2

پی ٹی آئی اور ق لیگ کا معاملات اتفاق رائے سے بڑھانے کا فیصلہ

لاہور: تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کی قیادت نے اتحادی حکومت کے معاملات کو اتفاق رائے سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ملاقات کے بعد نعیم الحق کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ شہباز شریف نے سمجھوتے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وزیراعظم پر حملے کیے، ان کو ضابطہ اخلاق پر عمل کرنا چاہیے۔ ہم نے قوم کی بہتری کے لیے نئے قوانین لانے ہیں، شہباز شریف اگر ایوان میں نہیں آئیں گے تو کیا قانون سازی نہیں ہوگی؟

انہوں نے کہا کہ ایوان میں وزیراعظم کو تقریر نہیں کرنے دی جاتی، مسلم لیگ (ن) نے لیڈر کی تقریر کے دوران جملے نہ کسنے کا وعدہ کیا تھا۔

نعیم الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر چودھری شجاعت سے ملنے آیا ہوں، انہوں نے ہدایت کی کہ ملاقات کر کے بتایا جائے کہ ق لیگ سے اختلاف نہیں، ق لیگ اور پی ٹی آئی میں ایسے اختلافات نہیں کہ شور مچایا جائے۔ پرویز الہٰی سپیکر کی حیثیت سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حلیف بن کر تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ق لیگ سے اتحاد کے حوالے سے افواہیں پھیلائی گئیں، کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ ہمارا اتحاد مضبوط ہو۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب کی کارکردگی میں بہتری کی ضرورت ہے۔ کراچی سے بڑے بڑے تاجروں کی شکایات مل رہی ہیں کہ انہیں تنگ کیا جاتا ہے۔

اس موقع پر مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت نے کہا کہ کسی سازش کا ساتھ نہیں دیں گے، افواہیں پھیلانے والوں کام صرف افواہیں پھیلانا ہے، عمران خان وقت کی ضرورت ہیں، جتنا ہمارا حق تھا، انہوں نے ہمیں دے دیا، ہم نے پی ٹی آئی کے ساتھ اکٹھے چلنے کا عہد کر رکھا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نعیم الحق اور ق لیگ کی قیادت میں اتحادی حکومت کے معاملات کو اتفاق رائے سے آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں یقین دہانی کرائی گئی کہ پنجاب کے بعد مرکز میں شراکت اقتدار کے معاہدے پر عمل درامد ہوگا۔ پنجاب میں شراکت اقتدار کے تحت مسلم لیگ ق کو اس کا طے شدہ شیئر مل چکا ہے، مرکز میں مسلم لیگ ق کے ساتھ وعدے پورے ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں