بغیر اجازت پاکستان میں کھیلنے کی سزا, محمد شہزاد افغان کرکٹ ٹیم سے فارغ

کھیل
25
0
sample-ad

لاہور(سپورٹس ڈیسک)افغان کرکٹر محمد شہزاد کی غیر معینہ مدت کیلئے معطلی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی بے خبری کو واضح کردیا ،کہا جا رہا ہے کہ افغان وکٹ کیپر بیٹسمین نے اس پالیسی کی پاسداری نہیں کی جس کے تحت کسی دوسرے ملک کا سفر کرنے پر افغانستان کرکٹ بورڈ کی اجازت درکار ہوتی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان کاپاکستان میں پریکٹس کرنا مشکلات کا باعث بن گیا،شائقین کرکٹ کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں سکیورٹی مسائل کو جواز بنا کرمیچز نہ کھیلنے والے کئی افغانی کرکٹرز پشاور میں مقامی کلبوں کے ساتھ نہ صرف مشقیں کرتے بلکہ کلب میچوں میں حصہ بھی لیتے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق افغان وکٹ کیپر بیٹسمین محمد شہزاد کا معاہدہ افغانستان کرکٹ بورڈ نے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے باعث غیر معینہ مدت کیلئے معطل کردیا ہے اور پریس ریلیز میں واضح کیا ہے کہ محمد شہزاد نے اس پالیسی کی پاسداری نہیں کی جس کے تحت انہیں کسی دوسرے ملک کے سفر سے قبل بورڈ کو آگاہ کرنا ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ محمد شہزاد کو پاکستان کے شہر پشاور میں پریکٹس کے باعث معطلی کی سزا دی گئی ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردی گئی تھی۔افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق بورڈ کپ میں پیش آنے والے ایک واقعہ کے سبب محمد شہزاد کو 20اور 25جولائی کو انضباطی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس حکم پر توجہ دینا بھی مناسب نہیں سمجھالہٰذا انضباطی کمیٹی عید الاضحی کے بعد ان کیخلاف مزید اقدام کر سکتی ہے ۔ذرائع کے مطابق پشاور میں مقیم محمد شہزاد کو حال ہی میں پریکٹس کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا جس کی ویڈیو بنانے والوں سے افغان وکٹ کیپر بیٹسمین نے درخواست بھی کی کہ ان کی ویڈیو نہ بنائی جائے کیونکہ انہیں مسئلہ درپیش ہو سکتا ہے اوریہ مناظر سوشل میڈیا کی وساطت سے افغان حکام کے سامنے آئے تو انہوں نے اپنے کھلاڑی کی معطلی کا فیصلہ کرلیا کیونکہ گزشتہ برس بھی محمد شہزاد پر اسی ہدایت کے ساتھ جرمانہ عائد کیا تھا کہ وہ پاکستان چھوڑ کر افغانستان میں مستقل رہائش کا انتظام کریں ورنہ ان کا معاہدہ منسوخ کردیا جائے گا۔پشاور کے پناہ گزیں کیمپوں میں ابتدائی زندگی گزارنے والے محمد شہزاد کے والدین کا تعلق افغانستان کے علاقے ننگرہار سے ہے اور محمد شہزاد کی شادی پشاور میں ہوئی تھی جبکہ لاتعداد افغان مہاجرین کی طرح انہوں نے بھی اپنی کرکٹ کی صلاحیتوں کو پاکستان میں ابھارا جس کو وہ بہت کم تسلیم کرتے ہیں اور پاکستان میں کھیل کے اسرار و رموز سیکھنے کے باوجود جب افغان ٹیم کو پاکستان میں کھیلنے کی دعوت دی جاتی ہے تو یہی کھلاڑی سکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان آنے پر آمادہ نہیں ہوتے ۔ تازہ صورتحال نے جہاں محمد شہزاد کیلئے مشکلات بڑھا دی ہیں وہاں پی سی بی کی بے خبری کو بھی واضح کردیا ہے کہ پڑوسی ملک سے آنے والے غیر قانونی طور پر مقامی کلبوں کے ساتھ نہ صرف مشقوں میں شریک ہوتے ہیں بلکہ میچوں میں بھی حصہ لیتے ہیں لیکن مقامی ایسوسی ایشن یا دیگر حکام کی جانب سے اس کا نوٹس تک نہیں لیا جاتا۔گزشتہ برس بھی ایک مقامی آرگنائزر نے ایک گفتگو کے دوران بتایا تھا کہ افغان کرکٹرز آزادانہ پاکستان میں کرکٹ کھیلتے ہیں اور اپنی مہارت میں اضافے کے بعد واپس چلے جاتے ہیں اور اس بات کو تسلیم تک نہیں کرتے کہ ماضی کی طرح اب بھی پاکستان کی کرکٹ ان کیلئے سہارا بنی ہوئی ہے ۔

sample-ad

Facebook Comments

POST A COMMENT.