16

سانحہ ساہیوال کے بعد جوازِ حکمرانی کیا؟

بے حسی اور بربریت کی بھی حد ہوتی ہے لیکن سانحہ ساہیوال میں یہ حدیں عبور ہو گئیں۔ حکمران ایسے کہ بجائے قصورواروں کی گردنوں پہ ہاتھ رکھتے‘ اُن کا دفاع کرنے لگ گئے ہیں۔ بے حسی اور بربریت کے ساتھ شرم کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے۔ لیکن حکمران ایسے کہ یہ حدیں بھی عبور کر لی گئیں۔
خدا کے بندو، سب کچھ رات کے اندھیر ے میں نہیں انسانی آنکھوں کے سامنے ہوا۔ ویڈیوز بھی بن چکی ہیں‘ جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مسافروں کی چھوٹی سی کار روکی جاتی ہے، گولیوں کی آوازیں آتی ہیں‘ اور پھر کار میں سے سامان نکال کے پولیس چل دیتی ہے۔ تین زندہ رہ جانے والے بچوں کو ہسپتال پہنچایا جاتا ہے اور وہاں سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے اہلکار‘ جنہوں نے یہ کارروائی کی‘ غائب ہو جاتے ہیں۔
لیکن واردات اور جرم چھپانے کیلئے کیا کیا کہانیاں نہیں گھڑی جاتیں۔ اور چونکہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے تو ایک کہانی پہ اکتفا نہیں کیا جاتا۔ جھوٹ در جھوٹ کا پلندہ اکٹھا کیا جاتا ہے، کبھی ایک عُذر اورکچھ ہی وقت کے بعد مختلف کہانی، حتیٰ کہ CTD کا مؤقف عوام کے سامنے مذاق بن کے رہ جاتا ہے۔ لیکن حکومتِ پنجاب کو تو دیکھیے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل چکی تھی‘ تو قصورواروں کو پکڑا جاتا‘ اور اُن کے چہرے قوم کے سامنے لائے جاتے تاکہ غم میں ڈوبے لوگوں کو احساس ہوتا کہ حکومت کچھ کر رہی ہے۔ لیکن اِس کے برعکس ایک ایف آئی آر اٹھارہ نامعلوم افراد کے خلاف لواحقین کی طرف سے درج کی جاتی ہے‘ اور ایک دوسری ایف آئی آر جو کہ من گھڑت کہانیوں پہ مبنی ہے‘ CTD کی طرف سے درج ہوتی ہے۔ یعنی شروع سے ہی معاملے کو گڈمڈ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سونے پہ سہاگہ یہ کہ قصورواروں کے خلاف ایکشن لینے کی بجائے ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) کا اعلان کیا جاتا ہے‘ جس سے اِس تاثر کو مزید تقویت ملتی ہے کہ معاملے کو اُلجھانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ مختلف جے آئی ٹیز کی کارکردگی سے عوام بخوبی واقف ہیں۔
لیکن جو کمال کرتے ہیں وہ پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت ہیں۔ ہمراہ دو تین اور وزرا کے مکمل ڈھٹائی سے CTD کا مضحکہ خیز مؤقف نہ صرف بیان کرتے ہیں‘ بلکہ اُن کا لہجہ اور چہرہ ایسا ہوتا ہے کہ لگتا ہے اُس مؤقف کی بھرپور وکالت کر رہے ہیں۔ CTD کی کہانی کیا ہے؟ یہ کہ چھوٹی کار کو ڈرائیو کرتا ہوا ذیشان‘ جس کا شمار مارے جانے والوں میں ہے‘ خطرناک تنظیم ‘داعش‘ کا رُکن تھا۔ حساس ادارے اُس کی نگرانی کر رہے تھے۔ اُس دن اطلاع ملی کہ کہیں وہ لاہور سے باہر جا رہا ہے۔ اُس کا تعاقب کیا گیا، ساہی وال کے قریب کار کو روکا گیا اور کار والوں کی طرف سے فائرنگ ہوئی۔ ایک موٹر سائیکل پہ سوار بھی دہشت گرد تھے، اُنہوں نے بھی پولیس پہ فائرنگ کی۔ معجزانہ طور پہ پولیس والوں کو کچھ نہ ہوا کیونکہ اُن کی ٹریننگ ایسی تھی کہ وہ گولیوں سے بچ گئے۔ البتہ جوابی فائرنگ ہوئی تو دہشت گرد ذیشان مارا گیا۔ کار پہ کالے شیشے تھے جس کی وجہ سے خاتون اور بچوں کی شناخت نہ کی جا سکی۔ افسوسناک طور پہ فائرنگ کے تبادلے میں وہ بے گناہ بھی مارے گئے۔ یہ ایسی من گھڑت کہانی ہے کہ کوئی چاند یا مریخ پہ کھڑا ہوا بھی اِس کا جھوٹ دیکھ سکتا ہے۔ لیکن کیا غضب ہے ہماری مملکتِ خداداد کا کہ نہ صرف CTD والے اِس جھوٹ کے پلندے پہ کھڑے ہیں‘ بلکہ حکومت پنجاب کے کارندے زوروشور سے اِس کی وکالت کر رہے ہیں۔
اور کیا ثبوت درکار ہے اِس حکومت کی بزدلی اور نااہلی کو ثابت کرنے کیلئے؟ واقعہ اتنا گھناؤنا تھا کہ چیف منسٹر عثمان بزدار فوراً ساہیوال پہنچ کے ایسی عدالت لگاتے جیسا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹر ی میں لگاتے تھے۔ آئی جی پنجاب سلیمی وہاں کھڑے ہوتے اور CTD کے سربراہ رائے طاہر بھی۔ اِن دونوں کو تو فوراً برطرف کر دینا چاہیے تھا۔ نام سے ایف آئی آر درج کروا کر واقعے میں ملوث اہلکاروں کو اندر کیا جاتا۔ پھر اِس بات کا اہتمام کیا جاتا کہ چالان حسب قانون چودہ دن میں مکمل ہوتا‘ اور کیس کو سپیشل استدعا کرکے فوجی عدالت کے سامنے بھیجا جاتا‘ لیکن یہاں کچھ اور ہی مطلوب تھا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے بارے میں پہلے بھی کوئی گمان نہ تھا‘ لیکن اِس واقعے نے تو اُنہیں اور اُن کی حکومت کو مکمل بے نقاب کر دیا ہے۔ ہمت کہاں سے آنی تھی، وہ کتنے پانی میں ہیں آشکار ہو گیا ہے۔
اپنی پریس کانفرنس میں راجہ بشارت نے حساس اداروں کا ذکر کیا۔ یہ ادارے کیا اُوپر سے اُتری ہوئی کوئی مخلوق ہے؟ جو بھی اِس واقعے میں ملوث ہو اُس پہ فردِ جرم عائد ہونی چاہیے۔ عثمان بزدار سے کیا توقع، ذمہ داری تو وزیر اعظم عمران خان کی بنتی ہے۔ جب راجہ بشارت CTD کے مؤقف کا دفاع کرتے ہیں تو اِس کا مطلب ہے کہ حکومت پنجاب دفاع کر رہی ہے۔ اگر حکومت پنجاب یہ کر رہی ہے تو وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری سے کیسے بھاگ سکتی ہے؟ کیونکہ پنجاب کی حکومت تو عمران خان صاحب کی بنائی ہوئی ہے۔ جب ساہیوال میں گولیاں چل رہی تھیں‘ 18 گاڑیوں کا قافلہ لیے وزیر اعلیٰ پنجاب میانوالی کا فضول دورہ کر رہے تھے۔ جو کچھ ساہیوال میں ہوا اُس سے مکمل بے خبر تھے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی کال آئی‘ اورچیف منسٹر کو پھر علم ہوا کہ کیا ماجرا رونما ہو چکا ہے۔ پھر وہ بھاگم بھاگ ساہیوال کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن وزیر اعظم کی ذمہ داری یہاں پہ ختم نہیں ہو جاتی۔ اُن کو یہ اہتمام کرنا چاہیے تھا کہ راجہ بشارت کی پریس کانفرنس جیسا واقعہ پیش نہ آتا‘ جس کی وجہ سے پوری قوم میں تشویش کی لہر پھیل گئی۔ اگر پریس کانفرنس ہو چکی تھی تو اِن نکموّں کو وہیں ڈانٹ پلانی چاہیے تھی۔ لیکن ایسا کچھ نہ ہوا اور معاملے پہ پردہ ڈالنے کی کوشش شروع ہو گئی۔
قصورواروں کو جوابدہ بنایاجائے، یہ ذمہ داری آرمی چیف یا نئے چیف جسٹس کی نہیں۔ پہلی ذمہ داری چیف منسٹر پنجاب کی بنتی ہے لیکن تمام شواہد بتاتے ہیں کہ وہ اِس اہل ہی نہیں۔ پھر ذمہ داری وزیر اعظم عمران خان کی بنتی ہے کہ جھوٹ کی کہانیوں کو پنپنینہ دیا جائے‘ اور قصوروار 9،10،12 دنوں میں کٹہرے میں کھڑے ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہو سکتا اور عمران خان یہ ذمہ داری پوری نہیںکر سکتے تو اُن کی حکمرانی کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟
یہ کوئی معمولی واقعہ ہوا ہے؟ اِس نے پوری قوم کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ جس نے بھی بدقسمت خاندان کے گولیوں سے چھلنی جسم دیکھے وہ آنسو نہ روک سکا۔ لیکن ایک تو واقعہ ہوتا ہے اُوپر سے جھوٹ کے انبار اور پھر جھوٹ کی حکومتی سرپرستی۔ یہ ٹیسٹ کیس ہے اِس حکومت کیلئے۔ کیا اپنے خوف اور مصلحتوں سے نکل سکتے ہیں؟ کیا واقعے میں ملوث CTD کے اہلکار اور اُس تنظیم کی قیادت اور سربراہ عبرت کا نشان بنائے جا سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو جائے بھاڑ میں حکمرانی اور کھوکھلے نعرے۔ کاش کوئی ایسا ہاتھ ہو کہ اِس واقعے کے مجرموں کو وہ سزا دلوائے جس کے وہ حقدار ہیں۔
عوام بیچارے کیا کریں۔ وَقتی طور پہ غم یا اشتعال آتا ہے تو سڑکوں پہ بیٹھ جاتے ہیں۔ ٹریفک معطل ہو جاتی ہے۔ گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ پھر کوئی افسر یا اہلکار آتا ہے، جھوٹی تسلیاں دیتا ہے اور بیچارے غریب اور لاچار جو اور کچھ کر بھی نہیں سکتے‘ تسلیوں کو سچ مان کے وہاں سے اُٹھ جاتے ہیں۔ پھر معمول کی زندگی شروع ہو جاتی ہے اور زخمی دل جس طرح بھی ہو اپنے آ پ کو دلاسہ دیتے ہیں کہ یہاں نہیں اور کہیں انصاف ہو گا۔ سسکیاں رُک جاتی ہیں اور آسمان کی طرف دیکھنے لگ پڑتے ہیں۔
کتنی بار ایسا تماشا ہم دیکھ چکے ہیں۔ اِس سے زیادہ پسے ہوئے عوام کوئی نہیں۔ اور ایسے بے دِل اور بے حِس حکمران بھی کہیں اور نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں