اب ملک میرا امن کا گہوارہ بنے گا

colum logggoooاس امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے اس طور پر کہ امت محمدیﷺ کو ایک ایسے جامع کتاب سے نوازا ہے کہ اس میں انسانی ضروریات کے علاوہ ایک اسلامی مملکت کے چلانے کے اصول کے ساتھ ساتھ امن وآشتی کے پیامبر بننے کا درس بھی اِسی ہی کتاب سے ملتا ہے۔مگر افسوس صد افسوس کہ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم احسان کے بعد بھی امت محمدیﷺ نے اس احسان کی فراموشی کی۔
الغرض:آج کل مملکت خداداد میں ہر آئے دن نئے نئے واقعات رونما ہوتے ہیں،ایسے واقعات کی وجہ سے ہر جگہ پر آدمی امن سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے کہ اگر بازار چلا گیاتووہاں پر بھی انسان پھونک پھونک کر قدم رکھے گا کہ خدانخواستہ یہی پر اپنی زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھوںکیونکہ ہر جگہ پر بم بلاسٹ نے انسانوں کوخوف و دھشت میں مبتلا کر رکھا ہے۔
مملکت خداداد پاکستان تو ایک اسلامی ایجنڈے کے تحت بنا تھا اور اس ایجنڈے میں چنداور امور کے علاوہ ایک امر یہ بھی تھا کہ یہاں پر اسلامی قانون نافذ کیا جائے گا،کیونکہ پاکستان کو بنایا ہی کلمئہ توحید کے بنا پر تھا،ہر جگہ پر یہ نعرے بلند کئے جاتے ہیں کہ’’ پاکستان کا مطلب کیا؟لاالٰہ الااللہ‘‘مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ مملکت خداداد پاکستان بننے کے بعد اسی نعرہ کو فقط نعرہ ہی رکھا گیا،اس کے تحت تو قانون نافذی کی گئی مگر الاماشاء اللہ یعنی بہت کم۔
آیئے آپ کو قرآنی تعلیمات اور سنت نبویﷺ کے طور طریقوں کے تحت ایک مملکت کو امن وآشتی کا پیامبر بنانے کے صرف دو ہی طریقوں سے روشناس کرتا چلوں۔
ان طریقوں اور اصولوں میں سے یہ پہلا طریقہ اور اصل مملکت خداداد کے پورے عوام اور خواص سب کے لیے ہے وہ یہ کہ ہمیں اپنے گھروں،اہل وعیال اور بال بچوں میں قرآن خوانی کو عام کر کے ان کی نگرانی بھی کرنی چاہئے،کیونکہ آقائے نامدار ﷺ کا فرمان ہے کہ الاکلکم راعٍ وکلکم مسؤل عن رعیتہ‘‘اگر اس حدیث شریف کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو اس صورت میں ہر آدمی مسؤل ہوگا اور اس سے اپنے رعایہ و ماتحتوں کے بارے میں پوچھاجائے گا۔جب یہی حالِ پرسان ہوگا تو ساری دنیا امن وآشتی،محبت وبھائی چارے سے سرشار ہو جائے گی،کیونکہ ہر آدمی کا یہ سوچ ہوگا کہ کل باری تعالیٰ کے دربار میں اس کے بارے پوچھ گچھ ہوگی تو ہرایک پھونک پھونک کر اس دارِفانی میں وقت گزارے گا۔یہ پہلا طریقہ اور اصل عام تھا،اس میں اہل ایوان اور صاحب اقتدار لوگوں کے علاوہ عام مسلمان بھی شامل ہیں۔
مگر اس کے علاوہ ایک خاص طریقہ بھی ہے کہ اس کے مخاطب صرف اور صرف ایوانِ اقتدار اور صاحب عظمت ومرتبہ لوگ ہیں،اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک نفس کے مارے جانے کو پوری انسانیت کے مارے جانے کے ساتھ تشبیہ دی ہے،جب ایک بے جانفس کو مارنا اتنی عظیم گناہ ہے تو اس کی روک تھام کیسے ہوگی؟اسی کے لیے بھی ایک قانون ’’قانونِ قصاص ‘‘ کو ذکر کر کے فرمایا کہ اے عقل والوں تمہارے لیے قصاص ہی میں زندگی ہے(مفہوم)اب قصاص میں کیسے زندگی ہے؟تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی ویسے بے جا قتل وقتال میں پڑ گیا اور وہ اس سے باز نہیں آرہا،تو اس سے اس مملکت خداداد کی سرزمین کو صاف کرکے اس کو بھی قصاصاً قتل کردیا جائے ،لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ قصاص لینا عام لوگوں کا کام نہیں بلکہ یہ تو ریاست ،حکومت اور اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے کہ حکومت کسی کو قصاصاًقتل کر دے،یہ قصاص والا معاملہ سرعام کیا جائے تاکہ اور لوگ بھی اس سے سبق حاصل کر لیں کہ فلاں آدمی کوحکومت وریاست نے قصاصاً قتل کردیا۔
مگر یہ بھی ملحوظ نظر ہو کہ قرآنی تعلیمات واحکامات جتنے بھی ہیں وہ پورے کے پورے اہل زمین کے لئے ہیں،اس سے کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا جائے گا،کہ اگر کسی غریب آدمی کو تو قصاصاً قتل کردیا جائے اور امیرکو چھوڑا جائے،یاکسی غریب آدمی کے ہاتھ کو تو دس درہم کے چوری کے عوض کاٹا جائے اور امیر کوا اور بھی دلاسا دیا جائے ۔نہیں نہیں ہر گز ایسا نہیں ہوگا،اس میں سب لوگ برابر کے شریک ہونگے۔
جب قرآنی احکامات اور آقائے نامدار ﷺ کی تعلیمات پر ہم عمل پیرا ہونگے تو مملکت خداداد تو کیا پوری دنیا میں حضرت عمر ؓ کے زمانے جیسا دور ایمانی اجائے گا کہ یمن سے چل کر ایک عورت مکہ تک آتی ہے تو کسی کو مجال نہیں کہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے۔قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا جامع ومانع کتاب ہے کہ اس میں زندگی کی ہر شعبے کی حل موجود ہے ،جب قرآنی تعلیمات عام ہو جائیں گے تو پوری دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی،راحت آلہ آبادی نے کیا خوب فرمایا ہے کہ
جوآلہ تخریب ہے ناکارہ رہے گا
اب ملک میرا امن کا گہوارہ بنے گا
جو جنگ کی سوچ کو ڈبوئے گا بہر طور
پبلک کی وہی آنکھ کا اب تارہ بنے گا

شب براء ت بخشش ومغفرت کی رات

Hafiz Kareem Logo
شعبان المعظم کی پندرہویں رات کو”شب براء ت کہاجاتاہے۔شب کے معنی رات اوربراء ت کے معنی چھٹکارے کے ہیں اس رات میں اللہ رب العزت قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعدادسے زیادہ گناہ گاروں کی بخشش فرماتاہے۔ عرب قبائل میں سے سب سے زیادہ بکریاں پالنے والاقبیلہ قبیلہ بنی قلب تھا اس رات اللہ رب العزت کی اپنی مخلوق پرخصوصی رحمتیں ہوتی ہیںاللہ رب العزت کی رحمت دوطرح کی ہے ایک عام اوردوسری خاص اللہ تعالیٰ کی رحمت عام!جو ہرخاص وعام کے لئے ہے،خواہ وہ مسلمان ہویاکہ کافر،یہودی ہویاکہ نصرانی ،حیوان ہویاکہ پتھرآپ خوداندازہ کریں کہ جب بارش ہوتی ہے توہرایک کے کھیت چاہے امیرکاہویاکہ غریب کا،نیک کاہویاکہ بُرے کا سب میں پڑتی ہے یعنی وہ ہرایک کے لئے یکساں ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے حالات کے مطابق مانگتاہے ۔اللہ پاک اسے بھی عنایت فرماتاہے۔شب براء ت ایک ایسی رات ہے جس میں اللہ پاک دونوں طرح کی رحمتوں کانزول فرماتاہے جسکا ہرذی روح کوفائدہ پہنچتاہے۔پندرہ شعبان کی رات کتنی نازک رات ہے۔ انسان بعض اوقات غفلت میں پڑارہتاہے اوراسکے بارے میں کچھ کاکچھ ہوچکاہوتاہے اس رات سال بھرمیں ہونے والے تمام امورکائنات،عروج وزوال ، اوبارواقبال،،کامیابی،ناکامی رزق میں وسعت وتنگی موت وحیات اورکارخانہ قدرت کے دوسرے شعبہ جات کی فہرست مرتب کی جاتی ہے۔اورفرشتوں کواپنے اپنے کاموں کی تقسیم کردی جاتی ہے۔یوںتوشعبان المعظم کا سارامہینہ برکت والاہے مگراسکی پندرہویں رات بڑی برکت والی ہے اس رات اللہ رب العزت گناہ گاروں کودوزخ کی آگ سے نجات دیتا ہے۔قرآن مجید فرقان حمیدمیں اس رات کو”لیلۃمبارکہـ”یعنی برکتوں والی رات ،کہا گیاہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔حٰمٓ وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ اِنَّا اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃٍمُّبٰرَکَۃٍ اِنَّاکُنَّامُنْذِ رِیْنَ فِیْھَایُفْرَقُ کُلُُّّ اَمْرٍحَکِیْمٍ اَمْرًامِّنْ عِنْدِنَا اِنَّا کُنَّا مُرْسِِلِیْنَ رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ اِنَّہ‘ ھُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(سورۃ الدخان آیت نمبر۱تا۶)حمٓ قسم اس روشن کتاب کی بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میںاتارابے شک ہم ڈرسنانے والے ہیں اس میں بانٹ دیاجاتاہے ہرحکمت والاکام ہمارے پاس کے حکم سے بے شک ہم بھیجنے والے ہیں تمہارے رب کی طرف سے رحمت بے شک وہی سنتاہے اورجانتاہے .آقاعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت کے لئے اللہ رب العزت کی طرف سے شب براء ت ایک نعمت عظمٰی ہے۔حدیث پاک میں ہے اللہ کے رسولﷺ نے شعبان المعظم کی تیرہویں رات کوبارگاہ خداوندی میں اپنی امت کے لئے شفاعت کی درخواست کی توایک تہائی امت کی بخشش قبول ہوئی۔پھرچودھویں رات میں دعاکی تودوتہائی امت کی شفاعت عطاکی گئی۔ پھرپندرہویں رات”شب براء ت”میں دعاکی تو ساری امت کے حق میںشفاعت قبول ہوگئی ہے۔سوائے ان نافرمان بندوں کے جواللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اونٹ کی طرح بدک کربھاگتے ہیں۔یعنی نافرمانی کرکے اللہ سے دوربھاگے۔ (مکاشفۃ القلوب)ام المومنین سیدتناحضرت عائشۃ الصدیقۃؓ فرماتی ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺپورے ماہ شعبان میں روزے رکھتے یہاں تک کہ اسے رمضان المبارک سے ملادیتے۔میں نے عرض کیایارسول اللہﷺ ماہ شعبان کے روزے آپ ﷺکودوسرے مہینوں کی بہ نسبت زیادہ محبوب وپسندیدہ ہیں؟ توآپ ﷺنے ارشادفرمایاہاں اے عائشہؓ !جوبھی سال بھرمیں فوت ہوتاہے اسکاوقت(وفات) شعبان ہی کے مہینے میں لکھ دیاجاتاہے تویہ بات مجھے محبوب ہے کہ میرے وصال کاوقت اس حال میں لکھاجائے کہ میں اپنے رب کی عبادت اورنیک کام میںمشغول ہوں ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایااے عائشہؓ اسی مہینے میں ملک الموت فوت ہونے والوں کے نام لکھ لیتے ہیں تومجھے یہ پسندہے کہ میرانام روزہ کی حالت میں لکھاجائے۔(درمنثور)
حضرت علاء بن حارث ؓسے روایت ہے کہ ام المومنین حضرت عائشۃ الصدیقہؓ نے فرمایاکہ رسول اللہﷺ رات کواٹھے اورنمازپڑھنے لگے اوراتنے لمبے سجدے کیے کہ مجھے یہ خیال ہواکہ آپﷺ کی وفات ہوگئی ہے۔میں نے جب یہ معاملہ دیکھاتومیں اٹھی آپﷺکے پائوں کے انگوٹھے کوحرکت دی اس میں حرکت ہوئی میں واپس لوٹ آئی جب آپ ﷺنے سجدے سے سراٹھایا اورنمازسے فارغ ہوئے توفرمایااے عائشہ!یافرمایااے حمیرائ!کیا تمہارے دل میں یہ سوچ پیداہوگئی کہ اللہ تمہاراخیال نہ کریں گے تومیں نے عرض کیایارسول اللہﷺ بخدایسی بات نہیں درحقیقت مجھے یہ خیال ہواکہ شایدآپکی وفات ہوگئی ہے کیونکہ آپ نے سجدے بہت لمبے کیے آپﷺ نے فرمایاجانتی بھی ہویہ کیسی رات ہے؟ میں نے عرض کیااللہ اوراسکے رسولﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایایہ شعبان کی پندرہویں رات ہے۔اللہ پاک اس رات اپنے بندوں پرنظرِرحمت فرماتاہے اور بخشش چاہنے والوں کی مغفرت فرمادیتاہے رحم مانگنے والوں پررحم کردیتاہے مگردل میں عنادرکھنے والوں کوان کے حال پرچھوڑدیتاہے۔(بیہقی فی شعب الایمان )
ام المومنین سیدتنا حضرت عائشۃ الصدیقۃ ؓ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ (اے عائشہ ؓ)تم جانتی ہوکہ یہ کونسی رات ہے میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ نصف شعبان کی رات اسمیں خاص بات کیاہے؟توآپ ﷺ نے فرمایااس (رات) سال بھرمیں پیداہونے والے اورمرنے والے لوگوں کی فہرست مرتب کی جاتی ہے اس رات بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اس رات لوگوں کارزق اتاراجاتاہے۔ام المومنین سیدتناحضرت عائشۃ الصدیقۃ ؓ فرماتی ہیں میںنے عرض کیایارسول اللہ ﷺ کیاہرکوئی اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوگا؟تو سرکارعلیہ الصَّلوٰۃ والسَّلام نے فرمایاہاں؟ کوئی شخص ایسانہیں جواللہ کی رحمت کے بغیرجنت میں داخل ہواوریہ کلمات آپﷺ نے تین مرتبہ فرمائے میں نے عرض کیااورآپ بھی یارسول اللہﷺ ؟ توآپﷺ نے اپنا دست مبارک سرپررکھ کرفرمایااورمیں بھی جب تک اللہ تعالیٰ کی رحمت میرے شامل حال نہ ہویہ کلمہ بھی آپﷺ نے تین بارفرمایا۔(بحوالہ بیہقی ) حدیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سال میں جوکام ہوناہے اسے متعلقہ فرشتے کے جوانجام دینے والاہوتاہے اس کے سپرد کردیا جاتا ہے۔حضرت عثما ن بن محمدبن مغیرہ بن اخنسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ زمین والوں کی عمریں ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک لکھ دی جاتی ہیںیہاں تک کہ انسان شادی بیاہ کرتاہے اسکے بچے پیداہوتے ہیں حالانکہ اسکانام مُردوں میں داخل ہوچکاہوتاہے۔(تفسیرابنِ کثیر) یہی حدیث ایک اورمضمون کی ساتھ آئی ہے جسکے راوی حضرت ابوہریرہ ؓ ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک مدت حیات کاختم ہونالکھ دیا جاتاہے یہاں تک کہ آدمی شادی کرتاہے۔ا سکے بعدبچہ پیداہوتاہے حالانکہ اسکانام مرنے والوں میں لکھاجاچکاہوتاہے۔ام المومنین سیدتناحضرت عائشۃ الصدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سناکہ چارراتوں میں اللہ تعالیٰ رحمت کے دروازے کھول دیتاہے انہی میں سے ایک شعبان کی پندرہویں رات ہے اس رات میں وفات کے اوقات روزیاں اورحج کرنیوالوں کے نام لکھے جاتے ہیں۔(درِمنثور)
حضرت راشدبن سعدؓسے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایاپندرہ شعبان کواللہ تعالیٰ سال بھرمیں قبض کی جانیوالی روحوں کی فہرست ملک الموت کے حوالے کردیتاہے۔(روح المعانی)حضرت عطاربن یسارؒفرماتے ہیںکہ جب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے توخداکی طرف سے ایک فہرست ملک الموت کودی جاتی ہے اورحکم دیاجاتاہے کہ ان لوگوں کی روحوں کواس سال قبض کرلیناہے جن کے نام اس فہرست میں شامل ہیں خواہ ان میں سے کوئی باغ کے درخت لگارہاہویاکوئی شادی کررہاہو یا مکان کی تعمیرکررہاہو۔غرض یہ کہ انکانام مردوں کی فہرست میں لکھاجاچکاہوتاہے۔اللہ تعالیٰ کے نظام کے اصول بڑے احسن طریقے سے مقررشدہ ہیں اور انکی حکمت اللہ ہی کومعلوم ہے۔دنیامیں انسان ہروقت کسی نہ کسی کام میں لگارہتاہے۔مگراللہ پاک کی بارگاہ میں اس کانام مرنے والوں کی فہرست میںلکھاہوتاہے اللہ پاک یہ نہیں دیکھتاکہ (انسان) کسی بڑے سے بڑے کام میں مصروف ہے۔یہ تواللہ ہی کومعلوم ہے کہ اس کادنیاسے فوت ہوجانے کاسب سے بہتروقت کونساہے۔اس رات کی فضیلت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس رات میں اللہ رب العزت بے شمارلوگوں کے گناہ بخش دیتاہے جوآدمی اللہ تعالیٰ سے صدق دل سے معافی مانگ لیتاہے اللہ پاک اس کی سب خطائیں معاف کردیتاہے۔اللہ رب العزت کایہ فرمان عبرت نشان ہے کہ “فیغفرلمنیشاء ویعذب من یشائ”تو جسے چاہے گا بخشے گا جسے چاہے عذاب دیگا۔لہذاہم سب کوچاہیے کہ اس رات صدق دل سے اپنے ر ب کی بارگاہ سے توبہ کرلیں اللہ پاک کی طرف سے توبہ کادروازہ ہروقت کھلارہتاہے ۔
حضرت عثمان بن العاص ؓنبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایاجب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پکارنے والاپکارتاہے کہ کیاکوئی مغفرت کاطالب ہے کہ میں اسکی مغفرت کروں۔کیاکوئی مانگنے والاہے کہ میں اسے عطاکروں اس وقت جوشخص اپنے رب سے جوکچھ مانگتاہے اسے مل جاتاہے لیکن زانیہ اورمشرک کوکچھ بھی نہیں ملتا۔(بیہقی، فی شعب الایمان) اس مقدس رات میں بھی اللہ کی رحمت سے خالی رہنے والاشخص مشرک اورزناخوربھی ہے۔حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایاجب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تواللہ تعالیٰ سب کی بخشش فرمادیتاہے سوائے مشرک اورکینہ پرورکے(مجمع الزوائدجلد۸صفحہ۶۵)
ام المومنین حضرت عائشۃ الصدیقہ ؓ فرماتی ہیںکہ ایک رات میںنے رسول اللہ ﷺ کواپنے پاس نہ پایاتومیں آپﷺ کی جستجومیں نکلی کیا دیکھتی ہوں کہ آپ ﷺ جنت البقیع میں تشریف فرماہیںآقاعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تمہیں یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اسکارسولﷺ تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے آپؓؓنے عرض کیایارسول اللہ ﷺ مجھے گمان ہواکہ آپﷺ کسی دوسری بیوی کے پاس چلے گئے ہیں۔پھرنبی کریم ﷺ نے فرمایابیشک اللہ تبارک وتعالیٰ پندرہ شعبان کی رات آسمان دنیاپر(اپنی شان کے مطابق )جلوہ گرہوتاہے۔اورقبیلہ بنوقلب کی بکریوں کے بالوںکی تعدادسے زیادہ گناہ گاروں کی مغفرت فرماتاہے۔(ترمذی جلدنمبر۱صفحہ ۱۵۶،ابن ماجہ صفحہ ۱۰۰،مسنداحمدجلد۶صفحہ۲۳۸،مشکوٰۃ ص ۲۷۷)حضرت عبداللہ بن عمر،عمروبن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاپندرہ شعبان کی رات اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف نظرِ رحمت فرماتے ہوئے سب کی بخشش فرماتاہے سوائے دوآمیو ںکے۔1۔کینہ پرور2۔کسی کوناحق قتل کرنیوالا۔قاتل کے بارے میں ارشادباری تعالیٰ ہے۔ترجمہ۔ جوکسی مسلمان کوجان بوجھ کرقتل کرے اس کی سزاجہنم ہے اورمدتوں اس میں رہے اللہ پاک نے اس پر غضب کیااورلعنت کی اوراس کے لئے بڑاعذاب تیارکرکھا ہے ۔{ النساء آیت نمبر۹۳ }قاتل کے بارے میں حدیث پاک میں آیاہے کہ قیامت کی دن مقتول (جوقتل ہوگیاتھا)اللہ کی بارگاہ میں اس طرح آئے گاکہ قاتل کے سرکااگلا حصہ مقتول کے ہاتھ میں ہوگااوریہ کہتاہواآئے گاکہ یااللہ اس نے مجھے قتل کیاتھا۔وہ اپنامقدمہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کریگا۔(مشکوٰۃ)
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کی نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایاکہ میرے پاس جبرائیل امین ؑ شعبان کی پندرہویں رات کوتشریف لائے اورمجھ سے فرمایا اے صاحب مدحِ کثیر!اپناسرآسمان کی طرف اٹھائیے میں نے پوچھایہ کونسی رات ہے؟جبرائیل امین ؑ نے فرمایایارسول اللہ ﷺ یہ وہ رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے تین سودروازے کھول دیتاہے کافراورمشرک کے سواسب کوبخش دیتاہے مگریہ کہ وہ جادوگر ہویاکاہن،شراب کاعادی ہویاسودکاعادی ہو یازناکاعادی ہوان مجرموں کواپنے اپنے گناہ سے توبہ کرنے سے پہلے نہیں بخشتا(یعنی توبہ کرلیں توتوبہ قبول کرتاہے)پھررات کاجب چوتھائی حصہ ہواتو جبرائیل ؑ میرے پاس آئے اورعرض کیااے صاحب مدح عظیم!اپناسر اٹھائیے سرکارﷺ نے اپناسراٹھاکردیکھاکہ جنت کے سب دروازے کھلے ہیںپہلے دروازے پرایک فرشتہ ندادے رہاہے کہ اس رات میں رکو ع کرنے والوںکوبشارت ہو،دوسرے دروازے پرایک فرشتہ آوازدیتاہے۔اس رات میں سجدہ کرنیوالوں کوبشارت ہو،تیسرے دروازے پرایک فرشتہ آوازدیتا ہے کہ اس رات میں دعاکرنیوالوں کے لئے بھلائی ہو،چوتھے دروازے پرایک فرشتہ آوازدیتاہے کہ اس رات میں ذکرکرنیوالوں کومبارک ہو۔ پانچویں دروازے پرایک فرشتہ آوازدیتاہے کہ اس رات میں خداکے ڈرسے رونے والوں کومبارک ہو،جنت کے چھٹے دروازے پرایک فرشتہ آوازدیتاہے کہ اس رات تمام مسلمانوںپرخداکی رحمت ہو۔ساتویں دروازے پرایک فرشتہ پکارتاہے کہ ہے کوئی بخشش چاہنے والاکہ اسے بخش دیاجائے۔آٹھویں دروازے پرایک فرشتہ پکارتاہے کہ ہے کوئی کچھ مانگنے والاکہ اسے منہ مانگی مراددی جائے۔میں نے پوچھااے جبرائیلؑ یہ دروازے کب تک کھلے رہتے ہیں!توانہوں نے فرمایارات کے شروع ہونے سے لیکر صبح کے نمودارہونے تک کھلے رہتے ہیںپھر فرمایااے حمدوالے!اس رات میں اللہ تعالیٰ قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بال کی تعدادمیںلوگوںکوجہنم سے آزادکرتاہے۔(غنیہ الطالبین)اس حدیث مبارک میں جن لوگوں کاذکرآیاہے کہ یہ لوگ اللہ کی رحمت اوربخشش سے محروم رہتے ہیں ۔1۔مشرک!جوجوخدائے وحدہ لاشریک کے ساتھ دوسرے کواس کاشریک سمجھے اوراللہ تعالیٰ کے علاوہ اسکومستحق عبادت سمجھے۔2۔ ماںباپ کانافرمان کوبھی اللہ پاک نہیں بخشتا.3۔کاہن جوآئندہ کی باتیں اٹک پچّوسے بتائے یابتانے کامدعی ہو۔4۔نجومی جو غیب کی خبردے عالم غیب ہونے کادعوٰی کرے 5۔جادوگر یہ لوگوں کوایذادیتاہے اورزمین میں فسادمچاتاہے ۔اسکی بخشش تب تک نہ ہوگی جب تک توبہ نہ کرے۔6۔فال نکالنے والے 7۔سنت کے خلاف عمل کرنیوالے.8۔قاتل جوکسی محترم یامعصوم جان کومارڈالے۔9۔ جلاد10 ۔قرابت داروں سے رشتہ کاٹنے والے11۔کینہ پرور جسکاسینہ کسی مسلمان سے کینہ کی آلودگی میں ملوث ہو۔12۔سودکاعادی جس نے تین بارسودلیاہو 13۔سوددینے کاعادی14۔ناچ گانیوالے15۔زنا کے عادی مردہوں یاعورت 16۔ شراب کاعادی،ان بدنصیبوں کوچاہیے کہ بارگاہ لم یزل سے صدق دل سے توبہ کرلیں اورآئندہ کوئی گناہ نہ کریں ۔ضروراللہ پاک کوبخشنے والامہربان پائیں گے۔
حضرت ابوثعلبہ خشنی ؓنبی کریم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایاجب شعبان کی پندرہویں رات ہوتی ہے تواللہ پاک اپنی مخلوق پرنظررحمت ڈال کرمسلمانوں کی بخشش فرمادیتاہے اورکافروں کومہلت دیتے ہیں اورکینہ پرورو ںکوانکے کینہ کی وجہ سے چھوڑدیتے ہیں تاوقتیکہ کہ وہ کینہ پروری چھوڑدیں۔(بیہقی، فی شعب الایمان)اللہ رب العزت کی صفت رحمان اوررحیم ہے اس لئے پندرہ شعبان کی رات اپنے بندوںخصوصاََاہل ایمان پراپنی رحمت نازل فرماتاہے ان کے گناہوںکوبخش دیتاہے یادرہے گناہوںسے مغفرت وبخشش اسکی ہوتی ہے جواپنے گناہ پرنادم ہوکراللہ کی بارگاہ سے توبہ کرلیتاہے اوراپنی اصلاح کرلیتاہے یعنی اپنے اعمال کوٹھیک کرلیتاہے۔ توبہ کادروازہ موت سے قبل ہروقت کھلاہے جوآدمی دروازہ کھٹکالیتاہے وہ کچھ نہ کچھ پالیتاہے۔جونہ کھٹکائے گاوہ ناکام ہوجائے گا۔ْحضرت معاذبن جبلؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایااللہ تعالیٰ پندرہ شعبان کی رات اپنی مخلو ق کی طرف اپنی نظررحمت فرماکرتمام مخلوق کی سوائے مشرک اوربغض رکھنے والے کے بخشش فرمادیتاہے۔(بیہقی،طبرانی)اس رات کی فضیلت کی سب سے بڑی ایک اوروجہ قبول شفاعت ہے یعنی جوآدمی اس رات میں اللہ پاک کی عبادت کریگااوراللہ کوراضی کرلیگاتو اس آدمی کوبروزقیامت آقاﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی شفاعت کے متعلق آقاﷺ کے ارشادات مبارک ہیں۔حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ آقائے دوجہاںﷺنے ارشادفرمایا” اورمجھے کچھ ایسے فضائل ملے ہیں جومجھ سے پہلے کسی نبی کونہیں ملے اور مجھے شفاعت دی گئی.(بخاری،مسلم)حضرت عبداللہ بن عمرؓ اورحضرت ابوموسیٰ اشعریؓسے روایت ہے کہ آقاﷺ نے ارشادفرمایا”اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیاردیاکہ یاتوآپ شفاعت لے لو۔یایہ کہ تمہاری آدھی امت جنت میں جائے۔ میں نے شفاعت لی کہ وہ زیادہ عام اورزیادہ کام آنے والی ہے کیاتم یہ سمجھتے ہوکہ میری شفاعت پاکیزہ مسلمانوں کے لئے ہے نہیں بلکہ وہ ان گناہ گاروںکے واسطے ہے جوگناہوں سے آلودہ اورخطاکارہیں۔ (مسنداحمد،ابن ماجہ)
شب براء ت میں عبادت کاثواب
حضرت علی المرتضیٰ شیرِخداؓروایت کرتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا!ـ”جب شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہوتواس رات کوقیام کرواوردن کوروزہ رکھو کیونکہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی تجلی آفتاب کے غروب ہونے کے وقت سے ہی آسمان ِدنیاپرظاہرہوتی ہے۔اوراللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اُسے بخش دوں،کیاکوئی رزق مانگنے والاہے کہ میں اُسکوعطاکروں،کیاکوئی مصیبت زدہ ہے کہ میں اسے چھوڑوں،کیاکوئی فلاں فلاں حاجت والا ہے کہ میں اسکی حاجت پوری کروں،حتیٰ کہ صبح ہوجاتی ہے۔{ابن ماجہ}
شب براء ت کی رات دورکعت نمازنفل اسطرح پڑھیں۔کہ ہررکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعدآیت الکرسی ایک بارسورۃ اخلاص پندرہ پندرہ مرتبہ بعد سلام کے درودشریف ایک سوبارپڑھ کرترقی رزق کی دعاکریںانشاء اللہ اس نمازکی برکت سے رزق میں برکت ہوگی۔
شب براء ت بعدازنمازمغرب چھ رکعت نمازدودورکعتیں کرکے پڑھے۔پہلی دو رکعت درازی عمرکے لئے ،دوسری دورکعت دفع بلاکے لئے، تیسری دورکعت حصول رزق کی نیت سے پڑھیں،ہردورکعت کے بعدسورۃ یٰسین ایک باریاسورۃ اخلاص 21بارپڑھیںاسکے بعددعائے نصف شعبان المعظم ایک بارپڑھیں۔
اس رات سورکعت نمازاسطرح پڑھیں کہ ہررکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعدسورۃ اخلاص دس دس بارپڑھیںاس نمازکوصلوٰۃ الخیرکہتے ہیں ۔ حضرت حسن بصریؓ نے فرمایاکہ مجھ سے سرورکائنات ﷺ کے 30صحابہ کرامؓ نے بیان کیا کہ جوشخص یہ نمازپڑھتاہے اللہ تعالیٰ اسکی طرف 70مرتبہ نگاہِ کرم فرمائے گااورہرنگاہ میں اسکی 70حاجتیں پوری فرمائے گا،اورادنی حاجت اسکی بخشش ہوگی ۔پندرہ شعبان کی رات سورۃ الدخان پڑھنابہت افضل ہے،انشاء اللہ اس کوپڑھنے والے کی اللہ تعالیٰ سترحاجات دنیاکی اورسترحاجات عقبیٰ کی پوری فرمائیگا۔
میرے مسلمان بھائیو!ہم نے اس رات کوکیاسمجھاہم نے اپنے آپ کواس رات کی فضیلت سے محروم رکھاہوا ہے۔اس رات عبادت کی بجائے سب برے شیطانی کام کرتے ہیں۔ہم نے اس رات میںکفارومشرکین والی رسم کواپنالیاہے ،ہم اس رات آگ سے بچنے کی دعانہیں کرتے بلکہ اپنے گھرمحلہ شہرمیں سڑکوں پرآگ جلاکراس بات کاثبوت دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہوکرکفارومشرکین والی رسموں کواپنائے ہوئے ہیں جسکی شریعت اجازت ہی نہیں دیتی اس رات کے علاوہ بھی یہ کام آگ جلانا، پٹاخے چھوڑنا ،بم وغیرہ پھٹاناحرام ہے۔اس سے ہمارا ذاتی کتنانقصان ہوتاہے کتنی جانیں چلی جاتی ہیں اس نقصان کااندازہ ہم اخبارات اورٹیلی ویژن وغیرہ سے لگاسکتے ہیں اللہ رب العزت ہم کواس بری رسم سے بچنے کی توفیق عطافرمائے اورآقائے دوجہاں سرورکائنات فخرموجوداتﷺ کی سچی اورپکی محبت عطافرمائے۔ اللہ رب العزت ملک ِ پاکستان کوامن وسلامتی کاگہوارہ بنائے۔دشمنان اسلام ودشمنا ن ملک پاکستان کونیست ونابودفرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰہ علیک یامُحَمَّدُ

فوج کے پیج پر کون ؟
شاہد نذیر چودھری
اسے آپ بونگی سمجھ لیں ۔۔۔۔۔۔ظاہر ہے جب چند ’’حلقہ بند‘‘ کالم نگاروں کی نظر میں فدوی اس بات کی وہ دلیل پیش نہیں کرسکتا جس دلیل کو قلم لکھنے سے قاصر رہتا ہے تو جو بات میں کہنے جارہاہوں وہ اسکو بونگی ہی سمجھیں گے ,لیکن اگر وہ چاہیں تو تھوڑی سی گنجائش پیدا کرکے وہ اس بات کو تسلیم کرسکتے ہیں کہ یہ بات ایک ’’تجربہ کار ‘‘صحافی کررہا ہے جو سورسز میں گھومتا پھرتا رہتا ہے ،باقی نفس مضمون آپ بخوبی جان سکتے ہیں ،کیونکہ میرے معترض دوست بھی بعض اوقات ٹھوس دلائل دینے کی بجائے اپنی ذات کو بطور دلیل پیش کرتے اور کہتے ہیں’’ میں کہہ رہا ہوں ناں،کیونکہ میں جانتا ہوں‘‘ حالانکہ جاننے کا حق صرف اچھے گریڈاور اسٹیٹس سے نہیں بنتا ،اسکا انحصار بیٹ اور تعلقات اور پھر آپ کی عقل و دانش پر بھی ہوتا ہے کہ آپ جان کر کسی بات کو کتنا سمجھ پائے ہیں۔

اب ذرا پاک فوج کے ترجمان جنرل عاصم باجوہ کے اس بیان کو سمجھ لیں ۔انہوں نے دنیا نیوز میں کامران خان کیساتھ پروگرام میں یہ بھی بات کی ہے کہ ’’پہلے نوگوایریاز سے انکار کیا جاتا تھا اب تصدیق ہوچکی ہے،فوج ملک بھر میں کومبنگ آپریشن کرے گی اور جہاں پولیس نہیں جاسکتی فوج اسکو لے کر جائے گی۔۔۔۔۔۔‘‘کراچی کے نوگوایریاز پر ایم کیو ایم یہی رونا روتی تھی کہ کراچی میں کوئی نوگوایریاز نہیں لیکن رینجرکے آپریشنز کے بعد حقیقت کھل کرسامنے آگئی۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ نے کئی بار اس بات کا اعلان کیا تھا کہ پنجاب میں کوئی نوگوایریا نہیں ہے لیکن جب پولیس چھوٹو گینگ آپریشن کرنے پہنچی تو اسکے 25 کلومیٹر تک پھیلے نوگوایریا کا چرچا شروع ہوگیا۔پنجاب کے بڑے شہروں کے علاوہ قصبوں دیہاتوں میں فوج کے کومبنگ آپریشن کی بہت زیادہ ضرورت ہے،جہاں بااثر لوگوں نے اپنی اپنی رٹ قائم کررکھی ہے ۔ جنوبی پنجاب کے جاگیر داروں نے تو اپنی باقاعدہ اسٹیٹس قائم کررکھی ہیں۔انکے علاقوں میں مزارعے و باشندے غلاموں سے بدتر زندگی گزاررہے ہیں اور ان علاقوں میں کسی دوسرے شہر کا باشندہ آزادانہ گھومنے پھرنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ان علاقوں میں کوئی بندہ اپنی دوکان کا مالک بن سکتا اورنہ ہی گھر کا کیونکہ اس دوکان اور گھر کی زمین کا مالک وہاں کا جاگیردار ہوتا ہے ۔۔۔ جہانگیر ترین،مخدوم محمود احمد سمیت سارے بڑے جاگیردار اس بات کی حقیقت کو سمجھتے ہیں۔
پنجاب میں فوج کو آپریشنز سے پہلے کافی سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے ، رانا ثنااللہ پنجاب میں فوج کی بجائے پولیس سے آپریشنز کرانے کے حق میں رہے ہیں لیکن بادل نخواستہ انہیں فوج اوررینجرز سے مدد کی درخواست کرنا پڑتی ہے۔ظاہر ہے یہ سپریم سکیورٹی فورسز پاکستانی ہیں اس لئے وہ جب مناسب سمجھتے ہیں، فوج سے استدعا بھی کرلیتے ہیں ،لیکن کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ پنجاب کے وزیر قانون اور فوج قومی کاز کے لئے ایک پیج پر نظر نہیں آتے۔وہ فوج کے آپریشن کے حامی بھی ہیں لیکن تحفظات کا اظہار بھی کرتے ہیں اور پنجاب کے کرپٹ سیاستدانوں کی تحقیقات پر بھی سیخ پا ہوجاتے ہیں،ان کا رویہ سمجھ سے بالا ہے، حالانکہ تمام سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا ہے کہ وہ ملک سے دہشت گردی اور بدعنوانی کو ختم کرکے دم لیں گی۔اسی ضمن میں فوج آپریشنز اورتحقیقات کے لئے دوسرے اداروں کی مددکررہی ہے لیکن آئینی حدود میں رہتے ہوئے ،ملک کو دہشت گردی اور بدعنوانی سے پاک کرنے کا اعلان کرنے والی مقتدر شخصیات اس راہ میں خود بھی ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوتی ہیں ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اس مشن میں فوج کے پیج پر نظر بھی آتی ہیں لیکن دوسرے ہی لمحے انہیں مختلف تحفظات کی ہچکی بھی لگ جاتی ہے اور پیج کے دوسری طرف دکھائی دیتی ہیں۔ ایسی مقتدر سیاسی قوتیں کسی ایک صوبے تک محدود نہیں ہیں۔وہ تحفظات کی آڑ میں فوج کو گمراہ تو نہیں کرسکتیں البتہ عوام کو گمراہ کرنا ان کا پیشۂ سیاست ہے اور ان دنوں اس پیشے میں کافی گرمی آچکی ہے۔ پنجاب میں تو تحقیقات سے باقاعدہ ایوان اقتدار میں زلزلے آرہے ہیں۔ان لینڈ ریونیو کے ایک بڑے افسرنے نیب کی ہدایت پر ایل ڈی اے پر ہاتھ ڈال رکھا ہے،اسکے بقول ’’پہلے وہ نہیں مانتے تھے کہ اورنج ٹرین پراجیکٹ کے فنڈز ہم ریلیز کرتے ہیں،لیکن انگوٹھارکھا ہے تو بتاتے جارہے ہیں‘‘گویااورنج ٹرین پر نیب کی جانب سے پیش رفت ہوچکی ہے اور ایل ڈی اے کے مجاز افسروں نے اس پر سکھ کی سانس بھی لی ہے کہ اورنج ٹرین پر نیب کے تحقیقاتی عمل سے انہیں تحفظ حاصل ہوگا کیونکہ اس لوٹ میلے میں کئی افسر بلاوجہ پھنس سکتے تھے ۔عدالت نے بھی اورنج ٹرین پر چین سے کئے معاہدے کی کاپی نہ دینے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے جس سے اس شبے کو تقویت مل رہی ہے کی اورنج ٹرین کی ہنڈیا میں کچھ غلط پک رہا ہے۔
پنجاب میں بدعنوانی کے حوالے سے وزیر اعلی پنجاب کے دست راست رانا مشہود کے خلاف تحقیقات کا دائرہ پھیلتا جارہا ہے۔جس پر خادم اعلی پنجاب کو بھی کافی ٹینشن ہے۔ایک جانب وہ راناثنا اللہ کو اپنی گڈول بہتر بنانے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں تو دوسری جانب رانا مشہود کو کلیئر کرانا ان کا ایجنڈا بن چکا ہے، لیکن کرپشن کی بات پر وہ تحقیقات کرانا بھی چاہتے ہیں حالانکہ بال انکے ہاتھ سے نکل چکی ہے اور تحقیقات کرنے والے براہ راست اوپر سے ہدایت حاصل کرکے ان پر عمل کررہے ہیں جس سے سیاسی حکومت کی اتھارٹی کو سبکی محسوس ہورہی ہے۔اس حوالے سے کئی طرح کی باتیں بھی سامنے آرہی ہیں ،ایک خیال یہ ہے کہ فوج رانا ثنااللہ اور انکے عزیز رانامشہود پر اعتبار نہیں کرتی ۔کیوں؟ نہ اس بات کی فوج نے کوئی وضاحت کی ہے نہ رانا برادران سرعام زبان کھولتے ہیں،لیکن راناثنااللہ کے فوج پر ریمارکس کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں،وہ فوج میں بھی تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں حالانکہ فوج میں کرپشن کی تحقیقات کا کڑا نظام موجود ہے ۔فوج میں کرپشن پر سوالات اٹھانے والوں کو یہ علم ہی نہیں کہ پاک فوج دنیا کا واحد ادارہ ہے جو اس حوالے سے کریڈیبلیٹی رکھتا ہے۔پاک فوج میں 99.9 فیصد شفافیت ہے ،صرف ایک فیصد کرپشن بھی چند مخصوص سیٹوں پر بیٹھے وہ افسران کرتے ہوں گے جن کے سیاسی جماعتوں سے تعلقات ہوں گے۔پاکستانی فوج کرپٹ ہوتی تو آج ملک کا بیڑہ غرق ہوچکا ہوتا۔پاک فوج کی پیشہ وارانہ مہارتوں کو بڑی طاقتیں بھی تسلیم کرتی ہیں اور پوری قوم کی توقعات کا محور بھی پاک فوج ہے۔جہاں تک فوج پر کڑی تنقید کرنے والوں کا تعلق ہے تو انکے مفادات کی کہانیاں انکے عزائم کی قلعی کھول دیتی ہیں۔
پنجاب میں رانا مشہود اور راناثنااللہ کوشفاف تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ خیال کیا جاتا ہے ۔کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں فوج کے پیج پر موجود نہیں ۔رانا مشہود کے بارے میں تو یہ مشہور رہا ہے کہ وہ امریکہ کے کافی ’’قریب‘‘ رہے ہیں،امریکہ سے قربت کا مطلب اگر واضح ہوجائے توان پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کی نوعیت کو سمجھا جاسکتا ہے۔کچھ سال پہلے راناثنااللہ پر تشدد ہوا تو انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں جی ایچ کیو کی کٹھ پتلیوں نے تشدد کا نشانہ بنایاہے۔یہ الزام ایک حساس ادارے پر لگایا کہ انہیں مال روڈ کے پاس واقع عمارت میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور بعدازاں انکی بھنویں،مونچھیں اور سر کے بال مونڈھ کر سڑک پر پھینک دیا گیا تھا۔رانا ثنا اللہ پر اس تشدد کی وجہ کم از کم مجھے تو معلوم نہیں ہے لیکن یہ بات تو ہر صاحب دانش جانتا ہے کہ ایجنسیاں بالاخر ہی کوئی قدم اٹھانے پر مجبور ہوتی ہیں،تاہم یہ دباؤ سیاسی بھی ہوسکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس واقعہ کے بعد رانا ثنااللہ کے دل میں بال آچکا ہے۔خیربلاوجہ تذلیل اور تشدد کی وجہ سے ایسا بال تو کسی بھی آزاد شہری کے دل میں آسکتا ہے۔راناثنا اللہ فوج کے چند کرپٹ افرادکی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں یا کسی بھی ایسے ادارے کے غیر آئینی متشددانہ اقدام کی مخالفت کرتے ہیں تو آزاد ملک کے شہری کی حیثیت سے وہ درست ہی کہتے ہیں۔فوج کے کسی ادارے کو تنبیہ کے طور پر ایسی سزا کا کوئی حق حاصل نہیں ہونا چاہئے البتہ ملک کا قانون حاضر ہے اور پاکستان کے قانون کے تحت کسی کو عبرت کا نشان بنانا کون سا مشکل ہے۔لیکن اس کا خیال رانا ثنااللہ سمیت ہر سیاستدان کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ وہ اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے قانون کو ہاتھ میں نہ لیں اور ان پر تو یہ الزامات ن لیگ کے اندر سے بھی لگائے جاچکے ہیں۔ماڈل ٹاؤن آپریشن کے بعد انکی گڈول کافی خراب ہوچکی ہے جسے بحال کرانے کی میڈیائی کوششیں کی جارہی ہیں،لہذا رانا صاحبان ہوں یا کوئی بھی ،پنجاب کو قومی ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں اور بدعنوانوں سے پاک کرنے کے لئے فوج کا مکمل ساتھ دینا خود ان سیاستدانوں کے حق میں بہتر ہوگا۔کیونکہ فوج نے جو بیڑہ اٹھایا ہے اسکو پار لگا کررہے گی ،عوام سے فوج کا رابطہ بہت موثر ہوچکا ہے ،عوام فوج کے پیج پرآچکی ہے اور وہ فوج کو دہشت گردوں (چوروں،ڈاکووؤں،لٹیروں) اوربدعنوانوں سے متعلق اطلاعات دینے کے لئے ہیلپ لائن فون ڈائل کرنے پر تیار بیٹھی ہے۔

فضائی دفاعی اور دوسرے تکنیکی مواد کا ترجمہ!
لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان
پاکستان کی قومی زبان اُردو قرار دی جا چکی ہے۔ اس پر عمل درآمد کی آخری تاریخ گزشتہ برس31دسمبر مقرر کی گئی تھی۔ لیکن یہ اتنا بڑا کام ہے کہ اس کے لئے تین ماہ نہیں، بلکہ تین سال یا تیس سال بھی لگ جائیں تو کچھ مضائقہ نہ ہو گا۔جہاں تک روزمرہ الفاظ و محاورات کا تعلق ہے یا شعر و ادب، مذہب اور سیاسی مضامین و موضوعات پر کچھ تحریر کرنے کا سوال ہے تو اُردو کے پاس اس کے لئے خاطر خواہ ذخیرہ موجود ہے۔وجہ یہ ہے کہ ان موضوعات کو ہم ایک طویل عرصے سے فارسی، عربی اور اُردو میں لکھتے پڑھتے آئے ہیں اور ان پر ہمارے ہاں کافی سرمایۂ تحریر موجود ہے۔ لیکن بعض ایسے مضامین و موضوعات ہیں کہ وہ جدید دور کی پیداوار ہیں، اس سے میری مراد گزشتہ تین سو سال ہیں۔ یہ وہ تین صدیاں ہیں جب ایشیائی ممالک اور خاص طور پر جنوبی ایشیا(برصغیر) کے ممالک یورپ کے علوم و فنون سے کٹے رہے۔ مبارک ہیں وہ اقوام اور وہ ممالک جن پر افرنگیوں نے قبضہ کیا اور وہاں اپنی زبان نافذ کی۔ جذبات کے حصار سے باہر نکل کر اگر بات کی جائے تو ان افرنگی اقوام نے اپنے اپنے مقبوضات میں ایک نئی دُنیا کی داغ بیل ڈلی اور اِسی دُنیا کو اپنانے کا درس بھی دیا۔ ان نئے موضوعات اور مضامین میں سب سے زیادہ مشکل جو موضوعات تھے وہ اقتصادیادت اور دفاع کے مضامین تھے۔ جدید اقتصادی فلاسفی اور افکار نے تو کبھی مشرق کا رخ ہی نہیں کیا تھا۔ تاہم جہاں تک دفاعی مضامین کا تعلق ہے تو افرنگیوں نے، اپنے ’’مذموم‘‘ مقاصد ہی کے لئے سہی، ہمیں ایک ایسے دفاعی نظامِ ایجادات سے روشناس کیا، جس کی کوئی گزشتہ یا دیرینہ روایت ہمارے ہاں موجود نہ تھی۔ ان موضوعات میں فضائی دفاع کا موضوع ایک الگ اور بالکل ہی انوکھا موضوع تھا۔ خود مغرب(امریکہ) نے پہلی بار ہوائی جہاز بنایا اور اڑایا تھا۔ یہ3دسمبر 1903ء کا واقعہ ہے جب رائٹ برادران نے کٹی ہاک میں اپنا تیار کردہ پہلا ہوائی جہاز چند سیکنڈوں تک ائر بورن کیا۔۔۔ لیکن اس کے بعد تو گویا لائن لگ گئی۔ فضاؤں میں اُڑنے کا خواب بنی نوع انسان کا ایک بہت قدیم خواب تھا جسے اہلِ مغرب کی بے قرار اور بے تاب ذہانت نے کچوکے لگائے رکھے اور پھر۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے ’’جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا!‘‘۔۔۔ انسان اپنی زمین سے نکل کر چاند کی زمین پر جا پہنچا اور دوسرے ستاروں پر کمندیں ڈالنے لگا۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور خدا جانے کہاں جا کر رکے۔
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
لیکن ہوائی جہاز کی ایجاد چونکہ کُلی طور پر ایک مغربی ایجاد تھی اس لئے اہلِ مشرق اس باب میں محض مقتدی اور پیرو کار ہی بن سکے۔ اس سے آگے نکلنا ان کے بس میں نہ تھا۔ اس باب میں جن جدید مشرقی ممالک مثلاً جاپان اور چین نے بھی جو پیش رفت کی وہ اہلِ مغرب ہی کی نقالی تھی۔ یہ برصغیر ہندو پاک کے باشندوں کی خوش قسمتی تھی کہ اس نادر دفاعی میدان میں ہمیں اپنے استعماری آقاؤں کی وہ بالواسطہ مدد حاصل ہوئی جو براہِ راست ان کی مجبوری تھی۔ دُنیا کی دونوں عالمی جنگوں نے ہوائی جہاز کی صنعت کو جس تیزی سے اوپر اُٹھایا اور پروان چڑھایا اس کی مثال تاریخِ عالم کے کسی بھی دور میں نہیں ملتی۔ چنانچہ اس مخصوص فیلڈ میں جو ترقی بھی ہوئی، جو اضافے ہوئے، جو کتر بیونت ہوئی، جو ترمیمات اور تنسیخات عمل میں لائی گئیں، جو اصطلاحیں وضع کی گئیں اور جو تدریجی یا ارتقائی پیش رفتیں ہوئیں وہ سب کی سب یورپی زبانوں میں تھیں۔ چونکہ فضائیہ کا آغاز امریکہ سے ہوا تھا، اس لئے امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا وغیرہ میں تو وہی اصطلاحاتِ فضائیہ استعمال کی گئیں اور پروان چڑھائیں گئیں جو انگریزی میں تھیں۔ لیکن ان ممالک کے ساتھ ساتھ فرانس، جرمنی، جاپان اور اٹلی نے بھی ان فضائی اصطلاحات کے تراجم اپنی اپنی زبانوں میں کئے اور ان کو استعمال کر کے اپنے ہاں فضائی فورسز اور دیگر فضائی تنصیبات کی تشکیل و تعمیر کی۔ لیکن برصغیر میں ہمیں چونکہ ان اصطلاحات و تراکیب کا علم انگریزی زبان کے توسط سے ہوا، اس لئے ابتدا ہی میں بھارت اور پاکستان کو امریکہ اور برطانیہ میں رائج الوقت اصطلاحات کو استعمال میں لانا پڑا۔۔۔۔ ایک اور ضرورت جس نے ان الفاظ و اصطلاحات کو انگریزی میں سیکھنے، سکھلانے اور استعمال کرنے پر مجبور کیا وہ ایک طرح کی بین الاقوامی مجبوری تھی۔
ساری دُنیا میں شہری ہوا بازی میں وہی اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں جو امریکی یا برطانوی یا آسٹریلوی یا ہم پاکستانی اور بھارتی استعمال کرتے ہیں۔ اور نہ صرف ہم بلکہ دُنیا بھر کے ممالک کے طیارے جب کسی بھی ہوائی اڈے پر اترتے ہیں یا وہاں سے اڑتے ہیں تو ان کی تمام گفتگو جو وہ کنٹرول ٹاور سے کرتے ہیں، وہ انگریزی میں ہوتی ہے۔۔۔۔ میری اس گفتگو کا لب لباب یہ ہے کہ ہوائی جہازوں کی دُنیا یا طیارہ سازی کی فیلڈ میں جو زبان استعمال ہوتی ہے، اس کا ہم اُردو ترجمہ نہیں کر سکتے۔ طیارے کے حصے پرزے،انجن کے حصے پرزے، طیارے کے اندر نصب چھوٹے بڑے آلات اور اس کے باہر جو جو کچھ کسی سول یا فوجی طیارے پر نصب ہوتا ہے وہ اُس بین الاقوامی زبان کا حصہ ہے، جسے انگریزی کہا جاتا ہے۔ پاکستان اِس اعتبار سے بھی خوش قسمت ہے کہ ہمارے تعلیمی اور تدریسی اداروں میں انگریزی زبان کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ لیکن یہاں پہنچ کر ایک سوال جو ہمارا راستہ روکتا ہے، وہ ذریعہ تعلیم ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا کسی ہوائی جہاز کی ساخت و پرداخت، اس کی اڑان، اس کے زمین پر اترنے اور پرواز کرنے وغیرہ کے مراحل اُردو زبان میں پڑھائے جا سکتے ہیں؟۔۔۔ میرا خیال ہے کہ ایسا بالکل ممکن ہے۔۔۔ ہمیں صرف یہ کرنا پڑے گا کہ اُن انگریزی تکنیکی اصطلاحات کو خواہ مخواہ اُردو کا جامہ پہنانے کی کوشش نہ کریں جو بین الاقوامی میدان میں راہ پا چکی اور مروج ہیں۔ طیارہ سازی کی کسی ورکشاپ یا طیارہ اُڑانے کی کسی درس گاہ میں ہم بے شک اُردو زبان استعمال کریں لیکن ایسا کرتے ہوئے اُنہی الفاظ و تراکیب اور اصطلاحات کو استعمال کریں جو انگریزی زبان میں ہیں اور سکہ ہائے رائج الوقت بن چکی ہیں۔
لیکن اس میں ایک ایسے مرحلے کو بھی داخلِ نصاب کرنے کی ضرورت ہے جس میں تکنیکی اصطلاحات، آلات اور حصوں پرزوں کی تشریح و توضیح کا ایک تفصیلی اور مربوط نظام وضع کیا جائے۔ مثلاً جب ہم، ہوا بازی کی مبادیات کا درس دے رہے ہوں تو انگریزی اصطلاحات کو اُردو میں ترجمہ کرنے یا ڈھالنے کی ہرگز ہرگز کوشش نہ کریں کہ اس سے زبردست خلط بحث کا اندیشہ ہوگا۔ فضائی قوت اور اس کے متعلقات چونکہ سارے کے سارے اجنبی الفاظ و تراکیب سے بھرپور ہیں، اس لئے ان کو اپنی زبان (اُردو) میں سمجھایئے ضرور لیکن ٹیک آف اور لینڈنگ کو ویسے کا ویسا رہنے دیجئے اس کو ’’پرواز کرنے‘‘ یا ’’اڑنے‘‘ کا چولا نہ اوڑھایئے۔
میرے خیال میں سب سے پہلا کام جو دفاعی اداروں کو کرنا چاہئے وہ کسی بھی ہتھیار، آلے، ساز و سامان اور اس کے جملہ متعلقات کی اُردو زبان میں باتصویر تشریح اور وضاحت ہے۔ اہلِ مغرب نے یہ کام بہت پہلے کر رکھا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹیکنیکل کلاسوں میں طلبا کے پڑھانے کے لئے جو نصابی کتب تیار کیں وہ خوبصورت اور دیدہ زیب تصاویر، نقشوں، جداول اور خاکوں کا مرقع تھیں۔ ان میں آسان ترین ’’انگریزی‘‘ زبان میں وضاحت کی گئی تھی کہ فلاں آلے کے فلاں پرزے کا مقصد کیا ہے اور اس کا فنکشن کیا ہے۔ ہم بھی ان کی تقلید کر سکتے ہیں اور آسان ترین ’’اُردو‘‘ میں بتا سکتے ہیں کہ ہوائی جہاز کے حصوں اور پرزوں اور متعلقات کے نام کیا ہیں اور ان کا کام(فنکشن) کیا ہے۔ کسی بھی مشین کی تدریس کرنے کے لئے یہ ابتدائی لغات یا ڈکشنری شرط اول ہے۔ اس سے قارئین یہ مراد نہ لے لیں کہ میں اُردو کو کم مایہ زبان سمجھتا ہوں۔۔۔ ہرگز نہیں۔۔۔ ہماری اپنی کم مائیگی البتہ یہ ہے کہ ہم خواہ مخواہ ہر انگریزی اصطلاح کو خواہ وہ کتنی ہی ٹیکنیکل کیوں نہ ہوں، اُردو کا جامہ پہنانے پر مصر رہتے ہیں۔
اُردو زبان کے فروغ کی راہ میں ایسا کرنا ایک بڑی رکاوٹ کھڑی کرنے کے مترادف ہو گا۔ آپ یہ تو بتا سکتے ہیں کہ ایرو پلین اور ایئر کرافٹ میں کیا فرق ہے لیکن اگر اس پر اصرار کریں کہ اولذکر کو ہوائی جہاز اور آخر الذکر کو طیارہ کہا جائے تو یہ مناسب نہیں ہو گا۔ کیوں نہ ہم ایروپلین اور ایئر کرافٹ سے ہی کام چلائیں؟ اس میں کیا ہرج ہے؟ سب سے پہلے حروفِ تہجی کے اعتبار سے کسی بھی ہوائی جہاز کے بڑے بڑے حصوں اور بعد ازاں چھوٹے چھوٹے اجزاء اور کیل کانٹوں کی ایک فہرست بنا لیجئے۔ پھر ہر جزو اور ہر کیل کی تشریح کر دیجئے جو اگر باتصویر ہو تو تفہیمِ مطالب میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔ لیکن یہ کام وقت لے گا۔ حکومت کو چاہئے کہ سب سے پہلے ایسے ریٹائرڈ اہلکاروں (افسروں اور عہدیداروں) کو ڈھونڈیں جو کسی ائر اکیڈیمی میں بطور انسٹرکٹر تعینات رہے ہوں۔ ان کی تدریسی اور نصابی کتب اور پمفلٹوں کا بغور جائزہ لیں۔ ایک بورڈ تشکیل دیں جو فیصلہ کرے کہ کس کتاب کا پہلے ترجمہ کرنا ہے اور کس کا بعد میں لیکن جیسا کہ مَیں نے پہلے گزارش کی کہ اس نصاب کو تدریس کرنے سے پہلے اس میں بیان کئے گئے حصوں، آلات اور اصطلاحات کو آسان اردو میں لکھ کر شائع کریں۔ اس لغاتِ اصطلاحات کو آپ عام مارکیٹ میں بھی بھیج سکتے ہیں اور فلائنگ سکولوں اور کلبوں میں بھی۔ امریکہ اور یورپی ممالک میں ہزاروں فلائنگ کلب ہیں جو ہمارے بہت سے قارئین نے دیکھے ہوں گے۔ ان کا سلیبس منگوا لیں اور اس کا ہو بہو اُردو میں ترجمہ کر دیں۔
کسی موضوع پر موجود انگریزی کتب اور لٹریچر کا اُردو میں ترجمہ کرتے ہوئے اس بات کا بھی خاص خیال رکھا جائے کہ مترجم کا اپنا مبلغ علم اور تجربہ اس مخصوص فیلڈ میں کیا ہے۔ قانونی اصطلاحات کا ترجمہ کرتے ہوئے اگر کسی وکیل کی بجائے کسی ادیب کو یہ کام سونپ دیا جائے گا تو اس کا حال وہی ہو گا جو کسی فارسی شاعر نے کہا ہے:
گر ہمیں مکتب و ہمیں ملاّ
کارِ طفلاں تمام خواہد شد

آقاﷺکامحبوب ترین مہینہ شعبان المعظم
فضیلت وعبادت ماہ شعبان المعظم

Hafiz Kareem Logo

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل 0333.6828540
شعبان المعظم قمری سال کاآٹھواں مہینہ ہے۔یہ سارامہینہ برکتوں اورسعادتوں کامجموعہ ہے۔ اس مہینہ کی پندرہویںرات کوشب براء ت کہا جاتاہے ۔ماہ شعبان آقاﷺکامحبوب ترین مہینہ ہے آپﷺاس ماہ مبارک میں اکثر روزے رکھاکرتے تھے اورفرمایا کرتے تھے کہ اپنی استطاعت کے مطابق عمل کروکہ اللہ پاک اس وقت تک اپنافضل نہیں روکتاجب تک تم اکتانہ جائوبے شک اس کے نزدیک پسندیدہ نفل نمازوہ ہے جس پرہمیشگی اختیارکی جائے اگرچہ کم ہوتوپس جب آپﷺکوئی نفل نمازپڑھتے تواس پرہمیشگی اختیارفرماتے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ روایت فرماتی ہیں کہ حضورنبی کریمﷺپورے شعبان کے روزے رکھاکرتے تھے آپؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیایارسول اللہﷺکیاسب مہینوں میں آپﷺکے نزدیک زیادہ پسندیدہ شعبان کے روزے رکھناہے تونبی کریم رئوف رحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ رب العزت اس سال مرنے والی ہرجان کولکھ دیتاہے اورمجھے یہ پسندہے کہ میراوقت رخصت آئے اورمیں روزہ دارہوں (مسندابویعلیٰ) حضرت سیدنااسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں میں نے عرض کی یارسول اللہﷺمیں آپﷺکوشعبان کے روزے رکھتے ہوئے دیکھتاہوں کہ آپﷺ کسی بھی مہینے میں اسطرح روزے نہیں رکھتے فرمایارجب اوررمضان کے بیچ میں یہ مہینہ ہے لوگ اس سے غافل ہیں اس میں لوگوں کے اعمال اللہ رب العزت کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اورمجھے یہ محبوب ہے کہ میراعمل اس حال میں اٹھایا جائے کہ میں روزہ دارہوں ۔(سنن نسائی)
لفظ شعبان میں پانچ حروف ہیں ۔ش،ع،ب،ا،ن ۔ش سے مرادشرف یعنی بزرگی ، ع سے مرادعُلُوّیعنی بلندی،ب سے مرادبریعنی بھلائی واحسان ،اسے اُلْفت اورنسے مرادنورہے۔یہ تمام چیزیں اللہ پاک اپنے بندوں کواس ماہ مبارک میں عطافرماتاہے ۔اس ماہ مبارک میں نیکیوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں برکات کانزول ہوتاہے خطائیںمعاف کردی جاتی ہیں گناہوں کاکفارہ اداکیا جاتاہے آقائے دوجہاں ﷺپر درودکی کثرت کی جاتی ہے اوریہ نبی مختارﷺپردرودبھیجنے کامہینہ ہے ۔
سیدناحضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ماہ شعبان المعظم کاچاندنظرآتے ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان تلاوت قرآن پاک میں مشغول ہوجاتے اپنے اموال کی زکوٰۃ نکالتے تاکہ کمزورومسکین لوگ ماہ رمضان المبارک کے روزوں کی تیاری کرسکیں حکام قیدیوں کوطلب کرکے جس پرحدقائم کرناہوتی اس پرحدقائم کرتے اوربقیہ کوآزادکردیتے تاجراپنے قرضے اداکردیتے دوسروں سے اپنے قرضے وصول کرلیتے اوررمضان المبارک کاچاندنظرآتے ہی غسل کرکے (بعض حضرات سارے ماہ کے لئے )اعتکاف میں بیٹھ جاتے ۔(غنیہ الطالبین )
آقائے دوجہاں سرورکون ومکاں ﷺکاارشادپاک ہے ۔شَعْبَانُ شَھْرِیْ وَرَمَضَانُ شَھْرُاللّٰہ ترجمہ! شعبان میرامہینہ ہے اور رمضان اللہ تعالیٰ کامہینہ ہے۔ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺکوتمام مہینوں سے زیادہ پیارامہینہ شعبان کامہینہ تھا۔(نزہۃ المجالس)اس ماہ مبارک کی پندرہویں رات کتنی نازک رات ہے نہ جانے قسمت میں کیالکھ دیاجاتاہے انسان بعض اوقات غفلت میں پڑارہ جاتا ہے اوراسکے بارے میں کچھ کاکچھ ہوچکاہوتاہے۔شب براء ت جہنم کی آگ سے نجات پانے کی رات ہے مگرآج کل ہم مسلمانوں کوکیاہوگیا ہے آگ سے چھٹکاراحاصل کرنے کے بجائے پیسے خرچ کرکے خوداپنے لئے آگ یعنی آتشبازی کاسامان خریدتے ہیں حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیؒ فرماتے ہیں کہ آتشبازی نمرودبادشاہ نے ایجادکی جب اس نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑکو آگ میںڈالااورآگ گلزارہوگئی تو اس کے آدمیوں نے آگ کے اناربھرکران میں آگ لگاکرحضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی طرف پھینکے ۔
یہ بڑی عظمت والی رات ہے اس رات اللہ پاک گناہ گاروں کودوزخ کی آگ سے نجات دیتاہے ہم اس رات آگ سے بچنے کی بجائے گھروں میں شیطانی کام (پٹاخے،شرکنیاں،ٹائر وغیرہ جلانا) کرتے ہیں حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیؒ فرماتے ہیں آتشبازی بنانا،بیچنا،خریدنااور خریدوانا ، چَلانااورچلواناسب حرام ہے ۔ لہذاہم خود بھی ان کاموں سے بچیں،دوسروںکوبھی بچائیںاوراللہ پاک کی رحمت کے حقداربن جائیں۔ شعبان کامہینہ برکتوں اورسعادتوں کامجموعہ ہے مگراسکی پندرہویں رات بڑی برکت والی ہے۔قرآن مجیدفرقان حمید میں اس رات کو”لیلۃِِِمُبارکۃ” کہا گیا ہے ارشادباری تعالیٰ ہے۔ترجمہحمٓ اس کتاب روشن کی قسم،ہم نے اس کومبارک رات میںاتاراہم توڈرسنانے والے ہیںبانٹ دیاجاتا ہے اس رات میں ہرحکمت والاکام ہمارے پاس کے حکم سے بیشک ہم بھیجنے والے ہیں تمہارے رب کی طرف سے رحمت بیشک وہ سنتاہے جانتاہے۔
مفسرین کرام نے”لیلۃِِ مبارکۃ”سے مرادشعبان المعظم کی پندرہویں رات لی ہے۔ماہ شعبان کی پندرہویں رات کو”شب براء ت ‘‘کہاجاتاہے شب کے معنی رات اوربراء ت کے معنی چھٹکارے کے ہیں اس رات میں اللہ رب العزت قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعدادسے زیادہ گناہ گاروں کی بخشش فرماتاہے۔قبیلہ بنی کلب کے بارے میں آتاہے کہ عرب قبائل میں سے سب سے زیادہ بکریاں پالنے والاقبیلہ قبیلہ بنی قلب تھا۔ام المومنین حضرت عائشہ الصدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایااللہ پاک شعبان کی پندرہویں شب میں تجلی فرماتاہے استغفاریعنی توبہ کرنے والوں کوبخش دیتاہے اورطالب رحمت پررحم فرماتاہے عدوات والوں کوجس حال پرہیں اسی پرچھوڑدیتاہے (شعب الایمان)حضرت سیدنامعاذبن جبل ؓ سے روایت ہے کہ سلطان مدینہ راحت قلب وسینہ جناب احمدمجتبیٰ محمدمصطفیﷺکاارشادپاک ہے شعبان کی پندرہویں شب میں اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کی طرف تجلی فرماتاہے اورسب کوبخش دیتاہے مگرکافراور عدوات والے کو(نہیں بخشتا)۔ (صحیح ابن حبان)
حضر ت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایامیرے پاس جبرائیل ؑ آئے اورکہایہ شعبان کی پندرہویں رات ہے اسمیں اللہ تعالیٰ جہنم سے اتنوں کوآزادفرماتاہے جتنے بنی کلب کی بکریوں کے بال ہیں مگرکافر،عداوت والے،رشتہ کاٹنے والے،(تکبرکے ساتھ ٹخنوں سے نیچے)کپڑالٹکانے والے،والدین کی نافرمانی کرنے والے اورشراب کے عادی کی طرف نظررحمت نہیں فرماتا۔ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ پاک شعبان کی پندرہویں شب میں تمام زمین والوں کوبخش دیتاہے سوائے کافراورعداوت والے کے ۔
امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ شیرخداؓ شعبان المعظم کی پندرہویں رات اکثرباہرتشریف لاتے ایک باراسی طرح شب براء ت میں باہرتشریف لائے اورآسمان کی طرف نظراٹھاکرفرمایاایک مرتبہ اللہ کے نبی حضرت سیدناابودائودؑنے شعبان کی پندرہویں رات آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اورفرمایایہ وہ وقت ہے کہ اس وقت میں جس شخص نے اللہ پاک سے جودعامانگی اسکی دعااللہ پاک نے قبول فرمائی اورجس نے مغفرت طلب کی اللہ پاک نے اس کی مغفرت فرمادی بشرطیکہ دعاکرنے والاعُشّار(ظلماََ ٹیکس لینے والا)جادوگر،کاہن ،نجومی ،ظالم،حاکم کے سامنے چغلی کھانے والاگَویّااورباجابجانے والانہ ہوپھریہ دعاکی ۔اَللّٰھُمَّ ربَّ دَاو‘دَ اغْفِرْلِمَنْ دَعَاکَ فِیْ ھٰذِہٖ اللَّیْلَۃِ اَوِاسْتَغْفَرَکَ فِیْھَایعنی اے اللہ عزوجل!اے دائودعلیہ السلام کے رب جوکوئی اس رات میں تجھ سے دعاکرے یا مغفرت طلب کرے تواس کوبخش دے۔(ماثبت بالسنۃ )
ام المومنین حضرت عائشۃ الصدیقہ ؓ فرماتی ہیں۔کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایااللہ تعالیٰ چارراتوں کوخیروبرکت کے دروازے صبح تک کھول دیتاہے۔ 1۔ شب عیدالفطر2۔شبِ عیدالاضحی 3۔پندرہ شعبان کی رات(اس رات کومخلوق کی درازی عمر ،رزق میں برکت اورحاجیوں کے نام لکھے جاتے ہیں)4۔شب یوم عرفہ(نوذوالحجہ کی رات)اذان (فجر)تک ،فرشتوں کی آسمان میں دوعیدکی راتیں ہوتی ہیں جسطرح مسلمانوں کے لئے زمین پردوعیدیں ہوتی ہیں فرشتوں کی عیدیں شب براء ت اورلیلۃ القدرہیں مومنوں کی عیدیں عیدالفطر اورعیدالاضحی ہیں فرشتوں کی عیدیں رات کواسلئے ہوتی ہیں کہ وہ سوتے نہیں اورمومنوں کی عیدیں دن کواسلئے ہوتی ہیں کہ وہ سوتے ہیں۔
حضرت علی المرتضیٰ شیرِخداؓروایت کرتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا”جب شعبان المعظم کی پندرہویں رات ہوتواس رات کوقیام کرواوردن کو روزہ رکھو کیونکہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی تجلی آفتاب کے غروب ہونے کے وقت ہی سے آسمانِ دنیاپرظاہرہوتی ہے۔اوراللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ کیا کوئی بخشش مانگنے والاہے کہ میں اُسے بخش دوں،کیاکوئی رزق مانگنے والا ہے کہ میں اُسکوعطاکروں،کیاکوئی مصیبت زدہ ہے کہ میں اسے چھوڑوں، کیاکوئی فُلاں فُلاں حاجت والاہے کہ میں اسکی حاجت پوری کروں،حتیٰ کہ صبح ہوجاتی ہے”۔ابن ماجہ
حضرت علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں کہ میں نے شعبان المعظم کی پندرہویں رات کوحضورﷺکودیکھاکہ آپﷺ نے چودہ رکعت نمازاداکی پھرآپﷺنے بیٹھ کرسورۃ الفاتحہ، سورۃ الاخلاص ،سورۃ الفلق اورسورۃ الناس چودہ مرتبہ پڑھیں۔پھرآیت الکرسی ایک بارپڑھ کر لَقَدْجَآئَ کُمْ رَسُوْل’‘مِنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْز’‘عَلَیْْہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیْص’‘ عَلَیْکُمْ بِالْمُئْومِنِیْنَ رَئُ وْف’‘ رَّحِیْم’‘۔فَاِنْ تَوَلَّوْفَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہ َ اِلَّاھُوَعَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ:پوری آیت کریمہ پڑھی پھراس سے فارغ ہوکرحضورﷺنے فرمایا”اے علی جو ایساعمل کریگاجیساکہ میں نے کیاتواس کو20مقبول حج اور20سال کے روزوں کاثواب ملیگا۔
جوشخص اس رات کوچاررکعت نمازنفل عبادت کی نیت سے پڑھے ۔اوردن کوروزہ رکھے تواللہ تعالیٰ اسکے 50سال کے گناہ معاف فرمادیتاہے۔
جو شخص اس رات کوآٹھ رکعت نمازنفل اس طرح اداکرے کہ ہررکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعدگیارہ ،گیارہ مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھے اورنمازپڑھ کراس نمازکاثواب سیدہ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراؓکی روح کوبخشے تواُسکے متعلق سیدہ کائنات فاطمۃ الزہراؓ فرماتی ہیں کہ میں جنت میں اسوقت تک قدم نہیں رکھوں گی جب تک اسکی شفاعت نہ کروالوں۔
آقائے دوجہاں ﷺ نے ارشادفرمایاکہ جس نے بارہ رکعت نمازنفل اسطرح پڑھے کہ ہررکعت میںسورۃ الفاتحہ کے بعددس مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھے تواسکے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اوراسکی عمرمیں برکت ہوگی۔
حضورﷺ نے ارشادفرمایاجوشخص پندرہ شعبان کوروزہ رکھتاہے اُسے دوسال ایک گذشتہ اورایک سال آئندہ کے روزوں کاثواب ملتاہے۔ ایک اورروایت میں ہے کہ پندرہ شعبان کوجن،پرندے،درندے اورسمندرکی مچھلیاں بھی روزہ رکھتی ہیں۔
{ صلوٰ ۃ التسبیح }
ان نوافل کی تعلیم حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے چچاحضرت عباس ؓکودی۔اوریہ فرمایاکہ اس نمازکوپڑھنے والوں کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں آقاﷺنے فرمایا اس کوروزانہ پڑھوورنہ جمعہ کے دن پڑھواگریہ نہ ہوسکے تومہینہ میں ایک بارپڑھویہ بھی نہ ہوسکے توسال میں ایک بارپڑھواگریہ بھی نہ ہوسکے توعمرمیں ایک بارپڑھو۔
چارکعت نفل کی نیت باندھیں اورثناء کے بعدپندرہ دفعہ یہ تسبیح (سبحان اللّٰہ والحمدللّٰہ ولاالٰہ الااللّٰہ واللّٰہ اکبر)پڑھیں پھرسورۃ الفاتحہ (الحمدشریف)اورسورۃ پڑھ کررکوع میں جانے سے پہلے ہاتھ باندھے دس دفعہ یہی تسبیح پڑھیں پھررکوع میں جائیں اور سبحان ربی العظیم کہنے کے بعددس باریہی تسبیح پڑھیں پھررکوع سے اٹھیں اورربنالک الحمدکے بعدکھڑے کھڑے دس بارپھر سجدے میں جائیں اورسبحان ربی الاعلیٰ کے بعددس باریہی تسبیح پڑھیں پھرسجدے سے اٹھ کربیٹھیں اورجلسہ میں اللہ اکبرکے بعددس باراس کے بعددوسراسجدہ کریں اورسبحان ربی الاعلیٰ کے بعددس باراب دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوں اورپندرہ باریہی تسبیح پڑھ کر باقی سب کچھ پہلی رکعت کی طرح اس میں بھی پڑھیں اورجب دوسری رکعت میں دوسرے سجدے کے بعدالتحیات کے لیے بیٹھیں توتشھداوردرودشریف پڑھنے کے بعدتیسری رکعت کے لئے اٹھیں اورپہلی رکعت میں ثناء کے بعدپندرہ باراسی طرح چاروں رکعتیں پوری کریں،واضح رہے ہررکعت میں 75باریہی تسبیح پڑھنی ہے اورچاروں رکعتوں میں 300مرتبہ ہوگی۔
شب براء ت کے حوالے سے پیام امام اہلسنت
15شعبان المعظم کی رات مسلمانان عالم کے لئے خاص اہمیت وتقدس کی حامل ہے ۔امام اہلسنت الشاہ امام احمدرضاخان فاضل بریلوی ؒاپنے خلیفہ ملک العلماء مولاناظفرالدین بہاری ؒکے نام ایک خط میں اس مبارک شب کے بارے میں کچھ معمولات کاذکرفرمایاتھا۔
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
ازبریلی 11شعبان المعظم 1334ھ السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
شب براء ت قریب ہے اس رات تمام بندوں کے اعمال حضرت عزت عزوجل میں پیش ہوتے ہیں مولاعزوجل بطفیل حضورپرنورشافع یوم النشورعلیہ افضل الصلوٰۃ والسلام مسلمانوں کے ذنوب معاف فرماتاہے مگرچندان میں وہ دومسلمان جوباہم دنیوی وجہ سے رنجش رکھتے ہیں فرماتاہے ان کورہنے دوجب تک آپس میں صلح نہ کرلیں ایک دوسرے کے حقوق اداکردیں یامعاف کرالیں کہ باذنہٖ تعالیٰ حقوق العبادسے صحائف اعمال خالی ہوکربارگاہ رب العزت میں پیش ہوں حقوق مولیٰ تعالیٰ کے لئے توبہ صادقہ کافی ہے ۔التائب من الذنب کمن لاذنب لہ‘ (یعنی گناہ سے توبہ کرنیوالاایساہے جیسے اس نے گناہ کیاہی نہیں )ایسی حالت میں باذنہٖ تعالیٰ ضروراس شب میں امیدمغفرت تامہ ہے بشرط صحت عقیدہ وھوالغفورالرحیم یہ سنت مصالحت اخوان(یعنی بھائیوں میں صلح کروانا)ومعافی حقوق بحمدہٖ تعالیٰ یہاں سالہائے درازسے جاری ہے امیدہے کہ آپ بھی وہاں کے مسلمانوں میں اجراء کرکے مَنْ سُنَّ فِیْ الْاِسْلامِ سُنَّۃََ حَسَنَۃََ فَلَہ‘ اَجْرُھَاوَاَجْرُمَنْ عَمِلَ بِھَااِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَایَنْقُصُ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیئ(یعنی جواسلام میں اچھی راہ نکالے اس کے لئے اس کاثواب ہے اورقیامت تک جواس پرعمل کریں ان سب کاثواب ہمیشہ اس کے نامہ اعمال میں لکھاجائے گابغیراس کے کہ ان کے ثوابوں میں کچھ کمی آئے )کے مصداق اوراس فقیرکے لیے عفووعافیت دارین کی دعافرمائیں فقیرآپ کے لئے دعاکرتاہے اورکرے گا۔(ان شاء اللہ عزوجل)سب مسلمانوں کوسمجھادیاجائے کہ وہاں نہ خالی زبان دیکھی جاتی ہے نہ نفاق پسندہے صلح معافی سب سچے دل سے ہو۔ والسلام فقیراحمدرضاقادری ازبریلی
اللہ پاک عمل کرنے کی توفیق عطافرمائیں بروزقیامت نبی کریمﷺکی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیک یامحمد

فوری نئے انتخابات میاں نواز شریف کی آپشن لسٹ میں نہیں
مزمل سہر وردی
ویسے تو کہا جا تا ہے کہ پی پی پی میاں نواز شریف کے اقتدار کی انشورنس کارڈ ہے۔ جب تک یہ انشورنس قائم ہے اقتدار کو حادثہ نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی کہا جا تا ہے کہ جب تک پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان چارٹر آف ڈیمو کریسی قائم ہے تب تک جمہوریت کو خطرہ نہیں ہو گا۔ یہ بھی کہا جا تا ہے کہ آصف زرداری اب بھی میاں نواز شریف کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہی۔ اسی لئے جناب اعتزاز احسن کے سخت موقف کے باوجود یہ تاثر قائم ہے کہ پی پی پی میاں نوز شریف کے خلاف سیاسی پوائنٹ سکورنگ تو کرے گی لیکن آخری حد تک نہیں جا ئے گی۔ تا ہم بلاول کی تقریر نے ایک تاثر قائم کیا ہے کہ پی پی پی نے اس ضمن میں اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے۔ شیخ رشید بھی یہی دعویٰ کر رہے ہیں ۔ لیکن تجزیہ نگاروں کی رائے میں پی پی پی ابھی بھی جمہوریت کے تحفظ کی ذمہ داری نبھائی گی۔ لیکن وہ سیاسی طور پر میاں نواز شریف کو کمزور کرنے کا موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتی۔ اسی لئے موقف سخت بھی رہے گا لیکن حدود کا خیال بھی رکھا جائے گا۔بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا ہے کہ تخت لاہور لرز رہا ہے اس لئے میاں نواز شریف نے انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔ میاں نواز شریف نے جو جلسے شروع کئے ہیں۔ وہ دراصل ان کی جانب سے انتخابات کی تیاری ہے۔پاکستان کے سیاسی ڈرائنگ رومز میں یہ بحث زوروں پر ہے کہ میاں نواز شریف کے پاس کون کون سے آپشنز موجود ہیں۔ اور کس موقع پر کونسا آپشن استعمال کر کے اپوزیشن کے وار کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ابھی تو انہوں نے اپوزیشن کے جلسوں کا جواب جلسوں سے ہی دینے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ کب اسمبلیاں تحلیل کر کے نئے انتخابات کا آپشن استعمال کر سکتے ہیں۔ کب میاں نواز شریف یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ عوام کی عدالت میں جا رہے ہیں اور عوام ہی بہترین احتساب کر سکتے ہیں۔ لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے میں میاں نواز شریف کے پاس آپشنز اور حکمت عملی کا جو پلان ہے اس میں نئے انتخابات کا کوئی آپشن نہین ہے۔ میاں نواز شریف ہر صورت میں اپنی مدت پوری کرنا چاہتے ہیں۔ اور کم از کم اگلے سال کے آخر تک اس نظام کو چلانا چاہتے ہیں۔ اس کی میاں نواز شریف کے پا س دو وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ میاں نواز شریف کو اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ چند قوتوں کی جانب سے مائنس نواز شریف کا جو فارمولہ چل رہا ہے۔ اسے انتخابات کے موقع پر آسانی سے عملی جامہ پہنا یا جا سکتا ہے۔ اگر میاں نواز شریف اسمبلیاں تحلیل کر کے عام انتخابات کا اعلان کرتے ہیں تو انہیں سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جا سکتے ہیں ۔ اس لئے جب تک میاں نواز شریف اپنے خلاف پا نا مہ لیکس کی تحقیقات کو کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچا دیتے وہ کسی بھی صورت انتخابات کی طرف نہیں جا ئیں گے۔ اس سب سے بڑھ کر میاں نواز شریف کے اکیلے انتخابات کے لئے راضی ہونے سے کچھ نہیں ہو گا۔ اگر پی پی پی سندھ اسمبلی تحلیل نہیں کر ے گی تو سندھ اسمبلی اور سندھ حکومت قائم رہے گی۔ اسی طرح پی ٹی آئی کی کے پی کے کی حکومت بھی قائم رہے گی۔ اور اس بات کے بھی قوی امکانات موجود ہیں کے بلوچستان اسمبلی بھی نہ ٹوٹے۔ مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی کے ساتھ صرف پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے کی پوزیشن میں ہے ۔ اور صرف پنجاب میں انتخابات میاں نواز شریف کے کسی بھی طرح سیاسی مفاد میں نہیں یہ سیاسی خود کشی تو ہو سکتی ہے۔ سیاسی آپشن نہیں ۔ویسے بھی پی پی پی خود بھی حالات کو انتخابات کی طرف لیکر جانا پسند نہیں کرے گی۔بلاول نے ابھی تو اپنا سیاسی سفر شروع کیا ہے۔ انہیں کم ازکم دو سال کا وقت چاہئے۔ پی پی پی کی ابھی تو بحالی کا سفر شروع بھی نہیں ہوا۔ پی پی پی ایسے موقع پر نئے انتخابات کا راستہ کھول کر اپنے لئے ہار کا ایک اور تمغہ کیوں سجائے گی۔ کراچی کے مخصوص حالات کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ اپنے نئے ساتھیوں کوکیوں مشکل میں ڈالے گی۔ وہ بیچارے تو ابھی ضمنی انتخاب لڑنے کی بھی پوزیشن میں نہیں۔ پورا انتخاب کیسے لڑ سکتے ہیں۔ دوسری طرف ایم کیو ایم بھی اس موقع پر انتخابات میں جانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ پتہ نہیں اگلی دفعہ کس کے کاغذ منظور ہوں اور کس کے نا منظور؟ یہ درست ہے کہ صرف پاکستان تحریک انصاف واحد جماعت ہو گی جو فوری انتخاب کے حق میں ہو گی۔ لیکن شائد اس معاملہ میں وہ تنہا ہے اور تنہا رہے گی۔ اے این پی مولانا ٖفضل الرحمٰن سمیت دیگر چھوٹی پارلیمانی جماعتیں بھی فوری انتخاب کے حق میں نہیں نظر آتی ہیں۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ جانے کا کڑوا گھونٹ اسی لئے قبول کیا ہے کہ وہ ابھی سسٹم کو چلانا چاہتے ہیں۔ انہیں وقت چاہئے۔ اسی وقت کو ھاصل کرنے کے لئے انہوں نے سپریم کورٹ کی اپوزیشن کی شرط مان لی۔ ورنہ وہ کوئی اتنے مجبور نہیں تھے کہ خط سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو لکھ دیتے۔ اب بال سپریم کورٹ کے کورٹ میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ کیا کرے گا اور کتنے عرصہ میں کرے گا۔ اگر چھ ماہ سے زیادہ وقت لگا تا ہے۔ تو میاں نواز شریف کو سنبھلنے کا موقع مل جائے گا۔ اگر دنوں میں ہو گا تب بھی شائد میاں نواز شریف نظام کو چلائیں گے۔ وہ اس بار ماضی کی کوئی غلطی دہرانے کے موڈ میں نہیں۔فوری طور پر اگلے انتخابات کا اعلان میاں نواز شریف کی آپشن کی لسٹ میں نہیں ہے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتے۔ ان کے اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات آجکل اچھے نہیں ہیں۔ اسی لئے تو سول ملٹری تعلقات کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اس پر خواجہ سعد رفیق بہتر جواب دے سکتے ہیں۔ مطلب سادہ ہے کہ تعلقات اتنے اچھے نہیں کہ وہ کوئی جواب دے سکیں۔ اور یہ اعلان کرنے کا بھی ابھی وقت نہیں کہ تعلقات برے ہو گئے ہیں۔

قرب الٰہی کی انتہامعراج مصطفیﷺ

Hafiz Kareem Logo
تم ذات خداسے نہ جداہونہ خداہو     اللہ ہی کومعلوم ہے کیاجانیے کیاہو
رجب المرجب اسلامی سال کا ساتواںمہینہ ہے یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس کی ۲۷شب کو آقائے دوجہاںسرور کائنات فخرموجودات ﷺ کو معراج ہوئی اسی وجہ سے یہ رات شب معراج کے نام سے مشہورہوگئی یہ مہینہ بڑی فضیلت والاہے اس مقدس مہینہ کے بارے میں حدیث مبارکہ میں آیاہے۔ رَجَبُ شَھْرُاللّٰہ ِوَشَعْبَانُ شَھْرِیْ وَرَمَضَانُ شَھْرُاُمَّتِیْرجب اللہ کامہینہ ہے اورشعبان میرامہینہ ہے اوررمضان میری امت کامہینہ ہے۔شب معراج انتہائی افضل اورمبارک رات ہے کیونکہ اس رات کی نسبت رسول اللہ ﷺ کے معراج سے ہے شب معراج سے مرادیہ ہے کہ رات کے کچھ حصے میں حضور ﷺمسجدحرام یعنی خانہ کعبہ سے مسجداقصیٰ تک تشریف لے گئے۔راستے میں مختلف عجائبات الٰہیہ کامشاہدہ کیا، وہاںانبیائے کرام علہیم السّلام کے اجتماع کونماز پڑھائی۔پھروہاںسے آسمانوںکی سیرکرتے ہوئے سدرۃ المنتہیٰ تک گئے وہاںسے ذات باری تک تشریف لے گئے وہاںپراللہ تعالیٰ کادیدارہوااور لاتعداد عنایتوںسے سرفرازہوکرواپس تشریف لائے۔اس واقعہ کاثبوت ہمیں قرآن پاک سے ملتاہے ۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ سُبْحٰنَ الََّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِالْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِالْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَاحَوْلَہ‘ لِنُرِیَہ‘ مِنْ اٰیٰتِنٰا طپاکی ہے اسے جواپنے بندے(محمد ﷺ) کوراتوں رات لے گیامسجدحرام سے مسجداقصٰی تک جسکے اردگردہم نے (دینی ودنیوی)برکت دے رکھی ہے کہ اسے ہم (ملکوت سماوات وارض کی)اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں۔(بنی اسرائیل پارہ ۱۵آیت نمبر۱)
اللہ رب العزت نے سفرمعراج کولفظ سُبْحٰنکیساتھ بیان کیاکہ پاک ہے وہ ذات جواپنے محبوب ﷺاورمقرب بندے کوسفرِمعراج پرلے گئی عربی زبان اور محاورہ عرب میں جب کوئی بات سُبْحٰن سے شروع کی جائے تواس سے مرادایک طرح کی قسم لیتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے بھی حضور ﷺکے معجزہ معراج کاذکراپنی بزرگی،برتری اورشان صمدیت کی قسم کھاکرکیا۔سوال پیداہوتاہے کہ اللہ کوسُبْحٰن الذیسے سفرمعراج کوبیان کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟اللہ پاک کے کلام میں کسی مسلمان کوشک وشبہ ہونہیں سکتااورکفارومنکرین پراللہ کی قسم کھانے یانہ کھانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کی پہلی حکمت ووجہ یہ تھی کہ واقعہ معراج ایک عظیم اورنادرالوجودمعجزہ ہے اللہ پاک نے اس واقعہ کواپنی بزرگی کے اظہارکے ساتھ شروع کرکے معترضین کے اس اعتراض کوردکیاکہ واقعہ معراج حالت ِ خواب میں رونماہوانہ کہ حالتِ بیداری میں اگرمعراج حالت خواب میں ہوتاتورب کریم کبھی اس کاذکرقسم کھاکرنہ کرتاقسم کھاکرواقعہ معراج کوبیان کرنے کاواحدمقصدیہ ہے کہ معراج نبی کریم ﷺکوحالتِ خواب میں نہیں بلکہ عالم بیداری میں ہوئی تھی اگراس واقعہ کاتعلق خواب سے ہوتاتوعالم بالاعرش الٰہی ،جنت ودوزخ،فرشتوں ،جبرائیلؑ اورآسمان کی زیارتیں انبیاء کرامؑ اوراولیاء کرامؒ کواکثرعالم خواب میں ہوتی رہتی ہیں اس صورت میں معراج اتناعجیب اورعظیم واقعہ نہ ہوتاکہ جس کوقسم کھاکربیان کرنے کی ضرورت ہوپس سُبْحٰن الَّذِیْسے اس سفرمعراج کے بیان کاشروع ہونااس بات پردلالت کرتاہے کہ معراج عالم خواب کاواقعہ نہیں بلکہ عالم بیداری کاواقعہ ہے اس کی دوسری حکمت لفظ سُبْحٰنسے شروع کرنے کی یہ ہے کہ جب آقا ﷺنے اپنے سفرمعراج کوبیان کیاتوکفارنے اس کوتسلیم کرنے سے انکارکردیااورکہنے لگے یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص راتوں رات مسجدحرام سے مسجداقصیٰ تک اورپھروہاں سے آسمان اورفوق السموٰت جاسکے یہ ساراایک رات میں ممکن نہیں اللہ پاک نے فرمایااے اعتراض کرنے والو!میرے نبی نے تویہ کہاہی نہیں کہ میں گیابلکہ یہ تومیں کہہ رہاہوں سُبْحٰن الَّذِیْ اَسْرٰیمیں لے گیاآقا ﷺنے تودعویٰ کیاہی نہیں دعویٰ تواللہ پاک کررہاہے کہ میں لے گیاپس معراج کاعالم بیداری میں ہونے کاانکارکرنے والے اصل میں دعوٰی مصطفی ﷺکونہیں بلکہ دعوٰی خداکوجھٹلارہے ہیں پس جومصطفی ﷺکی بیداری میں معراج کاانکارکررہاہے وہ انکارمصطفی ﷺنہیں بلکہ انکارخداکررہاہے ۔ یہ اللہ پاک کی اپنے نبی کریم ﷺسے محبت ہے کہ اس نے نبی کریم ﷺکودشمنوں کے طعنے سے بچانے کے لیے ایک طرف کردیااورخوداپنی ذات کوآگے کردیاکہ میں لے گیااگرکسی نے اعتراض کرناہے تومیری طاقت اورقدرت کاانکارکرے پس عالم بیداری میں معراج کاانکارکرناعظمت مصطفی ﷺکاانکارنہیں بلکہ قدرت الٰہیہ کاانکارہے اس لئے اللہ نے اسے لفظ سُبْحٰنسے شروع کیا ۔معراج کاسفرتین مرحلوں میں ہے مسجدحرام سے مسجداقصیٰ تک عالم ناسوت کاسفراس کوــ”وہ” کہہ کربیان کیاآسمانوں اورسدرۃ المنتہیٰ تک عالم لاہوت اورجبروت کے سفرکو”ہم”کہہ کربیان کیااورسدرۃ المنتہیٰ کے بعدکاسفرجب براق بھی رہ گیارفرف آیاوہ بھی رہ گیااورپھربقعہ نورآیابالآخروہ بھی رہ گیااورپھروہ مقام آیاکہ جب کچھ بھی نہ تھاصرف وہ اللہ پاک تھااوریہ محمد ﷺتھاصرف خداتھااور مصطفی ﷺتھااور کچھ نہ تھاوہاں تجریدوتفریق کی طرف آگئے وہاں کوئی اورسننے والانہ تھاوہ بولتاتھایہ سنتاتھاوہاں کوئی اوردیکھنے والابھی نہ تھاوہ دیکھتاتھاتویہ دکھائی دیتاتھااوریہ دیکھتاتھاتووہ دکھائی دیتاتھاجلوہ خداتھااورنگاہ مصطفی ﷺتھی اوراسی طرح جلوہ مصطفی ﷺتھااورنگاہ خداتھی اس سفرکو”انہ ھوالسمیع البصیر”کے ذریعے بیان کیا کہ اورصرف وہی سننے والااوردیکھنے والاہے ایک اشارہ اپنی طرف کردیااورایک اشارہ اپنے محبوب ﷺکی طرف کردیا۔ارشادباری تعالیٰ ہے۔ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی۔ فَاَوْحٰیٓ اِلٰی عَبْدِہٖ مَآاَوْحٰی۔مَاکَذَبَ الْفُوئَ ادُمَارَاٰی۔اَفَتُمٰرُوْنَہ‘ عَلٰی مَایَرٰی وَلَقَدْرَاٰہُ نَزْلَۃَََََََََاُخْرٰیپھروہ جلوہ حق (اپنے حبیب) کے قریب ہواپھرخوب اترآیا(زیادہ قریب ہوا)تواس جلوے اوراس محبوب میں دوہاتھ بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیااب اللہ نے اپنے بندے کوبلاواسطہ وحی فرمائی جوبھی وحی فرمائی دل نے نہ جھٹلایاجو(آنکھ نے) دیکھاتو(اے مشرکو)کیاتم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پرجھگڑتے ہواورانہوں نے تووہ جلوہ حق دوباردیکھا۔(پارہ۲۷ سورۃ النجم8,13 )مَازَاغَ الْبَصَرُوَمَاطَغٰی لَقَدْرَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّہٖ الْکُبْرٰی۔(جلوہ حق سے) آنکھ نہ کسی طرف پھری نہ حدسے بڑھی بے شک آپ نے اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔(پارہ۲۷ سورۃ النجم17,20 )۔حضرت انس بن مالک،حضرت مالک بن صعصہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے صحابہ کرام سے اس رات کی کیفیت بیان فرمائی جس میں آپ ﷺ کو معراج ہوئی آقا ﷺ نے ارشادفرمایاکہ میں حطیم کعبہ میںلیٹاہوا تھاکہ یکایک میرے پاس ایک آنے والا آیااور اس نے میرا (سینہ) یہاںسے لیکریہاں تک چاک کرڈالا(راوی کہتاہے یعنی حلقوم سے لیکرزیرناف تک)پھراس نے میرادل نکالابعدازاںمیرے پاس ایک سونے کاطشت لایاگیاجوایمان سے بھرا ہواتھااور میرادل دھویاگیا۔پھروہ ایمان وحکمت سے لبریزہوگیااس قلب کوسینہ اقدس میںاسی جگہ پررکھ دیاگیا اسکے بعدمیرے پاس ایک جانورسوار ہونے کے لئے لایا گیاجوخچرسے چھوٹااورگدھے سے بڑاتھاسفیدرنگ کاتھاراوی کہتاہے کہ براق تھا اوروہ اپناقدم منتہائے نظرتک رکھتاتھامیںاس پرسوار ہواپھر جبرائیل ؑ ﷺ لے چلے یہاںتک آسمان دنیاپرپہنچے ۔اورانہوںنے اسکادروازہ کھٹکھٹایا۔پوچھاگیاکون ہے؟انہوںنے کہاجبرائیل ؑ پوچھاگیاتمہارے ہمراہ کون ہے؟انہوںنے کہا محمد ﷺپوچھاگیاوہ بلائے گئے ہیں ؟کہاہاں جواب ملا،انہیں خوش آمدیدہو ان کاآنابہت اچھاہے۔پھروہ دروازہ کھول دیاگیا جب میں وہاںپہنچاتوحضرت آدم ؑ ملے۔ اورجبرائیل ؑنے بتایاکہ یہ آپ کے باپ حضرت آدم ؑ ہیں آپ انہیں سلام کیجیے میںنے سلام کیاتوانہوںنے سلام کاجواب دیااور کہاخوش آمدیدہوصالح فرزند اورصالح نبی کوپھرجبرائیل ؑ میرے ہمراہ اوپرچڑھے یہاں تک کہ دوسرے آسمان پرپہنچے اورانہوںنے اسکادروازہ کھٹکھٹایا پوچھا گیاکون ہے؟انہوںنے کہاجبرائیل ؑ پوچھاگیا تمہارے ہمراہ کون ہے؟انہوںنے کہا محمد ﷺ؟ پوچھاگیاکیاوہ بلائے گئے ہیں؟انہوںنے کہاہاں۔ اس (دوسرے آسمان)کے دربان نے کہاخوش آمدیدہو انکاآنابہت اچھااورمبارک ہے اوردروازہ کھول دیاجب میںوہاںپہنچاتوحضرت یحییٰ اورحضرت عیسیٰ ؑ ملے اور وہ دونوں خالہ زادبھائی تھے جبرائیل ؑ نے کہایہ حضرت یحییٰ اورعیسی علیہم السلا م ہیںانکو سلام کیجیے۔میںنے انہیں سلام کیاان دونوںنے سلام کاجواب دیااورکہاخوش آمدیدہوصالح بھائی اور صالح نبی کوپھر جبرائیل ؑمجھے تیسرے آسمان پرلے گئے اوراسکادروازہ کھلوایاتوپوچھاگیاکون؟ انہوںنے کہاجبرائیل ؑ!دریافت کیاگیاتمہارے ساتھ کون ہے؟انہوںنے بتایاکہ محمد ﷺ! پھردریافت کیاگیاوہ بلائے گئے ہیں جبرائیل ؑ نے کہاہاں!اسکے جواب میں کہاگیاانہیں خوش آمدیدہوان کاآنابہت ہی اچھااورنہایت مبارک ہے اوردروازہ کھول دیاگیا۔ پھرجب میں وہاں پہنچاتوحضرت یوسف ؑ ملے جبرائیل ؑ نے کہایہ حضرت یوسف ؑ ہیں انہیںسلام کیجیے میںنے انہیں سلام کیا انہوںنے سلام کاجواب دیاپھرانہوںنے کہاخوش آمدیدہوصالح بھائی اورصالح نبی کواسکے بعدجبرائیل ؑ چوتھے آسمان پرمجھے لے گئے اوراسکا دروازہ کھلوایاپوچھاگیاکون انہوںنے کہاجبرائیل ؑ !پوچھاگیاکون ہے تمہارے ہمراہ کون ہے؟ انہوںنے کہامحمد ﷺ!پوچھاگیاکیاوہ بلائے گئے ہیں؟ جبرائیل ؑ نے کہاہاں؟اس کے جواب میں کہاگیاانہیں خوش آمدیدہوانکاآنابہت ہی اچھااورمبارک ہے! اوردروازہ کھول دیاجب میں وہاں پہنچاتو حضرت ادریس ؑ ملے جبرائیل ؑ نے کہایہ حضرت ادریس ؑ ہیں انکوسلام کیجیے میں نے انکوسلام کیاتوانہوںنے سلام کاجواب دے کرکہاخوش آمدیدہو صالح بھائی اورصالح نبی کو!پھرجبرائیل ؑ مجھے پانچویںآسمان پرلے چڑھے اوردروازہ کھٹکھٹایاپوچھاگیاکون ہے؟انہوں نے کہاجبرائیل ؑ پوچھاگیا تمہارے ہمراہ کون ہے؟انہوںنے کہامحمد ﷺ۔پوچھاگیاوہ بلائے گئے ہیں انہوںنے کہاہاں!اس نے کہاخوش آمدیدہوانکاآنابہت ہی اچھااور مبارک ہے (پس دروازہ کھلنے پر)جب میں وہاںپہنچاتوحضرت ہارون ؑ ملے جبرائیل ؑ نے کہایہ حضرت ہارون ؑ ہیں انہیںسلام کیجیے میں نے انکوسلام کیاتو انہوںنے سلام کاجواب دے کرکہا خو ش آمدیدہو صالح بھائی اورصالح نبی کوپھرجبرائیل ؑ مجھے چھٹے آسمان تک لے پہنچے اوراسکادروازہ کھلوایا!تو پوچھاگیاکون ہے؟انہوںنے کہاجبرائیل ؑ پوچھاگیا تمہارے ہمراہ کون ہے؟انہوںنے کہامحمد ﷺپوچھاگیاکیاوہ بلائے گئے ہیں؟انہوںنے کہا ہاںاس فرشتے نے کہاخوش آمدیدانکاآنانہایت ہی اچھااورمبارک ہے جب میں وہاں پہنچاتوحضرت موسیٰؑ ملے جبرائیل ؑ نے کہایہ حضرت موسیٰؑ ہیںان کوسلام کیجیے میں نے انکوسلام کیااورانہوںنے بھی سلام کاجواب دیااورکہاخوش آمدیدصالح بھائی اورصالح نبی کوجب میں آگے بڑھاتووہ رونے لگے پوچھاگیاآپؑ کوکیاچیزرلارہی ہے؟انہوںنے کہامیں اس لئے روتاہوں کہ میرے بعدایک فرزندنبی بنائے گئے جسکی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ جنت میں داخل ہونگے۔پھرجبرائیل ؑ مجھے ساتویںآسمان پرلے گئے اوراسکادروازہ کھٹکھٹایا توپوچھا گیا کون ہے انہوںنے کہاجبرائیل ؑ پوچھاگیاتمہارے ہمراہ کون ہے انہوںنے کہامحمد ﷺ۔وہ بلائے گئے ہیں انہوںنے کہاہاںاس فرشتے نے کہاخوش آمدیدانکا آنابہت ہی اچھااورمبارک ہے پھرمیں جب وہاں پہنچاتوحضرت ابراہیم ؑ ملے جبرائیل ؑ نے کہایہ آپ کے والدحضرت ابراہیم ؑہیں انکوسلام کیجیے پس میں نے انکوسلام کیاانہوں نے سلام کاجواب دیااورکہاخوش آمدیدصالح فرزنداورصالح نبی پھرمیں سدرۃ المنتہیٰ تک اٹھایاگیاتواس( درخت) سدرۃ کے پھل مقام ہجر کے مٹکوں کیطرح تھے اور اسکے پتے ہاتھی کے کانوں جیسے تھے جبرائیل ؑ نے کہایہ سدرۃ المنتہیٰ ہے اوروہاں چارنہریں تھیںدوپوشیدہ دوظاہر میں نے پوچھااے جبرائیل ؑ یہ نہرکیسی ہیں؟ انہوں نے کہاان میں جوپوشیدہ ہیں وہ توجنت کی نہریں ہیں اورجوظاہرہیں وہ نیل وفرات ہیںپھربیت المعمور میرے سامنے ظاہرکیا گیااسکے بعدمجھے ایک برتن شراب کا ایک دودھ کااورایک برتن شہدکادیاگیامیں نے دودھ کوقبول کیاجبرائیل ؑ نے کہایہ فطرت (دینِ اسلام ) ہے جس پر آپ ﷺاور آپکی امت اس پرقائم رہیںگے اسکے بعد مجھ پرہرروزپچاس نمازیں فرض کی گئیںجب میں واپس ہواتو حضرت موسیٰ ؑپرگزرہواآپؑ نے کہاآپکی امت پچاس نمازیںروزانہ نہ پڑھ سکے گی۔خداکی قسم!میں آپ سے پہلے لوگوںکاتجربہ کرچکاہوںاور بنی اسرائیل کے ساتھ میں نے سخت برتائوکیاہے لہذاآپ اپنے رب کے پاس لوٹ جائیے اوراپنی امت کے لئے تخفیف کی درخواست کیجیے چنانچہ میںپھر اپنے رب کے پاس لوٹااوراللہ تعالیٰ نے مجھے دس نمازیں معاف فرمادیں پھرمیںحضرت موسیٰ ؑکے پاس آیاانہوں نے پھراسی طرح کہامیں پھر اپنے رب کے پاس واپس گیااوراللہ تعالی نے مجھے پھردس نمازیں معا ف کردیں۔ پھرحضرت موسیٰ ؑکے پاس آیاانہوں نے پھراسی طرح کہامیں پھرخداکے پاس واپس گیاتومجھے ہرروزپانچ نمازوں کاحکم دیاگیاپھرمیں حضرت موسیٰؑ کے پاس لوٹ کے آیاتوانہوں نے پوچھاکہ آپکوکیاحکم ملامیں نے کہاروزانہ پانچ نمازوں کاحکم ملاہے۔انہوں نے کہاآپکی امت پانچ نمازیں بھی نہیں پڑھ سکے گی میں نے آپ سے پہلے لوگوں کاتجربہ کیاہے ا وربنی اسرائیل سے سخت برتائوکرچکاہوںلہذاپھرآپ اپنے رب کی بارگاہ ٔمیں جائیے اوراپنی امت کے لئے تخفیف کی درخواست کیجیے۔حضور ﷺ نے فرمایاکہ میں نے اپنے رب تعالیٰ سے اتنے سوال کرلئے کہ اب شرم کرتاہوں لہذااب میں راضی ہوںاوراپنے رب کے حکم کوتسلیم کرتاہوںحضور ﷺ نے فرمایامیں آگے بڑھا توایک پکارنے والے نے آوازدی کہ میں نے اپناحکم جاری کردیااوراپنے بندوں سے تخفیف فرمادی۔ (بخاری،مسلم شریف)
آج لوگ مقام مصطفی ﷺکے بارے میں جھگڑاکرتے ہیں کوئی انہیں مقام بشریت تک محدودرکھتاہے کوئی انہیں صرف نورکہتاہے۔ مصطفی ﷺکے مقام کوفقط بشریت تک محدودکرنے والوسنو!کہ بشریت تومسجداقصیٰ تک رہ گئی ۔آقا ﷺآگے چلے گئے اس سے معلوم ہواکہ بشریت،مصطفی ﷺکی شانوں میں سے ایک شان ہے مقام نہیں ہے اگرآقا ﷺکامقام صرف بشریت ہوتاتومسجداقصیٰ سے آگے نہ جاسکتے بشریت مصطفی ﷺکامقام نہیں بلکہ بشریت کامقام آقا ﷺکے قدموں میں ہے ۔مقام مصطفی ﷺکوفقط نورانیت میں بندرکھنے والو!دیکھوجبرائیل اوربراق جونورہیں وہ سدرۃ المنتہیٰ پررہ گئے اورآقا ﷺآگے چلے گئے اگرآقا ﷺکامقام فقط نورانیت ہوتاتوسدرۃ المنتہیٰ سے آگے نہ جاسکتے ۔پس بشریت بھی مصطفی ﷺکی ایک شان اورنورانیت بھی مصطفی ﷺکی ایک شان ہے ۔بشریت مسجداقصیٰ میں رہ گئی اورنورانیت سدرۃ المنتہیٰ پررہ گئی مصطفی ﷺآگے چلے گئے معلوم ہوا یہ شانیں تھیں مقام اس سے اوپرہے ۔بشریت بھی حق ہے اس کاانکارکرناکفرہے اورحق اتنی ہے کہ مسجد اقصیٰ میں رہ گئی نورانیت بھی حق ہے اوربشریت سے بہت آگے ہے اس کاانکارکرناگمراہی اور بدبختی ہے اورحق اتنی ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ پرکھڑی ہے مقام مصطفی ﷺبشریت سے بھی بلندہے اور نورانیت سے بھی بلندہے بشربھی آقا ﷺسے فیض لیتاہے نوربھی مصطفی ﷺسے فیض لیتاہے آگے رفرف آیامگرایک مقام پرجب اللہ تعالیٰ کی تجلیات بے حد ہوگئیں تورفرف بھی رہ گیاپھربقعہ نورآیاایک مقام پربقعہ نوربھی رہ گیااورپھرایک مقام ایساآیاکہ اورکوئی وہاں نہ جاسکابس ادھرخداتھاادھر مصطفی ﷺ تھے اللہ نے فرمایاثُمَّ دَنَافَتَدَلّٰیمرادجبرائیلؑ کاقریب ہونانہیں بلکہ صحیح بخاری میں ہے ۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ دنی الجباررب العزت فتدلیٰ “اللہ پاک قریب ہوا”جن لوگوں کے ذہنوں میں یہ غلط خیال ہے نکال دوکہ جبرائیل ؑقریب ہوئے جبرائیلؑ تووہ ہیں جوآقا ﷺکے نواسوں کے جھولے جھولاتے ہیںاسکی ایک اورتفسیرامام جعفرصادق نے کی فرمایاثم دنی ای دنی محمدفتدلیٰ “کہ محمد ﷺاللہ کے قریب ہوئے دونوں تفاسیرحق ہیں وہ محمد ﷺ کے قریب ہوااوریہ خداکے قریب ہوئے ۔پھرایک مقام آیاکہ آوازآئی اے حبیب آپ رک جائیں حرم کعبہ سے یہاں تک آپ آئے ہیں اب آپ رک جائیں اب آگے بڑھ کرمیں آتاہوں ۔امام عبدالوہاب شعرانی نے الیواقیت الجواہرمیں اوردیگرعرفاء واولیاء نے بیان کیاہے کہ اللہ پاک نے آوازدی قف یامحمدان ربک یصلی اے محمد ﷺرک جائیں آپ کارب آپ پرصلوٰۃ پڑھ رہاہے۔معراج کی رات اللہ رب العزت نے اپنے حبیب ﷺکااستقبال درودسلام سے کیاصلیٰ کاایک معنی قریب ہوتاہے معنی ہوگااے حبیب رک جائیے اب آپ کارب خودآپ کے قریب آتاہے اس استقبال کے بعدقربتیں شروع ہوگئیں ۔پس اللہ پاک کے اخلاق کے رنگ مصطفی ﷺکے خلق پرچڑھ گئے اس مقام پراسماء مصطفی ﷺافعال مصطفی ﷺاورصفات مصطفی ﷺپراللہ کے اسماء ،افعال اورصفات کارنگ چڑھ چکاتھاجب سارے رنگ چڑھ گئے توفرمایااب حبیب صرف تیری ذات رہ گئی ۔ ارشادفرمایااوادنیٰ خدانے اس مقام پراپنی ذات کارنگ بھی مصطفی ﷺکی ذات پرچڑھا دیااللہ کے اسماء کے رنگ ،اسماء مصطفی ﷺپر چڑھنا یہ اسماء مصطفی ﷺکی معراج تھی اللہ کے افعال کارنگ افعال مصطفی ﷺپرچڑھنایہ افعال مصطفی ﷺکی معراج تھی ۔اللہ پاک کی صفات کارنگ ،صفات مصطفی ﷺپرچڑھنایہ صفات مصطفی ﷺکی معراج تھی اوربالآخرذات خداکارنگ ذات مصطفی ﷺپرچڑھناذات مصطفی ﷺکا معراج تھا۔دل بھی دیکھتارہا آنکھیں بھی دیکھتی رہیں اورآنکھوں نے ایسادیکھاکہ نہ حدسے گزریں اورنہ جھپکیں اسی اثناء میں کتنارنگ چڑھ گیاہوگااس بارے میں صرف اتناہی کہاجاسکتاہے ۔
تم ذات خداسے نہ جداہونہ خداہو اللہ ہی کومعلوم ہے کیاجانیے کیاہو
بعض کتب تفاسیرمیں روایات کے ذریعے اس امرکی تصریح کی گئی ہے کہ واپسی پربھی حضور ﷺکی خدمت اقدس میں براق پیش کیاگیااسکے ذریعے آپ ﷺواپس مکہ تشریف لائے جیسے جاتے ہوئے ہرآسمان پرایک برگزیدہ نبی اورملائکہ کے ساتھ ملاقات کامفصل ذکرآتاہے ایسے ہی واپسی پرتفصیلی ملاقاتوں کاذکرموجودنہیں لہذاواپسی کی تفصیلات اورجزئیات اللہ اوراس کے رسول ﷺکوہی معلوم ہیں ۔غرضیکہ آقائے نامدار ﷺبراق پرمکہ معظمہ واپس تشریف لے آئے اورصحن حرم میں لیٹ گئے پھرتہجدکے وقت اٹھے حدیث پاک میں آتاہے ۔(ملاء اعلیٰ اورملکوتی مشاہدہ سے واردشدہ استغراق کی کیفیت سے )واپس پلٹاتومسجدحرام میں تھا۔
اللہ پاک ہم سب کو آقا ﷺکی سچی محبت اورپکی غلامی نصیب فرمائے تاکہ بروزقیامت ہم محبوب ﷺکی شفاعت اوراللہ پاک کی جنت کے حقداربن جائیں ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیک یامحمد