پاکستان

کورونا: 12 ہزار مریض, مزید 46 ہلاکتیں

اسلام آباد،لاہور،بیجنگ (نیوزرپورٹر،خصوصی نیوز رپورٹر،اے ایف پی)معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے فیصلے پرقائم ہے کہ کورونا وائرس کی شدت میں کمی او ر مکمل سکریننگ کے بعد پاکستانیوں کوواپس لایاجائے گا۔ چین سے اتفاق ہوگیا ہے ، پاکستانی 14 روزہ نگرانی کے بغیر چین نہیں چھوڑ سکیں گے ۔ پاکستان کے پاس کورونا وائرس کی تشخیصی کٹس پہنچ جائیں گی جس کے بعد ٹیسٹ شروع کردینگے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ چین میں موجود پاکستانیوں کے حوالے سے کوئی چیمپئن نہ بنے کیونکہ پاکستانی بچوں کی سب سے زیادہ فکر حکومت کو ہے ۔ صرف آٹھ ممالک نے اپنے لوگوں کو چین سے نکالنے کی درخواست کی ہے جبکہ ووہان شہر میں اس وقت 120 ممالک کے شہری موجود ہیں اور وہ بھی چینی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان اپنے فیصلے پر قائم ہے اور ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ چین میں ہمارے لوگوں کا بہترین خیال رکھا جا رہا ہے ۔ وزارت خارجہ اور چینی حکومت سے رابطے میں ہیں۔ ہم نے جامع حکمت عملی تیار کر لی ہے کہ جب فلائٹ آپریشن بحال ہو گا تو کس طرح واپس آنے والوں کی سکریننگ کرنی ہے اور کہاں رکھنا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ا گر پاکستانی کمیونٹی میں سے کسی کے ویزے کا مسئلہ ہے تو بھی چینی حکومت تعاون کرے گی ۔ آگاہی مہم بھی شروع کر رہے ہیں چیئرمین پیمرا سے بات ہوئی ہے پبلک سروس پیغامات کے ذریعے لوگوں کو آگاہ کریں گے ۔ چین میں چار پاکستانی طالب علموں کی صحت بہتر ہو رہی ہے ۔ ظفر مرزا نے بتایا کہ چین نے اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی چینی باشندہ بیرون ملک سفر کرنے کا اہل نہیں ہوگا جب تک وہ اس بیماری کی نگرانی کا 14 روزہ دورانیہ صحت مندی کے ساتھ نہیں گزارتا ۔ اسی لئے ہم نے بھی رضامندی ظاہر کر دی ہے کہ جتنے پاکستانی چین میں ہیں وہ بھی 14 دن تک چین نہیں چھوڑ سکیں گے ۔ اس اقدام سے ہم نے پاکستان کو محفوظ کر لیا ۔ کٹس ملنے کے بعد امید ہے آج سے تشخیصی ٹیسٹ شروع کردینگے ۔ اسلام آباد کے قومی ادارہ صحت، لاہور میں شوکت خانم ہسپتال اور سندھ میں کراچی کے آغا خان ہسپتال میں مراکز قائم کیے جائیں گے ۔وزیراعظم عمران خان کو سب سے زیادہ فکر ہے اور وزیراعظم کو لمحہ بہ لمحہ صورتحال کے حوالے سے آگاہ کر رہے ہیں۔دریں اثنا معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا کی زیر صدارت کور کمیٹی کے اجلاس میں وزارت قومی صحت نے کل سے چین سے پروازوں کی بحالی کے بعد ایئر پورٹس پر مسافروں کی مکمل سکریننگ کیلئے عملہ کی تعداد میں 10 گنا اضافہ کرنے کافیصلہ کیاہے ۔ جبکہ اسلام آباد ایئر پورٹ پر اس حوالے سے مشقیں بھی کی گئیں ۔بعد ازاں ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر کورونا وائرس کے سد باب کے لئے کئے جانے والے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا اور خصوصی ہیلتھ ڈیسک کا معائنہ کیا۔ ادھر ترجمان ایوی ایشن ڈویژن کے مطابق پاکستان میں داخل ہونے والے تمام مسافروں کو ہیلتھ ڈیکلریشن فارم جمع کروانا ہوگا جس میں رابطے کی تفصیلات اور سفر کی مختصر تاریخ شامل ہوگی۔ مسافروں کو یہ بھی بتانا ہو گا کہ ان کا قیام مختلف ممالک میں کتنا رہا اور کیا اسے بخار،کھانسی اور سانس کی تکلیف ہے ۔دوسری جانب عالمی ادارہ برائے صحت(ڈبلیو ایچ او)پاکستان نے کورونا وائرس کی بروقت روک تھام کی غرض سے وفاقی اور صوبائی سطح پر ضروری تکنیکی رہنمائی اور کیسوں کی سکریننگ کیلئے لیبارٹری آلات فراہم کر دیئے ۔دریں اثنا معلوم ہوا ہے کہ سوات کا 26 سالہ نوجوان 6 روز سے انفلوئنزا کے مرض میں مبتلا ہے جسے سوشل میڈیا پر غلط فہمی کی بنیاد پر کورونا وائرس کا مریض قرار دیدیا گیا ۔ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر سید اکرام شاہ نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر یاسر نامی نوجوان سے متعلق غلط خبریں چل رہی ہیں تاہم ڈاکٹروں نے مرض کی تشخیص کے لیے یاسر کے خون کے نمونے اسلام آباد بھیج دئیے ہیں۔ساہیوال سے آمدہ اطلاعات کے مطابق کول پاور پلانٹ پر کام کرنے والے 317چینی باشندوں کی سکریننگ کا عمل مکمل کر لیا گیا اور تمام چینی باشندوں کو کلیئر قرار دے دیا گیا۔عملے میں کورونا وائرس کی کسی قسم کی علامت نہیں پائی گئی۔چین کے ارومچی شہر میں پھنسے پاکستانی طلبہ اور شہریوں کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ چینی حکام نے انکے ویزا میں 11 دن کی توسیع کردی ہے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جب تک اسلام آباد اور ارومچی کے درمیان پروازیں بحال نہیں ہوتیں تمام افراد کو ہوٹل، خوراک اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
%d bloggers like this: