Warning: Use of undefined constant REQUEST_URI - assumed 'REQUEST_URI' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /home/rcnews/public_html/wp-content/themes/jannah/functions.php on line 74
رانا ثنا کیخلاف گواہوں کی جان کو خطرہ , ٹرائل جیل میں کیا جائے‌ : شہریار آفریدی - آرسی ویب نیوز
پاکستان

رانا ثنا کیخلاف گواہوں کی جان کو خطرہ , ٹرائل جیل میں کیا جائے‌ : شہریار آفریدی

اسلام آباد (نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی نے رانا ثنا اللہ کو ڈرگ لارڈ قراردیتے ہوئے کہا کہ ان کیخلاف شواہد موجود ہیں،ہمارے گواہوں کی جان کو خطرہ ہے ، آئی جی پنجاب گواہوں کو تحفظ فراہم کریں، یہ کیس راولپنڈی منتقل کیا جائے اور جیل میں روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کی اجازت دی جائے ۔رانا ثنا اللہ کھلے عام اے این ایف کو نشانہ بنار ہے ہیں ۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہاکہ اے این ایف نے رانا ثنا اللہ کو 15کلو ہیروئن سمیت گرفتا ر کیا، ضابطہ فوجداری کے تحت ثبوت عدالت میں پیش کئے ،پیش کئے گئے ثبوتوں میں برآمد شدہ ہیروئن ،گرفتاری کا وقت، برآمد شدہ اسلحہ، ہیروئن کی کیمیائی تجزیاتی رپورٹ اور 2 درجن کے قریب گواہان شامل ہیں جنہوں نے رانا ثنا اللہ اور اس کے گینگ کے خلاف ثبوت پیش کئے ،انہوں نے کہاکہ ہمارے گواہوں کی جان کو خطرہ ہے ، یہ خطرہ زبانی نہیں، رانا ثنااللہ نے عدالت میں آتے ہوئے میرے حوالے سے ، ڈی جی اے این ایف اور متعلقہ افسرسے متعلق غلط الفاظ استعمال کیے ۔ اے این ایف کے گواہوں کے تحفظ کے لئے کیس راولپنڈی منتقل کیا جائے اور جیل میں روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کی اجازت دی جائے ، میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ یہ کیس راولپنڈی ٹرانسفر کیا جائے ۔ یہ ملک کا پہلا ٹرائل ہوگا جس میں پراسیکیوشن کا ایک گواہ بھی طلب نہیں کیا گیا ۔ اس کے دفاع کے لئے پہلے شہادتیں میڈیا ٹرائل کے ذریعے پیش کی جارہی ہیں ۔ضابطہ فوجداری کے تحت چالان پیش ہوتے ہی ملزموں پر فرد جرم عائد کی جاتی ہے ،دفعہ 342 کے تحت ملزموں کے بیانات قلمبند کیے گئے ۔اے این ایف اہلکاروں کا روزانہ میڈیا ٹرائل ہو رہا مگر ملزم کا نہیں ۔ انہو ں نے کہاکہ اے این ایف کسی بھی ملزم کو خود سزا نہیں دے سکتی، جب بھی سیاسی ڈرگ ڈیلرز پر ہاتھ ڈالا گیا تو اے این ایف کا میڈیا ٹرائل کیا گیا ۔ رانا ثنا کے پا س اربوں روپے کہاں سے آئے ؟ انہوں نے رانا ثنا اللہ کو میکسیکو کے ڈرگ لارڈ ایل چیپو کے ساتھ تشبیہ دی اور کہا کہ اے این ایف نے پاکستانی ایل چیپو رانا ثنا اللہ کو 15 کلو ہیروئن سمیت گھر سے نہیں شاہراہ عام سے گرفتار کیا ہے ۔قانون کے مطابق ملزموں کو کاپیاں فراہم کیں،ہم عدالت کا احترام کرتے ہیں مگر وکلا کو سمجھ نہیں آرہی اور میں حیران ہوں کہ آئی جی پنجاب کیا کر رہے ہیں، کیا انہوں نے قانون نہیں پڑھا؟ الطاف حسین کیس میں عدالت نے ملزمو ں کے بیانات میڈیا پر چلائے جانے پر پابندی عائد کی جبکہ یہ تو ایک ڈرگ کیس ہے ۔رانا ثنا اللہ کے پاس خریداری کیلئے پیسے کہاں سے آئے ، ذرائع آمدن کا کچھ پتہ نہیں، اس فیصل آبادی ایل چیپو کے اثاثے ، پلازے ، ریئل ا سٹیٹ اور بھاری رقوم کے بینک اکاؤنٹس بھی ہم نے ٹریس کرلئے ہیں، رانا ثناء اللہ نے ان اثاثوں کا سورس اپنی وکالت بتایا ہے ۔ بطور وکیل پورے پاکستان کی لا کی کتابوں اور سپریم کورٹ ، ہائی کورٹس یا شریعت کورٹس میں ان کا نام ایک جگہ بھی درج نہیں ہے ۔یہ واحد آدمی ہے کہ جس کی انویسٹمنٹ خریداری پر لگی ہے مگر انویسٹمنٹ کا کوئی سورس نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس سیاسی ڈرگ ڈیلر کا ٹرائل نہیں ہو رہا۔موجودہ حکومت وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق ڈرگ مافیا کی بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈال رہی ہے تاکہ معاشرے سے منشیات کی لعنت کا جڑ سے خاتمہ یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ اس سے قبل ایفیڈرین کیس میں حنیف عباسی کو جو ضمانت دی گئی اس کو اے این ایف نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ۔ اس کیس میں حنیف عباسی پر الزام ہے کہ 500 کلوگرام ایفیڈرین فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو دینے کی بجائے غائب کر دی گئی۔ حنیف عباسی کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کیلئے ثابت کرنا تھا کہ یہ 500 کلوگرام ایفیڈرین فارما کمپنیوں کو بیچی گئی مگر عدالت نے فیصلہ میں لکھا کہ اے این ایف ثابت کرے کہ ایفیڈرین کہاں غائب ہوئی۔ اے این ایف کی ٹیم پر راولپنڈی میں حملہ ہوا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اس حملہ کے ملزموں کی گرفتاری کا حکم جاری کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم نے اداروں کو غیر سیاسی کر دیا ہے ۔ رانا ثنا اللہ ہیروئن کا قیدی ہے ، ضمیر کا قیدی نہیں ۔ پریس کانفرنس کے دوران وزیر مملکت نے رانا ثنا اللہ کا مبینہ آڈیو پیغام بھی چلایا۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
%d bloggers like this: