاروبار
24
0
sample-ad

اسٹاک مارکیٹ میں محدود تیزی، 2ارب 85 کروڑ روپے ڈوب گئے

کراچی (بزنس رپورٹر)پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں پیرکو اتارچڑھاؤ کے بعد محدودپیمانے پر تیزی رہی، تاہم 100انڈیکس 32ہزارپوائنٹس کی حد پر برقرار رہا، تیزی کے باوجودسرمایہ کاروں کے دو ارب85کروڑ روپے سے زائد ڈوب گئے ۔کاروباری حجم 22فیصدزائد رہا جب کہ 49فیصد حصص کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق فروخت کے دباؤ اور پرافٹ ٹیکنگ کے باعث پیرکو اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا۔ بعد ازاں حکومتی مالیاتی اداروں، مقامی بروکریج ہاؤسز سمیت دیگر انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے توانائی، بینکنگ، سیمنٹ، ٹیلی کام، اسٹیل اورکیمیکل سیکٹر سمیت دیگرمنافع بخش سیکٹرمیں سرمایہ کاری کی گئی جس کے نتیجے میں محدود پیمانے پر تیزی دیکھی گئی ،تاہم اتارچڑھاؤ کا سلسلہ سارادن جاری رہا۔کاروبارکے اختتام پرکے ایس ای 100 انڈیکس 8پوائنٹس کے اضافے سے 32078پوائنٹس پر بندہوا۔ کے ایس ای 30 انڈیکس 19 پوائنٹس کے اضافے سے 15018پوائنٹس جب کہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 2.52 پوائنٹس کی کمی سے 23427 پوائنٹس پربندہوا ۔ مجموعی طورپر363کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا،جن میں سے 181 کمپنیوں کے حصص کے بھاؤمیں اضافہ،156میں کمی جبکہ 26کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں استحکام رہا۔ سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت گھٹ کر64کھرب6ارب روپے رہ گئی ۔

مرکنٹائل ایکسچینج میں 11.1ارب کے 10342 سودے

کراچی(بزنس رپورٹر)پا کستان مرکنٹائل ایکسچینج(پی ایم ای ایکس)میں 11.1ارب روپے کے سودے ہوئے ۔گزشتہ روز پی ایم ای ایکس کی رپورٹ کے مطابق کموڈٹی انڈیکس4169پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔سودوں کی مجموعی تعداد 10342 رہی۔زیادہ سودے سونے کے ہوئے جن کی مالیت 6.793 ارب روپے رہی جب کہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کے سودوں کی مالیت 1.725 ارب روپے ،این ایس ڈی کیو 100 کے سودوں کی مالیت 1.003 ارب روپے ،چاندی کے سودوں کی مالیت 42کروڑ 20لاکھ روپے ،کرنسیز بذریعہ کوٹس کے سودوں کی مالیت 37کروڑ 30لاکھ روپے ، ڈی جے کے سودوں کی مالیت 34کروڑ 35لاکھ روپے ،پلاٹینم کے سودوں کی مالیت 29کروڑ 40لاکھ روپے ،پلیڈیم کے سودوں کی مالیت 10کروڑ 10لاکھ روپے ،ایس پی 500 کے سودوں کی مالیت 4کروڑ 20لاکھ روپے ، برینٹ خام تیل کے سودوں کی مالیت 2 کروڑ 90لاکھ روپے ، قدرتی گیس کے سودوں کی مالیت 2کروڑ 60لاکھ روپے اور کاپر کے سودوں کی مالیت80لاکھ روپے رہی۔ ایگری کلچرل کموڈٹیز میں کاٹن کی 5 لاٹس کے سودے ہوئے جن کی مالیت 20لاکھ روپے ریکارڈ کی گئی ۔

ملزمالکان:ٹیکسٹائل سیکٹر میں بھاری سرمایہ کاری ریفنڈز کی بروقت ادائیگی سے مشروط

کراچی(رپورٹ:مظہر علی رضا)ملز مالکان نے ٹیکسٹائل سیکٹر میں ہر سال ایک ارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کو حکومت کی جانب سے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی ودیگر مسائل کے حل کی یقین دہانی سے مشروط کردیا۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما)کے نومنتخب چیئرمین ڈاکٹر امان اﷲ قاسم نے ٹیکسٹائل سیکٹر کی زبوں حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے سیلز ٹیکس ریفنڈز کلیمز کی ادائیگی میں تاخیر ،پیداواری لاگت میں اضافہ اور دیگر مسائل کے باعث ٹیکسٹائل بر آمدات میں4ارب ڈالر اضافے کی استعداد کے امکانات پہلے ہی معدوم ہوچکے ہیں،ٹیکسٹائل سیکٹر کی زبوں حالی کے باعث نہ صرف بر آمدات میں گراوٹ دیکھی جارہی ہے بلکہ روزگار کے ہزاروں نئے مواقع بھی پیدا نہیں کیے جاسکے ہیں۔اپٹما چیئرمین نے حکومت سے ٹیکسٹائل پیکیج کے اعلان کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیکسٹائل شعبے کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جائیں اور سیلز ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی سمیت دیگر مسائل حل کیے جائیں تو ملز مالکان ہر سال ٹیکسٹائل کے شعبے میں ایک ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں تا کہ آئندہ پانچ برس میں بر آمدات کو دگنا کیا جاسکے ۔دریں اثناء پاکستان ہوزری مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سینٹرل چیئرمین جاوید بلوانی نے بھی سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کیلئے وزیر اعظم عمران خان کے نام ایک ہنگامی مکتوب ارسال کیا ہے ۔وزیر اعظم کے نام مکتوب میں انہوں نے کہا کہ 6ستمبر کو ایک اجلاس میں ایف بی آر حکام نے سیلز ٹیکس کلیمز داخل کرانے کی صورت میں72گھنٹوں کے اندر ادائیگی کی یقین دہانی کرائی تھی ،تاہم فاسٹر سسٹم کے تحت ریفنڈز کی ادائیگی کی یقین دہانی کے باوجود آج تک ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو کسی قسم کی ادائیگی نہیں کی جاسکی ہے ۔ٹیکسٹائل ملز مالکان اس وقت سرمائے کی شدید قلت کا شکار ہیں،اگر اس صورتحال پر توجہ نہ دی گئی تو متعدد یونٹس بند ہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کے بے روزگار ہونے کا بھی خدشہ ہے ۔

شناختی کارڈ کی شرط پر عمل درآمد یکم جنوری تک موخر کرنیکا عندیہ

کراچی(بزنس رپورٹر) ایف بی آر نے قومی شناختی کارڈ کی شرط پر عمل درآمد یکم جنوری 2020تک موخر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایف بی آر اور تاجر برادری کے درمیان شناختی کارڈ کے تبادلے پر اختلافات کے باعث ایف بی آر شناختی کارڈ کی شرط پر عملدرآمد کو یکم جنوری 2020تک مؤخر کرسکتا ہے ۔کاروباری وتاجر برادری نے 7اکتوبر 2019 سے احتجاج اور لانگ مارچ کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے تاہم حکومت نے کسی بھی قسم کے دباؤ میں آنے سے انکار کردیا ہے ۔ایف بی آر کے اعلیٰ حکام کا بغیر دستاویزات کے کہنا ہے کہ اس بات کی کوئی امید نہیں ہے کہ ایف بی آر ، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 5503ارب روپے کا ہدف پورا کرے ۔رواں ماہ کے دوران آمدن میں اضافے کیلئے ایف بی آر کو کسٹمز ڈیوٹی اور انکم ٹیکس کے حوالے سے بھی منفی نمو کا سامنا ہے ،تاہم اس میں بہتری کی کوششیں جاری ہیں۔17ارب کے سیلز ٹیکس ریفنڈز دیے جانے کے باوجود کوششیں کی جارہی ہیں کہ ان لینڈ ریونیو کا 353ارب روپے کا ہدف حاصل کیا جائے ۔ذرائع نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ ایف بی آر کو ریونیو میں پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر)کے دوران 110ارب روپے سے 120 ارب روپے تک کی کمی کا سامنا ہے ۔شناختی کارڈ کی شرط سے متعلق اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک عہدیدارنے بتایاکہ یکم جنوری 2020سے شناختی کارڈ کی شرط پر عملدرآمد کرائیں گے ۔ایف بی آر عہدیدار نے بتایاکہ 30ستمبر کے بعد اس بات کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا کہ کتنے ٹیکس دہندگان نے شناختی کارڈ کی درست معلومات فراہم کی ہیں، ہم کسی بھی تادیبی کارروائی کو یکم جنوری 2020تک مؤخر کرسکتے ہیں۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.