14

درآمدی ڈیوٹی ختم کرنیکا اعلان , کاٹن مارکیٹ میں مندی , خریدار نایاب

کراچی (این این آئی)جنرز کے پاس کپاس کی کل پیداوار کا 20 فیصد 18سے 20لاکھ گانٹھوں کا اسٹاک موجود جبکہ ٹیکسٹائل ملز نے بیرون ممالک سے 28لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدے کر لئے صوبہ سندھ اور پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی 7000تا 8800روپے جبکہ پھٹی کا بھاؤ فی 40کلو 2800تا 3800روپے رہا ،جنرز شدید مایوسی میں مبتلا ، پھٹی قلیل مقدار میں موجود
حکومت کی جانب سے کپاس کی درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کے اعلان کے بعد مقامی کاٹن مارکیٹ میں روئی کے بھا ؤمیں مندی کا عنصرغالب رہا۔ جبکہ کاروباری حجم بھی کم رہا۔ صوبہ سندھ اور پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی 7000 تا 8800 روپے جبکہ پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 2800 تا 3800 روپے رہا، صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھاؤ فی من 8000 تا 8200 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 3200 تا 3700 روپے رہا گو کہ ملک میں پھٹی قلیل مقدار میں ہے ۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ 8700 روپے کے بھا ؤپر مستحکم رکھا۔ کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ کپاس پر سے درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد مقامی کاٹن مارکیٹ میں خریدار نایاب ہوگیا جس کے باعث جنرز مایوسی میں مبتلا ہیں ان کے کہنے کے مطابق ملک میں کپاس کی پیداوار کم ہے اس وجہ سے کپاس کی درآمد ملوں کی ضرورت کیلئے لازمی ہے لیکن حکومت کو کپاس کی درآمد میں مراعات دینے کے ساتھ ساتھ مقامی جنرز کا بھی خیال کرنا چاہئے ایسا کوئی لائحہ عمل اختیارکرنا چاہئے کہ حکومت کی جانب سے روئی خریدی جائے ،اس وقت جنرز کے پاس تقریباً 18 سے 20 لاکھ گانٹھوں کا اسٹاک موجود ہے جو ملک کی کپاس کی کل پیداوار کا تقریباً 20 فیصد ہے ۔ فی الحال مقامی ٹیکسٹائل ملز نے بیرون ممالک سے تقریباً 28 لاکھ گانٹھوں کے درآمدی معاہدے کئے ہیں۔دریں اثنا پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق 15 جنوری تک ملک میں روئی کی ایک کروڑ 4 لاکھ 57 ہزار گانٹھ پیداوار ہوئی ہے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کی پیداوار ایک کروڑ 13لاکھ 35ہزار گانٹھوں کی نسبت 7.74فیصدکم ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں