2

ایرانی فتوے کے 30سال بعد بھی سلمان رشدی قابل نفرت

پیرس،اسلام آباد(اے ایف پی ) اس کے خلاف غم و غصے کی شدت اگرچہ کم ہو چکی ہے مگر توہین رسالت کا معاملہ پہلے کی طرح آج بھی اشتعال انگیز ہے ۔یاد رہے شاتم رسول کے قتل کا فتویٰ ایران کے انقلابی رہنما آیت اللہ روح اللہ المعروف امام خمینی نے 14فروری 1989کو جاری کیا تھاجس کی ایران ہر سال تجدید کرتا ہے ۔ اس فتوے نے رشدی کی زندگی بدل کر رکھ دی وہ 13سال فرضی نام سے پولیس کی سکیورٹی میں زندگی بسر کرتا رہا ۔رشدی نے کہا جب فتویٰ جاری ہوااس کی عمر 41سال تھی اب وہ 71برس کا ہے ۔ حالات کافی بہتر ہو چکے ہیں، مزید چھپ کر رہنا نہیں چاہتا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ناول نگار نے کہا ہماری دنیا میں موضوع تیزی سے بدل جاتے ہیں۔میرا موضوع پرانا ہو چکا ہے ، آج ڈرنے اور قتل کرنے کیلئے لوگوں کے پاس کئی دیگر موضوع موجود ہیں۔اس حوالے سے مولانا طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ سلمان رشدی سے آج بھی اسی طرح نفرت کی جاتی ہے جیسے 30سال پہلے کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں