کاروبار

کاٹن مارکیٹ, ملز کی خریداری میں عدم دلچسپی,کاروبار حجم کم

جنرز کے پاس بمشکل ساڑے 4 لاکھ گانٹھوں کا قلیل سٹاک موجود، کم پیداوار کے باعث ٹیکسٹائل سیکٹر نے تقریباً 50 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدے کرلئے پنجاب میں روئی کا بھاؤ کوالٹی کے حساب سے فی من 7000 تا 9000 روپے جبکہ قلیل مقدار میں دستیاب پھٹی کا بھا ؤفی 40 کلو 2800 تا 4200 روپے رہا

کراچی (این این آئی)کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل و سپننگ ملز کی روئی کی خریداری میں عدم دلچسپی کے باعث کاروباری حجم بدستور کم رہا۔ جنرز ملوں کی جانب سے روئی کی خریداری میں عدم دلچسپی کے باعث اضطراب میں مبتلا ہیں گو کہ جنرز کے پاس بمشکل ساڑے 4 لاکھ گانٹھوں کا قلیل سٹاک موجود ہے جس میں تقریباً 25 فیصد روئی اچھی کوالٹی کی کہی جاسکتی ہے حالانکہ کئی عوامل کے باعث روئی کی خریداری میں ملوں کی دلچسپی بڑھنی چاہئے تھی روپے کی نسبت ڈالر کے بھاؤ میں اضافے کا رجحان ہے علاوہ ازیں چین میں کورونا وائرس کے منفی اثرات کے باعث یورپ امریکہ وغیرہ کی طرف سے دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کی خصوصی طور پر ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمد میں اضافہ ہونے کی توقع ہے ۔بین الاقوامی منڈیوں میں زبردست گراوٹ کا عالم ہے جس کے منفی اثرات کاٹن کے کاروبار پر بھی نمایاں ہیں ۔تاہم کپاس کی کم پیداوار کی وجہ سے ملک کے ٹیکسٹائل سیکٹر نے بیرون ممالک سے تقریباً 50 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدے کرلئے ہیں جس کی ڈیلیوری آرہی ہے ۔مقامی طور پر صوبہ سندھ و پنجاب میں روئی کا بھاؤ کوالٹی کے حساب سے فی من 7000 تا 9000 روپے جبکہ قلیل مقدار میں دستیاب پھٹی کا بھا ؤفی 40 کلو 2800 تا 4200 روپے رہالیکن گزشتہ کئی دنوں سے صوبہ پنجاب میں شدید بارشوں کے باعث کاروبار تھم گیا تھا بارشوں کے باعث گھاس پھوس کی پیداوار بڑھنے کی توقع کی وجہ سے کھل کی مانگ اور بھاؤ میں کمی واقع ہوگئی ہے ،کئی جنرز نے کھل کے بھا ؤبڑھنے کی توقع کے باعث وافر مقدار میں کھل سٹاک کی ہوئی ہے ۔ کراچی کاٹن بروکرزفورم کے مطابق مقامی طور پر جنرز کے پاس کپاس کا قلیل سٹاک ہونے کے سبب روئی کے بھاؤ میں خاطرخواہ کمی واقع نہیں ہو رہی بلکہ روئی کا بھا ؤ نسبتاً مستحکم نظر آرہا ہے ۔ بھارت میں بھی روئی کا بھاؤ بدستور کم ہورہا ہے ۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
%d bloggers like this: