ھٹی کے نرخ میں ایک ہزار روپے فی من کمی

کاروبار
6
0
sample-ad

پنگریو:پنگریو وگردونواح کے علاقوں کی زرعی منڈیوں میں پھٹی کے نرخ میں اچانک ایک ہزارروپے فی من کم کردیے گئے ہیں ۔ تاجروں نے کاٹن فیکٹریوں کی جانب سے برساتی پھٹی کی خریداری میں کمی کرنے کا جواز بنا کرکاشتکاروں سے 2800 روپے کے بجائے 1800روپے فی من کے حساب سے پھٹی خریدنا شروع کردی ہے ۔نرخ میں اچانک ایک ہزارروپے فی من کمی کرنے پر کاشتکار سراپااحتجاج بن گئے ہیں۔ اس ضمن میں کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ تاجروں نے پھٹی کے نرخوں میں اچانک کمی کرکے کاشت کاروں کو شدید معاشی نقصان پہنچایا ہے ، اگر حکومتی اداروں کا نرخوں کے معاملے پر کوئی کنٹرول ہوتا توتاجروں کو اس طرح کی من مانیاں کرنے کا موقع نہ ملتا۔ کاشت کاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پنگریو وگردونواح کے دیگر علاقوں میں پھٹی کے نرخوں میں اچانک کمی کرنے کے معاملے کا نوٹس لیا جائے اورزرعی اجناس کے نرخوں میں کمی بیشی کیلئے طریقہ کار طے کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ تاجروں کا یہ اقدام کاشتکاروں کومعاشی تباہی کی طرف دھکیلنے کی سازش ہے۔ 1800روپے من کے حساب سے پھٹی فروخت کرنے سے ان کے فصل پرآنے والے اخراجات بھی پورے نہیں ہونگے ۔نرخوں میں کی جانے والی بھاری کمی تاجروں اورکاٹن فیکٹری مالکان کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے ۔اس حوالے سے تاجروں کا کہنا ہے کہ کاٹن فیکٹریوں نے اندرون سندھ ہونے والی بارش کے باعث پھٹی کی فصل متاثر ہونے پرخریداری میں کمی کی ہے ۔ طلب اوررسد کے فرق کے باعث پھٹی کے نرخوں میں کمی آئی ہے ۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.