پاکستان

جنوبی پنجاب صوبہ پر تمام جماعتیں ساتھ دیں:شاہ محمود

کریڈٹ آپ لے لیں، بلاول ،گیلانی یا کسی ن لیگی دوست کو سہرا پہنانے کیلئے تیار

ملتان (سٹاف رپورٹر ، اے پی پی )وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ جنوبی پنجاب صوبے کے دارالحکومت کیلئے جان بوجھ کرغلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں، نئے صوبے کا دارالحکومت کہاں ہو گا؟ اس کا فیصلہ وہاں کی نئی بننے والی اسمبلی کرے گی ،یہ معاملہ وہاں کے نمائندوں پر چھوڑ دیا ہے تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو،یکم جولائی کو سیکرٹریٹ فعال ہوجائے گا،مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں سیاسی پوائنٹ سکورنگ اور بیان بازی کے بجائے اسمبلی میں ہمارا ساتھ دیں،سہرا بھی اپوزیشن جماعتوں کے سرباندھ دیں گے ، کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنے ،کچھ عناصر کہتے ہیں نہ کریں گے نہ کرنے دیں گے ،اگر ہم لڑتے رہے تو مقصد پورا نہیں ہوگا،ٹھنڈے دل سے غور کریں اور نئے صوبہ پر غلط فہمیاں نہ پھیلائیں،عوام منفی پروپیگنڈے پر توجہ نہ دیں،جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا بل جلد اسمبلی میں پیش کریں گے اورتمام جماعتوں کی مشاورت کے بعد اس کی منظوری کو یقینی بنایا جائے گا۔ ملتان میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا وزیراعظم عمران خان نے طویل مشاورت کے بعد صوبے کے قیام کے حوالے سے اہم فیصلے کئے اور کہا تمام فیصلے مشاورت سے کئے جائیں ، کسی پر کوئی رائے مسلط نہ کی جائے ،تاکہ صوبے کے قیام کی جانب پیش رفت ہو سکے ،اجلاس میں جنوبی پنجاب صوبے کی طرف بڑھنے کیلئے 2سیکرٹریٹ بنانے پر اتفاق ہوا،ایک ملتان دوسرا بہاولپور میں قائم ہوگا،اجلاس کے بعد ابہام پیدا کیا گیا کہ سیکرٹریٹ بہاولپور میں بنے گا ،یہ درست نہیں ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی کس شہر میں بیٹھیں گے ؟ اس کا فیصلہ پنجاب حکومت کرے گی،ان دو افسروں کی تعیناتی کے بعد انہیں کہا جائے گا کہ وہ سیکرٹریٹ کے قیام کیلئے اقدامات کریں تاکہ یکم جولائی سے وہ کام شروع کرسکے ،تاکہ اس بجٹ میں اس کیلئے رقم بھی مختص کی جائے ،اگلا مرحلہ صوبے کے قیام کے حوالے سے قانون سازی کا ہے ،سیکرٹریٹ کے قیام سے سیاسی فیصلے کی مضبوطی ظاہر ہوگی، جسے ختم کرنا آسان نہیں ہوگا ۔ انہوں نے صوبے کیلئے دو تہائی اکثریت نہیں ، ماضی میں پیپلزپارٹی کے پاس بھی دوتہائی اکثریت نہیں تھی جبکہ ن لیگ کے پاس دوتہائی اکثریت تھی لیکن جنوبی پنجاب صوبہ اس کا ایجنڈا نہیں تھا، فیصلہ ہوا کہ اس حوالے سے دیگر جماعتوں سے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ، کریڈٹ جو بھی لینا چاہتا ہے لے لے ، عوام اور عوام کے منتخب نمائندوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ پیڑ گننے ہیں یا آم کھانے ہیں، جس کیلئے اکثریتی رائے درکار ہے اور اس میں وقت لگ سکتا ہے ،تمام پارٹیوں کے جنوبی پنجاب کے ارکان اسمبلی میں ہمارا ساتھ دیں، صوبہ کیلئے اتفاق رائے کی ضرورت ہے ،ملتان کی ترقی بہاولپور کی ترقی کے ساتھ منسلک ہے ،اسی طرح بہاولپور کی ترقی ملتان،رحیم یارخان اور ڈیرہ غازی خان کی ترقی کے بغیرممکن نہیں ۔ انہوں نے کہا ماضی میں بھی صوبے کے قیام کیلئے کوششیں کی گئیں لیکن جب بھی بات آگے بڑھی، اختلافات کو ہوا دے دی گئی،تحریک انصاف جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کیلئے سنجیدہ تھی ،ہے اور رہیگی، ہم نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ مستقبل میں جنوبی پنجاب کیلئے مختص رقوم وہیں خرچ ہوں گی،1970سے 2019 تک جو بھی حکومتیں رہیں، ان کے اعداد وشمار دیکھ لیں، ہر دور میں جنوبی پنجاب کواس کاپورا حق نہیں ملا،یہاں کے وسائل اور ترقیاتی منصوبے دوسرے اضلاع کو منتقل کئے گئے ،حال ہی میں پاکستان میں غربت کے اعداد وشمار کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ غربت بھی اسی خطے میں ہے ۔وقت آگیا ہے کہ ہم متحد ہو کر اس سمت میں پیش قدمی کریں تاکہ اس خواب کو عملی تعبیر دی جاسکے ،سینیٹ،این ایف سی ایوارڈ ،علیحدہ ہائیکور ٹ اور دیگر اثاثوں کی تقسیم کے کام کیلئے ضروری ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنے ،قبل ازیں یہاں کے عوام کو اپنے مسائل کے حل کیلئے لاہور جانا پڑتا تھا ،جو اب نہیں جانا پڑے گا بلکہ ان کے مسائل ملتان اور بہاولپور میں ہی حل ہو ں گے ۔آئی این پی کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا مختلف رہنما صوبے کی حمایت اخباری بیانات کی حد تک کررہے ہیں، وہ اخباروں کی زینت بننے کے بجائے عملی اقدام کریں اور ہماری آواز میں آواز ملائیں،ہمیں کریڈٹ سے غرض نہیں،صوبہ بنادیں کریڈٹ آپ لے لیں،گیلانی صاحب نے سہرا پہننا ہے تو میں پہنانے کو تیار ہوں، بلاول کہیں تو انہیں پہنانے کو تیار ہوں اور اگر کوئی ن لیگی دوست خواہشمند ہوتو اسے بھی پہنانے کو تیارہوں۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
%d bloggers like this: