Warning: Use of undefined constant REQUEST_URI - assumed 'REQUEST_URI' (this will throw an Error in a future version of PHP) in /home/rcnews/public_html/wp-content/themes/jannah/functions.php on line 74
ترکی سے تعلقات اقتصادی شراکت میں تبدیل ہورہے :شاہ محمود - آرسی ویب نیوز
پاکستان

ترکی سے تعلقات اقتصادی شراکت میں تبدیل ہورہے :شاہ محمود

71نکاتی پلان آف ایکشن پر اتفاق ہوگیا،دوہری شہریت پر معاہدہ زیر التوا ہے امریکا طالبان میں مفاہمت ہوسکتی، زلمے خلیل زاد 17فروری کو اسلام آبادآئینگے ترکی کیساتھ 13ایم او یوز کو عملی شکل دینگے ، کارکے معاملہ حل کر لیا گیا:پریس کانفرنس

اسلام آباد (وقائع نگار،اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کشمیریوں کی جس واضح انداز میں حمایت کی اس کی مثال نہیں ملتی۔ پاکستان اور ترکی کے تاریخی اور دوستانہ تعلقات کو تزویراتی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جا رہا ہے ، دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے 13 ایم او یوز کو عملی شکل دی جائے گی، کوالالمپور سمٹ میں وزیراعظم کی عدم شرکت سے ترکی اور ملائشیا کے پاکستان کیساتھ تعلقات متاثر ہونے کی افواہیں دم توڑ گئیں ، دونوں ممالک کی قیادت کے پاکستان کیساتھ روابط نے ثابت کر دیا کہ ہما ے تعلقات میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خارجہ نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے دو روزہ دورہ پاکستان مکمل ہونے پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ترک صدر نے مسئلہ کشمیر پر تشویش کا اظہار کیا اور کشمیریوں کی جس طرح واضح حمایت کا پیغام دیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر پاکستان کے موقف اور لائحہ عمل کو سراہا گیا ہے اور اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے ۔ ایسے موقع پر صدر رجب طیب اردوان نے دنیا کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ ترکی پاکستان کیساتھ کھڑا رہے گا۔ وزیراعظم عمران خان اور صدر رجب طیب اردوان نے مشترکہ طور پر بزنس فورم کی صدارت کی جس میں 100 کے قریب ترک کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ شاہ محمود قریشی نے کہادو طرفہ تعلقات کو سٹریٹجک پارٹنر شپ میں تبدیل کرنے کیلئے 71 نکاتی پلان آف ایکشن پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں مجموعی طور پر 7 اہم نشستیں ہوئیں جن میں 7 مشترکہ ورکنگ گروپس میں بات چیت کے دوران جتنے معاملات طے پائے ان کی دونوں ممالک کی قیادت نے منظوری دیدی جس کے نتیجے میں مفاہمت کی 13 یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا دوہری شہریت پر پاک، ترک معاہدہ ابھی زیر التوا ہے ۔ ماضی میں کارکے کے معاہدے نے ترک سرمایہ کاری کو ٹھیس پہنچائی ۔کارکے کے معاملے کو حل کر لیا گیا ہے ، جس سے اعتماد بحال ہوا ہے ۔سیاحت، زراعت، صنعتی تعاون، توانائی، دفاعی اشتراک، ریلوے ، کان کنی کے شعبوں میں تعاون ہو گا۔ افغان انتخابات کے نتائج کے بعد پاک، افغان، ترکی سہ فریقی فورم کی بحالی کی امید ہے ۔افغانستان میں طالبان، امریکا اور امریکا، طالبان کیساتھ بیٹھنے کیلئے تیار نہیں تھے ۔امریکا، طالبان مل بیٹھے ہیں، اب مفاہمت ہو سکتی ہے ۔امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد 17 فروری کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
%d bloggers like this: