ارلیمانی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

پاکستان
3
0
sample-ad

اسلام آباد: سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں پارلیمانی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں شاہ محمود قریشی، خواجہ آصف۔ راجہ پرویز اشرف، حاصل بزنجو سمیت دیگر نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور یکطرفہ اقدامات کی متفقہ مذمت کی گئی، اراکین نے سلامتی کونسل کے اجلاس کا خیر مقدم کیا اور بھارت پر دباؤ بڑھانے کے لیے جارحانہ سفارتکاری پر زور دیا۔ذرائع کے مطابق ارکان کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کو کامیابیوں اور جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پاک فوج کے شہداء کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اپوزیشن نے تمام جوابی اقدامات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق پارلیمان کی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ڈی جی ایم او اور وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی شرکت کی۔ وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ پاک فوج کی سرحدوں پر تعیناتی کے حوالے سے ڈی جی ایم او میجر جنرل نعمان ذکریا نے بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق ڈی جی ایم او میجر جنرل نعمان ذکریا کا کہنا تھا کہ پاکستانی افواج کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلیے تیار ہے۔ بارڈرز پر فوج کے اضافی دستے تعینات ہیں۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان سفارتی سطح پر مقبوضہ کشمیر کے بارے میں مختلف ممالک سے رابطے میں ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر بارے پاکستان کے موقف کی جیت ہوئی ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ارکان کمیٹی نے کچھ تجاویز دی ہیں، اپوزیشن اور حکومت کے تجاویز کا جائزہ لیکر متفقہ فیصلہ کرینگے، کشمیر کے معاملے پر کوئی اختلاف نہیں۔ بھارت نے کشمیر پر یکطرفہ اقدام اٹھایا، تہمینہ جنجوعہ کل جنیوا جائینگی، بھارتی اقدام کو پاکستان، کشمیر اور بھارت کے اندر مخالفت ہوئی۔اجلاس کے بعد سینیٹر سراج الحق نے صحافیوں کیساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، ہم نے تجویز دی ہے کہ مشترکہ اجلاس اور بین الاقوامی کانفرنس بلوانی چاہیے، ہم جنگ کے لیے تیار ہوں یا نہ ہوں بھارت بالکل تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لگتا ہے انڈیا آزاد کشمیر پر ثالثی کرانا چاہتا ہے، مقبوضہ کشمیر تو بھارت ہڑپ کر گیا، پاکستان حکومت اور فوج کے پاس آپشن کھلے ہیں۔ جنگ کو روکنے کے لیے بھی جنگ کی تیاری کرنا پڑتی ہے۔جماعت اسلامی کے امیر کا کہنا تھا کہ کسی بھی جنگ کو لڑنے کے لیے ایٹم بم سے زیادہ قومی اتحاد کی ضرورت ہوتی ہے، حکومت نے قومی یکجہتی کو خود سبوتاژ کیا ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.