2

کرپشن کے الزام میں سابق ایکسین پبلک ہیلتھ انجینرنگ کوئٹہ سے گرفتار

نیب بلوچستان نے کرپشن کے الزام مین سابق ایکسین پبلک ہیلتھ انجینرنگ کو گرفتار کر لیا، احتساب عدالت میں میگا کرپشن ، سرکاری ٹینڈر اور اسٹاک ایکسچینج خورد برد کیسوں کی سماعت بھی ہوئی۔

ترجمان نیب بلوچستان کے مطابق سابق ایکسین پی ایچ ای غلام سرور بگٹی پر الزام تھا کہ انہوں نے سال 2017 کے دوران بطور ایکسین الیکٹریکل اینڈ ڈویژن اختیارت کا ناجائز استعمال کیا اور ملازمین کی ملی بھگت سے سرکاری فنڈ میں 4 کروڑ 46 لاکھ روپے خورد برد کئے شواہدکی بنیاد پر ڈی جی نیب بلوچستان نے ملزم کےوارنٹ جاری کئے جس کی بنیاد پر نیب انٹیلی جنس کی ٹیم نےملزم کو کوئٹہ سے گرفتار کر لیا ،ملزم کو ریمانڈ کے لئے احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔

ترجمان کےمطابق ڈی ی نیب بلوچتان عابد جاوید بخاری نے کہا ہے کہ بلوچستان کے وسائل قوم کی امانت ہیں خیانت کرنے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔محکمہ پبلک ہیلتھ انجینرنگ کے حکام کا کہنا ہے کہ سابق ایکسن غلام سرور بگٹی کرپشن کے الزام میں پہلے ہی معطل تھے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی جاری ہے،اینٹی کرپشن سیل بھی سابق ایکسین کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ کی احتساب عدالت ون میں کے جج منور شاہوانی نے کرپشن کے مختلف کسیز کی سماعت کی سرکاری ٹینڈر خورد برد کیس کی سماعت میں محکمہ صنعت و تجارت کے گرفتار ایکسین عدیل انور کو پیش کیا گیا دوران سماعت سماعت گواہ کا بیان ریکارڈ جبکہ فریقین کےوکلاء نے جرح مکمل کی کیس کی مزید سماعت 18 فروری تک ملتوی کر دی گئی ، اسی عدالت میں ہی اسٹاک ایکسچینج فراڈ کیس کی سماعت بھی ہوئی۔

دوران سماعت نیب کی جانب سے پیش کئے گئے گواہ کا بیان قلبمند کیا گیا جبکہ فریقین کے وکلاء نے گواہ پر جرح کی جس کے بعد سماعت 20 فروری تک ملتوی کر دی گئی،بلوچستان میگا کرپیشن کیس کی سماعت کےدوران سابق سیکرتری خزانہ مشتاق رئیسانی، سابق سیکرٹری لوکل گورنمنٹ فیصل جمال،سابق ایڈیشنل چیف سیکریٹری حافظ عبدالباسط پیش ہوئے دوران سماعت سابق مشیر خزانہ خالد لانگو کو حاضری سے ایک دن کا استنیٰ دیا جبکہ گواہ کی عدم جاضری پر کیس کی سماعت 26 فروری تک ملتوی کر دی گئی تینوں کیسز میں نیب کی پیروی اسپیشل پراسیکیوٹر راشد زیب گولڑہ نے کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں