Home / پاکستان / پاکستان کے عظیم دوست کی آمد, طیب اردوان کا اسلام آباد پہنچنے پر شاندار استقبال

پاکستان کے عظیم دوست کی آمد, طیب اردوان کا اسلام آباد پہنچنے پر شاندار استقبال

وزیر اعظم ہاؤس میں استقبالیہ تقریب، گارڈ آف آنر پیش،اسلامو فوبیا سمیت امت کو درپیش چیلنجوں کا ملکر مقابلہ کرینگے :پاک ترک صدور میں اتفاق،عشائیہ میں آرمی چیف و دیگر کی شرکت دفاع، تجارت، د ہری شہریت، ریلوے سمیت کئی معاہدے کئے جائینگے ، صدر رجب طیب اردوان کا آج پارلیمنٹ سے خطاب ، وزیر اعظم سے ملاقات اور وفود کی سطح پر مذا کرات بھی ہوں گے

اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر،وقائع نگار خصوصی، نیوز ایجنسیاں)پاکستان کے عظیم دوست ترک صدر رجب طیب اردوان وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ۔ اسلام آباد آمد پر انکا شاندار استقبال کیا گیا، نور خان ا یئر بیس پر وزیراعظم عمران خان اور وفاقی کابینہ کے اراکین نے خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر بچوں نے معزز مہمانوں کو گلدستے پیش کئے ،ترک صدر نے نور خان ا یئر بیس پر اپنے استقبال کیلئے موجود وفاقی وزرا اور اعلیٰ عسکری حکام سے فردا ً فرداً مصافحہ کیا۔ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے اپنی روایتی مہمان نوازی کا ایک مرتبہ پھر مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم ہاؤس تک خود گاڑی ڈرائیو کی جہاں ترک صدر کیلئے استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا،وزیراعظم ہاؤس آمد پر مہمان صدر سلامی کے چبوترے پر گئے ۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے ۔ پاک فوج کے چاق چوبند دستے نے ترک صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور سلامی دی ۔ ترک صدر نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا ۔ وزیراعظم نے ترک صدر سے اپنی کابینہ کے ارکان کا تعارف کرایا۔اس موقع پر وزیر دفاع پرویز خٹک، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر اور معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سمیت دیگر افراد موجود تھے ۔مہمان صدر نے کابینہ ارکان سے فرداً فرداً مصافحہ کیا۔ ترک صدر نے بھی وزیراعظم کو اپنے وفد کا تعارف کرایا ۔ وزیراعظم نے وفد ارکان سے فرداً فرداً مصافحہ کیا۔ ترک خاتون اول بھی صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ ہیں جبکہ ترک کابینہ ارکان، سینئر حکام اور کارپوریشنز کے سربراہان پر مشتمل وفد بھی دورہ پاکستان پر آیا ہے ،ترک صدر کی آمد کے موقع پر نور خان ایئربیس پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور نور خان ایئر بیس سے لے کر ریڈ زون تک سکیورٹی ہائی الرٹ رہی،اس موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں استقبالیہ پوسٹرز بھی آویزاں کئے گئے ۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور خاتون اول بیگم ثمینہ علوی نے ترک صدر رجب طیب اردوان، ان کی اہلیہ امینہ اردوان اور وفد کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا جس میں وزیر اعظم عمران خان، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ ،چیئرمین سینیٹ ، سپیکر قو می ا سمبلی ، وفاقی کابینہ کے ارکان ، ارکان پارلیمنٹ اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ۔ ایوان صدر پہنچنے پر صدر عارف علوی نے معزز مہمان کااستقبال کیا۔ بچوں نے ترک صدر کو گلدستے پیش کئے ۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ترکی ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفاد کے امور پر باہمی تعاون جاری رکھیں گے ، انہوں نے پاکستان اور ترکی کے مابین تعلقات کی بے پناہ صلاحیتوں کو مکمل طور پر سمجھنے اور اس کو ایک مضبوط اور متحرک تجارتی اور معاشی شراکت میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، دونوں ممالک کے صدور نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اور ترکی کو اسلاموفوبیا سمیت امت کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے مل کر کام جاری رکھنا چاہئے ،صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے آگاہ کیا اور انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں ان کے اصولی مؤقف پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے افغانستان میں قیام امن اور مفاہمت کیلئے پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو افغانستان میں شورش کے بعد تعمیرنو میں اپنی مدد کو بڑھانا چا ہئے ۔واضح رہے کہ صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ کابینہ کے ارکان اور حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل ایک وفد کے علاوہ ترکی کی صف اول کی کارپوریشنوں کے سربراہ اور چیف ایگزیکٹو افسران بھی پاکستان آئے ہیں ۔ترک صدر آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرینگے ، ان کے دورہ کے دوران دفاع، ریلوے ، اطلاعات، تجارت اور د ہری شہریت کے حوالے سے متعدد معاہدے ہوں گے ۔پاکستان اور ترکی کے تجارت اور سرمایہ کاری کے جوائنٹ ورکنگ گروپ نے مفاہمت کی دو یادداشتوں کو حتمی شکل دیدی، دونوں ایم او یوز پر دستخط ابتدائی اجلاس میں ہوں گے ، گزشتہ روز مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس ہوا،وفود کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کے متعدد مواقع تلاش کرنے پر غور کیا گیا اور تجارتی سہولت اور کسٹم تعاون کے معاملات کی مفاہمتی یادداشتوں کو حتمی شکل دی گئی ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا کہ ترکی کے سی پیک میں شامل ہونے پر کوئی اعتراض نہیں، ترکی کے سی پیک میں شامل ہونے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا ،انہوں نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے مابین تعلقات تاریخی اور مثالی نوعیت کے ہیں ہم نے ہمیشہ علاقائی اور عالمی فورمز پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے ۔ ترک صدر کے دورہ پاکستان سے دو طرفہ اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے دو طرفہ تعلقات مزید گہرے اور مستحکم ہوں گے اور تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا ،دریں اثنا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ترک صدر کے خطاب کے لئے تمام تر انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں ۔ مشترکہ اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ ، گورنرز ، آزادکشمیر کے صدر،وزیراعظم اورسپیکر ،غیرملکی سفیروں ، مسلح افواج کے سربراہان کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے ۔ ترک صدر آج دن 11بجے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے ۔ ترک صدر 2 روزہ سرکاری دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان اور صدر مملکت سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے ۔ آج وزیراعظم عمران خان ترک صدر کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے ، ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہونگے ۔دونوں رہنما پاک ترک سٹر ٹیجک تعاون کونسل کی مشترکہ صدارت کریں گے جس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا اور دونوں سربراہان مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کرینگے ۔ ترک صدر جمعہ کی نماز فیصل مسجد میں ادا کریں گے ،مقامی ہوٹل میں بزنس کانفرنس سے خطاب کریں گے ، رجب طیب اردوان رات آٹھ بجے نورخان ایئر بیس سے واپس روانہ ہوجائیں گے ،وزیراعظم عمران خان ترک صدر کو رخصت کریں گے ۔

About admin

Check Also

پولیس میں خالی اسامیوں پر بھرتی کی اجازت دیدی:بزدار

ایگزیکٹو الاؤنس دینے کا جائزہ لیں گے ، گفتگو، شہید کی نماز جنازہ میں شرکت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: