8

آئی ایم ایف نے پوزیشن بدل لی‘ اچھے معاہدہ کے قریب پہنچ گئے‘ ضرورت ہے یہ آخری ہو : وزیر خزانہ

پشاور (صباح نیوز) وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے اپنی پوزیشن بدلی ہے لہذا معاہدہ اچھا ہوگا اور اس کے قریب آگئے ہیں، ایران اورافغانستان کےساتھ تجارت بڑھانےکی ضرورت ہے، خطے کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، ترکی اور ایران کو گیس منصوبوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے ہر ممکن کردار اداکر رہے ہیں۔ لبانی وزیراعظم سعد حریری کوئی این آر اونہیں کرائیںگے۔پشاور میں سرحد چیمبر آف کامرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہاکہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے اعدادو شمار کے فرق میں کمی آئی ، آئی ایم ایف نے اپنی پوزیشن بدلی ہے، ان سے اچھا معاہدہ ہوگا اور لگتا ہے کہ معاہدے کے قریب آگئے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاہدے کو آخری بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے پاکستان کی معیشت کیلئے اقدامات پر اتفاق رائے ہوا، وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے پر دستخط کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کسی نے باہر سے آکر ٹھیک نہیں کرنا، ہم ہی اسے ٹھیک کریں گے، ہم بہتر فیصلے کریں گے تو معیشت اٹھے گی اور یہ صرف سرمایہ کاری سے ہوگا۔ا نہوں نے کہا کہ باتیں بہت ہوگئیں اب کام شروع کرنا ہے، ٹیکس نیت کا دائرہ وسیع کرنا ضروری ہے اس کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھے گا، ایف بی آر کے چھاپوں اور اور آڈٹ سے ٹیکس نہیں بڑھے گا، کوشش ہے کہ چھوٹے تاجر کے لیے انتہائی آسان سسٹم لائیں جو ایک صفحے کا ہو اور سال میں ایک مرتبہ ٹیکس جمع کرانا ہوگا، وہ سسٹم اسلام آباد میں کامیاب ہوگا جس کے بعد ملک بھر میں نافذ کریں گے۔انہوں نے مزید کہا اگلے بجٹ میں خواہش ہے کہ تمام لوگوں کے لیے ٹیکس فارم میں آسانی پیدا کی جائے اور جمع کرانے کے طریقہ کار میں بھی آسانی ہو، ابھی اس کام کی ابتدا ہے، آگے مزید چیزیں بہتر کریں گے جو آئندہ بجٹ میں ہوگ۔انہوں نے کہا کہ انڈسٹری میں لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے، سال میں دو ماہ ایسے ہوتے ہیں جس میں کے پی سے گیس نہیں آتی، تاپی گیس منصوبہ ختم نہیں ہوا اس پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اورافغانستان کےساتھ تجارت بڑھانے کی ضرورت ہے، خطے کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، ترکی اور ایران کو گیس منصوبوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں،افغانستان میں قیام امن کیلئے ہر ممکن کردار اداکر رہے ہیں۔ طور خم بارڈر 24 گھنٹے کھلنا چاہئے ، تجارت بڑھے گی تو برآمدات میں اضافہ ہو گا جس سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہو گی۔انہوں نے کہا کہ کرک،لکی مروت اورکوہاٹ میں گیس دریافت ہوئی ، بلوچستان سے آنے والی بیلٹ میں معدنیات کا ذخیرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں سیاحت کو فروغ دینے کی ضروت ہے۔اس موقع پر انہوں نے صوبائی دارالحکومت کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشاور افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے قدرتی تجارتی راہداری ہے جس سے اس کی اہمیت دگنی ہو جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں مشرقی اور مغربی ممالک سے تعلقات بہتر کر کے تجارت بڑھانے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں تو انتخابات تک کسی بہتری کی امید نہیں لیکن مغربی ممالک جیسے ایران اور افغانستان کے ساتھ ہمیں اپنی بھرپور قوت کے ساتھ تجارت بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ چیمبر کے لوگوں کے سوال سے لگتاہے کہ پشاور کے کچھ لوگ تحریک انصاف سے خوش نہیں لیکن اب یہ پی ٹی آئی کا شہر بن گیا ہے، اس کا وزیراعظم پر زیادہ حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ الگ سے ٹیکسٹائل منسٹر کے لیے وزیراعظم سے بات کروں گا۔انہوں نے کہا کہ لبانی وزیراعظم سعد حریری کو بتایا ہے کہ آپ نے پاکستان کا پہلا این آر او کیا‘ لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہوگا۔ نہ کوئی ڈیل ہوگی اور نہ کوئی ڈھیل ملے گی۔ وزیرخزانہ کا کہنا تھاکہ سعد حریری نے ہاتھ اٹھا لئے ہیں اور کہا کہ وہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔اسد عمر نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت گیس پر پہلا حق صوبہ خیبر پی کے کا ہے۔ کے پی کے کی صنعتوں کو آر ایل این جی کی بجائے ریگولر گیس کنکشن دیئے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں