7

باسودے کی مریم

مرزا صاحب نے کہا تھا۔ آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں / غالبؔ صریر خانہ نوائے سروش ہے۔ باسودے کی مریم‘ یقینی طور پہ افسانہ نگار اسد محمد خان کی بہترین تحریر ہے۔ شاید جو ہمیشہ باقی رہے۔ حج پر جاری بحث کے ہنگام‘ قدرے اختصار کے ساتھ۔
مریم کے خیال میں ساری دنیا میں بس تین ہی شہر تھے :مکہ ‘مدینہ اور گنج باسودہ۔ مگر یہ تین تو ہمارا آپ کا حساب ہے ‘ مریم کے حساب سے مکہ‘ مدینہ ایک ہی شہر تھا۔ مکے مدینے سریپ میں ان کے حجور تھے اور گنج باسودے میں اُن کا ممدو۔
ممدو اُن کا چھوٹا بیٹا تھا۔ اس کے رخسار پر اِتّا بڑا ناسور تھا۔ بعد میں ڈاکٹروں نے ناسور کاٹ پیٹ کر رخسار میں ایک کھڑکی بنادی تھی جس میں سے ممدو کی زبان پانی سے نکلی ہوئی مچھلی کی طرح تڑپتی رہتی تھی۔
مجھے یاد ہے پہلی بار مریم نے اماں کو سرجری کا یہ لطیفہ سنایا تو میں کھی کھی کرکے ہنسنے لگا تھا۔ اگر مریم اپنے کھردرے ہاتھوں سے کھینچ کھانچ کے مجھے اپنی گود میں نہ بھرلیتیں تو میری وہ پٹائی ہوتی کہ رہے نام اللہ کا۔ اے دلھین! بچہ ہے ۔ بچہ ہے ری دلھین! بچہ ہے ۔ مگر اماں نے غُصّے میں دو چار ہاتھ جڑ ہی دیے جو مریم نے اپنے ہاتھوں پر روکے اور مجھے اُٹھاکر اپنی کوٹھری میں قلعہ بند ہوگئیں۔
میں بڑی دیر تک ٹھس ٹھس کرکے روتا رہا۔ وہ اپنے اور میرے آنسو پونچھتی جاتی تھیں اور چیخ چیخ کر خفا ہورہی تھیں۔ اے ری دلھین‘ یہ اللہ کی دین ہیں۔۔۔ نبی ؐکے اُمتّی ہیں۔
مریم کا دل بہت بڑا تھا۔ اس میں ان کے حجور کا مکہ مدینہ آباد تھا اور سینکڑوں باسودے آباد تھے ۔ جن میں ہزاروں لاکھوں گل گتھنے ممدو اپنی گول مٹول مٹھیوں سے مریم کی دودھوں بھری ممتا پر دستک دیتے رہتے تھے ۔
مریم نے میرے ابا کو دودھ پلایا۔ وہ میری کھلائی تھیں۔ وہ میرے بھانجے بھانجیوں کی انّا تھیں۔ زندہ رہتیں تو انھی بھانجے بھانجیوں کے بچے اپنے چارج میں لیے بیٹھی ہوتیں۔
میں نے ایک بار مریم کے قلعے میں گھس کر ان کی پٹلیا سے گُڑ کی بھیلی چرالی۔ مریم بچوں کو بگاڑنے والی مشہور تھیں۔ مگر مجال ہے جو جرم میں حمایت کرجائیں۔ انہوں نے اماں سے میری رپورٹ کردی اور امّاں‘ جاگیردار کی بیٹی‘ اپنی اولاد سے کوئی گھٹیا فعل منسوب ہوتے دیکھ ہی نہیں سکتیں۔ انہوں نے جلال میں آکر اُلٹا مریم سے ان پولا کردیا۔
ابا کو پتا ہی نہ تھا کہ گھر میں سرد جنگ جاری ہے ۔ وہ اس طرح عشاء کی نماز کے بعد پندرہ بیس منٹ کے لیے مریم کے پاس بیٹھ کر ان کا حال احوال پوچھتے اوران کی پیار بھری جھڑکیوں کی دولت سمیٹ کر اپنے کمرے میں سونے چلے جاتے ۔
تین چار دن میری یہ دو جنّتیں ایک دوسرے سے برگشتہ رہیں اور میں گنہگار عذاب جھیلتا رہا۔ اماں نے مریم کے دیکھ بھال میں کوئی کوتاہی تو نہ کی‘ مگر مریم کا سامنا ہو جاتا تو اماں کے نازک خدوخال آپی آپ سنگ و آہن بن جاتے ۔ مریم زیادہ تر اپنی کوٹھری میں محصور رہیں اور شاید روتی رہیں۔ آخر چوتھے پانچویں دن میں پھوٹ بہا ۔اماں کی گود میں سر رکھ کر میں نے اقبال جرم کرلیا۔ اماں کے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ بس ایک غضب کی نگاہ کی‘ مجھے ایک طرف دھکیل کر اُٹھ کھڑی ہوئیں اور بجلی کی سی تیزی سے مریم کے قلعے میں داخل ہوگئیں۔ انّا بوا! تمہارا منجھلا تو چور نکلا۔ بوا! ہمیں معاف کردو۔ میں نے کواڑ کی آڑ سے دیکھا کہ مریم لرزتے ہاتھوں سے اماں کے دونوں ہاتھ تھامے انہیں چوم رہی ہیں۔ کبھی ہنستی ہیں‘ کبھی روتی ہیں ۔
مریم سیدھی سادھی میواتن تھیں۔
محرم میں نویں اور دسویں کی درمیانی شب خشوع و خضوع سے تعزیے ‘ سواریاں اور اکھاڑے دیکھتیں۔ خوب خوب پاپڑ‘ پکوڑے کھاتیں کھلاتیں اور دسویں کو صبح سے وجو بناکے بیٹھ جاتیں۔ ہم لڑکوں کو پکڑ پکڑ کر دن بھر شہادت نامہ سنتیں یا کلمہ طیبہ کا ورد کرتیں۔
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لے لے کر بین کرتیں‘ رو رو کر آنکھ سجالیتیں اور بین کرتے کرتے گالیوں پر اتر آتیں۔ میرے سہجادے کو مار دیا۔ رے ناس مٹوں نے میرے باچھا کو مار دیا۔
حق مغفرت کرے ‘ ہمارے دادا میاں مرحوم تھوڑے سے وہابی تھے ۔پر محرم کے دنوں میں مریم کے آگے کسی کی وہابیت نہیں چلتی۔ دس روز کے لیے تو بس مریم ہی ڈکٹیٹر ہوتیں۔ مگر یہ ڈکٹیٹری بھی جیو اور جینے دو کے اصول پر چلاتی تھیں۔ ہمیں فقیر بناکر چپکے سے سمجھا دیتی تھیں:دیکھ رے بیٹا! بڑے میاں کے سامنے متی جانا۔
اور بڑے میاں جی ظاہر تو یہ کرتے تھے جیسے مریم کی ان باتوں سے خوش نہیں ہیں۔ پر ایک سال محرم کے دنوں میں مریم باسودے چلی گئیں۔ عاشورے پر ہم لڑکے دن بھر ہاکی کھیلتے رہے ۔ عصر کی نماز پڑھ کر دادا میاں گھر لوٹ رہے تھے ۔ ہمیں باڑے میں دھوم مچاتے دیکھا تو لاٹھی ٹیک کر کھڑے ہو گئے ۔ ابے کرشٹانو! تم حسن حسین کے فقیر ہو؟ بڑھیا نہیں ہے تو جانگیے پہن کر ادھم مچانے لگے ۔ یہ نہیں ہوتا کہ آدمیوں کی طرح بیٹھ کر یٰسین شریف پڑھو۔
یٰسین شریف پڑھو حسن‘ حسین کے نام پر‘ یٰسین شریف پڑھو بڑے میاں جی کے نام پر‘ یٰسین شریف مریم کے نام پر اور ان کے ممدو کے نام پر کہ ان سب کے خوبصورت ناموں سے تمہاری یادوں میں چراغاں ہے ۔
مگر میں ممدو کو نہیں جانتا۔ مجھے صرف اس قدر علم ہے کہ ممدو باسودے میں رہتا تھا اور ڈانگدروں نے اس کے گال میں کھڈکی بنادی تھی اور اس کھڑکی کے پٹ مریم کی جنت میں کھلتے تھے ‘ اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جب مریم بڑے سوز سے کھواجہ پیا جرا کھولو کِوڑیاں گاتی تھیں تو اماں کی کوئلوں جیسی آواز شامل ہوکر مجھ پر ہزار جنتوں کے دروازے کھول دیتی تھیں۔ میں اماں کے زانو پر سر رکھ کر لیٹ جاتا اور خواجہ پیا کو سروں کے معصوم جھروکے سے درشن بانٹتے دیکھا کرتا۔ سنا ہے میری اماں موج میں ہوتی ہیں تو اب بھی گاتی ہیں۔ خدا انہیں ہنستا گاتا رکھے ۔ پر مریم کی آواز تھک کر سوچکی ہے یا شاید مکّے مدینے سریپ کی گلیوں میں پھول بکھراتی پھر رہی ہے۔
سفر مریم کی سب سے بڑی آرزو تھی‘ وہ حج کرنا چاہتی تھیں۔ ویسے تو مریم ہمارے گھر کی مالک ہی تھیں‘ مگر پتا نہیں کب سے تنخواہ لے رہی تھیں۔ ابا بتاتے ہیں کہ وہ جب ملازم ہوئے تو انہوں نے اپنی تنخواہ مریم کے قدموں میں لاکر رکھ دی۔ اپنی گاڑھے کی چادر سے انہوں نے ایک چوّنی کھول کر ملازمہ کو دی کہ جا بھاگ کر بجار سے زلے بیاں لیا۔ مریم نے خود ان جلیبیوں پر کلمہ شریف پڑھا اور تنخواہ اور جلیبیاں اٹھاکر بڑے غرور کے ساتھ دادا میاں کے سامنے رکھ آئیں۔ بڑے میاں جی! مبارکی ہو۔ دولھے میاں کی تنکھا ملی ہے ۔ پھر اس تنخواہ میں سے وہ اپنی بھی تنخواہ لینے لگیں۔ جو پتا نہیں انہوں نے ایک روپیہ مقرر کی تھی کہ دو روپے ۔
مریم کا خرچ کچھ بھی نہیں تھا۔ باسودے میں ان کے مرحوم شوہر کی تھوڑی سی زمین تھی‘ جو ممدو کے گزارے کے لیے بہت تھی‘ اور بکریاں تھیں جن کی دیکھ بھال ممدو کرتا۔ برسوں کسی کو پتا نہ چلا کہ مریم اپنی تنخواہوں کا کرتی کیا ہیں۔ پھر ایک دن وہ ڈھیر سارے کل دار روپے ‘ میلے کچیلے نوٹ اور ریزگاری اٹھائے ہوئے ابا کے پاس پہنچیں اور انکشاف کیا کہ وہ حج کرنے جارہی ہیں۔ ابا نے گن کر بتایا کہ نو سیکڑے ‘ تین بیسی سات روپے کچھ آنے ہیں۔
مریم نے تیاریاں شروع کردیں۔ وہ اٹھتے بیٹھتے ‘ چلتے پھرتے گنگناتی رہتیں کہ کھواجہ پیا جرا کھولا کِوڑیاں۔ ان پر مکے مدینے کی کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں اور ان کھڑکیوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جی کے مقدس پیراہن کی خوشبو چلی آرہی تھی۔ کسی نے چھیڑنے کو کہہ دیا کہ تم کو ڈھنگ سے نماز پڑھنی تو آتی نہیں‘ قرآن شریف تو یاد نہیں ہے ‘ پھر حج کیسے کرو گی؟
مریم بپھر گئیں۔ رے مسلمان کی بٹیا‘ مسلمان کی جورو ہوں۔ (باقی صفحہ11پر)
نماج پڑھنا کاہے نئیں آتی۔ رے کلمہ سریپ سن لے ‘ چاروں کُل سن لے ۔ اور کیا چیے تیرے کو؟ پھر ان کے دل میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جی کے پیار کا چمن بھی کھلا تھا ۔
مگر ایک دن شتاب خاں کا خط آیا کہ ممدو کی حالیت کھراب ہے ۔ بکریاں بیچ بانچ کے علاج مالجہ کرایا‘ جمین گروی رکھ دی۔ اب بالکل پیسے نئیں ہیں۔ مریم کی آنکھوں میں مکّہ مدینہ دھندلا گیا۔ انہوں نے نو سینکڑے ‘ تین بیسی‘ سات روپے چادر میں باندھے اور روتی پیٹتی باسودے کی بس میں جابیٹھیں۔
انہوں نے باسودے خیریت سے پہنچنے کا خط تو لکھوا دیا‘ پر ممدو کے بارے میں ایک لفظ نہیں لکھوایا۔ مہینے گزر گئے ‘ کسی نے بتایا کہ وہ ممدو کو علاج کے لیے اندور لے گئی ہیں‘ پھر پتا چلا کہ بمبئی میں صابو صادق کی سرائے میں نظر آئی تھیں‘ پھر پتا چلا کہ ممدو مرگیا ہے ۔ پھر ایک لٹی لٹائی مریم گھر لوٹ آئیں۔
میں اسکول سے گھر پہنچا تو دیکھا کہ مریم صحن میں بیٹھی اپنے مرے ہوئے بیٹے کو کوس رہی ہیں:رے حرامی تیرا ستیاناس جائے رے ممدو! تیری ٹھٹھری نکلے ۔ اورے بدجناور تیری کبر میں کیڑے پڑیں۔ میرے سبرے پیسے کھرچ کرادیے ۔ اے ری دلھین! میں مکے مدینے کیسے جاؤں گی۔ بتا ری دلھین! اب کیسے جاؤں گی۔ابا نے کہا:میں تمہیں حج کراؤں گا۔اماں نے کہا: انّا بوا ہم اپنے جہیز والے کڑے بیچ دیں گے ‘ تمہیں حج کرائیں گے ۔
مگر مریم چپ نہ ہوئیں‘ دو دن تک روتی رہیں اور ممدو کو کوستی پیٹتی رہیں۔ لوگوں نے سمجھایا کہ آخر دولھے میاں بھی تمہارا ہی بیٹا ہے ‘ وہ اگر تمہیں حج کرواتا ہے تو ٹھیک ہے ‘ مان کیوں نہیں جاتیں؟ انہوں نے تو اپنی کمائی کے پیسوں سے حج کرنے کی ٹھانی تھی۔
ممدو کے مرنے کے بعد مریم شاید ایک دفعہ اور باسودے گئیں اپنی زمین کا تیا پانچہ کرنے ‘ پھر اس کے بعد باسودے کا زوال شروع ہوگیا۔ مریم کے چوڑے چکلے میواتی سینے میں بس ایک ہی شہر بسا رہ گیا۔ ان کے حجور کا سہر۔ وہ اٹھتے بیٹھتے نبی جی‘ حجور جی کرتی رہتیں۔
ابا نے بڑے شوق سے لحاف سلوا کر دیا۔ مریم چپکے سے بیچ آئیں۔ عید آئی‘مریم کے کپڑے بنے ۔ خدا معلوم کب‘ کتنے پیسوں میں وہ کپڑے بیچ دئیے۔ پیسا پیسا کرکے پھر مکہ مدینہ فنڈ جمع ہورہا تھا۔ سب ملاکر پانچ سو ساٹھ روپے ہی جمع ہوئے تھے کہ مریم کا بلاوا آگیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ کب اور کس طرح چل بسیں۔ میں گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنی خالہ کے گاؤں گیا ہوا تھا‘ واپس آیا تو اماں مجھے دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں: منجھلے ! تیری انّا بوا گزر گئیں۔ لڑکے ! تجھے بگاڑنے والی گزر گئیں۔
لوگوں نے بتایا کہ مریم نے مرتے وقت دو وصّیتیں کی تھیں:ایک وصّیت تو یہ تھی کہ تجہیز و تکفین انہی کے پیسوں سے کی جائے اور باقی کے پیسے شتاب خان کو بھیج دیے جائیں۔ دوسری وصیت کا صرف اماں کو علم تھا۔ اماں کے کان میں انہوں نے مرتے وقت کچھ کہا تھا جو اماں کسی کو نہیں بتانا چاہتی تھیں۔
میں یہاں آگیا۔ پندرہ برس گزر گئے ۔ 65ء میں ابا اور اماں نے فریضہ حج ادا کیا۔ اماں حج کرکے لوٹیں تو بہت خوش تھیں۔ کہنے لگیں:منجھلے میاں! اللہ نے اپنے حبیب کے صدقے میں حج کرادیا۔ مدینے طیبہ کی زیارت کرادی اور تمہاری انا بوا کی دوسری وصّیت بھی پوری کرائی۔ عذاب ثواب جائے بڑی بی کے سر۔ ہم نے تو ہرے گنبد کی طرف منہ کرکے کہہ دیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! باسودے والی مریم فوت ہوگئیں۔ مرتے وخت کہہ رئی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جی سرکار! میں آتی ضرور‘ مگر میرا ممدو بڑا حرامی نکلا۔ میرے سب پیسے خرچ کرادیے ۔
مرزا صاحب نے کہا تھا۔ آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں / غالبؔ صریر خانہ نوائے سروش ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں