3

گورنر، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا میں اختیارات کی جنگ شدت اختیار کر گئی

پشاور: خیبر پختونخوا میں وزیر اعلی اور گورنر کے اختلافات کی اندورنی کہانی سامنے آگئی، آئی جی اور چیف سیکرٹری تبدیل، مزید تبادلوں کا امکان، حکومت لیویز اور پولیس کے درمیان متوازی سسٹم کی خواہش مند، آئی جی صلاح الدین اور چیف سیکرٹری نوید کامران نے مخالفت کر دی۔
خیبر پختونخوا میں وزیر اعلی اور گورنر کے اختلافات کی خبریں سامنے آنے لگیں۔ گورنر قبائلی اضلاع میں تین محکے لینے پر بضد ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ بھی اختیارات نہ دینے پر بضد ہیں۔

ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان اور گورنر شاہ فرمان میں اختلافات کی بنیادی وجہ قبائلی اضلاع کے تین محکمے ہیں۔ زرائع کے مطابق گورنر شاہ فرمان مواصلات، بلدیات اور ہوم کے محکمے لینے پر بضد ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ محمود خان مذکورہ محکمے نہ دینے پر بضد ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے بھی وزیر اعلیٰ اور صوبائی کابینہ کا سابق فاٹا میں ترقیاتی عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ صوبائی کابینہ کے بعض وزراء بھی گورنرکو اختیارات دینے کے حق میں نہیں ہیں، صوبائی سینئر وزیر عاطف خان کا دنیا نیوزسے گفتگو میں کہنا تھا کہ ہر کسی کو اپنے اختیارات استعمال کرنے چاہیئے، دوسرے کے اختیارات کے استعمال سے مسائل پیدا ہوں گے، عاطف خان کا کہنا تھا کہ اختیارات میں مداخلت سے قبائلی اصلاحات متاثر ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کو اپنا اور گورنر کو اپنے اختیارات استعمال کرنے چاہیئے۔ دوسری جانب قبائلی اضلاع میں اختلافات کی ایک اور وجہ لیویز ایکٹ بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں