Warning: Use of undefined constant REQUEST_URI - assumed 'REQUEST_URI' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /home/rcnews/public_html/wp-content/themes/jannah/functions.php on line 74
وکلا آئندہ ہڑتال نہیں کرینگے, چیف جسٹس - آرسی ویب نیوز
پاکستان

وکلا آئندہ ہڑتال نہیں کرینگے, چیف جسٹس

قانون کے دائرے میں سب کو با ت کی اجازت ، حکومت سخت سائبر قوانین بنائے میرا مشن ہے لوگوں کیلئے بہتر انفراسٹرکچر میسر آئے ، ہائیکورٹ بار عشائیہ سے خطاب

لاہور(کورٹ رپورٹر) چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کہاہے کہ وکلا آئندہ ہڑتال نہیں کریں گے ، قانون کے دائرے میں سب کو با ت کی اجازت ، حکومت سخت سائبر قوانین بنائے ۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی عشائیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہاکہ وکلا نے اس بات کو سمجھ لیا ہے کہ ہڑتال انکے حق میں ا چھی نہیں ، وکلا نے تہیہ کر لیا کہ آج کے بعد ہڑتال نہیں کریں گے ، خوشی ہے وکلا اچھے اخلاق کیساتھ ججوں کے سامنے پیش ہوں گے ،جج کے سامنے لڑنے سے دنیا میں ہمارا وقار گرتا ہے ، لاہور ہائیکورٹ میں ججوں کی بہت کمی ہے ، جسٹس مامون رشید نے نئے ججز کی بات کی تھی مگر میں نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ آپ کا وقت کم رہ گیا ہے اس لئے مناسب نہیں ہے آنے والے چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نئے ججوں کیلئے نام دیں گے ،حکومت سے بار کیلئے فنڈز مانگنا میرا کام نہیں ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ میرا مشن ہے کہ لوگوں کیلئے بہتر انفراسٹرکچر میسر آئے ، ہمارے ملک میں لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہو ، اسی سلسلے میں شہری زندگی کو سب سے پہلے بہتر کرنے پر توجہ دی ہے ۔ کراچی، لاہور، فیصل آباد، کوئٹہ سمیت بڑے شہر بہت مسائل والے شہر ہیں ان شہروں میں اتنے مسائل ہو گئے ہیں کہ وقت کیساتھ زچ ہو گئے ہیں، یہاں لوگوں کیلئے مڑیاں نہیں ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ بڑے شہروں میں سانس لینے کیلئے کھلی جگہ نہیں چھوڑی گئی کوشش ہے کہ کراچی شہر بڑا ہو جائے ، باغات ، کھیل کے میدان دوبارہ آباد ہو جائیں لاہور میں کسی ایسے معاملے میں ابھی ہاتھ نہیں ڈالا ہے اسلام آباد، پشاور اور ملتان میں کچھ کام کیا ہے ،امید ہے لاہور میں مداخلت کی ضرورت نہیں ہے ، مجھے ڈر لگتا ہے کہ لاہور میں مداخلت کی تو کہیں معاملہ خراب نہ ہو جائے اپنے اختیارات سے ڈر لگتا ہے ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مامون رشید شیخ نے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جب حلف لیا تب میرے دو رول ماڈل تھے ، ایک میرے والد اور دوسرے جسٹس عمر عطا بندیال ۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ بننے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے ضلعی عدلیہ کیلئے فنڈز کی کمی نشاندہی کی، بطور چیف جسٹس وکلا کیلئے بھی فنڈز فراہمی کا معاملہ اٹھایا۔ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آزادی اظہار کیخلاف کارروائی کی صورت میں بار کو بینچ کیساتھ کھڑا ہونا ہو گا وکلا میں تشدد پسندی کو ختم کرنا ہے اور کمیونٹی کی تکریم کو برقرار رکھنا ہے ،انہوں نے واضح کیا کہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا تو وکلاعدلیہ کیساتھ کھڑے ہوں گے ، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سید قلب حسن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی عوام آج وکلا اور عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں ، وکلا کو اپنی لائنیں درست کرنا پڑیں گی ۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری حفیظ الرحمن نے کہاکہ لاہور ہائیکورٹ میں ججز کی کمی کے باعث زیر التوا مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پرانے کیسز کی بھرمار ہے ، چیف جسٹس پاکستان لاہور سپریم کورٹ رجسٹری میں 3 رکنی بینچ فراہم کریں تاکہ پرانے کیسز جلد نمٹائے جا سکیں۔تقریب میں نامزد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان ،سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال و دیگر ججز ،وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی ،صدر لاہور ہائیکورٹ بار حفیظ الرحمن چو دھری ،نائب صدر کبیر احمد ،سیکرٹری فیاض رانجھا اور فنانس سیکرٹری عنصر جمیل گجر اور وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔قبل ازیں پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے زیر انتظام انسداد سائبر قوانین کے حوالے سے آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ دنیا میں سائبر کرائمز کے خلاف بہت کام ہو رہا ہے ،پاکستانی حکومت کو بھی سنجیدگی کے ساتھ اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ،2016 کے بعد سائبر کرائم کے خلاف کام نہیں ہوا، امید ہے قانون سازی کے باعث خواتین اوردیگر انٹرنیٹ بلیک میلنگ سے بچ جائیں گے ۔افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان میں متعلقہ ادارے اس کو صرف ایک عام شکایت کی طرح سمجھتے ہیں۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مامون رشید نے کہاکہ پاکستان میں بہترین انسداد سائبر کرائمز کے قوانین موجود ہیں لیکن بہت سارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس پر پوری طرح مہارت نہیں رکھتے ہیں۔ سائبر کرائمز کا شکار متاثرین اپنی شکایت کے اندراج میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں اور بہت سارے لوگوں کو سائبر قوانین سے متعلق علم ہی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے سائبر جرائم کا نشانہ بننے والے افراد شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوتے ہیں، سوشل میڈیا کے شکار افراد اپنی شکایات کے اندراج میں شرم محسوس کرتے ہیں، وقت کا تقاضا ہے کہ لوگوں کو سائبر کرائمز کے حوالے سے ایجوکیشن فراہم کی جائے ۔ سیمینار میں ججز، وکلا ، فرانزک ایجنسی، پولیس، ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے نمائندوں اور ماہرین نے بھی شرکت کی۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
%d bloggers like this: