اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نوازشریف نے واضح کیا کہ کسی کو بھی پاک سر زمین کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دیں گے، پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے اور قوم کا بچہ بچہ دفاع وطن کے لئے تیار ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کشمیر کو تقیسم ہند کا نامکمل ایجنڈا قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، مسلح افواج کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں ، پوری قوم بھی اپنے محافظوں کے شانہ بشانہ ہے، پاکستان کا بچہ بچہ دفاع وطن کےلئے تیار ہے 

تنویر خا لد :تحریر

[arabic-font]     پو لیو ویکسین کے دو قطرے …..ہر بچہ ہر با ر[/arabic-font]

[arabic-font] ’’بلا ل ‘‘میر اتیرہ سا لہ بھتیجا ہے اور اپا ہج ہو نے کے سا تھ سا تھ قوت سما عت اور گو ئی سے بھی محروم ہے ۔وہ پچپن میں پو لیو کا شکارہواتھا اور آج تک اپنے پا ؤں پر کھڑا نہیں ہو سکا ۔معذوری کا یہ عذاب صرف اکیلا ’’بلا ل ‘‘ نہیں بھُگت رہا بلکہ اس عذاب سے سب سے زیا دہ متاثر وہ ہستی ہے جو اُس کی ما ںہے اور ممتااپنے اس جِگر گوشے کودوسروں کے رحم و کر م پر کہاں چھوڑ سکتی ہے ؟وہ صبح شام اس کی ’’چا کر ی ‘‘ میں لگی رہتی ہے ۔اس کے بو ل و بَراز کی صفائی سے لے کر اس کے کھا نے پینے ، نہا نے دھو نے ، جا گنے سو نے سمیت تما م ضروریا ت کی تکمیل اس کا معمو ل ہے ۔گھر کا کو ئی اورفردجو ’’بلا ل ‘‘ کو سنبھا لتا ہے وہ میر ی والدہ محترمہ ( بلا ل کی دادی ) ہیں جو اپنے معذور پو تے کی ناز بر داریاں اٹھا تی ہیں ۔میں جب کبھی چھٹی پر گھر جاتا ہوں تو بلال کو چارپا ئی کی حدود میں مقید دیکھ کر عجیب طرح کے کر ب کا شکا ر ہو جاتاہوں ۔وہ مجھے دیکھ کر اپنی چارپا ئی پر اٹھ بیٹھتا ہے ۔اپنی ٹا نگوں اور با زؤں کو لہرالہرا کر غوں غاں کر تا ہے جیسے کچھ کہنا چا ہتا ہو ۔ہنستا ہے ،روتا ہے مگر رہتا اُسی چارپا ئی پر ہے یہ پا نچ سا ڑھے پا نچ فٹ کی چارپا ئی اُ س کی کل کا ئنات ہے۔ وہ اس چارپا ئی پر بیٹھا اپنے بہن بھا ئیوں کو بستے گلے میں لٹکا ئے سکول آتے جا تے ، گھر میں کھاتے پیتے ، اٹھتے بیٹھتے اور کھیلتے کُو دتے دیکھتا ہے تو اس کے چہرے پر پھیلی حسرت ویاش اور اس کی پیشانی پر ابھرتی تیو ریوں کا اند ہ شمار مشکل ہو جا تاہے اور میں کا نپ کر رہ جا تا ہوں ۔اس لمحے میں اللہ تبا رک وتعالیٰ کا شکر ادا کر تا ہے ہوں کہ جس نے مجھے پو لیو کے عفریت سے محفوظ رکھا اور میر ی ٹا نگوں ، میر ے پا ؤں ، میر ے با زؤوں و ہا تھوںکو میری مر ضی کا تا بع بنا یا ہے مجھے سما ع و نُطق کی بے بہا دولت سے سرفراز کیا ہے ۔اس لمحے میر ے ذہن میں یہ سو چ پیدا ہوتی ہے کہ وطن عزیز میں نجا نے کتنے ’’بلا ل ‘‘اس پو لیو کا شکار ہو کر اپا ہج /معذوری کا کر ب جھیلتے حسرت و یا س کی تصویر بنے اپنے ارد گرد پھیلے انسا نوں کو دو ٹا نگوں پر چلتے دیکھ کر آہیں بھرتے ہو ں گے ۔جب حکو متی سطح پر ہر دوسرے ما ہ سہہ روزہ پو لیو مہم کا شیڈول مجھے دفتر میں مو صول ہو تا ہے تو خبربنا تے ہو ئے میر اجی چا ہتا ہے کہ شہر کی گلیوں میں دیوا نہ وار نکلوں اور ہر گھر پر دستک دے کر چیخ چیخ کر انہیں اپنے گلشن کے ان پھو لوں /نو نہا لوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے معذوری سے محفوظ رکھنے کے سلسلہ میں پو لیو سے بچا ؤ کے حفاظتی قطرے پلو انے کا پیغا م دوں ۔
پو لیو کی تا ریخ اتنی ہی پر انی ہے جتنی پرا نی بنی نو ع انسا ن کی تا ریخ ہے اورانسا ن ہر دو ر میں اس موذی اور مہلک مر ض کی تشخیص اور سدبا ب کیلئے کو شا ں رہا ہے ۔پو لیو ایک ایسا خا مو ش وائر س ہے جو معصوم بچوں کو زندگی بھر کیلئے مفلو ج بنا دیتا ہے ۔عام طور پر اس موذی مر ض کا شکا ر پا نچ سا ل سے کم عمر کے ایسے بچے ہو تے ہیں جو آلو دہ پا نی پیتے ہیں یہ وائرس انسا نی فضلے کے ذریعے ایک انسا ن سے دوسرے انسا ن میں منتقل ہو تا ہے ۔پو لیو کا وائرس نظام تنفس پر حملہ آور ہو تا ہے اور فالج ، پٹھوں کی کمزوری ، اعضا ء کی سا خت بگاڑنے اور کچھ صورتوں میں موت کا سبب بھی بنتا ہے ۔انیسویں صدی میں اس وائرس نے ایک وبا ء کی شکل اختیار کر لی تھی ۔علما ئے صحت پر جب پو لیو وائرس کی اس شیطا نی خصلت کے اس قدر خطر نا ک ہو نے کا ادراک ہو اتو انہوں نے اس کے تدارک کی ٹھا نی 1840ء میں اس مرض کا با عث بننے والے وائرس کی دریا فت ہو ئی ۔1840ء سے 1990ء تک اس کی ویکسین کی دریا فت تک لا کھوں افراد اس کی زد میں آکر معذوری کی صورت میں عمر بھر کا روگ پا ل بیٹھے تھے ۔با لآخر بر سہا بر س کی تحقیق و جستجو کے بعدا س کا تر یا ق ڈھو نڈنے میں کا میا ب ہو گئے ۔امر یکی ریسرچ سا ئنسٹسٹ ڈاکٹر’’ جو نا س سا لگ ‘‘دنیا کاوہ پہلا سا ئنسدان تھا جس نے پو لیو کے علا ج کیلئے 1952میں ایک مو ئثر ویکسین تیا ر کی ۔یہ دریا فت اس وقت ہو ئی جب پو لیو وبا ئی شکل اختیار کر چکا تھا ۔اور اس مر ض نے لوگوں کو دہشت زدہ کر رکھا تھا ۔اس دریا فت کے فوراً بعدامر یکہ میں بڑے پیما نے پر ویکسی نیشن شروع کر دی گئی اور اس کے خا طر خواہ نتا ئج بر آمد ہو ئے جس کا اندازہ اس امر سے لگا یا جا سکتا ہے کہ 1952ء میں امریکہ میں پو لیو کے 35ہزار کیس تھے جو 1957ء میں کم ہو کر پا نچ ہزار تین سو رہ گئے 1961ء میں البرٹ سبین نے زیا دہ آسا نی سے دی جا نیوالی ویکسین ’’او پی وی ‘‘ بنا ئی یہ قطروں کی شکل میں تھی اور اسے پلایا جا سکتا تھا مگر ویکسین کی دریا فت کے با وجو د پو لیو بدستور خطرہ بنا رہا ۔یو رپی ممالک میں 1962ء کے بعد1982ء میں بڑے پیما نے پر او پی وی ویکسین کا استعما ل کر ایا گیا ۔ بر طا نیہ میں مقامی طور پر پو لیو کا کو ئی کیس سا منے نہ آیا 1988ء تک امر یکہ ، بر طا نیہ ، آسٹریلیااور یو رپ کے زیا دہ تر حصوں میں پو لیو کا خا تمہ ہو چکا تھا اور2002ء میں عالمی ادارہ صحت نے یو رپی خطے کو پو لیو سے مکمل طور پر پا ک قرار دے دیا ۔1988میں پو لیو سے دنیا کے دیگر 125مما لک میں 35لا کھ ایک ہزار سے زائد بچے معذور ہو ئے تو اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں یو نیسف اور ورلڈ ہیلتھ آرگنا ئز یشن (WHO) نے دنیا کو پو لیو سے پا ک کر نے کی ٹھا نی اور دنیا کے ان تما م 125ممالک میں انسداد ی مہم شروع کی ۔ورلڈ ہیلتھ آرگنا ئز یشن کیمطابق پو لیو کا شماردنیا کی ان چند خطر نا ک بیما ریوں میںہوتا ہے جن کے ایک مر یض کی مو جو دگی تما م اقوام عالم کے لئے خطر ہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اب تک دنیا میں پو لیو کے خا تمہ کی مہم پر 1.5 ارب ڈالر خر چ کر چکی ہے ۔
پاکستان میں اس وائرس کے خا تمے کیلئے1988میں انسدادی مہم کا آغاز ہوا جبکہ پو لیو سے بچا ؤ کا قومی دن منا نے کا آغاز 1994سے ہوا ۔1988میں پا کستان میں28ہزار پو لیوکیسز رپورٹ ہو ئے تھے پو لیو مہم شروع ہو نے کے چند سا لو ںمیں حکومت پا کستان صوبا ئی حکومتوں اور رضا کا روں کی محنت سے پو لیو کے کیسز میں کمی آنا شروع ہو ئی۔ پاکستان میں اب تک پو لیو کے 270راؤنڈ ہو چکے ہیں لیکن 22سا ل گزرنے کے با وجود پاکستان پو لیو فری ملک نہ بن سکا جبکہ ہما را ہمسایہ ملک بھا رت گزشتہ تین سال سے پو لیو فری ملک قرار دیا جا چکا ہے ۔اس وقت دنیا میں صرف تین مما لک افغانستان ، نا ئجیریا اور پا کستان پو لیو کے خلا ف جنگ جا ری رکھے ہو ئے ہیں سا ل2016میں اب تک افغانستان میں پو لیو کے آٹھ ، نا ئجیریا میں تین اور پا کستان میں 13کیس رپورٹ ہو چکے ہیں ۔پا کستان میں پو لیو کے مکمل خا تمہ ہو نے کی کئی ایک وجوہا ت ہیں گزشتہ سا لو ں میں پاکستان میں جا ری دہشت گردی ، عسکریت پسندی اور سیکور ٹی خدشات کے با عث تین لا کھ بچے پو لیو سے بچا ؤ کے قطرے پینے سے محروم رہ گئے تھے ۔( اس وقت پا کستان میں پا نچ سا ل تک عمر کے بچوں کی کل تعداد تین کروڑ 40لا کھ ہے ) پاکستان میں نیم خو اندہ ملاّؤں ، جعلی پیروں اور پو لیو مہم سے متعلق پھیلا ئے گئے غلط پر و پیگنڈہ کے با عث پاکستان پو لیو فری کا ٹا ئٹل حاصل کر نے میں نا کا م رہا ہے حا لا نکہ پا کستان کا ٹارگٹ سا ل2000میں پو لیو فری ہو نا تھا ۔مطلو بہ اہداف حا صل نہ ہو نے میں منفی پرو پیگنڈے کو اس وقت تقویت ملی جب ڈاکٹر شکیل آفریدی نے جعلی پو لیو مہم کے ذریعے ’’اسا مہ بن لا دن ‘‘ کے کمپا ؤنڈ تک رسائی حا صل کی اور بعد میں امر یکن اپر یشن کے ذریعہ اسا مہ بن لا دن کو ہلا ک کر وایا گیا ۔ڈاکٹر شکیل کے اس اقدا م سے لو گوں میں یہ تا ثر ابھرا کہ سی آئی اے پو لیو مہم کو پاکستانیوں کی جا سو سی کے لئے استعمال کر تی ہے ۔دوسرا پرو پیگنڈہ یہ ہے کہ پو لیو ویکسین میں ایسے اجرا ء شا مل ہیں جو نظام تو لید کو متاثر کر تے ہیں اور آبا دی کے کنٹرول کیلئے پو لیو ویکسین کو ایک ہتھیار کے طور پر استعما ل کیا جا رہا ہے اور تیسرا یہ کہ پو لیو ویکسین کمزور قوت مدافعت رکھنے والے بچوں کیلئے نقصان دہ ہے ۔مذکورہ پر اپیگنڈہ سے اہداف کی تکمیل ممکن نہ ہو سکی ۔مز ید براں اسا مہ بن لا دن کی ہلا کت کے بعد پو لیو ٹیموں پر حملے شروع ہو گئے ۔گزشتہ دو سا ل میں60پو لیو رضا کار اور ان کی سیکورٹی پر ما مور اہلکار قتل کئے جا چکے ہیں کو ئٹہ میں دہشت گردوں نے خواتین پو لیو ورکر کو بھی نہ بخشا اور تین خواتین جا ن سے ہا تھ دھو بیٹھیں پاکستان میں پو لیو کا خاتمہ نہ ہو نے کی وجہ سے بین الاقوامی طور پر پا کستان کو خفّت کا سامنا ہے کیو نکہ عالمی ادارہ صحت دنیا بھر میں رپورٹ ہو نے والے پو لیو کے 80فیصد کیسز کا ذمہ دار پا کستا ن کو قرار دیتا ہے ۔پو لیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں میں لیڈی ہیلتھ ورکر ز پیش پیش ہو تی ہیں ۔ان سخت جا ن ، جفا کش حواّ کی بیٹیوں کی عزت و آبرو اور زندگی کے تحفظ کو یقینی بنا نا ضروری ہے ۔
بچے ہما را مستقبل اور قیمتی سر ما یہ ہیں ۔اگر پو لیو کو جڑ سے نہ اکھا ڑا گیا تو ہمارا مستقبل پو لیو زدہ ہو جا ئے گا ۔اس وقت پا کستان سے پو لیو کے خا تمہ کیلئے سنجیدہ کو ششوں اور ایک نئے جذبہ سے کا م کر نے کی ضرورت ہے ۔پو لیو کے خاتمہ کیلئے حکو مت پو لیو ٹیموں کی حساس علا قوں تک رسائی ، پو لیو ٹیموں کو سیکورٹی کی فراہمی اور دور دراز علا قوں میں مقامی لوگوں ، ڈاکٹر ز ، علما ء پر مشتمل کمیٹیوں کی تشکیل کو یقینی بنا رہی ہے ۔لوگوں کے ذہنوں میں مو جود شکو ک و شبہات اور منفی پر اپیگنڈہ کے اثرات کو زائل کر نے کیلئے ضلعی ،تحصیل و یو نین کو نسلز سطح پر کمیٹیا ں تشکیل دی گئی ہیں ۔حکو مت کے سا تھ ساتھ ہم سب پر ( جو اس ملک کے شہری ہیں ) یہ ذمے داری عا ئد ہو تی ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر قومی فریضہ سمجھتے ہو ئے ہر پو لیو را ؤنڈ میںپا نچ سال تک عمر کے ہر بچے کو پولیو سے بچا ؤ کے حفاظتی قطرے پلو انے میں کسی غفلت اور تساہل کا مظا ہر ہ نہ کر یں تا کہ مستقبل قریب میں ہمیں کو ئی بچہ معذور اور مجبور و مقہور نظر نہ آئے اور دنیا اس مو ذی مرض سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو سکے ۔اس لئے ہمیں چا ہیے کہ ہم ہر بار ہر بچے کو پو لیو ویکسین کے دو قطرے ضرور پلوائیں ۔
[/arabic-font]

[arabic-font] لندن سے آنے والے بیانات سے اب ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا [/arabic-font]

[arabic-font]ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہےکہ لندن سے آنے والے بیانات سے اب ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا ہم عزم و حوصلے سے کام جاری رکھیں گے اور تمام شعبہ جات ہماری ہی بات مانیں گےایم کیوایم لندن کے کنوینر ندیم نصرت کی جانب سے تمام شعبہ جات تحلیل کیے جانے کے اعلان کے بعد ایم کیوایم پاکستان کا اجلاس ڈاکٹر فاروق ستار کی سربراہی میں ہوا جس کے بعد  اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان مخالف کسی بیان کی حمایت نہیں کریں گے، 22 اگست کے بعد لندن سے مکمل لاتعلقی کرچکے ہیں، ہم 23 اگست کی بات پر ڈٹے ہوئے ہیں اور  23 اگست کی پالیسی کے تحت ہی چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لندن کے 4 ارکان رابطہ کمیٹی کو خارج کردیا گیا ہے، اب لندن سے جاری کسی بیان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہوگا، ہماری اپنی پالیسی ہے جس کے تحت عزم و حوصلے سے کام جاری رکھیں گے جب کہ تمام شعبہ جات ہماری ہی بات مانیں گے۔[/arabic-font] Continue reading

[arabic-font]جانب سے تمام شعبہ جات تحلیل[/arabic-font]

[arabic-font]ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ لندن سے آنے والے بیانات سے ایم کیوایم پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، لندن والے ہمارے ساتھ کسی مشاورت میں شریک نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام کارکن اور پارٹی رہنما اتحاد برقرار رکھیں، کارکنوں کو ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔[/arabic-font]

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل ضلع میانوالی 0333.6828540
استقبال وفضیلت ماہ رمضان

HAFIZ KAREEM ULLAH PAI KHELماہ رمضان اسلامی سال کانواں مہینہ ہے جسطرح ہم پر نمازفرض ہے اسی طرح ماہ رمضان کے روزے رکھنابھی فرض ہیں ۔امت مصطفیﷺپر روزے کی فرضیت ۲ہجرہی ۱۰شعبان المعظم میںہوئی اوراس کے مطابق سیدعالم نورمجسم شفیع معظم ﷺنے ۹رمضان المبارک کے مہینوں کے روزے فرضیت کے بعدرکھے اس کے بعدآپﷺکاوصال مبارک ہوا۔رمضا ن المبارک کامقدس مہینہ اللہ تعالیٰ کی تجلی ذاتی کامظہرہے ۔
حضرت سلمان فارسیؓ بیان کرتے ہیں کہ آخرشعبان میں نبی کریمﷺنے صحابہ کرام علہیم الرضوان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا”اے لوگوتم پرعظمت والامہینہ سایہ کررہاہے یہ مہینہ برکت والاہے جس میں ایک رات ایسی ہے جوہزارمہینوں سے بہترہے یہ و ہ مہینہ ہے جس کے روزے اللہ پاک نے فرض کیے اورجس کی راتوں کاقیام نفل بنایاجواس مہینہ میں کسی نفلی ،نیکی سے اللہ رب اللعالمین کاقرب حاصل کرناچاہے تواسے فرض اداکرنے کے برابرثواب ملے گااورجس نے اس مہینہ میں ایک فرض اداکیاتواسے دوسرے مہینوں کے سترفرضوں کے برابرثواب ملے گا۔یہ صبرکامہینہ ہے اورصبرکاثواب جنت ہے یہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کامہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں مسلمانوں کارزق بڑھادیاجاتاہے جواس مہینہ میں کسی روزہ دارکوافطارکرائے تواس کے گناہوں کی بخشش ہوگی اورآگ سے اسکی گردن آزادہوجائے گی اورافطارکرانیوالے کوروزے دارکاثواب ملے گاروزہ دارکے ثواب میں کمی کے بغیرصحابہ کرام علہیم الرضوان ؓ فرماتے ہیں ہم نے عرض کیایارسول اللہﷺ!ہم میں سے ہرشخص کے پاس روزہ افطارکرانے کاانتظام نہیں توآقاﷺنے فرمایااللہ پاک یہ ثواب اس شخص کوبھی دے گاجودودھ کاایک گھونٹ یاکھجوریاگھونٹ بھرپانی سے کسی کوافطارکرائے اورجس نے روزے دارکوپیٹ بھرکرکھاناکھلایااللہ اسے قیامت کے دن وہ پانی پلائے گاجس کے بعدوہ جنت میں جانے تک کبھی پیاسانہ ہوگایہ وہ مہینہ ہے جس کے اوَل میں رحمت درمیان میں بخشش اورآخرمیں آگ سے آزادی ہے اورجواس مہینہ میں اپنے غلام (ملازم)سے نرمی کرے گاتواللہ پاک اسے بخش دے گااورآگ سے آزادکردے گا۔(مشکوٰۃ شریف)
یہ مہینہ کتنامقدس مہینہ ہے آقاﷺکے اس خطبہ میں اس بات پرتنبہیہ ہے کہ خبرداررمضان المبارک کاایک ایک سیکنڈاللہ پاک کی اطاعت وعبادت میں گزارنا۔کہیں ایسانہ ہوکہ ماہ رمضان المبارک کاچاندنظرآجائے اورتم غفلت میں پڑے رہو۔بلکہ غفلت کوچھوڑکراپناتن عبادت خدامیں مصروف کردو۔آپﷺ نے اس مہینہ کے آنے کی خبردیتے ہوئے یہ ارشادفرمایاکہ تم پرایک عظیم مہینہ سایہ کرنے والاہے ۔یعنی ما ہ رمضان ایک ایساسایہ داردرخت ہے کہ جومسلمان بھی اسکے نیچے تھکاہاراآتاہے اس کویہ سکون بخشتاہے دنیاوآخرت کے عذاب سے بچالیتاہے ۔اس مہینہ میں ایک ایسی رات جوہزارمہینوں سے افضل ہے یعنی کوئی شخص اگراس ایک رات جسے لیلۃ القدرکی رات کہتے ہیں میں اللہ پاک کی صدق دل سے عبادت کرے تواللہ پاک اسکوہزارمہینوں کی عبادت کاثواب عطاکردیتاہے ۔شعبان المعظم کامہینہ ختم ہونیوالاہے ہمیں بھی چاہیے کہ آج ہی سے ماہ رمضان المبارک کی آمدکی تیاری کرلیں تاکہ ماہ رمضان المبارک سے پہلے ہی ہم اپنے گناہوں کی اللہ پاک کی بارگاہ سے معافی مانگ لیں تاکہ یہ ماہ مقدس شروع ہوتے ہی اللہ پاک کی رحمت ہم پرسایہ فگن ہوجائے ۔ارشادباری تعالیٰ ہے۔ترجمہـ”رمضان کامہینہ جس میں قرآن اترالوگوں کے لئے ہدایت اوررہنمائی اورفیصلہ کی روشن باتیں توتم میں سے جواس مہینہ کوپائے تواسکے روزے رکھے اورجوبیماریاسفرمیں ہوتواتنے روزے اوردنوں میںاللہ تعالیٰ تم پرآسانی چاہتاہے دشواری نہیں چاہتااسلئے کہ تم گنتی پوری کرو”۔(سورۃ البقرۃ پارہ نمبر۲)
حضرت سیدُناابوسعیدخدری ؓ سے روایت ہے کہ آقاﷺنے ارشادفرمایا’’جب ماہِ رمضان کی پہلی رات آتی ہے توآسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اورآخررات تک بندنہیں ہوتے جوکوئی بندہ اس ماہِ مبارک کی کسی بھی رات میں نمازپڑھتاہے اللہ تعالیٰ اس کے ہرسجدہ کے عِوض (یعنی بدلہ میں )اس کے لئے پندرہ سونیکیاں لکھتاہے اوراس کے لئے جنت میں سُرخ یاقوت کاگھربناتاہے جس میں ساٹھ ہزاردروازے ہوں گے اورہردروازے کے پَٹ سونے کے بنے ہوں گے جن میں یاقوت سرخ جڑے ہوں گے ۔پس جوکوئی ماہِ رمضان کاپہلاروزہ رکھتاہے تواللہ مہینے کے آخردن تک اُس کے گناہ معاف فرمادیتاہے اوراُس کے لئے صبح سے شام تک سترہزارفرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔رات اوردن میں جب بھی وہ سجدہ کرتاہے اس کے ہرسجدہ کے عِوض(یعنی بدلے)اُسے (جنت میں)ایک ایک ایسادرخت عطاکیاجاتاہے کہ اُس کے سائے میں گُھڑسوارپانچ سوبرس تک چلتارہے ۔(شُعب الایمان)
عربی زبان میںرمضان کامادہ رمض ہے جسکامعنی سخت گرمی اورتپش ہے رمضان میں چونکہ روزہ داربھوک وپیاس کی حدت اورشدت محسوس کرتاہے اس لئے اسے رمضان کہاجاتاہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے ۔اے ایمان والو!تم پرروزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پرفرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔(سورۃ البقرۃ )اس آیت کریمہ میں عربی زبان کالفظ صیام یاصوم اس کے لغوی معنی اوراصلاحی معنی لغت میں صوم کامطلب ہوتاہے۔اَلْاِمْسَاکُ وَالْکَفُّ عَنِ الشَّیئِ” کسی شے سے رک جاناکسی شے سے بازرہنا”قرآن مجیدفرقان حمیدمیں حضرت مریم علہیاالسلام کاتذکرہ موجودہے کہ جب وہ قوم کی طرف آئیں توان کے پاس ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام موجودتھے اورانہیں خدشہ تھاکہ لوگ مجھ پرتنقیدکریں توخالق کائنات اللہ رب العالمین نے ان سے کہا۔قُوْلِی جب لوگ تم سے پوچھیں توتم کہہ دینا اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْماًمیں نے اللہ پاک کے روزے کی منت مانی ہے ۔فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیَّاتو میں کسی آدمی سے گفتگونہیں کروں گی ۔جوبھی تجھ سے پوچھے کہ شادی کے بغیریہ بچہ کیسے پیداہواتوتم اس سے کہہ دیناکہ میں نے رحمٰن کے لیے روزے کی نذرمانی ہے لہذامیں کسی سے گفتگونہیں کروں گی۔قرآن مجیدکے اس مقام پربات کرنے سے رکنااورجواب نہ دینااس کوصوم کہاگیاہے تویہ لغت میں صوم کامعنی ہے کہ کسی چیزسے بازرہنااوررک جاناخواہ کوئی چیزہوکوئی امرہواس لحاظ سے لفظ صوم کواستعمال کیاگیاہے ۔ اس لحاظ سے شرعی اصطلاح کے اندرجب ہم یہ لفظ بولتے ہیں اسکاخاص مفہوم ہوتاہے ۔شریعت میں روزہ سے مرادیہ ہے کہ دن کے وقت ایسی تمام چیزوں سے بازرہناجس سے روزہ ٹوٹ جاتاہے اوریہ بازرہنانیت کی وجہ سے ہواوراس کاوقت طلوع فجرسے لے کرغروب آفتاب تک ہے اورنیت اس کی طرف سے ہوکہ جونیت کااہل ہے ایسی حیثیت کوروزہ کہاجائے گا۔
رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں قرآن پاک لوح محفوظ سے سمائے دنیاپرنازل ہواجولوگوں کے لئے سراپا ہدایت ہے اورحسب ضرورت تھوڑاتھوڑا23برس میں نازل ہوتارہا۔ رمضان المبارک کی پہلی رات میں صحف ابراہیم چھٹی رات میں تورات اورتیرہویں رات میں انجیل اورآٹھ یابارہ تاریخ کوزبورنازل ہوئی ۔ سی ماہ مبارک میں اللہ رب العزت کی طرف سے قرآن مجید ہمارے نبی کریم رئوف ورحیم ﷺ پرنازل ہوا۔ ماہ رمضان کوکلام الٰہی کے ساتھ خاص نسبت اورتعلق ہے ۔اسی لئے اسلاف صالحین سے قرآن پاک کی کثرت تلاوت رمضان پاک میں منقول ہے۔امام اعظم ؒ اس ماہ مبارک میں اکسٹھ بارقرآن پاک ختم کرتے تھے تیس دن میں تیس رات میں اورایک تراویح میں امام شافعیؒ اس ماہ میں ساٹھ بارقرآن مجیدختم کیاکرتے تھے۔قرآن مجیدفرقان حمیداللہ رب العزت کی آخری کتاب ہے جوسب کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے یہ ہمارے نبی کریم ﷺ پرنازل ہوئی جونبی کریم ﷺتمام نبیوں کاسردارقرآن مجید ہمارے نبی علیہ الصلوٰۃ والسّلام کاکتنابڑامعجزہ ہے جوقیامت تک ہمارے پاس موجودہے اسکی حفاظت کا ذمہ خودخالق کائنات نے لیاہے پہلی کتابوں میں ردل بدل ہوتارہالیکن قرآن پاک ایک ایسی کتاب ہے جس میں قیامت تک ردل بدل کوئی نہیں کرسکتااللہ رب العزت اپنی کتاب میں ارشادفرماتاہے کہ اگرمیں قرآن پاک کوپہاڑوں پرنازل کرتاتوپہاڑبھی میرے خوف کی وجہ سے ریزہ ریزہ ہوجاتے قرآن کی شان بھی بہت ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کاکلام ہے تمام کتابوں کی تصدیق کرنے والاہے جس طرح ہم قرآن کی شان کومانتے ہیں اس سے محبت کرتے ہیں اسکی تلاوت کرتے ہیں تواسی طرح صاحب قرآن (نبی کریم ﷺ)کی شان بھی مانیں آقاﷺسے محبت کریں کیونکہ قرآن بھی ہمیں نبی کریم ﷺ کے صدقے ملاہے قرآن بھی شان والامیرانبیﷺبھی شان والے !میرے آقاﷺ مکہ میںتھے توقرآن مکہ میں نازل ہوا میرے آقاﷺ مدینہ میںتھے توجبرائیل ؑ قرآن لیکرمدینہ میں آئے میرے آقاﷺمیدان جہادمیں تھے توقرآن میدان جہادمیں نازل ہوا۔میرے آقاﷺ غارحرایاغارثور میںتھے توقرآن وہاں پرنازل ہوا۔اگرمیرے محبوب اپنے گھرمیں تھے توقرآن پاک گھرمیں نازل ہوایہ مقام ومرتبہ اللہ رب العزت نے ہمارے نبیﷺ کوعطاکیاہے۔ پوراقرآن میرے نبی ﷺ کی تعریف سے بھراہواہے ۔قرآن کی محبت تب ہی ہم کوکام آئے گی جب صاحب قرآن کی محبت ہمارے دلوں میں ہوگی۔ اس میں شک شبہ کی گنجائش ہی نہیں کہ کلام الٰہی ایک عظیم نعمت ہے جسکے نزول کے لئے اس مہینہ کاانتخاب درحقیقت اس بات کااعلان ہے کہ یہ مہینہ خداکی بے انتہارحمتوں کے نزول کامہینہ ہے لیکن ان نعمتوں سے فائدہ اہل ایمان ہی کونصیب ہوتاہے جیساکہ بنجرزمین میں جتنی بارشیں بھی ہوتی رہیں اس میں اگانے کی قوت پیدانہ ہوگی۔حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آقاعلیہ الصّلوٰۃ والسلام نے ارشادفرمایا”جوشخص بحالت ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتاہے اسکے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔قیام رمضان کی فضیلت سے متعلق حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضورﷺنے ارشادفرمایا”جس نے رمضان میں بحالت ایمان وثواب کی نیت سے قیام کیاتواسکے سابقہ تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔درج بالا حدیث مبارکہ میں ایمان کاذکرہے ایمان ہے کس چیزکانام اس کاجواب ہم آقاعلیہ الصلوٰۃ والسّلام کے بارگاہ سے لیتے ہیںجو خودبنائے ایمان ہیں ایمان عطاکرنے والے ہیں جواب ملتاہے “ایمان والاوہ ہے جواپنی جان ماں باپ اولادبلکہ کائنات کی ہرچیزسے بڑھ کرمجھ(آقاعلیہ الصلوٰۃ )سے محبت کرتاہے وہ صاحب ایمان ہے ۔پتاچلاجوآقاﷺ سے محبت نہیں کرتااسکا ایما ن مکمل نہیں۔اسی طرح اس حدیث میں یہ بات روزروشن کی طرح واضح ہے کہ گناہ اسکے بخشیں جائیں گے جس نے ایمان واحتساب یعنی ایمان اور خلوص سے عبادت کی روزہ رکھااسکے گناہ معاف ہوں گے۔جب ماہ رمضان کامہینہ شروع ہوتاتوحضورﷺ قیدیوں کوچھوڑدیاکرتے تھے اورہرمانگنے والے کودیاکرتے تھے ۔
حضرت سیدناضمرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایا’’ماہِ رمضان میں گھروالوں کے خرچ میں کُشادگی کروکیونکہ ماہِ رمضان میں خرچ کرنااللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرح ہے ۔(الجامع الصغیر)ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے “جب ماہ رمضان شروع ہوتاتورسولﷺ کارنگ متغیرہوجاتاآپ ﷺ کی نمازوں میں اضافہ ہوجاتااللہ تعالیٰ سے گڑگڑاکردعاکرتے اوراسکاخوف طاری رکھتے “۔رمضان المبارک میں جتنی زیادہ عبادت کی جائے اتنی کم ہے کیونکہ اس مہینہ میں نفل کاثواب عام مہینوں کے فرضو ں کے برابرملتاہے اورفرض کاثواب عام مہینوں کے سترگنازیادہ بلکہ سات سوگناتک ملتاہے۔حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آقاعلیہ الصّلوٰۃ والسّلام نے فرمایاکہ جب رمضان کامہینہ تشریف لاتاہے توآسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اورایک روایت میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اوردوزخ کے سب دروازے بندکردئیے جاتے ہیں اورشیاطین زنجیروں میں جھکڑدیئے جاتے ہیں”۔(بخاری،نسائی)کتنی عظمت والامہینہ ہے جس میں امت مصطفیٰ ﷺ کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اوردوزخ کے تمام دروازے بندکردیئے جاتے ہیں۔حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا”بیشک جنت ابتدائے سال سے آئندہ سال تک رمضان پاک کے لئے آراستہ کیجاتی ہے فرمایاجب ماہ رمضان کاپہلادن آتاہے تو جنت کے پتوں سے عرش کے نیچے ہواسفیداوربڑی آنکھوں والی حوروں پرچلتی ہے تووہ کہتی ہیں اے پروردگاراپنے بندوں سے ہمارے لئے انکوشوہربناجن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اورانکی آنکھیں ہم سے ٹھنڈی ہوں۔(مشکوٰۃ شریف)حضرت سیدناعبداللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ آقاﷺنے ارشادفرمایا’’رمضان شریف کی ہررات آسمانوںمیںصبح صادق تک ایک منادی یہ نداکرتاہے اے اچھائی مانگنے والے !مکمل کر(یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف آگے بڑھ)اورخوش ہوجااوراے شریر!شَرسے بازآجااورعبرت حاصل کر۔ہے کوئی مغفرت کاطالب کہ اس کی طلب پوری کی جائے ۔ہے کوئی توبہ کرنیوالا!کہ اس کی توبہ قبول کی جائے ۔ہے کوئی دعامانگنے والا!کہ اس کی دعاقبول کی جائے ۔ہے کوئی سائل!کہ اس کاسوال پوراکیاجائے ۔اللہ تعالیٰ رمضان المبارک کی ہرشب میں اِفطارکے وقت ساٹھ ہزارگناہ گاروں کودوزخ سے آزادفرمادیتاہے ۔اورعیدکے دن سارے مہینے کے برابرگناہ گاروں کی بخشش کی جاتی ہے۔(درِمنثور)حضرت سیدناابوہریرہؓ سے مروی ہے ـــــآقاﷺنے ارشادفرمایا’’پانچوں نمازیں اورجمعہ اگلے جمعہ تک اورماہِ رمضان اگلے ماہِ رمضان تک گناہوں کاکفارہ ہیں جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے بچاجائے ‘‘۔(مسلم شریف)حضرت جابربن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایامیری امت کوماہ رمضان میں پانچ تحفے ملے ہیںجواس سے پہلے کسی نبی کونہیں ملے۔1۔ـ”پہلایہ کہ جب ماہِ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تواللہ تعالیٰ ان کی طرف نظرالتفات فرماتاہے اورجس پراللہ پاک کی نظرپڑجائے اسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔
2۔”دوسرایہ کہ شام کے وقت انکے منہ کی بواللہ تعالیٰ کوکستوری کی خوشبوسے بھی زیادہ اچھی لگتی ہے”
3۔”تیسرایہ کہ فرشتے ہردن اورہررات ان کے لئے بخشش کی دعاکرتے رہتے ہیں”۔
4۔”چوتھایہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی جنت کوحکم دیتے ہوئے کہتاہے میرے بندوں کے لئے تیاری کرلے اورمزین ہوجاقریب ہے وہ دنیاکی تھکاوٹ سے میرے گھراورمیرے دارِرحمت میں پہنچ کرآرام حاصل کریں”۔
5۔”پانچواں یہ کہ جب (رمضان)کی آخری رات ہوتی ہے ان سب کوبخش دیاجاتاہے “۔ایک صحابی نے عرض کیا!کیایہ شب قدرکوہوتاہے؟ آپ ﷺ نے فرمایانہیں کیاتم جانتے نہیں ہوکہ جب مزدورکام سے فارغ ہوجاتے ہیں تب انہیں مزدوری دی جاتی ہے”۔(الترغیب والترہیب )
آقاﷺنے فرمایاکہ آدمی کے ہراچھے عمل کاثواب دس10گناسے سات 700گناتک بڑھایاجاتاہے مگراللہ تعالیٰ کاارشادہے کہ روزہ اس عام قانون سے مستثنیٰ ہے۔وہ بندہ کی طرف سے میرے لئے ایک تحفہ ہے اورمیں اسکا(جسطرح چاہوںگا)اجردوںگا۔ میرابندہ میری رضاکے واسطے اپنی خواہش نفس اورکھاناپیناچھوڑدیتاہے (پس میں ہی اسکاصلہ دونگا)روزہ دارکے لئے دوخوشیاں ہیں ایک افطارکے وقت اورایک اپنے رب کی بارگاہ میں حضوری کی اورقسم ہے کہ روزہ دارکے منہ کی بواللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبوسے بھی بہترہے اورروزہ(دنیامیں شیطان کے حملوں سے بچائواورآخرت میں دوزخ کی آگ سے حفاظت کے لئے ) ڈھال ہے اورجب تم میں سے کسی کاروزہ ہوتواسکوچاہیے بے ہودہ اورفحش باتیں نہ کرے اورشوروغل نہ مچائے اوراگرکوئی دوسرااس سے جھگڑاکرے توکہ دے کہ میں روزہ دارہوں۔(صحیح بخاری وصحیح مسلم شریف)نبی کریم رئوف رحیم ﷺ نے فرمایاکہ جس نے روزہ کی حالت میں بھول کرکچھ کھاپی لیاتواس سے اس کاروزہ نہیں ٹوٹا(اس لئے)وہ قاعدہ کے مطابق اپناروزہ پوراکرے کیونکہ اس کواللہ نے کھلایاپلایاہے۔۔جس خوش نصیب انسان نے ماہ رمضان کاپوراپورااحترام کیاہوگاکل بروزقیامت ماہ رمضان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس بندہ کے لئے عزت ووقارکے تاج پہنانے کی درخواست کرے گا۔روایت میں آتاہے”کہ روزقیامت رمضان المبارک اچھی صورت میں تشریف لائیگاپس خداکے حضورسجدہ کرے گااوراسے کہاجائیگاجس نے تیراحق پہچانا ہے اسکاہاتھ پکڑلوپس وہ اس شخص کاہاتھ پکڑیگاجس نے اسکاقدرپہچاناہوگااورخداکے سامنے کھڑاہوجائے گاپس کہاجائیگاتوکیاچاہتا ہے پس عرض کرے گاپروردگاراس شخص کوعزت ووقارکاتاج پہناپس اسے تاج پہنایاجائیگا”۔حضرت سیدناعبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشادفرمایا’’اللہ تعالیٰ ماہِ رمضان میںروزانہ اِفطارکے وقت دس لاکھ ایسے گناہ گاروں کوجہنم سے آزادفرماتاہے جن پرگناہوں کی وجہ سے جہنم واجب ہوچکاتھا۔نیزشبِ جمعہ اورروزِ جمعہ (یعنی جمعرات کوغروب آفتاب سے لے کرجمعہ کے غروب آفتاب تک)کی ہرہرگھڑی میں ایسے دس دس لاکھ گناہ گاروں کوجہنم سے آزادکیاجاتاہے جوعذاب کے حقدارقراردیئے جاچکے ہوتے ہیں۔(کنزالعمال)حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول خداﷺنے فرمایا”کہ روزے اورقرآن پاک بندے کی شفاعت کرینگے روزے عرض کرینگے اے پروردگارمیں نے اس بندہ کوکھانے پینے اورنفسانی خواہش سے دن میں روکاہے پس اسکے حق میں میری شفاعت قبول فرمااورقرآن عرض کریگامیںنے اسے رات میں سونے سے روکاہے پس اسکے حق میں میری شفاعت قبول فرماپس دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔(بیہقی)ثابت ہواکہ قیامت کے دن جب دنیاکے دوست بیزاری کااعلان کردینگے روزے اورقرآن اس نازک وقت میں انسان کاساتھ دینگے اوربارگاہ خدامیں شفاعت کراکرجنت میں پہنچادینگے۔ جب قیامت کے دن روزے اورقرآن کویہ اختیارحاصل ہوگاکہ بندوں کی شفاعت کرائیں جوخودصاحب قرآن ہے جس پر قرآن اتراکیااللہ رب العزت کی بارگاہ میں ہماری شفاعت نہیں کرینگے؟جس نبی کریم ﷺ کے صدقے ہم کورمضان ملااس نبی ﷺکوکیایہ اختیارحاصل نہ ہوگا۔خداکی قسم روزے اورقرآن تب ہی ہماری شفاعت کرینگے جب کہ کائنات کی ہرچیزسے بڑھ کرہماری محبت نبی کریم ﷺ سے ہوگی جسکونبی ﷺ سے دنیامیں محبت نہ ہوگی اسکوقیامت کے دن اعمال فائدہ نہیں دینگے۔ غیبت اوردیگرگناہ سے روزہ بھاری ہوجاتاہے یہی وجہ ہے کہ نیکوکاروں کوروزہ کی سختی محسوس نہیں ہوتی حالانکہ گناہ گاروزہ میں بہت شدت اورسختی محسوس کرتاہے۔
درج ذیل باتیں جوروزہ کی حالت میں مکروہ ہیں ۔
٭گوندچبانایاکوئی اورچیزمنہ میں ڈالے رکھنا۔
٭بلاضرورت کسی چیزکاچکھنا،البتہ جس عورت کاخاوندسخت اوربدمزاج ہواسے زبان کی نوک سے سالن کامزہ چکھ لیناجائزہے۔
٭کلی یاناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرنا۔
٭منہ سے بہت ساتھوک جمع کرکے نگلنا۔
٭غیبت کرنا،جھوٹ بولنا،گالی گلوچ کرنا۔بھوک یاپیاس کی بے قراری اورگھبراہٹ کوظاہرکرنا۔
٭نہانے کی حاجت ہوتوغسل کوقصداََ صبح صادق کے بعدتک مئوخرکرنا۔
٭صوم وصال کے روزے رکھنااگرچہ دوہی دن کاہو۔
روزوں کی قضاکے احکام کی درج ذیل تین صورتیں ہیں۔
1۔اگرکوئی آدمی روزے کی حالت میں بھول کرکھاپی لے اس پرنہ قضاہے اورنہ کوئی کفارہ خواہ وہ رمضان کاروزہ ہویاغیررمضان کا
2۔اگرکوئی آدمی رمضان میںروزہ کی حالت میں بلاعذرقصداََکھالے یاپی لے تواس پرقضااورکفارہ دونوں لازم ہیں
3۔اگرکوئی رمضان میں روزہ کی حالت میں کسی عذرکی وجہ سے یعنی سفریامرض میں روزہ توڑدے تواس پرقضاواجب ہوگی کفارہ ضروی نہیں ۔
اللہ رب العزت سے دعاگوہوں کہ اللہ پاک ہمیں ماہ رمضان المبارک کے مہینے کاادب واحترام اوراس میں خوب ذوق وشوق کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔تاکہ بروزقیامت ہم آقاﷺکی شفاعت اورجنت کے حقداربن جائیں ۔آمین بجاہ النبی الامین

اہمیت نماز۔۔۔۔احادیث کی روشنی میں
مولانا رضوان اللہ پشاوری

رضوان اللہ٭ حضرت خذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اِرشاد فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو جب کوئی سخت امْر پیش آتا تھا تو نماز کی طرف فوراََ متوجہ ہوتے تھے ۔
فائدہ: نماز اللہ کی بڑی رحمت ہے اس لئے ہر پریشانی کے وقت میں ادھر متوجہ ہوجانا گویا اللہ کی رحمت کی طرف متوجّہ ہے اور جب رحمت الٰہی مساعد و مددگار ہو تو پھر کیا مجال ہے کسی پریشانی کی کہ باقی رہے ۔ بہت سی روایتوں میں مختلف طور سے یہ مضمون وارد ہوا ہے ۔ صحابہ کرام رضوان اﷲ اجمعین جو ہر قدم پر حضورﷺکا اتباع فرمانے والے ہیں ان کے حالات میں بھی یہ چیز نقل کی گئی ہے ۔ حضرت ابو دردائؓ فرماتے ہیں کہ جب آندھی چلتی تو حضور اقدسﷺفوراًمسجد میں تشریف لے جاتے تھے اور جب تک آندھی بند ہو جاتی مسجد سے نہ نکلتے ۔ اس طرح جب سورج یا چاند گرہن ہوجاتاتو حضورﷺ
تو حضورﷺفوراًنماز کی طرف متوجہ ہو جاتے ۔ حضرت صہیبؓ، حضوراقدسﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ پہلے اَنبیاں کا بھی یہی معمول تھا کہ ہر پریشانی کے وقت نماز کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے ۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالی عنہ یک مرتبہ سفر میں تھے راستہ میں اطلا ع ملی کہ بیٹے کا انتقال ہو گیا۔ اونٹ سے اُترے دو رکعت نماز پڑھی پھر اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن پڑھا اور پھر فرمایا کہ ہم نے وہ کیا جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے اور قرآن پاک کی آیت وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِوَالصَّلوٰۃ ِتلاوت کی۔
ایک اور قصہ اسی قسم کا نقل کیا گیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ تشریف لے جا رہے تھے ۔ راستہ میں اُن کے بھائی قثم کے انتقال کی خبر ملی۔ راستہ سے ایک طرف ہوکر اُونٹ سے اُترے ، دو رکعت نماز پڑھی اور التحیات میں بہت دیر تک دعائیں پڑھتے رہے ۔ اس کے بعد اُٹھے اور اُونٹ پر سوار ہوئے اور قرآن پاک آیت وَاسْتَعِیْنُوْا بِا الصَّبْرِ وَالصَّلوٰۃِ وَاِنَّہَا لَکَبِیْرَۃ اِلَّاعَلیَ الْخَاشِعِیْنَ تلاوت فرمائی۔ ترجمہ :اور مدد حاصل کرو صبر کے ساتھ اور نماز کے ساتھ اور بیشک وہ نماز دشوار ضرور ہے مگر جن کے دلوں میں خشوع ہے ، اُن پر دشوار نہیں ۔ خشوع کا بیان تیسرے باب میں مفصل آرہا ہے ۔ انہیں کا ایک اور قصّہ ہے کہ اَزواجِ مطہرات ؓ میں سے کسی کے انتقال کی خبر ملی تو سجدہ میں گر گئے ۔ کسی نے دریافت کیا کہ یہ کیا بات تھی۔ آپؓ نے فرمایا کہ حضورﷺکا ہم کو یہی ارشاد ہے کہ جب کوئی حادثہ دیکھو تو سجدہ میں (یعنی نماز میں) مشغول ہوجائو اس سے بڑا حادثہ اور کیا ہوگا کہ ام المومنین ؓ کا انتقال ہو گیا۔حضرت عبادہ رضی اﷲتعالیٰ عنہ کے انتقال کا وقت جب قریب آیاتو جو لوگ وہاں موجود تھے اُن سے فرمایا کہ میں ہر شخص کو اس سے روکتا ہوں کہ وہ مجھے روئے اور جب میری روح نکل جائے تو ہر شخص وضو کرے اور اچھی طرح سے آداب کی رعایت رکھتے ہوئے وضو کرے اور پھر مسجد میں جائے اور نماز پڑھ کر میرے واسطے استغفار کرے ۔ اس لئے کہ اللہ جل شانہ نے وَاسْتَعِیْنُوْ بالصَّبْرِ وَالصَّلوٰۃِ کا حکم فرمایا ہے ۔ اس کے بعد مجھے قبر کے گڑھے میں پہنچا دینا حضرت ام کلثومؓ کے خاوند حضرت عبدالرحمن بیمار تھے اور ایک دفعہ ایسی سکتہ کی سی حالت ہو گئی کہ سب نے انتقال ہو جانا تجویز کر لیا۔ حضرت ام کلثومؓ اُنہیں اور نماز کی باندھ لی۔ نماز سے فارغ ہوئیں تو حضرت عبدالرحمن کو بھی افاقہ ہوا۔ لوگوں سے پوچھاکیا میری حالت موت کی سی ہوگئی تھی لوگوں نے عرض کیا جی ہاں ۔ فرمایا کہ دو فرشتے میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ چلو احکم الحکمین کی بارگاہ میں تمہارا فیصلہ ہونا ہے وہ مجھے لے جانے لگے تو ایک تیسرے فرشتے آئے اور اُن دونوں سے کہا کہ تم چلے جائو یہ ان لوگوں میں ہیں جن کی قسمت میں سعادت اسی وقت لکھ دی گئی تھی جب یہ ماں کے پیٹ میں تھے اور ابھی ان کی اولاد کو ان سے اور فوائد حاصل کرنے ہیں ۔ اس کے بعد ایک مہینہ تک حضرت عبدالرحمن زندہ رہے پھر انتقال ہوا۔ حضرت نضرؓ کہتے ہیں کہ دن میں ایک مرتبہ سخت اندھیرا ہوگیا ۔ میں دوڑا ہوا حضرت انسؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے دریافت کیا کہ حضورﷺکے زمانہ میں بھی کبھی ایسی نوبت آئی ہے ۔ انہوں نے فرمایا خدا کی پناہ ، حضورﷺکے زمانہ میں تو ذرا بھی ہوا تیز چلتی تھی تو ہم سب مسجدوں کو دوڑ جاتے تھے کہ کہیں قیامت تو نہیں آ گئی۔ عبداللہ بن سلامؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ کے گھر والوں پر کسی قسم کی تنگی پیش آتی، تو اُن کو نماز کا حکم فرمایا کرتے اور یہ آیت تلاوت فرماتے ۔ وَائْ مُرْ اَھْلَکَ بِا لصَّلوٰۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْہَا لَا نَسْئَلُکَ رِزْقاَ الآیۃ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرتے رہیٔ اور خود بھی اس کا اہتمام کیجئے ہم آپ سے روزی کموانا نہیں چاہتے روزی تو آپ کو ہم دیں گے ۔ایک حدیث میں اِرشا د کہ جس شخص کوئی بھی ضرورت پیش آئے دینی ہو یا دنیو ی ا س کاتعلق مالک الملک سے ہو یا کسی آدمی سے ، اس کو چاہیے کہ بہت اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز پڑھے پھر اللہ جل شانہ کی حمدوثنا کرے اور پھر درود شریف پڑھے اس کے بعد یہ دُعا پڑھے تو انشاء اللہ اس کی حاجت ضرور پوری ہوگی۔دعا یہ ہے : لاَ اِلٰہَ اَلَّا اللّٰہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اَسْئَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَنِیْمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرِّ وَالسَّلَامَۃَ مِنْ کُلِّ اِثْمٍ لَا تَدَعْ لِی ذَنْبًا اِلَّا غَفَرْتَہ یَآ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ وَلَا ہَمًّا اِلَّا فَرَّجْتَہ وَلَا حَاجَۃً ہِیَ لَکَ رِضًا اِلَّا قَضَیْتَہَا یَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ وہبؒ بن منبہؒ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے حاجتیں نماز کے ذریعہ طلب کی جاتی ہیں اور پہلے لوگوں کو جب کوئی حادثہ پیش آتا تھا وہ نماز ہی کی طرف متوجہ ہوتے تھے ۔ جس پر بھی کوئی حادثہ گذرتا وہ جلدی سے نماز کی طرف رجوع کرتا۔ کہتے ہیں کوفہ میں ایک قلی تھا جس پر لوگوں کو بہت اِعتماد تھا امین ہونے کی وجہ سے تاجروں کا سامان روپیہ وغیرہ بھی لے جاتا۔ ایک مرتبہ وہ سفر میں جارہا تھا۔ راستہ میں ایک شخص اس کو ملا۔ پوچھا کہاں کا ارادہ ہے ۔ قلی نے کہا فلاں شہر کو۔ وہ کہنے لگا کہ مجھے بھی وہاں جانا ہے ۔ میں پائوں چل سکتا تو تیرے ساتھ ہی چلتا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک دینار کرایہ پر مجھے خچر پر سوار کرلے ۔ قلی نے اس کو منظور کر لیا وہ سوار ہوگیا۔ راستہ میں ایک دو راہہ ملا۔ سوار نے پوچھا کدھر کو چلنا چاہیے ۔ قلی نے شارع عام کا راستہ بتایا۔ سوار نے کہا یہ دوسرا راستہ قریب کا ہے اور جانور کے لئے بھی سہولت کا ہے کہ سبزہ اس پر خوب ہے ۔ قلی نے کہا میں نے یہ راستہ دیکھا نہیں ۔ سوار نے کہا میں بارہا اس راستہ پر چلا ہوں ۔ قلی نے کہا اچھی بات ہے اسی راستہ کو چلے ۔ تھوڑی دور چل کر وہ راستہ ایک وحشت ناک جنگل پر ختم ہوگیا۔ جہاں بہت سے مردے پڑے تھے ۔ وہ شخص سواری سے اُترااور کمر سے خنجر نکال کر قلی کے قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ قلی نے کہا، ایسا نہ کر۔ یہ خچر اور سامان سب کچھ لے لے یہی تیرا مقصود ہے مجھے قتل نہ کر۔ اس نے نہ مانا اور قسم کھالی کہ پہلے تجھے مارونگا پھر یہ سب کچھ لونگا۔ اس نے بہت عاجزی کی مگر اُس ظالم نے ایک بھی نہ مانی۔ قلی نے کہا اچھا مجھے دو رکعت آخری نماز پڑھنے دے ۔ اُس نے قبول کیا اور ہنس کر کہا۔ جلدی سے پڑھ لے ان مردوں نے بھی یہی درخواست کی تھی مگر اُن کی نمازنے کچھ بھی کام نہ دیا۔ اس قلی نے نماز شروع کی۔ الحمد شریف پڑھ کر سورت بھی یاد نہ آئی۔ اُدھر وہ ظالم کھڑا تقاضا کر رہا تھاکہ جلدی ختم کر۔ بے اختیار اُسکی زبان پر یہ آیت جاری ہوئی{اَمَّنْ یُجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ } یہ پڑھ رہاتھا اور رو رہا تھا کہ ایک سوار نمودار ہواجس کے سر پر چمکتا ہوا خَود (لوہے کی ٹوپی )تھا اُس نے نیزہ مار کر اُس ظالم کو ہلاک کردیا ۔ جس جگہ وہ ظالم گرا ، آگ کے شعلے اس جگہ سے اُٹھنے لگے ۔ یہ نمازی بے اختیا ر سجدہ میں گر گیا۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ نماز کے بعد اُس سوار کی طرف دوڑا۔ اُس سے پوچھاکہ خدا کے واسطے اتنا بتادو کہ تم کون ہو کیسے آئے ۔ اُس نے کہا کہ میں{ اَمَّنْ یُجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ }کا غلام ہوں اب تم مامون ہو جہاں چاہے جائو۔ یہ کہ کر چلاگیا۔ درحقیقت نماز ایسی یہ بڑی دولت ہے کہ اللہ کی رضا کے علاوہ دنیا کے مصائب سے بھی اکثر نجات کا سبب ہوتی ہے ، اور سکونِ قلب تو حاصل ہوتا ہی ہے ۔
ابن سیر ؒ کہتے ہیں کہ اگر مجھے جنت کے جانے میں اور دو رکعت نماز پڑھنے میں اختیار دے دیا جائے تو میں دو رکعت ہی کو اختیا ر کروں گا۔ اس لئے کہ جنت میں جانا میری اپنی خوشی کے واسطے ہے اور دو رکعت نماز میں میرے مالک کی رضا ہے ۔ حضورﷺکا ارشاد ہے ۔ بڑا قابل رشک ہے وہ مسلمان جو ہلکا پھلکا ہو(یعنی اہل و عیال کا بوجھ نہ ہو) نماز سے وافر حصہ اس کو ملا ہو۔ روزی صرف گزارے کے قابل ہو جس پر صبر کرکے عمر گزار دے ۔اللہ کی عبادت اچھی طرح کرتا ہو۔ گمنامی میں پڑا ہو۔ جلدی سے مرجاوے ۔ نہ میراث زیادہ ہو نہ رونے والے زیادہ ہوں ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اپنے گھر میں نماز کثرت سے پڑھا کرو، گھر کی خیر میں اضافہ ہوگا۔

رہبانیت اور جعلی پیر

Col_Logoگزشتہ چند دنوں سے میری طبیعت ناساز تھی۔ کچھ گردوں میں پتھری کی شکایت تھی۔ علاج چل رہا تھا۔ الحمدللہ بہتری کی طرف گامزن ہوں۔ اسی دوران ایک دن آفس میں بیٹھا کام ہو رہا تھا کہ ایک ساتھی عمومی طور پر ملا۔ حال احوال پوچھا۔ بتایا کہ آج کل گردوں کی شکایت ہے تو کہنے لگا کہ کھیوڑہ کے قریب ایک مقام ہے جہاں کا پانی پی لیں تو آرام آجائے گا۔ میرے پوچھنے پر کہ اس پانی کی خصوصیت کیا ہے تو جواب ملا کہ وہاں جس بزرگ کی زیارت ہے ، اس بزرگ نے اس پانی میں کچھ عرصہ ریاضت کی تھی۔ یہ یاد نہیں رہا کہ وہ بزرگ وہاں کوما کی سی حالت میں رہے تھے یا بیٹھے رہے تھے ۔ لیکن یہ یاد ہے کہ انھوں نے بنا وقفہ کیے وہاں ریاضت کرتے رہے تھے۔ میں نے اس ساتھی سے کہا کہ یہ سنا گیا ہے کہ آب زم زم کو جس بیماری میں صحت یابی کی نیت سے پیا جائے اور صدق دل سے پیا جائے تو اس بیماری سے اللہ پاک ضرور صحت یاب کر دیتے ہیں۔ اور میں کتنی بار آب زم زم پی چکا ہوں۔ لیکن ابھی تک مکمل صحت یاب نہیں ہوا۔ تو جب مجھے آب زم زم سے راس نہیں آیا تو پھر دنیا کا کوئی اور پانی کیسے راس آسکتا ہے؟ وہ بھی اس طرح کا پانی جس میں کوئی شخص کچھ عرصہ اس حالت میں بیٹھا ہو کہ نہ اس کی پاکی ناپاکی کا علم ہو، نہ کچھ اور۔ مزید اضافہ یہ کہ اتنے دنوں میں کیا اس نے نماز وغیرہ کا کیا اہتمام کیا ہو گا؟ اور پھر یہ کہ حدیث کے مطابق ـ’’اسلام میں کوئی رہبانیت نہیں ہے‘‘۔ تو جب رہبانیت اسلام میں منع ہے تو پھر کوئی بھی فرد چاہے وہ اللہ کی رضا کے لیے کرے، اگر اس میں وہ اسلام کے بنیادی ارکان کی پابندی نہیں کرتا ، تو اسکی وہ رہبانیت کسی کام کی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جب تک نبوت نہیں ملی تھی، تب تک تو آپ ﷺ غارِ حرا میں تنہائی میں بیٹھ کراللہ کی نشانیوں پر غور فرماتے تھے۔کائنات کیسے تخلیق ہوئی؟ آسمان، سورج ، چاند ، زمین کیا ہیں؟ کائنات اور انسان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ اس طرح کی بہت سی باتوں پر آپ ﷺ غور فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ اپنے ساتھ خورد نوش کا سامان لے جایاکرتے تھے۔ دیکھ لیں، کہیں پر بھی اس طرح کا عمل نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ آپ ﷺ نے بالکل ہی دنیا سے کنارہ کر لیا ہو۔ کھانا پینا چھوڑ دیا ہو۔ جب نبوت سے سرفراز ہوئے تو دنیا سے رخصت ہونے کے وقت تک تئیس سال کے عرصے میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملے گی جسے ان کی زندگی میں رہبانیت کا عرصہ کہا جا سکے۔
سورۃ الحدید آیت ۲۷ میں اللہ پاک فرماتے ہیں: ’’پھر اس کے بعد ہم نے اپنے اور رسول بھیجے اور عیسٰی ابن مریم کو بعد میں بھیجا اور اسے ہم نے انجیل دی، اور اس کے ماننے والوں کے دلوں میں ہم نے نرمی اور مہربانی رکھ دی، اور ترک دنیا جو انہوں نے خود ایجاد کی ہم نے وہ ان پرفرض نہیں کی تھی مگر انہوں نے رضائے الٰہی حاصل کرنے کے لیے ایسا کیا پس اسے نباہ نہ سکے جیسے نباہنا چاہیے تھا، تو ہم نے انہیں جو ان میں سے ایمان لائے ان کا اجر دے دیا، اور بہت سے تو ان میں بدکار ہی ہیں۔‘‘ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رہبانیت اختیار کرنے والے اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ اس میں اللہ کی رضا شامل نہیںہوتی۔ اب اگر کوئی کہے کہ یہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کے بارے میں کہا گیا ہے لیکن پھر وہ اس کو پوری طرح اور اس کی روح کے مطابق نہ نباہ سکے جیسا کہ نباہنے کا حق تھا تو میرا سوال ان سے یہ ہے کہ پھر یہ بات ہمیں کیوں بتائی گئی؟ قرآن سے ہی یہ ثابت ہے کہ ہمیں یعنی اس آخری امت کو ماضی کی یہ باتیںاسلیے بتائی جاتی ہیں کہ ہم ان سے سیکھیں، اگر عبرت کا مقام ہے تو عبرت حاسل کریں۔ ورنہ ہمیں فرعون کے غرقِ دریا کا قصہ کس لیے بتایا گیا؟ واضح ہوتا ہے کہ اللہ نے دنیا بنائی ہے، دنیا میں رہنے والے بنائے ہیں۔ آپس میں تعلق رشتہ داری ، برادری قائم کی ہے، قبیلے آئے، تو ظاہر ہے ان کو آپس میں تعلقات بھی تو رکھنے ہیں۔کہ جب اللہ پاک کے فرمان کے مطابق ’’ اور لوگوں سے اچھے طریقے سے بات کرو‘‘ کے مصداق یہ فرض ہے کہ آپ کا اپنے ارد گرد لوگوں سے رابطہ رہے گا۔ پھر حکم ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور قرابت داروں کے ساتھ اور یتیموں کے ساتھ اور مساکین کے ساتھ اور مسافروں کے ساتھ۔ تو اگر رہبانیت اختیار کی جائے گی تو یہ سب کچھ کہاں جائے گا۔ پھر تو اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی نا۔ کیونکہ قرآن پاک میں جو احکامات ہوتے ہیں ان پر عمل فرض ہوتا ہے۔ آپشن کی گنجائش نہیں ہوتی۔
ہزاروں بزرگوں کی حکایتیں سب کی نظروں سے گزری ہوں گی۔ سید علی ہجویری، خواجہ نظام الدین، بہائو الدین زکریا ملتانی ، بابا فرید الدین رحمہ اللہ علیہم جیسے ہزاروں بزرگ گزرے ہیں۔ مختلف کتابوں میں ان بزرگوں کی ابتدائی زندگی کے بارے میں مختلف حالات درج ہیں۔ایک بزرگ کے بارے میں مشہور ہے کہ جب ان کو ان کے والد ان کے ہونے والے مرشد کے پاس لے گئے تو مرشد نے باطنی نگاہ سے مستقبل کے ولی اللہ کو پہچان لیا۔ والد صاحب کو رخصت کیا۔ اور پھر مرید سے فرمایا کہ یہ کمرہ ہے۔ اس میں بند ہو جا۔ اور جب تک میں نہ کہوں یا کمرے کا دروازہ نہ کھولوں، دروازہ نہیں کھولنا۔ اور ساتھ میں انہیں اک ورد سکھا دیا کہ اس کو پڑھتا رہ۔ بارہ سال گزر گئے۔ اب بندہ کہے کہ بارہ سال تک کیا اس کو کھانے پینے کی اشیاء دینے کے لیے فرشتے آئے ہوں گے، حضرت بی بی مریم علیہاالسلام کی طرح ۔ پھر جب وہ بچہ آیا تھا تو اس وقت ان کی عمر کوئی دس سال کے لگ بھگ تھی۔ اب دس کا بچہ ہو ، وہ کتنے دن بھوک پیاس برداشت کر سکتا ہے۔ یا چلیں سمجھ لیتے ہیں کہ ان کے مرشد نے انہیں کھانے پینے کے لیے کچھ نہ کچھ کسی نہ کسی طریقے سے مہیا کرتے ہوں گے۔ لیکن دس کے بچے پر نماز فرض ہے۔ پھر اللہ کے حکم کے مطابق جماعت کے ساتھ فرض ہے۔ تو بارہ سال بچے میں بچہ جوان ہوا۔ اس نے جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ کیونکہ جہاں ان کی ریاضت کے بارے میں لکھا ہوا ہے، وہاں اگر انھوں نے نماز پڑھی ہوتی تو یہ کچھ بھی لازمی لکھا ہوتا۔ کیا کوئی بھی آج کا کوئی بھی عالم، سوائے غامدی صاحب کے، عمار ناصر صاحب کے یا عامر لیاقت حسین کے یہ بتا سکتا ہے کہ جماعت کی نماز کس کیا اس طرح معاف کروائی جا سکتی ہے اور نماز پر ریاضت کو ترجیح دی جاسکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔
اسکے بعد اللہ نے بہت سے بزرگوں کو ولی، قطب، ابدال ، غوث کے درجے پر فائز کیا۔ مجھے تو یہ القابات ہی سمجھ نہیں آتے۔ کیا اللہ نے قرآن پاک میں یہ القابات اس حکم کے تحت بیان فرمائے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کیے بہت بعد کچھ امتی ان القابات کے لائق ہوں گے۔ یاپھر اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے بعد آنے والے اپنی امت کے بہترین لوگوں کے لیے یہ القابات وضح کیے تھے۔ چلیں جو بھی ہے، تصوف کے کھیل ہیں، میری سمجھ سے باہر۔ لیکن کیا کوئی ان اولیاء سے ثابت کر سکتا ہے کہ انھوں نے کہا ہو کہ وہ داتا ہے (جبکہ دینے والی ذات صرف اور صرف اللہ کی ہے)۔ سورۃ الحدید کی آیات ۲۸ ۔ ۲۹ میں اللہ فرماتے ہیںـ: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت سے دوہرا حصہ دے گا اور تمہیں ایسا نورعطا کرے گا تم اس کے ذریعہ سے چلو اور تمہیں معاف کر دے گا، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔ تاکہ اہلِ کتاب یہ نہ سمجھیں کہ (مسلمان) اللہ کے فضل میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے، اور یہ کہ فضل تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے جس کو چاہے دے، اور اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے ‘‘۔ کہا لکھا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی کچھ دینے والا ہے؟ پھر کیوں ان کی قبروں پر جا کر ان سے مانگتے ہو۔ وہ تو مردہ ہیں اور مردوں کو اپنے حساب کتاب سے فرصت نہیں ہوتی، وہ دنیا والوں کو کیا جواب دیں گے؟ شہید بے شک زندہ ہے، لیکن اس طرح نہیں کہ وہ اپنی قبر پر آنے والوں کی مرادیں پوری کرتا پھرے۔ ہمارے عوام اندھی تقلید میں اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے احکامات کو بھول جاتے ہیں۔ باوجود اس کے ان کو علم ہے کہ یہ فوت شدہ ہیں۔ لوگ پھر بھی ان بزرگوں کے دربار پر جاتے ہیں اور ان سے مانگتے ہیں۔ وہاں مرادیں مانگتے ہیں کہ بابا جی اگر یہ کام ہو گیا تو چادر چڑھائوں گا۔ کالا بکر زبح کروں گا ، وغیرہ وغیرہ۔ جب کہ قرآن پاک میں اللہ فرماتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ اللہ کے نام کے علاوہ کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا تو وہ حرام ہے۔ اب پھر لوگ کہتے ہیں کہ نام تو اللہ کا ہی لیتے ہیں بس ذبح بابا جی کی قبر پر کرتے ہیں کہ وہ قبول کر لیں۔ کوئی بتائے کہ ہم بتائیں کیا۔ جب نیت یہ ہو کہ قبول بابا جی کرے، تو گویا نام بھی بابا کا ہی ہوا۔ مجھے اگر کوئی کہے کہ میں آپ کے نام پر دس ہزار روپے کسی ادارے کے کلرک کو دیتا ہوں کہ وہ میرا کام کر لے قبول کرنے والا کون ہوا، میں یا وہ کلرک؟ لوگو! خدا کا واسطہ سمجھو۔ اپنے دین کو ، اپنے ایمان کو خراب مت کرو۔
تو میرے عزیز بھائیو اور بہنو! یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جو شخص پیر بنا پھرتا ہے، پھرتا کیا ایک جگہ بیٹھا ہے۔ سب سے پہلے تو اسکا ظاہری حلیہ ہی دیکھ لیں۔ اگر شریعت کے مطابق نہیں ہے یعنی بال بڑے بڑے لیکن بکھرے سے اور میلے کچیلے، جسم میل اور دھول مٹی سے اٹا ہوا (صفائی نصف ایمان ہے۔ حدیث)۔ نماز روزہ سے اس کو کوئی سرو کار نہیں۔ نماز کا وقت ہوا لیکن نماز کے لیے نہیں گیا۔ کسی نے پوچھا کہ حضرت نماز کا وقت ہو گیا ہے۔ تو جواب ملتا ہے کہ ہم نے یہیں بیٹھے بیٹھے پڑھ لی۔ بلکہ یہاں کیا ہم خانہ کعبہ میں پڑھ کر آئے ہیں۔ ہمارا وضو یہاں ہوتا ہے اور نماز خانہ کعبہ میں ہوتی ہے۔ یعنی وہ شخص اپنے آپ کو انبیاء کرام اور صحابہ کرام سے بھی بڑھ کر بتاتا ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ کہاں کا دین ہے؟ اس کے بعد اس کی حرکت، اگر وہ خواتین سے ملنے میں خوشی محسوس کرتا ہے،جیسا کہ آج کل سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز وائرل ہوئی ہوئی ہیں جن میں نام نہاد پیر خواتین کو گلے لگاتے پھرتے ہیں (خواتین سے معذرت کے ساتھ)۔ بھرپور جھپیاں لگاتے ہیں۔ پھر ان کو ماتھے پر بوسہ دیتے ہیں۔ تو یہ کہاں کا اسلام ہے۔ کہاں کادین ہے؟ کم از کم اسلام میں اس کی بالکل بال برابر بھی گنجائش نہیں۔ پھر ایک ویڈیو میں ایک جوان پیر ایک لڑکی کو سامنے بٹھائے اس کی قمیض کا اگلا دامن اونچا کیے اسکے نیفے کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ پھر تھوڑا سا نیفے میں ہاتھ ڈالتا ہے اور ایک شعبدہ اختیار کرتے ہوئے اپنے بیٹھنے کی دری کے نیچے سے سب کی آنکھ سے چھپاتے ہوئے ایک گول گول کوئی سفید سی اٹھا کر اس کو نیفے کی طرف لے جاتا ہے۔ پھر یوں ایک جھٹکے سے نکالتا ہے جیسے اس لڑکے کے پیٹے کے زیریں حصے سے نکالا ہو۔ پھر ا س کو اس لڑکے کے گھروالوں اور دیگر حاضرین کو دکھاتا ہے کہ یہ چیز تھی جس کی وجہ سے لڑکی پر جن آیا ہوا تھا۔ اب جن بھاگ گیا ہے۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔ دین اسلام میں خواتین کو چھونے کا اختیار نہیں ہے، چہ جائیکہ اس کے بدن کے ساتھ کھیلنا۔
میرے بھائیو اور بہنو! آپ کے ہاں اولاد نہیں ہے تو بھی بابا کیا دے گا۔ اولاد اور اس کی رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہوا ہے۔ آپ اپنا حیلہ کریں۔ ساتھ میں خواتین سورہ مریم کی تلاوت صبح کی نماز کے بعد پابندی سے کیا کریں۔ مرد حضرات حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا ’’ شرح دعائ￿ :رَبِّ ھَب لِی مِن لَّدْنکَ ذْریَّۃً طیِّبَۃط۔اِنَّکَ سَمِیعْ الدّْعَائ۔ کو ہر نماز کے بعد اپنا ورد بنا لے۔ اگر نصیب میں اولاد ہوئی تو ان شاء اللہ ضرور عطا ہو گی۔اگر آپ کے گھر میں کوئی پریشان ہے، کوئی تکلیف ہے، کوئی بیمار ہے، کسی پر آپ کو شک ہے کہ جادو ٹونہ کیا ہوا ہے۔ تو اللہ پاک کے قرآن میں ہر چیز موجود ہے۔ نماز کی پابندی کریں۔ تلاوت کی پابندی کریں، چاہے روزانہ ایک رکوع ہی پڑھیں۔ کیونکہ یہ کہا گیا ہے کہ جس گھر میں نماز اور تلاوت کی پابندی کی جاتی ہو ، وہاں جادو ٹونہ ہونا ممکن ہی نہیں۔ پھر جادو ٹونہ کا بہترین علاج معوذتین یعنی سورۃ فلق اور سورۃالناس ہیں۔انہیں پڑھ پڑھ کر متأثر پر دم کریں بھی اور پانی پر بھی دم کر کے پلائیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اگر مریض ٹھیک نہ ہوا تو پھر کہیے گا۔ جو شخص بیمار ہے، دوائیوں سے ٹھیک نہیں ہو رہا، آب زم زم پر سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کریں اور پلائیں اس نیت سے کہ اللہ مریض کو روحانی و جسمانی شفا عطا فرمائے۔ ان بابوں ، اور نواب پیروں سے نجات نہ ملی تو کہہیے گا۔ جو اللہ کے فرمان کے مطابق اللہ کے کلام کے بدلے پیسے لیتے ہیں وہ کیسے کسی کا علاج کریں گے۔آزمائش شرط ہے۔