Home / پاکستان / فضل الرحمن پر غداری کا مقدمہ ہونا چاہئے، بجلی مہنگی نہیں‌ کرینگے : عمران خان

فضل الرحمن پر غداری کا مقدمہ ہونا چاہئے، بجلی مہنگی نہیں‌ کرینگے : عمران خان

کرپٹ نہیں ، فوج کو پتا ہے کہ ملک کے لیے کتنی محنت کر رہا ہوں، چٹھی بھی نہیں کرتا مولانا مان گئے وہ کسی کے کہنے پر حکومت گرانے آئے ، ایجنسیوں کو پتا ہوتا ہے کون کتنے پیسے بنارہا، آٹا بحران میں ترین، خسرو بختیار ذمہ دار نہیں، ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا کامیابی

ن لیگ نے مہنگی گیس معاہدے میں جکڑا،کرپشن کے پیسے کی وصولی عدالتوں نے کرنی، اسحاق ڈار کی جائیداد ضبط کی تو حکم امتناع دیدیا گیا، میرے خلاف جعلی خبریں لگتی ہیں:گفتگو اسلام آباد(خصوصی نیوزرپورٹر) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن پر آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ ہونا چاہیے ۔ ہم اس بارے میں غور کر رہے ہیں ، کیونکہ وہ خود یہ بات مان گئے ہیں کہ وہ کسی کے کہنے پر حکومت گرانے آئے تھے ۔ ایجنسیوں کوپتا لگ جاتا ہے کہ کون کتنے پیسے بنا رہا ہے ، میں کرپٹ نہیں ہوں ، نہ کوئی فیکٹریاں بنا رہا ہوں نہ انڈسٹری لگا رہا ہوں اورنہ ہی پیسے باہر بھیج رہا ہوں، فوج کو پتا ہے کہ میں ملک کے لیے کتنی محنت کر رہا ہوں، میں تو چھٹی بھی نہیں کرتا ۔وزیر اعظم ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آج دنیا بھر میں پاکستان کی جو شہرت ہے وہ اس سے پہلے 40سال میں نہیں تھی۔ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات روکنے اور ہارنے والی جماعتوں کی جانب سے انتخابی نتائج کو متنازع بنانے کی روایت کے خاتمے کے لیے ووٹنگ کے نظام کو بائیو میٹرک بنانے کیلئے نئے الیکشن قوانین پارلیمنٹ میں پیش کریں گے ۔بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کریں گے ،سستی بجلی کے لیے ہوا سے بجلی بنانے کا معاہدہ کیا ہے ، سرکلرڈیٹ 36 ارب روپے سے کم کر کے 12 ارب روپے ماہانہ پر لے آئے ہیں ،ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا ایک بڑی کامیابی ہے ۔ حکومت پرتنقید سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں کس طرح کا پاکستان ملا، کرنٹ اکائونٹ خسارہ بہت زیادہ تھا اور دنیا اسی چیز کو دیکھتی ہے کہ کس ملک میں کتنے ڈالر آر ہے اور کتنے جا رہے ہیں ، اسی سے ملک کے امیر یا غریب ہونے کا پتا چلتا ہے ۔ اسی طرح برآمدات کی وجہ سے ہی معاشی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے لیکن ہماری برآمدات بھی انتہائی خراب حالت میں تھیں۔ جنرل مشرف کی جب حکومت آئی تو ہماری ایکسپورٹ 8ارب ڈالر تھی وہ 20ارب ڈالر کی برآمدات چھوڑ کر گئے ،پیپلزپارٹی کے دور میں یہ 24ارب ڈالر تک جاپہنچیں لیکن جب مسلم لیگ (ن)کی حکومت آئی تو ہماری ایکسپورٹ 24ارب ڈالر سے 20ارب ڈالر پر آگئی۔ جب ہماری حکومت برسر اقتدار آئی تو ملک کی درآمدات 60ارب ڈالر اور برآمدات 20ارب ڈالر تھیں اور کرنٹ اکائونٹ میں ہمیں ساڑھے 19ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا تھا، مشرف دور میں بیرون ملک قرضہ 40ارب ڈالر سے 41ارب ڈالر ہوا جبکہ پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کے 10سال میں یہ 100ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ ہمیں اپنے پہلے سال میں ان قرضوں پر 10ارب ڈالر کی قسط ادا کرنی تھی اگر یہ قسط ادا نہ کی جاتی تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا اور ہمارا روپیہ ڈالر کے مقابلے میں دوسو یا سوا دوسو روپے تک پہنچ جاتا،اس حوالے سے آج جو مہنگائی ہے وہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ اس وقت ہمارے لئے یہی سب سے بڑا چیلنج تھا، سابق حکومت صرف دو ہفتے کے زرمبادلہ کے ذخائر چھوڑ کر گئی تھی۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین ہماری مدد نہ کرتے تو ہم ڈیفالٹ کر جاتے ، ملک کو اس صورتحال سے بچانا ہماری بہت بڑی کامیابی ہے ، مخالفین اس لئے شور مچاتے ہیں کہ ان کو سب پتا ہے ، انہوں نے پہلے دن سے ہی شور مچانا شروع کر دیا تھا کہ حکومت فیل ہو گئی ہے ، جب روپے کی قدر کم ہونا شروع ہوئی تو اس کو بچانے کیلئے ہمارے پاس غیرملکی زرمبادلہ ہی نہیں تھا(ن)لیگ کی حکمت عملی تو یہ تھی کہ جب روپیہ گرنا شروع ہوتا تو یہ مارکیٹ میں ڈالر پھینک دیتے تھے ، ہمارے پاس تو ذخائر ہی نہیں تھے کہ ہم اس کا مقابلہ کر پاتے ، ہمارا پہلا سال روپے کو مستحکم کرنے پر لگا پہلے سال میں کرنٹ اکائونٹ خسارے کو 75فیصد تک کم کیا جس پر آئی ایم ایف اور موڈیز ہمیں داد دیتے ہیں، آج ڈھائی ارب ڈالر کا خسارہ رہ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے تو اس کی تحقیقات ہو رہی ہیں، گندم اور آٹابحران پر تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے جو پہلی رپورٹ موصول ہوئی اس کو واپس بھجوا دیا گیا ہے ،اس میں 20کے قریب ایسے پوائنٹس تھے جن کا جواب نہیں دیا گیا تھا،انہوں نے کہا کہ چینی کے بحران کے حوالے سے بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اس کا مقصد یہ ہے کہ آئندہ اس طرح کا بحران پیدا نہ ہونے دیا جائے جونہی تحقیقاتی رپورٹس موصول ہوں گی ان کو عوام کے سامنے لایا جائے گا، سب کچھ بتائیں گے کچھ نہیں چھپائیں گے ، یہ بھی بتائیں گے کہ کہاں کہاں ہم سے کوتاہی ہوئی، ہمارا سسٹم کمزور تھا جس کی وجہ سے جو مہنگائی روکی جاسکتی تھی وہ بھی نہ روک سکے ، اب ایسا سسٹم بنائیں گے کہ آئندہ اس طرح کا بحران پیدا نہ ہو۔ آٹا اور گندم بحران کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے جہانگیر ترین یا خسرو بختیار کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا، ملک میں ہر جگہ بڑے بڑے مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں جو مسائل پیدا کرتے ہیں، مسابقتی کمیشن کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے ان کاکہنا تھا کہ اس کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے جب تک یہ ادارہ صحیح معنی میں کام نہیں کرے گا معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج بجلی اور گیس کا ہے ، بجلی کے سارے معاہدے اپوزیشن کے دور میں ہوئے جس کی وجہ سے ہم مہنگی بجلی بنا کر لوگوں کو سستی بجلی دے رہے ہیں، آخر یہ سسٹم کب تک چلے گا ساڑھے بارہ سو ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ ہے جب مہنگی بجلی سستی بیچی جاتی ہے تو اس سے پیدا ہونے والی کمی خسارے کا باعث بنتی ہے ، (ن) لیگ کی حکومت نے اپنے آخری سال میں بجلی کی قیمت اس لئے نہیں بڑھائی کہ انہوں نے الیکشن لڑنا تھا جس کی وجہ سے یہ معاملہ سرکلر ڈیٹ میں چلا گیا، ہم نے اس کو کم کیا ہے اور 36ارب روپے ماہانہ سے کم کر کے 12ارب روپے ماہانہ پر لے آئے ہیں، اس کے علاوہ 100ارب روپے سے زائد بجلی چوری روکی ہے ،ہم نے اپنے دور میں اب تک سستی بجلی کیلئے ایک معاہدہ کیا ہے جو ہوا سے بجلی بنانے کا ہے یہ بجلی ہمیں 5سینٹ میں پڑے گی، ابھی جو بجلی خرید رہے ہیں وہ 24سینٹ کی ہے ۔انہوں نے گیس بحران کے حوالے سے کہا کہ سابق حکومت نے قطر سے 15سال کا معاہدہ کیا جبکہ اس وقت مارکیٹ میں گیس اس قیمت سے آدھی قیمت پر مل رہی ہے جتنے میں ہم قطر سے خرید رہے ہیں لیکن ہم مارکیٹ سے سستی گیس نہیں لے سکتے کیونکہ ہم اس 15سال کے معاہدے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی کے الزام سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ہم یہ مسئلہ مستقل حل کر رہے ہیں ، نئے الیکشن قوانین بنا رہے ہیں جنہیں جلد پارلیمنٹ کے سامنے رکھیں گے ،پوری دنیا میں بائیومیٹرک پولنگ کا نظام موجود ہے ہم بھی یہ سسٹم لائیں گے ایسا سسٹم بنایا جائے گا جس میں ٹیکنالوجی کا استعمال ہو، سینیٹ کی ووٹنگ میں بھی ہر دفعہ دھاندلی کا الزام لگتا ہے وہاں بھی سسٹم کو تبدیل کیا جائے گا تاکہ یہ دیکھا جاسکے کون کدھر ووٹ دیتا ہے ، سینیٹرز کو بھی شوآف ہینڈز کے ذریعے منتخب ہونا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ الیکشن قوانین میں تبدیلی کے موقع پر یہ پتا لگ جائے گا کہ کون تبدیلی چاہتا ہے اور کون نہیں، انہوں نے مولانا فضل الرحمن پر آرٹیکل 6لگانے سے متعلق سوال پر کہا کہ ایک وزیر کا اس حوالے سے لکھا گیا خط مجھے موصول نہیں ہوا، اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں ۔اگر وہ دھرنے کے لیے دوبارہ اسلام آباد میں آئے تو پھر دیکھا جائے گا ، میں مقابلہ کرنا جانتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی مافیا ہے اس کو مہنگائی کی فکر نہیں اس کو فکر یہ ہے کہ اگر حکومت کامیاب ہو گئی تو یہ سب جیلوں میں جائیں گے ۔ میں بھی خوشی خوشی اگلے چار سال گزار سکتا ہوں کہ ان کو یہ کہوں سب کچھ بھول جاتے ہیں اور مل کر اسمبلی چلاتے ہیں تو پھر یہی ہو گا کہ قرضے بڑھتے چلے جائیں گے اور مسائل میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا۔ انہوں نے کرپشن کے پیسے کی وصولی کے حوالے سے کہا کہ یہ ریکوری عدالتوں نے کرنی ہے ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اداروں کو کام کرنے دیں، کرپشن کے تمام مقدمات سابق حکومتوں کے دور کے بنے ہوئے ہیں ایک پارٹی کا سربراہ کہہ رہا ہے کہ میں نیب کے سامنے پیش نہیں ہوں گا لیکن یہ کیس ہم نے تو نہیں بنائے ،اسحاق ڈار کی جائیداد ضبط ہوئی عدالت نے اس پر حکم امتناع دے دیا، اس پر میں کیا کر سکتا ہوں۔ میڈیا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سوال پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میرا میڈیا سے 40سال کا تعلق ہے میں 10سال قومی کرکٹ ٹیم کا کپتان رہا اس وقت بھی میرا میڈیا سے تعلق رہا، مشرف کو میں نے مشورہ دیا تھا کہ ٹی وی چینلز کھولیں، میں نے بیرون ملک فری میڈیا کو دیکھا ہوا ہے ، ڈیڑھ سال میں جس طرح کے حملے مجھ پر ہوئے جس طرح کی جعلی خبریں چلائی گئیں اور حکومت کیخلاف پراپیگنڈا کیا گیا اگر یہی سب کچھ برطانیہ میں ہوتا تو وہاں اس کے نتیجے میں جس طرح کے جرمانے کئے جاتے تو اس سے میڈیا ہی بند ہو جاتا۔انہوں نے کہا کہ میرا خرچہ صرف سفر پر لگتا ہے ،اپنے سارے خرچے میں خود پورے کرتا ہوں، تنخواہ میں گزارا کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ ہمارے وزیراعظم کی تنخواہ دنیا کے دیگر وزیراعظم کے مقابلے میں سب سے کم ہے ، یہ ایک ایم این اے کی تنخواہ کے برابر ہے ۔ مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں بنی گالہ کو ریگولرائز کرانے کی کوشش کر رہا ہوں ،اس پر میں نے سی ڈی اے کے چیئرمین کو ہی تبدیل کر دیا، اس الزام کیخلاف میں عدالت گیا لیکن ڈیڑھ سال لگ گیا ہے مجھے وزیراعظم ہوتے ہوئے انصاف نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت کے خلاف غیرذمہ دارانہ پراپیگنڈا کیا جارہا ہے میں نے چین کا دورہ کیا یہ زندگی اور موت کا دورہ تھا، ہمارے انگریزی کے دو بڑے اخبارات نے خبر لگائی کہ میں سی پیک پر نظرثانی کرنے جا رہا ہوں، اس سے چین میں ہمیں ایک مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، وہاں پر ہمارے سفیر کو ان خبروں کے حوالے سے کافی مشکلات پیش آئیں، یہ ملک کیلئے نقصان دہ خبریں تھیں، میرے دریافت کرنے پر شہبازگل نے بتایا کہ صرف دو ماہ کے عرصہ میں 21 جعلی خبریں مجھ سے منسوب کی گئیں۔وزیراعظم نے کہا کہ میری ذات پر تنقید کرو لیکن ملک کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے ۔ دریں اثنا دنیا نیوز کے پروگرام اختلافی نوٹ میں گفتگو کرتے ہوئے نمائندہ خصوصی نے بتایا کہ وزیر اعظم بہت پر اعتماد اور کہا کہ میرے پاس اتنا کچھ بتانے کو ہے لیکن میرا منصب اس کی اجازت نہیں دیتا ۔عمران خان نے کہا کہ میڈیا ان کے خلاف پراپیگنڈاکر رہا ہے اور اپوزیشن کا آلہ کار بنا ہوا ہے ، میں وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی پیمرا سے انصاف نہیں لے سکا۔بعد ازاں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اسلام آباد میں ملاقات کی ۔ ملاقات میں ملکی اور صوبہ خیبرپختونخوا کی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیا ل کیا گیا ہے ۔

About admin

Check Also

پولیس میں خالی اسامیوں پر بھرتی کی اجازت دیدی:بزدار

ایگزیکٹو الاؤنس دینے کا جائزہ لیں گے ، گفتگو، شہید کی نماز جنازہ میں شرکت …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: