پاکستان

گرفتار کیا گیا تو آصفہ میری آواز بنیں گی: بلاول, نیب میں پیشی

زرداری گروپ آف کمپنیز بارے ایک گھنٹہ پوچھ گچھ، ٹیم کو مطمئن کرسکے نہ دستاویز دیں، نیب نے 32 سوالوں کا جواب مانگ لیا دبائو کے باوجود جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ، چیف جسٹس بھی بے گناہ کہہ چکے ، مجھے کیوں بلایا:چیئرمین پی پی ، میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ( خصوصی نیوز رپورٹر،سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے مجھے گرفتار کیا گیا تو آصفہ بھٹو میری آواز بنیں گی اور تحریک چلائیں گی، دبائو کے باوجود جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ گزشتہ روز بلاول بھٹو نیب راولپنڈی میں پیش ہوئے اور نیب ٹیم کے سوالوں کے جواب دیئے ۔ قومی احتساب بیورو راولپنڈی نے بلاول بھٹو زرداری کو جے وی اوپل کیس میں طلب کیا تھا اور ساتھ ہی ان سے زرداری گروپ آف کمپنیزکا ریکارڈ اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی فہرست بھی طلب کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو نے ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی کی سربراہی میں چار رکنی تحقیقاتی ٹیم کے روبرو بیان ریکارڈ کرایا۔ نیب نے بلاول بھٹو سے زرداری گروپ آف کمپنیز سے متعلق سوالات کئے اور ان سے ایک گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو سے پوچھا گیا کہ کیا آپ زرداری گروپ آف کمپنیز کے ڈائریکٹر ہیں ؟ بلاول بھٹو نے نیب ٹیم کو کہا انہیں کاروباری معاملات کا علم نہیں۔ بلاول بھٹو جوائنٹ وینچر اوپل سے متعلق نیب کو مطمئن نہ کر سکے اور نیب کی جانب سے طلب کی گئی بعض دستاویز بھی فراہم نہ کیں۔ پیشی کے موقع پر وہ بیشتر سوالوں کے تحریری جواب دینے پر اصرار کرتے رہے جس پر32 سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ ان کے حوالے کیا گیا ۔ انہیں 2 ہفتے میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ نیب میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا عمران خان پر واضح کر دینا چاہتا ہوں ہم پی ٹی آئی ، آئی ایم ایف بجٹ کو نہیں مانتے ۔بار بار حکومتی اداروں اور نیب کی جانب سے ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اسی تسلسل میں مجھے پھر بلایا گیا۔میں پہلے بھی نیب میں پیش ہوتارہا ہوں اورتمام سوالوں کے جواب بھی دیئے ہیں اب اچانک پتا نہیں کیا ہواکہ جب ہم نے کراچی میں موجودہ مہنگائی اور ملک کی معاشی صورتحال کیخلاف مارچ کرنے کااعلان کیا تواس کے فوراًبعد ایک اورنوٹس آیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب میں کسی عوامی عہدے پر رہا ہی نہیں تو نیب کی جانب سے مجھے بلانے کا کیا جواز بنتاہے ، مجھ سے کاروبار کے متعلق پوچھا جائے ۔ جب میں آپ کے پاس پیش ہو کر سوالات کا جواب پہلے ہی دے چکا ہوں آپ کے سوالنامے کے جوابات بھی دے دیئے ہیں اور میرا موقف پہلے بھی وہی تھا آج بھی وہی ہے اور کل بھی وہی ہوگا تو مجھے کیوں بلایا جا رہا ہے ۔چیف جسٹس آف پاکستان بھی مجھے بے گناہ قرار دے چکے ہیں۔ میں سات سال کا تھا جب اس کمپنی کا شیئر ہولڈر بنا تھا۔ میں کسی تجارتی سرگرمی میں ملوث نہیں تھا، 2 پرائیویٹ کمپنیوں میں لین دین ہوا، نیب کا کیا تعلق ہے ؟ ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ لیڈر آف دی اپوزیشن کا عہدہ انتہائی اہم ہے انہیں قومی اسمبلی میں اٹھائے جانیوالے تمام مسائل، چاہے وہ دہشتگردی ہو، کشمیر کا مسئلہ ہو مہنگائی کا مسئلہ ہو یا بیروزگاری کا معاملہ ہو انہیں آواز اٹھانے کیلئے یہاں موجود ہونا چاہیے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں نہ تو قائد ایوان نظر آتا ہے اور نہ ہی قائد حزب اختلاف موجود ہوتے ہیں ۔بلاول بھٹو کی نیب پیشی کے موقع پر پی پی پی کے سینئر رہنمائوں کے علاوہ پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور کارکنوں نے حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی کی ۔ بلاول بھٹو زر داری کی نیب پیشی کے موقع پر پیپلز پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو نیب اولڈ ہیڈ کوارٹرز جانے سے روک دیا گیا،نیب راولپنڈی آفس کے گردو نواح میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے پارلیمنٹ ہائوس میں جرمنی کے سفیربرنارڈ شیلاگیک کی ملاقا ت ہوئی ، جس میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال ہوا۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
%d bloggers like this: