عقابی طاقت پانے کیلئے چند دانے کھائیں

یقین جانیے! یہ سستی زرشک شیریں کیا خوب چیز ہے… جو بھی کھائے عقابی نظریں عقابی اڑان‘ عقابی پھرتی عقابی طاقت اور عقابی ولولے‘ عقابی جذبے اور عقابی جھپٹنا‘ عقابی پلٹنا اور عقابی لہو گرم رکھنے کا یہ زرشک شیریں ایک بہانہ ہے۔

قارئین! آپ نے ڈبل روٹی یابن یا بیکری کی میٹھی چیزیں کھاتے ہوئے ایک کالے رنگ کے کشمش یا سوگی سے کم باریک دانے دیکھے ہوں گے جو کہ عموماً ڈبل روٹی یا کیک میں ڈالے جاتے ہیں۔ کشمش نما یہ باریک دانے طب کی زبان میں زرشک کہلاتے ہیں عام طور پر پنساری کی دکان پر کوئی مہنگے نہیں عام داموں میں مل جاتے ہیں۔ ویسے بھی اگر یہ مہنگے ہوتے تو ڈبل روٹی ، بن اور کیک میں نہ ڈالے جاتے۔ آپ جانتے ہیں یہ کیا ہے؟ یہ قدرت کا ایک انوکھا راز ہے اور کیا آپ کو علم ہے یہ پیدا کہاں ہوتے ہیں؟ یہ گیارہ ہزار سے سترہ ہزار فٹ کی بلندی پر سرسبز پہاڑی علاقوں میں ایک جھاڑی نما پودہ ہوتا ہے بعض اوقات یہ بڑی جھاڑی چھوٹے درخت کے برابر ہوجاتی ہے اس پر کانٹے لگتے ہیں اور ان کانٹوں کے درمیان یہ کالے دانے لگتے ہیں۔ جسے پہاڑی لوگ چن کر بیچتے ہیں اور یوںچلتے چلاتے یہ ہماری بازاروں تک پہنچ جاتے ہیں۔
آپ نے عقابی نگاہیں محاورہ پڑھا ہوگا یعنی ایسی تیز نگاہیں جو میلوں سے باریک چیز دیکھ لیتی ہیں۔ حیران ہوں گے کہ عقاب کی خوراک یہی کالے دانے یعنی جنہیں میں کالی کشمش کہوں گا عقاب ان دانوں کو کھا کر ایسا طاقتور ہوتا ہے وہ پل بھر میں زمین پر چلنے و الے سانپ کو بھی جھپٹ لیتا ہے فاختہ اور کبوتر کو بھی اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر بیٹھا عقاب زمین پر چلنے و الے چھوٹے سے چھوٹے کیڑے اپنی ان تیز نگاہوں سے دیکھ لیتا ہے اس کی وجہ کالی کشمش ہے۔ آپ پنساری سے خریدتے ہوئے کالی کشمش نہ کہیے گا اسے زرشک کہیے گا زرشک شیریں۔۔۔
پہلا فائدہ: یہ زرشک سیاہ دماغی تقویت کیلئے نظر کی قوت کیلئے عینک کے توڑ کیلئے قدرت کا ایک انوکھا طبی راز ہے۔ ایک چمچ زرشک شیریں ایک دود ھ کے نیم گرم بڑے گلاس کے ساتھ اگر نہار منہ خوب چبا کر لے لیا جائے اور اسی طرح عصر کی نماز کے بعد تو اس کے وہ کمالات آپ پر کھلیں گے کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔ میں نے ایسے ایسے لوگوں کو زرشک کا استعمال کرایا جو اپنی یادداشت کھوبیٹھے تھے دماغ کمزور ہوچکا تھا ان کی نظر پر اثر تھا ان کی سوچوں پر اثر تھا‘ ان کی نظر سوچیں اوردماغ بہت کمزور تھا۔ ان کی طبیعت میں بہت زیادہ کمزوری تھی وقت سے پہلے بڑھاپا بال سفید ہورہے تھے‘ سردکھتا رہتا تھا‘ حتیٰ کہ دائمی سردرد کے مریض تھے۔ یا چہرے پر جھریاں بڑھتی چلی جارہی تھیں اس کیلئے میں نے اس کو بہت مفید پایا۔
دوسرا فائدہ: ہیپاٹائٹس کا پرانے سے پرانا مریض جگر کی کوئی تکلیف‘ کالا یرقان ہو یا پیلا‘ جگر سکڑ رہا ہو یا جگر کا کینسر بتایا گیا ہو‘ اس کیلئے اس سے بڑھ کر انوکھا طریاق راز اور صحت کی انوکھی خوشخبری آپ کو کہیں سے نہیں ملے گی۔ ایک صاحب کو میں نے یہ استعمال کرایا چند ماہ استعمال کرکے کہنے لگے اس سے پہلے ڈاکٹر کہتے تھے کہ جگر بالکل ختم ہوچکا ہے اور سکڑ رہا ہے اب کہتے ہیں کہ اتنا بہترین ہوگیا ہے کہ ایسے شخص کیلئے جس کا جگرخراب ہوگیا ہو اگر آپ کے جگر کا ٹکڑا لیکر اس کو لگا دیا جائے تو اس کو بھی نئی زندگی مل سکتی ہے۔
ایسے ایک مریض نہیں بے شمار مریضوںکو جو جگر کے مسائل میں مبتلا تھے میں نے استعمال کرایا۔ گرمی کے موسم میں اس کا ایک انوکھا مزہ ہے آپ ایسا کریں عرق گلاب ایک چھوٹا چائے کا کپ لیکر اس میں دو بڑے چمچ زرشک کے رات کو بھگودیں۔ صبح زرشک کھاکر خوب چبا چبا کر اوپر سے ہلکا ہلکا گھونٹ عرق گلاب کا پی لیں حسن‘ جوانی‘ نکھار‘ شادمانی‘دماغ‘ دل‘ پٹھے‘ اعصاب ‘ جسمانی قوتیںاور کھوئی ہوئی طاقتوں کے حصول کیلئے اس سے بڑھ کر کوئی چیز شاید آپکو نہ ملے۔ اسی طرح آپ موسم سرما میں دو بڑے چمچ رات کو ایک کپ دودھ میں بھگو دیںصبح وہی دودھ گرم کرکے کشمش چبا کر کھائیں اور وپر سے گھونٹ گھونٹ دودھ پیتے جائیں تو اس کے بھی یہی فائدے ہوں گے۔
میں نے جوڑوں کے ایسے لاعلاج مریضوں پر اس کو آزمایا اور خاص طور پر ایسے لوگ جو کسی تشدد کی وجہ سے گوشت اور ہڈیاںتڑوا چکے ہیں یا کوئی ایسی چوٹ اور حادثے سے اپنے جسم کو زخمی کراچکے ہیں یا زخم تو ٹھیک ہوگئے لیکن ان کی ہڈیوں اور جسم پر اثرات باقی ہیں ان کے لیے میں نے اس سے بڑا تجربہ نہیں پایا۔ کہ اس سے بڑا تجربہ اور شاید آپ کو کہیںملے گا بھی نہیں جوڑوںکے درد‘ ہڈیوں کی چوٹ‘ہڈیوںکا توڑ پھوڑ‘ پنڈلیوں میںدرد رہتا ہو‘ ہروقت اینٹھن‘ سوتے وقت بے چینی‘ اور جی چاہتا ہو کہ میں کسی تیل کی مالش کروں یا خوب کس کر پٹیاں باندھوں یا مجھے کوئی دبائے۔ میں نے ایسے لوگوں کو استعمال کرنے کے لیے دیا بعض مریضوں کو میں یہاں تک کہہ دیتا ہوں کہ ہر کھانے کے بعد دو چمچ زرشک شیریں گرم دودھ‘چائے یا تازہ پانی سے چبا کر کھالیں انکو بھی فائدہ بہت ہوتا ہے۔
یہ ایک ایسی بوٹی کا پھل ہے جس کو ٹائروں کی دھوئیں کی کیمیکل کی آلودگی تو آلودگی اس کااثر بھی نہیں پڑتا قدرت کے انوکھے رازوں میں اس کی نشوونما ہوتی ہے‘ شبنم جھوم جھوم کر اس کو چومتی ہے‘ بارش ڈوب ڈوب کر اس کو پالتی ہے بادل اس پر چھاؤں کرتے ہیں‘ سورج اس کے حسن کو نکھارتا ہے‘ چاند اپنی چاندنی سے اس میں مٹھاس اور ذائقہ بناتا ہے ۔ پھر یہ کالے دانے بظاہر تو کالے دانے ہوتے ہیں لیکن حسن اور دلربائی میں ایک انوکھا راز بن کر سفیدی‘ رنگت حسن اور نکھار اور فٹنس کیلئے وہ راز بن کر سامنے آتے ہیں جنہیں لوگ اب تک بھولے ہوئے ہیں۔
یقین جانیے! یہ سستی زرشک شیریں کیا خوب چیز ہے… جو بھی کھائے عقابی نظریں عقابی اڑان‘ عقابی پھرتی عقابی طاقت اور عقابی ولولے‘ عقابی جذبے اور عقابی جھپٹنا‘ عقابی پلٹنا اور عقابی لہو گرم رکھنے کا یہ زرشک شیریں ایک بہانہ ہے۔
کیا خیال ہے… ہے نا انوکھا راز سوچوں سے کہیں بڑھ کر‘ لیکن تجربے میں خوب سے خوب آپ خوب آزمائیں آج کھاد اور گندے پانی سے پلے پھل اور سبزیاں آپ کو دے ہی کیا سکتے ہیں قدرت کو آواز دیں ہزاروں میل دور اور ہزاروں میٹر پر لگے ان کالے دانوں پر اعتماد کریں۔ آپ پنساری سے کلو بھر لے لیں صاف کرلیں‘ شیشے کے جاڑ میںمحفوظ رکھیں فریج میں رکھنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی رکھیے گا بس چمچ یا دو چمچ بھر لیجئے چبا کر کھائیے بچوں کو کھلائیے مہمانوں کی ضیافت کیجئے گھر میں پلاؤ زردہ بریانی کسٹرڈ‘ پکائیں اس کو ڈال کر دیکھیں لذت بھی ذائقہ بھی اور صحت بھی… الغرض زرشک شیریں جوڑوں‘ پٹھوں اعصاب‘ معدہ قبض‘ جگر کی تمام بیماریاں‘ ہیپاٹائٹس‘ دل کی تقویت‘ دماغی کمزوری‘ قبل ازوقت بڑھاپا‘ جسم کی تھکن‘ طبیعت کی تھکن ان سب کیلئے ایک نہایت آزمودہ راز ہے۔ جو بھی استعمال کرے اسے فائدہ پہنچے آپ استعمال کیجئے میری بہت آزمودہ ہے آزمائیں تو اس کے فائدے بھی لکھیں۔ بخیل نہ بنا کریںمیں آپ تک راز پہنچاتا ہوں ابھی تک کتنے لوگ ایسے ہیں جو سوچ رہے ہیں کہ ہم عبقری کیلئے اپنے دل کے راز لکھیں ہاں لکھا کریں مگر تفصیل سے لکھا کریں واقعات کے ساتھ آج ہی قلم اٹھائیں بے ربط لکھیں ٹوٹا پھوٹا لکھیں لیکن لکھیں ضرور۔ وعدہ رہا……

  

نہ کج تھیا ہے تے نہ کاں تھیا ہے

logo pic email
داؤدخیل میں آزاد گروپ بالٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان چیرمین کے لیے جنگ جاری ہے پی ٹی آئی کی جانب سے اکثریت کا دعوی کیا جا رہا ہے اور گزشتہ روز انہوںنے اپنے نو منتخب امیدواروں کے ساتھ اپنی پاور شو کی اور جماعت اسلامی کے منتخب کونسلر عبد اللہ کو وائس چیرمین نامزد کر دیا گیا جبکہ آزاد امیدوار غضنفر اللہ خان نے بھی پی ٹی آئی میں شمولیت کا اظہار کر دیا اور نو ممبران کے ساتھ وہ بھی موجود تھے اور انہی ںپی ٹی آئی کی جانب سے لیبر کو نسلر کی سیٹ آفر کر دی گئی ہے لیکن ابھی تک پی ٹی آئی کی جانب سے چیرمین کا امیدوار سامنے لانے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہی ہے کیونکہ اس وقت پی ٹی آئی کی جانب سے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے چھ امیدوار چیرمین کے لیے امیدوار ہیں جس کی وجہ سے اس وقت پی ٹی آئی کے رہنما بھی سخت پریشانی میں مبتلا ہیں دوسری جانب بالٹی گروپ کے ساتھ امیدوار پر امید ہیں کہ وہ میونسپل کمیٹی داؤدخیل میں اپنا چیرمین منتخب کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن ان کی بھر پور کوششوں کے باوجود ابھی تک وہ ساتھ کونسلروں سے آٹھ ہونے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے لیکن عوامی رائے کے مطابق ان میں کامیاب ہو نے والے سابق کونسلر جو اس بار حادثاتی طور پر بلامقابلہ کونسلر منتخب ہو گئے جن کی سابقہ ادوار میں ان کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ان کے دور میں ان کے محلہ میں جوا ء ان کے اڈوں پر سرعام ہوتا رہا ہے جس کی وجہ سے کئی کونسلروں نے بالٹی گروپ میں ان کی وجہ سے شمولیت اختیار نہیں کی جس کی وجہ سے اس وقت بالٹی گروپ کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے کیونکہ ایسے نمائندوں کو اب عوام قبول نہیں کرتی ہے جبکہ کونسلر غضنفر اللہ کی الیکشن مہم میں ان کا بھر پور ساتھ دینے میں سابق کونسلر غلام یسین خان ربزئی ،کونسلر عظمت اللہ فوجی نے دیا لیکن ان کی کامیابی کے بعد دونوں کونسلرو ںکی جا نب سے اس کی بھر پور منت سماجت کی گئی لیکن غضنفر اللہ نے ان کی ایک نہ مانی اور اپنے فیصلے پر برقرار رہتے ہوئے انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی اور یوں ان کی شمولیت سے پی ٹی آئی مضبوط ہو گئی جس کی وجہ سے ایک بار پھر داؤدخیل میونسپل کمیٹی کی چیرمین شپ پی ٹی آئی کو جاتی ہوئی نظر آرہی ہے اور پھر داؤدخیل کے مقدر میں اپوزیشن ہو گی اور عوام کے مقدر میں وہی مسائل گرلز سکول کے پا س گندگی کے ڈھیر ،محلہ شریف خیل ،سمال خیل ،سالار ،میں سیوریج کے بند گٹروں کا ابلتا پانی اور سینکڑو ں گھر پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترستے رہیں گے اور ساتھ ہی داؤدخیل کی بدقسمتی کے ایک بار پھر داؤدخیل کو تحصیل کا درجہ خواب ہی رہ گیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ نو منتخب کونسلر داؤدخیل کے مسائل حل کرانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں بالٹی گروپ کو حکومتی نمائندوں کی سپورٹ حاصل ہے کیونکہ کہ بالٹی کے امیدواروں میں اکثریت شادی خیل گروپ اور روکھڑی گروپ کی ہے اور وہ اپنی کوششوں سے فنڈز لا کر داؤدخیل کے مسائل حل کرانے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں واضح رہے کہ ا س سے قبل سابق ناظم غلام شبیر خان بھاری اکثریت کے ساتھ ناظم منتخب ہوئے تو وہ بھی حکومت کی بجائے اپوزیشن میں چلے گئے اور داؤدخیل کا پانچ سال تک کوئی کام نہیں ہو سکا اور اس وقت کے وزیر اعلی پر ویز الہی کی جانب سے میانوالی کی ہر یونین کونسل کو دس دس لاکھ روپے کی خصوصی گرانٹ دی گئی جبکہ داؤدخیل کے ناظم کی ضلع ناظم حمیر حیات خان کے ساتھ سیاسی مخالفت ہونے کی وجہ سے وہ دس لاکھ روپے نہ مل سکے اسی طرح ان کے بعد ضلع بھر میں سب سے زیادہ لیڈ کے ساتھ کامیاب ہونے والے امیدوار سابق ناظم امین اللہ خان بھی جن کو سابق ضلع ناظم حمیر حیات خان کی جانب سے غلام شبیر خان کے دور میں فنڈز دیے گئے اور ترقیاتی منصوبوں پر ناظم غلام شبیر خان کی بجائے امین اللہ خان کے نام کی تختیاں لگائی گئیں اور جب وہ خود ناظم منتخب ہوئے تو انہوںنے حمیر حیات خان کو ووٹ دیا اور ناظم ضلع حاجی عبید اللہ خان شادی خیل منتخب ہوئے اور پھر داؤدخیل اپوزیشن میں چلا گیا اور عوام سے بلند بانگ دعوے کرنے والے ناظم کو پانچ سالہ دور میں کوئی ترقیاتی فنڈز نہ ملے جس کی وجہ سے داؤدخیل مسائلستان کا شکار ہو گیا اور اب دس سال بعد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ایک بار پھر وہی صورتحال سامنے آگئی ہے داؤدخیل کو پی ٹی آئی کا گڑھ کہنے والوں کو عوام نے مسترد کر دیا تھا اور پی ٹی آئی کے 12ٹکٹ پر لڑنے والوں میںسے صرف چھ سیٹیں پی ٹی آئی لینے میں کامیاب ہوئی جب کے دس امیدواروں میں سے نو آزاد امیدوار جبکہ ایک جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر امیدوار کامیاب ہوئے لیکن پی ٹی آئی کے رہنماوں کی بھر پور محنت اور کوششوں سے وہ جماعت اسلامی اور دو آزاد امیدواروں کی سیٹیں اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہو گئے اگر اب پھر پی ٹی آئی کی حکومت آتی ہے تو پھر داؤدخیل کو اپوزیشن ملے گی اور یوں داؤدخیل کے پچھلے پچیس سے تیس سال اپوزیشن کی نظر ہو جائیں گے اور پھر داؤدخیل کے مسلے اسی طرح رہیں گے اور عوام ذلیل و خوار ہو تی رہے گی کیونکہ میونسپل کمیٹی کی فنڈنگ وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے دی جائے گی اور لازمی بات ہے جس سے طرح ہمارے ایم پی اے جو تین سال میں حکومت پنجاب کی جانب سے ایک روپے کا فنڈز بھی نہیں دیا گیا اسی طرح میونسپل کمیٹی کو فنڈز نہیں ملیں گے اور شہر کے مسائل جوں کے توں رہیں گے بلکہ مجھے اپنے ایک سابق کونسلر عظمت اللہ فوجی کی بات یا دآگئی ہے کہ ہمارے ٹاؤن کمیٹی کے سابق چیرمین کو ڈی سی او نے کچھ کام کہا کہ اس طرح کرو تو آپ کا یہ مسلہ حل ہو جائے گا تو انہوں نے کچھ دن ڈی سی او کو ملنے کے بعد کہا کہ جناب (ناں کج تھیا تے نہ کاں تھیا ہے )اسی طرح اس بار پھر داؤدخیل میں ،،ناں کج تھیسی تے نہ کاں تھیسی ،، تو ڈی سی صاحب نے کہا کہ یہ کج اور کاں کیا بلا ہے یعنی کے داؤدخیل میں کچھ بھی نہیں ہو اآپ نے تو کہا کہ اس کام سے آپ کے مسلے حل ہو جائیں گے اب پی ٹی آئی کوبھی چاہیے کہ وہ بھی آپس میں اتفاق سے کام لیں اور جو بھی ان کا امیدوار داؤدخیل کے لیے موذوں ترین ہو ا سکو منتخب کریں تاکہ شہر کی بہتر فلاح و بہبود ہو اور عوام خوشحال ہو اور کچھ ترقیاتی کام ہوں اور داؤدخیل میں جو بے روزگاری کا سونامی ہے اس کا خاتمہ ہو داؤدخیل میں سیمنٹ اور کھاد کے کارخانے ہیں جن میں اس وقت سینکڑوں افراد کام کر رہے ہیں لیکن افسوس کے داؤدخیل کی عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے اور داؤدخیل کے کسی نوجوان کو فیکٹریوں میں بھرتی نہیں کیا جا تا ہے جو کہ ظلم ہے اللہ کرئے کہ داؤدخیل کے منتخب نمائندے اپنے شہر کے لیے کچھ بہتر پالیسیاں اختیار کر کے ا س شہر کو پسماندگی کی دلدل سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں کونسلر اقبال خان جو کہ روکھڑی گروپ کے دیرینہ ساتھی ہیں انہوں نے گزشتہ روز باقاعدہ طور پر پر یس کانفرنس کر کے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور اب ان کو پی ٹی آئی کی جانب سے چیرمین بنانے کے امکان بھی ہیں کیونکہ انہوںنے پرانے گروپ کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں گئے ہیں جو آئندہ بھی پی ٹی آئی کے لیے الیکشن میں کافی ووٹ لے کر دے سکتے ہیں بہرحال اب عوا م کی نظریں چیرمین شپ پر ہیں کہ کون یہ سہرا اپنے سر سجانے میں کامیاب ہو تا ہے اب دیکھنا ہے کہ کج تھیندا ں کہ کاں تھینداں ۔۔۔۔۔۔۔۔

ضیاء اللہ نیازی
نمائندہ داؤدخیل

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل ، میانوالی ۔0333.6828540
مختصرتذکرہ حیات
عاشق رسولﷺ امام احمدرضاخان الشاہ بریلوی
جب بھی دین میں کوئی بگاڑپیداہوتاہے تواللہ تعالیٰ اپنے بندۂ مومن کوبھیجتاہے جواللہ تعالیٰ کی مددسے دین ِ متین کااحیاء کرتاہے ۔سرکاراعظمﷺ کی مُردہ سنتوں زندہ کرتاہے ۔دین ِ متین کی جوشکل مسخ کردی گئی ہوتی ہے اس کوصحیح حالت میں لاکرحق اورباطل کے درمیان فرق واضح کرتاہے ایسے ہی خاصان ِ خدامیں سے ایک ہستی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخانصاب محدّث بریلی ؒ کی ذات ہے ۔
قرآن مجیدفرقان حمیدمیں ارشادپاک ہے ۔وَتُعِزَِّرُوْہُ وُتُوَقّرُہُ وَتُسبحوہُ بُکْرَۃَََ وَاصِیْلاَ۔ترجمہ کنزالایمان اوررسول ﷺکی تعظیم وتوقیرکرو۔اورصبح شام اللہ پاک کی پاکی بولو۔ (پارہ۲۶سورۃ الفتح )درج بالاآیت کریمہ کے پہلے حصے میں اللہ رب العزت نے یہ حکم دیاہے کہ رسول اللہ ﷺکی تعظیم وتوقیرکروان کاادب واحترام کرو۔اس لئے کہ اگرادب ہے توسب کچھ درست ہے اگرایک مسلمان کے دل میں آقادوجہاں سرورکون مکان ﷺکاادب نہیں ہے۔ توچاہے وہ لاکھوں نمازیں پڑھے کروڑوں روپے کی سخاوت کرے ، کعبۃ اللہ کاحج کرے ،قربانی کرے الغرض جتنی بھی عبادت وریاضت کرے توسب کچھ بے کارہے ۔کیونکہ آقائے دوجہاںسرورکون ومکان ﷺکی محبت دین حق کی شرط اّول ہے۔
محمدﷺکی محبت دین حق کی شرط اوّل ہے اسی میں ہواگرخامی توسب کچھ نامکمل ہے
اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان بریلوی ؒ نے لوگوں کوبارگاہ خداوندی اوردربارمصطفی ﷺکاادب سکھایا۔آپؒ نے قرآن پاک کا جوترجمہ “کنزالایمان” کیاہے وہ اس بات کی گواہی دیتاہے ۔قرآن پاک کے ترجمہ کنزالایمان کامطالعہ کیاجائے توالحمدسے لیکروالناس تک ایک ایک آیت بلکہ ایک لفظ میں ادب کے پہلونظرآتے ہیں چودہویں صدی ہجری میں کچھ بے ادب اورگستاخوںنے سرکارمدینہ راحتِ قلب وسینہ ﷺکی شان اقدس میں بے ادبیاں اورگستاخیاں شروع کیں تواللہ رب العزت نے احمدرضاکوپیداکیا۔آپؒ نے قرآن وسنت کی روشنی میں تحریراََ گویاہر لحاظ سے عظمت مصطفیٰ ﷺکواجاگرکر کے بتایاکہ ارے! بے ادب اورگستاخ نام نہادمسلمانوں سنو!وہ عیب ونقص والاکوئی تمہارا نبی ہوگا ہمارا نبی ﷺ ہرقسم کے عیب سے پاک ہے ۔وہ توعظمتوں رفعتوںاورشانوں والارسول ﷺہے ۔
وہ کمالِ حسن حضورہیں کہ گمان نقص جہاں نہیں یہی پھول خارسے دورہیں یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں۔
علم وحکمت کے بے تاج بادشاہ، مجدددین وملت،پروانہ شمع رسالت مآب،عظیم المرتبت محدث ،امام اہلسنت، مفکر اسلام ،حسان الہند، اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمدرضاخان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ 10شوال المکرم 1272ہجری بمطابق14جون 1856؁ ہفتہ کے دن ظہرکے وقت ہندوستان کے مشہورشہربریلی شریف کے محلہ جسولی میں رئیس المتکلمین مولانانقی علی خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کے گھرمیں پیداہوئے ۔آپؒ کا پیدائشی نام محمداور تاریخی نام “المختار”ہے۔آپ ؒکے جدامجدمولانارضاعلی خان ؒ نے آپؒ کانام احمدرضارکھا اورآپؒ اسی نام سے مشہورہوئے (الملفوظ حصہ اول ص۳) آپ ؒکے والدمولانانقی علی خان ورآپؒ کے جدامجدمولانارضاعلی خان صاحب بھی اپنے وقت کے جلیل القدرعلمائے کرام میں شمارکیے جاتے تھے۔ امام اہلسنت امام احمدرضاخان بریلوی ؒبچپن ہی سے مذہب کی طرف راغب تھے۔ آپؒ اپنے دورکے معتبرعالم دین اورعاشق رسول ﷺہونے کے ساتھ ساتھ علوم قدیمہ وجدیدہ پرگہری نظررکھتے تھے ۔آپؒ نے قرآن وسنت کی ترویج واشاعت اوردینی اقدارکے تحفظ میں اہم کرداراداکیا۔آپؒ عالم شباب میں ہی فنون عربیہ اورعلوم دینیہ کے ماہرکے طورپرمشہورہوئے آپؒ اپنی خدادادصلاحیتوں اورحیرت انگیز حافظہ کی بناء پرصرف تیرہ سال دس ماہ چاردن کی عمرمیں علم تفسیرواصول تفسیر،علم حدیث واصول حدیث،فقہ و اصول فقہ،صرف نحو،علم الکلام ، منطق و فلسفہ وغیرہ تمام علوم دینیہ کی تکمیل کی۔آپؒ بچپن ہی سے تقویٰ طہارت ،اتباع سنت،حسن وسیرت کے اوصاف جلیلہ سے مزین ہوچکے تھے ۔ آپؒ کے خادم بیان کرتے ہیں کہ امام صاحب چوبیس گھنٹوں میں صرف ڈیڑھ یادوگھنٹے آرام(وہ بھی سنت رسول ﷺپرعمل کی وجہ سے) فرماتے اورباقی تمام وقت تصنیف وتالیف،درس وتدریس،کتب بینی، افتاء اوردیگرخدمات دینیہ میںصرف فرماتے تھے۔برصغیرکے علمائے کرام آپؒ سے استفادہ کرتے تھے۔ آپؒ کوعربی فارسی ہندی اورمختلف زبانوں پرعبورحاصل تھاآپؒ نے مختلف عنوانات پرکم بیش ایک ہزار(1000) کتابیں لکھی ہیں۔آپؒ کی تصانیف تفسیرواصول تفسیر،حدیث واصول حدیث،فقہ اصول فقہ، صرف نحو،علم الکلام ، منطق و فلسفہ ،ادب،ریاضی ،معاشرتی اصلاح ،اخلاقی و روحانی اذکار،فتاویٰ اورسائنس جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔ آپؒ نے لاکھوں فتاوٰی لکھے ان میں سے بعض کونقل نہیں کیاجاسکاجتنے فتاوٰی نقل کیے گئے ان کانام ـ”العطایاالنبویہ فی الفتاوٰی رضویہ”رکھاگیاہے آپؒ کوعلم توقیت میں اس قدرکمال حاصل تھاکہ دن کوسورج اوررات کو ستارے دیکھ کرگھڑی ملالیتے تھے وقت بھی صحیح ہوتاتھا۔ اورکبھی ایک منٹ کابھی فرق نہ ہوا۔آپؒ نے ساری زندگی نمازباجماعت اداکی ۔آپؒ رحم دل انسان تھے غرباء کوکبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے بلکہ ان کی ہمیشہ امدادکرتے تھے ۔
؎کروں تیرے نام پرجاں فدانہ بس ایک جاں دوجہاں فدا دوجہاں سے بھی نہیں جی بھراکروں کیاکروڑوں جہاں نہیں
اعلیٰ حضرتؒ کی ساری زندگی درس وتدریس ،وعظ تقریرافتاء اورتالیف وتصنیف میں بسرہوئی۔آپؒسرتاپاجذبہ عشق رسول ﷺسے سرشاررہتے تھے۔ آپؒ کونبی کریم ﷺ سے والہانہ محبت تھی ۔ذکروفکرکی ہرمجالس میں تصوررسالت مآب ﷺسے آپؒ کا ذہن شاداب رہتاتھا۔آپؒنے دین مبین کے ہرگوشے اورہرشعبے کومحبت رسول ﷺمیں سمودیا۔آپؒ کی زندگی کے تمام گوشے وشعبے اتباع شریعت اوراطاعت ومحبت رسول ﷺ سے معمورتھے۔آپؒ کی حیات مبارکہ کاایک ایک لمحہ کتاب و سنت کی پیروی میں گزرا۔آپؒ نے عالم بیداری میں محبوب خدا ﷺ کادیدارکیا۔ جب آپؒ فریضہ حج کے لئے حرمین جاتے تووہاں کے علماء جوق درجوق آپ ؒسے استفادہ کرنے آتے تھے۔جب آپؒ دوسری بارحج بیت اللہ کے لئے تشریف لے گئے توزیارت نبوی ﷺکی آرزولئے روضہ اطہر کے سامنے دیرتک صلوٰۃ وسلام پڑھتے رہے مگرپہلی رات قسمت میں یہ سعادت نہ تھی اس موقع پرآپؒ نے معروف نعتیہ غزل لکھی۔
؎ وہ سوئے لالہ زارپھرتے ہیں تیرے دن اے بہارپھرتے ہیں
یہ غزل عرض کرکے آپؒ دیدارمصطفی ﷺکے انتظارمیں ادب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ قسمت جاگ اٹھی جان کائنات محمدمصطفی ﷺ کی چشمان سرسے بیداری میں زیارت اقدس سے مشرف ہوئے ۔(بحوالہ حیات اعلیٰ حضرت)آپؒ کے اندرعشق رسول ﷺکوٹ کوٹ کربھراہوا تھا آپؒ فنافی الرسول کے اعلیٰ منصب پرفائزتھے آپؒ کانعتیہ کلام اس بات کی گواہی دیتاہے ۔آپؒعلوم دینیہ کے عالم وفاضل ہونے کے ساتھ شعروسخن کابھی اعلیٰ ذوق رکھتے تھے ۔آپؒ کاذوق تسلیم حمدوثناء اورنعت ومنقبت کے علاوہ کسی اورصنف وسخن کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔آپؒ کے اس شعروسخن کے کلام میں بھی وہی عالمانہ وقارہے۔آپؒ فن ِشعرمیں کمال رکھتے تھے ۔آپؒ نے جس والہانہ عقیدت سے اورجذبہ عشق میں ڈوب کرجونعتیں کہیں ان کا ایک ایک لفظ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نکلاہے اوردل میں ہی اترجاتاہے آپؒ کے مشہورزمانہ “سلام”کی گونج پورے عالم اسلام میں سنائی دیتی ہے۔
مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام
آپؒ فرمایاکرتے تھے کہ اگرکوئی میرے دل کے دوٹکڑے کرے توایک پرلاالٰہ الااللّٰہ اوردوسرے ٹکڑے پرمحمدرسول اللّٰہ ﷺ لکھاہواپائے گا(سوانح امام احمدرضا)آپؒنے اپنے شاہ کارنعتیہ کلام حمدوثناء اورنعت ومنقبت کوچارمختلف زبانوں (عربی فارسی،اردواور ہندی) میں پیش کیاہے ۔آ پؒ کانعتیہ دیوان”حدائق بخشش “ہے ۔ آپؒ فراق مصطفی ﷺمیں اکثرغمگین رہتے تھے گستاخانہ عبارت کودیکھتے تو آنکھوں سے آنسوجاری ہوجاتے تھے ۔ نبی کریم ﷺکے گستاخوں کاسختی سے ردکرتے تاکہ وہ اعلیٰ حضرت کوبرابھلاکہنایالکھناشروع کردیں تاکہ جتنا وقت مجھے برابھلاکہے یالکھے گااس وقت تک آقا ﷺکی شان اقدس میں گستاخی کرنے سے بچارہے گا۔آپؒ اس پرفخرکیاکرتے تھے کہ باری تعالیٰ نے اِس دورمیں مجھے ناموسِ رسالت مآب ﷺکے لئے ڈھال بنایاہے۔
ٓٓٓصحبت صالح تُراصالح کند صحبتِ طالح تُراطالح کند
دُورشوازاختلاطِ یاربد یارِبدبدترازمارِبد
مارِبدتنہاہمیں برجاںزند یارِبدبرجان وبرایمان زند
اچھے آدمی کی مجلس تجھے اچھاکردے گی اوربُرے کی مجلس تجھے بُرابنادے گی
جہاں تک ہوسکے بُرے دوست سے دوررہ کیونکہ بُرادوست برے سانپ سے بھی بُراہے
کیونکہ بُراسانپ صرف جان کوڈستاہے جبکہ بُرادوست جان وایمان دونوں پرضرب لگاتاہے ۔
آپؒ سوتے وقت ہاتھ کے انگوٹھے کوشہادت کی انگلی پررکھ لیتے تاکہ انگلیوں سے لفظ “اللّٰہ “بن جائے ۔آپؒ پَیرپھیلاکرکبھی نہ سوتے بلکہ داہنی کروٹ لیٹ کردونوں ہاتھوں کوملاکرسرکے نیچے رکھ لیتے اورپائوںمبارک سمیٹ لیتے ۔اِس طرح جسم سے لفظ “مُحمد”بن جاتاہے ۔
آپؒ کی زندگی کاایک اورپہلوبھی بہت اہم ہے کہ آپؒ کے دانش وعلم کامرکزصرف عبادت گاہیں ،مدرسے ہی نہ تھے بلکہ آپؒ کی نگاہ برصغیرپاک وہنداوردنیاکی سیاست پربھی تھیں آپؒ نے برصغیرمیں اسلامی اقدارکوبرسرنوزندہ کرنے اورمسلمانوں کوان کی گمشدہ میراث واپس دلانے کے لئے بہت جدوجہدکی ۔آپؒ کے زندہ کارناموں میں سے ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ آپؒ تحریک آزادی کے علمبرداراور دوقومی نظریہ کے نقیب تھے اس لئے آپؒ نے تحریک عدم تعاون اورترکِ موالات کے زمانے میں متحدہ قومیت کے نظریے کوباطل قراردیااور مسلمانانِ برصغیرکوہندئووں اور انگریزوں کی سازشوںسے خبردارکیاآپؒ نے کبھی کسی انگریزیاہندوکی عدالت میں حاضری نہیں دی تھی حتیٰ کہ آپ ڈاک کاٹکٹ ہمیشہ الٹا چسپاں کیاکرتے تھے۔اس ٹکٹ کوالٹاچسپاںکرنے کی اہم وجہ یہ تھی کہ اس ڈاک کے ٹکٹ پرانگریزملکہ یابادشاہ کی تصویرہواکرتی تھی ۔
ایک دن جمعۃ المبارک کی نمازکے بعداعلیٰ حضرت امام احمدرضاخانؒتشریف فرماتھے حاضرین کامجمع تھا۔لوگ مسائل پوچھتے جارہے تھے اوراعلیٰ حضرت جواب دیتے جارہے تھے۔ اس وقت خلیفہ اعلیٰ حضرت ،مولاناسیدحافظ محمودجان صاحب نے عرض کیاحضورمیں دیکھتاہوں کہ ہرمسئلے کا جواب آپکی نوکِ زبان پرہے کبھی کسی مسئلے کے متعلق آپؒ کویہ فرماتے نہیںسناکہ کتاب دیکھ کرجواب دیاجائے گاجب اعلیٰ حضرت نے یہ بات سنی توآپؒ کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے اورفرمایا،سیدصاحب!جب قبرمیں مجھ سے سوال ہوگاتووہاں کتابیں کہاں سے لائوں گا۔جب آپؒ کی وفات کاوقت قریب آیاتوآپؒ نے مریدین کوبلاکرفرمایاجب میراانتقال ہوجائے تویادرکھومیری قبراتنی گہری کھودناکہ جس میں میں کھڑا ہو سکوں غلاموں نے عرض کیاحضورحسب معمول توقبراتنی گہری کھودی جاتی ہے کہ جس میں آدمی بیٹھ سکے آپؒ نے فرمایاکہ سرکاردوعالم نور مجسم ﷺکی حدیث پاک ہے کہ جب آدمی فوت ہوجاتاہے تواس کی قبرمیں خودکملی والے ﷺتشریف لاتے ہیں لہذامیں چاہتاہوں کہ میری قبر اتنی گہری ہوکہ جب امام الانبیاء محمدمصطفی ﷺ!میری قبرمیں جلوہ گرہوں تومیں کھڑاہوکرآپ ﷺکااستقبال کروں اورآپ ﷺکی خدمت اقدس میں صلوٰۃ وسلام کانذارانہ پیش کروں تقدیس خداوندی اورناموس رسالت اورعظمت مصطفی ﷺکی جوتحریک آپؒ نے1878ء سے 1921ء تک جاری رکھی اور محفل میلادکی جو آپؒنے مشعلیں روشن رکھیں وہ آج چمکتے ہوئے ستاروںمیںتبدیل ہوکرچہاردانگ عالم میں روشنیاں بکھیررہی ہیں۔
اعلیٰ حضرت عظیم المرتبت امام احمدرضاخان بریلویؒ نے ایک طویل مدت تک تشنگان علم ومعرفت کواپنے کمالات ظاہری وباطنی سے مستفیدکرکے عالم ِاسلام میں روحانیت ،تقریب الٰہی علم وحکمت اورعشق رسول ﷺکاذوق پیداکرکے 25صفرالمظفر1340ہجری بمطابق28اکتوبر1921؁ بروزجمعۃ المبارک ہندوستان کے وقت کے مطابق2بج کر38منٹ پر آپؒ نے داعی اجل کولبیک کہا۔ادھرمئوذن نے “حی علی الفلاح”کی صدابلندکی ادھر آپؒ نے جان جان آفریں کے سپردکردی ۔اناللّٰہ واناعلیہ راجعون۔آج بھی آپؒ کامزارپرُانواربریلی شریف میں خاص وعام کے لئے زیارت گاہ بناہواہے۔جہاں پرآپؒ کاسالانہ عرس پاک24,25صفرالمظفرکومنایاجاتاہے۔25صفرالمظفرکوبیت المقدس میں ایک شامی بُزرگ ؒنے خواب میں اپنے آپ کودربارِرسالت مآب ﷺمیں پایاتمام صحابہ کرام علیہم الرضوان اوراولیاء عظام ؒ دربارمیں حاضرتھے لیکن مجلس میںسکُوت طاری تھااورایسامعلوم ہوتاتھاکہ کسی آنے والے کاانتظارہے شامی بزرگ ؒ نے بارگاہ رسالت مآب ﷺمیں عرض کی حضور ﷺ! میرے ماں باپ آپ پرقربان ہوں کس کاانتظارہے ؟سید عالم ﷺنے ارشادفرمایاہمیں احمدرضاکاانتظارہے شامی بزرگ نے عرض کی حضور! احمدرضاکون ہیں ؟ ارشادہواہندوستان کے مشہورشہربریلی کے رہنے والے ہیں ۔بیداری کے بعدوہ شامی بزرگؒ مولانااحمدرضاخانؒ کی تلاش میںہندوستان کی طرف چل پڑے اورجب وہ بریلی شریف آئے توانہیں معلوم ہواکہ اس عاشقِ رسول ﷺکااسی روزیعنی25صفرالمظفر 1340ہجری کووصال ہوچکاہے ۔جس روزانہوں نے خواب میں سرورکائنات فخرموجوادت احمدمختار محمدمصطفی ﷺکویہ کہتے ہوئے سناتھاکہ ہمیں “احمد”کا انتظارہے ۔(سوانح امام احمدرضا)
محسن ملت اسلامیہ ڈاکٹرعبدالقدیرخان اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان کے بارے میں فرماتے ہیں آج سے سوسال قبل جب انگریزہندوئوں کے ساتھ سازبازکرکے ہندکی معیشت پرقابض ہوئے تومسلمانوں کے تشخص اورتعلیمی نظام کوزبردست دھچکالگااستعماری طاقتوں کے مذموم عزائم کی بدولت مذہبی قدریں زوال پذیرہونے لگی تھیں اس پرآشوب دورمیں اللہ رب العزت نے برصغیرکے مسلمانوں کوامام احمدرضاجیسی باصلاحیت اورمدبرانہ قیادت سے نوازاکہ جن کی تصانیف،تالیفات اورتبلیغی کاوشوں نے شکست خوردہ قوم میں ایک فکری انقلاب برپا کردیا۔امام صاحب کی شخصیت جذبہ عشق رسول ﷺسے لبریزتھی۔آپکی ساری زندگی کومدنظررکھتے ہوئے یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ آپؒ کی ذات نبی کریم ﷺ کے ساتھ وفاشعاری کانشان مجسم تھی آپ کی ہمہ جہت شخصیت کاایک پہلوسائنس سے شناسائی بھی ہے سورج کوحرکت پذیراورمحوگردش ثابت کرنے کے ضمن میں آپؒ کے دلائل بڑی اہمیت کے حامل ہیں آج جبکہ دوسری طرف ہمارادشمن ہمیں تباہ وبرباد کرنے کے لئے گھات میں بیٹھاہے۔تومیں سمجھتاہوں کہ امام صاحب ؒ کی تعلیمات سے بہرورہوکرہم آج بھی ایک سیسہ پلائی ہوئی دیواربن سکتے ہیں مصورپاکستان ڈاکٹرعلامہ اقبالؒ فرماتے ہیں ؛ہندوستان کے دورآخرمیں ان جیساطبّاع اورذہین فقیہ پیدانہیں ہوا۔میں نے ان کے فتاوٰی کے مطالعہ سے یہ رائے قائم کی ہے ۔ان کے فتاوٰ ی ان کی ذہانت ،فطانت،جودت طبع،کمال ثقاہت اورعلوم دینیہ میں تبحرعلمی کے شاہدعادل ہیں ۔ مولاناایک دفعہ جورائے قائم کرلیتے اس پرمضبوطی سے قائم رہتے تھے ۔یقیناوہ اپنی رائے کااظہاربہت غوروفکرکے بعدکیاکرتے تھے ۔لہذا انہیں اپنی شرعی فیصلوں اورفتاوٰی میں کبھی کسی تبدیلی یارجوع کی ضرورت نہیں پڑی ۔(حوالہ ہفت روزافق کراچی 22تا28جنوری 1979)
اللہ پاک سے دعاگوہوں کہ اللہ رب العزت ہماری تمام جانی مالی عبادات کواپنے حبیب کریمﷺکے صدقے اپنی بارگاہ میں قبول فرماکرہمارے لئے ذریعہ نجات بنائے ۔ ملکِ پاکستان کوامن وسلامتی کاگہوارہ بنائے۔ آقائے دوجہاں سرورکون ومکاںﷺکی بروزقیامت شفاعت نصیب فرمائے مسلمانوں کوآپس میں اتفاق واتحاد نصیب فرمائے ۔اللہ رب العزت عالمِ اسلام اورملک پاکستان کی خیرفرمائے۔اللہ رب العزت آقائے دوجہاں سرورکون ومکاںﷺ کی سچی اورپکی غلامی نصیب فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین

zulfiqar log 14.8.15

نسلِ نو کی آبیاری
جس طرح پھول باغ کی اصل زینت ہوتے ہیںایسے ہی بچے ہر آنگن کی ۔ پھول کھِلے بھَلے لگتے ہیں اور بچے مسکراتے اچھے لگتے ہیں۔پھول خوشبو بکھیرتے اور بچے اٹکھیلیاں کرتے دِل موہ لیتے ہیں۔ پھول اظہارِمحبت کا ذریعہ ہیں تو بچے محبت کا مجسم نمونہ۔جب بچے ہمارا سب کچھ ہیں۔ ہمارا حُسن ہیں، ہمارا چین ہیں، ہمارا سُکھ اِن سے وابسطہ ہے، ہماری محبت ان کی مرہونِ منت ہے۔ ہمارا اَمن، ہماری کامیاب ازدواجی زندگی جب ان کے دِم سے ہے تو پھر ہمیں بچوں کے متعلق بہت حساس ہونا چاہیے۔
کیا ہم بچوں کے بارے حساس واقع ہوئے ہیں؟ اگر جواب بالکل نفی میں نہیں دیاجاسکتاتو کم ازکم کافی حد تک نفی میں ہی جواب بنتاہے۔ کھاتے پیتے گھرانوں میں بچوں کو کھانے پینے کی فراوانی ملتی ہے۔ پہننے کو اچھے کپڑے ملتے ہیں۔ اُن کے علاج معالجے کی طرف بھرپور توجہ مرکوز رہتی ہے اور تعلیمی سہولیات بھی من بھاتی حاصل رہتی ہیں۔متوسط گھرانوں میں بھی بچوں کو کھانے پینے، پہننے ، علاج معالجہ اور تعلیم کی سہولیات میسر رہتی ہیں۔جبکہ غریب اور نچلے گھرانے میں بچوں کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے اور مذکورہ سہولیات بس نام کی میسر ہوپاتی ہیں۔
اکثر والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ بچوں کو اُن کی عمر کے مطابق دلچسپیوں تک ہی محدود رکھا جائے۔ ہم اپنے بچوں کو کوشش کرتے ہیں کہ وہ ٹی وی پر ایسے پروگرام نہ دیکھیں جو اُن کی ذہنی صلاحیت اور عمر سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔ اُن کو کارٹونز، اخلاقی کہانیوں اور کھیل کود کے پروگرامز تک محدود رکھنے کی سعی کی جاتی ہے۔ کئی ٹی وی پروگرامز کے آغاز میں خبردار بھی کردیاجاتاہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچے یہ پروگرام نہ دیکھیں۔ اسی طرح سینما ہال کے باہر بھی لکھا مل جاتاہے کہ بچوں کا داخلہ بند ہے وغیرہ۔ حتیٰ کہ مغربی ممالک میں بھی ٹی وی پر کوئی پروگرام نشر کرنے سے پہلے اس بات کا اہتمام کیاجاتاہے کہ بچوں کی نفسیات پر منفی اثر نہ پڑے۔ مغربی معاشرہ میں عام آدمی کے لیے قابلِ قبول کئی پروگرامز کو اُس وقت نشر کیاجاتاہے جب بچے سو چکے ہوتے ہیں۔
ہماری تہذیب و تمدن میں بھی جب گھر میں بڑے کسی حساس معاملے پر مشاورت اور مکالمہ کرتے ہیں تو اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسی محفل میں بچے نہ بیٹھیں۔ کیوں کہ ایسی محفل میں کئی باتیں زیرِ بحث آتی ہیں۔ نفرت و شدت کے جذبات بھی موجزن ہوتے ہیں۔ اور ایسے معالات بھی جو بچوں کی ذہنی سطح سے بلند ترہوتے ہیں۔ اکثر والدین رشتہ داروں یا کسی اور سے لڑائی جھگڑا وغیرہ کے معاملات میں بھی کوشش کرتے ہیں کہ بچے ملوث نہ ہوں۔ بچوں کو پتا ہی نہ چلے۔ مقصد یہی ہوتاہے کہ بچے کی زندگی پر منفی اثرات نہ پڑیں۔
جو والدین لاپرواہی کا یاناسمجھی کا مظاہرہ کرتے ہیں ، اُن کے بچے قبلِ از وقت ذہنی طور پربڑے ہوکر منفی سرگرمیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اور پھر ہمیشہ کے لیے یہ بچے والدین کا دردِ سر بن جاتے ہیں۔ انہی بچوں کے کرتوتوں کی بدولت اچھے بھلے والدین کو بہت جلد اس دُنیا سے ہی رخصت ہونا پڑجاتاہے۔والدین کی لاپرواہی سے بچوں کو بھی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑجاتے ہیں۔ جیسے چھوٹے بچوں کو موٹرسائیکل پکڑا دینا۔ بچوں کو موبائل کی بغیر نگرانی کے سہولت مہیا کردینا۔جیب خرچ بے دریغ دیئے جانا۔بچے کی ہر جائز ناجائز خواہش کے آگے سرتسلیم خم کرتے جانا۔
یہ تو وہ کمی کوتاہیاں ہیں جو ناسمجھی میں والدین کی طرف سے سامنے آتی ہیں مگر بعض ایسی بیماریاں بھی بچوں میں منتقل کی جارہی ہیں جنہیں شاید اپنا وقار اور مذہبی شعار سمجھ لیاگیاہے۔ سب سے زیادہ یہ بیماریاں نئی نسل کے طفیل معاشرے میں پھیل رہی ہیں۔ آج ہر بندہ ذات پات، لسانی و مذہبی تعصبات کا رونا رو رہاہے۔ یہ تعصبات پیدا کیسے ہورہے ہیں۔ان پہلوئوں پہ غور کی ضرورت ہے۔
ذرا غور کریں کہ ہمارا بچہ وہی کچھ اظہار کرتاہے جیسا ہم اُس کے سامنے عملی طور پر کرتے نظر آتے ہیں۔ ہم جس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اُسے جب فخر کی علامت بناکر پیش کرتے ہیں، وقتاََ فوقتاََ بچوں کی موجودگی میں اپنے قبیلے پر فخر کرتے اور دوسرے قبیلوں کی ہجو کرتے پائے جاتے ہیں تو آہستہ آہستہ بچے کے اندر بھی یہ باتیں داخل ہوتی رہتی ہیں۔ پھر وہ بھی اپنے ہم جماعت ساتھیوں یا گلی محلے کے دوسرے قبیلے کے بچوں سے اَن بَن کے موقع پر اپنے قبیلے کاسہارا لیتے ہوئے مدمقابل کو لتاڑتا ہے۔
یقین کریں اگر ہم گھر میں اس تعصب کو داخل نہ ہونے دیں، سب قبیلوں کو برابر کی نظر سے دیکھیں۔ ذات پات کو بڑائی اور کمتری کی علامت بنا کرپیش نہ کریں تو ہمارے بچے بھی اس بیماری سے چھٹکارا پالیں گے۔
اس کے ساتھ ایک اور بڑا تعصب جو انسانی جان کا دُشمن بن چکاہے ، وہ ہے مذہبی تعصب۔ فرقہ بندی کاتعصب۔ ایک تو ہم اپنے گھروں میں جب فرقہ بندی کا بیج صبح شام بوتے رہیں گے تو ظاہر ہے ہماری اولاد بھی اس سے آلودہ ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ضروری بات یہ کہ ہم اپنے بچوں کو ایسے مسائل میں اُلجھاتے جارہے ہیں جو اِ ن کی عمر کے ساتھ بالکل مطابقت نہیں رکھتے۔ اگر ہم گھر میں نفرت کی بات نہیں کرتے، فرقہ واریت کی بات نہیں کرتے توکیا ہوا، ایسی مسجد میں تو جاتے ہیں جہاں مولوی صاحب اپنے فرقے کو سچا مسلمان اور دوسروں کو گستاخ اور کافر کے طور پر ثابت کرتا پھرتاہے۔ ایسی امام بارہ گاہ میں اپنے ننھے منے بچوں کو ساتھ لے کر اور مائیں گود میں لے کے جاتی ہیں جہاں ذاکر اور مولوی صاحب خود کو حق پر اور باقی سب کو منافق، باطل اور استعمار کا چیلہ ثابت کرنے پر ساری توانائیاں صرف کرتا نظر آتاہے۔
اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے بچوں کو کلمہ ،نماز، روزہ، سچائی، دیانتداری، بزرگوں کا احترام،پڑوسیوں سے اچھا سلوک،قوانین کی پاسداری، صفائی کی اہمیت، قطار بنانے کی ترغیب اور محنت جیسی صفات سے مزین کرنے کے بجائے ان معصوم بچوں کو بھی اپنے اپنے فرقے کا نمونہ بنا کے رکھ دیاہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے اب رنگ برنگی پگڑیوں اور مخصوص لباس میں نظر آتے ہیں۔اتنی چھوٹی عمر میں بچے کو اپنی پسند کے مدرسے میں بھیج دیاجاتاہے۔ کچی عمر کا بچے کو باقاعدہ کسی فرقہ کے مدرسے میں تعلیم کے لیے بھیجنا ، دولے شاہ کے مزار پر چھوڑنے کے مترادف ہے۔ بچے کے دماغ پر ایک مخصوص فرقے کا خول چڑھ جاتاہے جو زندگی بھر اُس کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔
کیا ایسا نہیں ہوسکتاکہ ہم جو شعور کی عمر میں ہیں، خود تو جہاں چاہیں، جس مولوی کو پسند کریں سُنیں۔ جس ذاکر کو دِل مانیں اُس کی آواز پر آنسو بہائیں مگر اپنے ننھے منے بچوں کو بس مذکورہ بنیادی عقائد و عبادات تک محدود رکھیں۔ اُن کو ان مجالس و واعظ و واعظین سے دُور رکھیں۔تاکہ ہماری نئی نسل تو ان تعصبات سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہوجائے۔ اپنے بچوں کو دین کے اختلافی و پیچیدہ مسائل میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔ جب بڑے ہوجائیں۔ شعور کی عمر کو پہنچ جائیں تو پھر اُن کے سامنے سب مساجد اور دیگر مقامات موجود ہوں
گے، جہاں چاہیں وہ جائیں ، کھلے دِل و دماغ سے غور کریں اور جو پسند آئے وہ بلاتعصب سنبھالیں اور فرسودہ خیالات کو دُور پھینکتے جائیں۔
قبیلے پہ فخر کے مظاہر بھی قابلِ تحسین قرار نہیں دیئے جاسکتے۔ سرکاری عہدوں پر براجمان افسران کے ناموں کی تختیاں اس کی گواہ ہیں۔ کوئی کلیم اللہ نیازی لکھتاپھرتاہے تو کوئی محمدنواز اعوان ۔ کوئی راجپوت تو کوئی گوندل۔ کوئی چوہدری تو کوئی وِرک۔ کوئی بھٹی تو کوئی راجہ۔ یہ سب کیاہے؟ کیا یہ صرف پہچان کے لیے قبیلوں کے القاب لکھے جاتے ہیں ، نہیں جناب ان میں بھی ایک برتری کا خمار نمایاں ہوتاہے۔ نیازی، اعوان، گوندل، ورک، بھٹی ، راجہ وغیرہ وغیرہ کوئی اپنے کمال سے تھوڑا ہی بنا ہوتاہے جو ان کو نام کی تختیوں پر سجایا جائے ۔ سرکاری عہدوں پر موجود افسران کی چھاتی اور دفتر پر لگی تختیوں پر کم ازکم قوم قبیلے کا ذکر نہ ہو تو بہت مناسب ہوگا۔ہمیں اپنے سادہ سے نام کو اپنے کارناموں سے نامور کرنا چاہیے نہ کہ اپنے قوم قبیلے کے نام پر ۔ سکول میں بچے کا نام آج کل اتنے بڑے بڑے قوم قبیلوں کے ساتھ لکھے جارہے ہیں کہ لکھنا ہی مسئلہ بن جاتاہے۔ یہاں سے ہی بچوں کے اندر ذات پات کا تصور پختہ ہونا شروع ہوجاتاہے۔ جس طرح ہمارے معاشرے میں ذات پات کا رجحان پایاجاتاہے ، اِن القابات سے گریز کیاجائے تو بہترہے۔ گھر میں بھی باربار بچوں کو یہ احساس نہ دلایاجائے کہ ہم فلاں قوم یا قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں تاکہ بچہ کسی احساس ِ برتری یا کمتری میں مبتلا نہ ہو۔
جیسے ہم اپنے بچوں کو ٹی وی اور سینما پر، گھر کی نجی محفلوں میں ان کی اپروچ سے بڑے معاملات سے دُور رکھتے ہیں، ایسے ہی ہم ذات پات، لسانی و مذہبی معاملات جو ابھی ان کی اپروچ سے دُور کے ہیں ان سے بھی دُور رکھیں تو انشااللہ یہی نسل نو ہم بڑوں کے درمیان میں نفرت کی دیواریں گرانے کا سبب بن جائے گی۔
اگر ہم نے اپنی نئی نسل کو ذات پات، لسانی و مذہبی تعصبات سے بچا لیا تو ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ ورنہ خسارا ہی خسارا ۔

گنج بخشِ فیض عالم مظہرِنورِخدا              ناقِصاں راپیرِکامِل کاملاں رارہنما
حضرت سیدعلی بن عثمان ہجویری المعروف داتاگنج بخش رحمۃ اللہ علیہ
خالق کائنات اللہ رب العالمین نے اشرف المخلوقات بنی نوع انسان کی رشدوہدایت اورمقصدتخلیق انسان سے آگاہی کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علہیم السلام کومبعوث فرمایا۔جنہوںنے اپنے اپنے ادوارمیں مخلوق کی ہدایت کافریضہ بخوبی سر انجام دیا۔انسان کوظلمتوں سے نکال کران کے قلوب میں علم ومعرفت کے چراغ روشن کردیئے۔اورپھرقصرِنبوت کی تکمیل کی خاطرخاتم الانبیاء ،امام الانبیائ،فخرالانبیاء ،نبی آخرالزمان،جناب سیدناحضرت محمدمصطفیﷺکومبعوث فرمایا۔چونکہ آقائے دوجہاں سرورکون ومکاںحضرت محمدمصطفیﷺخاتم النبین ہیں آپﷺکے بعدنبوت کاسلسلہ ختم ہوگیااس لئے آقاﷺکے بعدامت کی ہدایت اوررہبری کے لیے اولیاء کرام بھیجے گئے جن کاسلسلہ قیامت تک جاری وساری رہیگا۔اولیاء کرام ؒنے ہردورمیں پیغام حق عام کیااوربھٹکی ہوئی انسانیت کوحق کی راہ دکھائی۔پاکستان کوپوری دنیامیں اسلام کاقلعۂ کہاجاتاہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اس کی وجہ اس سرزمین پربزرگان ملت اولیاء کرام کی تشریف آوری ہے جنہوں نے شبانہ روزدین کی تبلیغ کرکے پاکستان کوقلعہ اسلام بنادیااسی وجہ سے یہاں کے لوگ بزرگان ِ دین اولیاء کرام کی تعلیمات اوران کے نقش قدم پرعمل پیراہیں مسلمانان پاکستان کے دلوں میں اسلام پرمرمٹنے کاشوق شہادت اورجذبہ جہادزیادہ پایاجاتاہے ۔پنجاب کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت سے تسلیم کیاجاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہ سرزمین بزرگان دین اولیاء کرام کامرکزرہی ہے یہاں لوگ مغربی طرزِ تعلیم کے بجائے اولیاء کرام کی تعلیمات پرعمل پیراہیں ْ۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیںنبی کریمﷺکی ظاہری زندگی کے بعداسلام کی تبلیغ وترویج کابیڑاامت مصطفیﷺ،علماء اوراولیاء کرام نے اٹھایا۔خلفاء راشدین سے لیکرموجودہ دورتک اسلام کی خدمات میں صلحاء امت کاکردارنمایاں ہے۔ان پاکیزہ نفوس نے دین ِ اسلام کے فروغ کی خاطرلازوال قربانیاں پیش کیں دین مصطفیﷺکوبلندیوں تک پہنچایابلکہ ہردورکے محدثین ،مبلغین ،اتقیائ،اولیاء ومشائخ عظام نے کفرکے خلاف سینہ سپرہوکربقائے اسلام کی جنگ لڑی تاریخی قربانیاں دیکردین مصطفیﷺکے علم کوبلندفرمایا۔الحمدللہ !آج بھی اسلام کی خوشبودنیامیں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے ۔جس کی وجہ سے یہودوہنوددیگرطاغوتی قوتیں اسلام کی مقبولیت دیکھ کر بوکھلاہٹ کاشکارہیں ۔اسلام کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔ان کی ناپا ک سازشوں کوخاک میں ملانے کے لئے بزرگان دین یہ جنگ لڑرہے ہیں ۔آج جس عظیم ہستی کامیں تذکرہ کرنے جارہاہوں ۔اسے عالم ِ اسلام میں ’’داتاگنج بخش‘‘کے نام سے یادکیاجاتاہے ۔
آپؒ کااسمِ گرامی علی،کنیت ابوالحسن ،والدکانام عثمان ابن علی یابوعلی وطنی نسبت جلابی ثم ہجویری ہے ۔آپؒ کامعروف لقب’’داتاگنج بخش‘‘ہے ۔آپؒ حسنی سیدہیں۔آپؒ کاسلسلۂ نسب آٹھ واسطوں سے سیدناحضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم تک جاملتاہے ۔آپؒ کی ولادت باسعادت تقریباً400ہجری میں افغانستان کے شہرغزنی کے مضافات میں ایک بستی الجلاب میں ہوئی ۔آپ ؒکے مرشد حضرت ابوالفضل محمدبن ختلیؒ ہیں ۔ ان کاسلسلہ طریقت نوواسطوں سے یوں سیدناحضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم سے جاملتاہے ۔آپؒ کاسلسلہ طریقت حضرت ابوالفضل محمدبن حسن ختلیؒ ،حضرت شیخ ابوالحسن حصریؒ،حضرت شیخ ابوبکرشبلیؒ،حضرت شیخ جنیدبغدادیؒ،حضرت شیخ سری سقطیؒ،حضرت شیخ معروف کرخیؒ،حضرت شیخ دائودطائیؒ،حضرت شیخ حبیب عجمیؒ،حضرت شیخ حسن بصریؒ،امیرالمومنین سیدناعلی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتاہے ۔آپؒطریقت میں اپنے آپ کوسلسلہ جنیدیہ کامتبع قراردیتے ہیں ۔آپؒ نے معروف اساتذہ وشیوخ سے تعلیم وتربیت حاصل کی ۔اساتذہ کرام میں ابوالعباس اشقانیؒ اورابوالقاسم القشیریؒ مشائخ صحبت شیخ ابوالقاسم گورگانیؒ ،حضرت شیخ ابواحمدالمظفربن احمدبن حمدانؒ،حضرت شیخ ابوالعباس احمدبن قصابؒ ، شیخ ابوجعفرمحمدبن المصباح الصیدلانیؒ کے نامی گرامیِ سرفہرست ہیں ۔آپؒ نے زندگی کابیشترحصہ تلاش حق کی غرض سے سیاحت میں گزارا۔اکابر اولیاء کرام کی زیارت کی اوران سے فیض حاصل کیا۔مثلاًعراق،شام،بغداد،فارس،قہستان،آذربائیجان،طبرستان ،خوزستان ،کرمان ،طوس، ماورالنہر، ترکستان اورحجازکاسفرکیاصرف خراسان میں آپؒ نے تین سومشائخ سے ملاقات کی ۔آپؒ نے سخت مجاہدے اورریاضتیں بھی کیں ۔اسی طرح آپؒ اکابرین علم وعرفان کی صحبت سے علم اورروحانیت کے اس درجہ کمال کوپہنچے کہ اپنے زمانے کے امام اورآنے والے ادوارکے لئے مخدوم بن گئے ۔علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے آپؒ کومخدوم امم کہاہے ۔
سیّدہجویرمخدوم اُمم مرقدِ اُوپیراسنجرراحرم
آپؒ اپنے پیرومرشدحضرت شیخ ابوالفضل محمدبن حسن ختلیؒ کے حکم پردعوت وارشادکی خاطر431ہجری میں غزنی سے لاہورتشریف لائے ۔آپؒ جب لاہورآئے توبظاہرآپؒ کے پاس ایک مصلیٰ اوروضوکے لئے لوٹاہوگالیکن علم وعمل ،شریعت وطریقت ،حقیقت ومعرفت کے گراں قدرخزینے کچھ اس کثرت سے بانٹے کہ ’’گنج بخش فیض عالم‘‘کالازوال لقب پایا۔آپؒ کی علمی ،فکری اوردینی خدمات کی وجہ سے اقبالؒ نے آپ کوان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیاہے ۔
پاسبان عزت ام الکتاب ازنگاہش خانہ باطل خراب
خاک پنجاب ازدم اُوزندہ گشت صبح ماازمہراُوتابندہ گشت
یعنی آپ قرآن مجیدکی عزت کے محافظ ہیں اورآپ کی نگاہ ولایت سے باطل کاگھرویران ہوگیا۔آپ کے دم قدم سے سرزمین پنجاب میں اسلام زندہ ہوگیا۔آپ کے آفتاب ولایت سے ہماری صبح روشن ہوگئی ۔آپؒ تصوف کے مدونین فن اوراماموں میں سے ہیں ۔اس لئے آپؒ نے سلسلہ جاری نہیں فرمایا۔حضرت عبداللہ المعروف شیخ ہندیؒ اورآپؒ کے اصحاب حضرت ابوسعیدہجویریؒ اورحضرت حمادسرخسی آپؒ کے خلفاء تھے ۔آپؒ کے مزاراقدس سے اکتساب فیض حاصل کرنیوالی ہستیوں میں سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ،حضرت بابافریدالدین مسعودگنج شکررحمۃ اللہ علیہ اورحضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے نام شامل ہیں ۔سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے حضورداتاگنج بخش صاحب ؒمزارشریف پرحاضرہوئے اورچلہ کاٹا۔فراغت کے بعدداتاصاحب رحمۃ اللہ علیہ کافیض عام دیکھاتودل سے پکاراٹھے۔
گنج بخشِ فیض عالم مظہرِنورِخدا ناقِصاں راپیرِکامِل کاملاں رارہنما
آپؒنے متعددکتابیں لکھیں ۔آپؒ کی آخری تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ کے مطالعہ سے ان کی نودیگرتصانیف،دیوان،کتاب فناوبقا،اسرارالخرق والمٔونات، الرعایت حقوق اللہ تعالیٰ،کتاب البیان لاہل العیان، نحوالقلوب،منہاج الدین ،ایمان اورشرح کلام کے نام شامل ہیں ۔آپؒ کی جلالت شان اورعالمانہ تمکنت کی مظہرآپؒ کی تصنیف کردہ دستیاب کتاب’’کشف المحجوب‘‘ہے ۔جسے فارسی زبان میں اسلامی دنیائے تصوف کی پہلی کتاب ہونے کااعزازحاصل ہے ۔یہ کتاب اپنے اندرجامعیت لئے ہوئے ہے اس میں تصوف کے مسائل بھی ہیں اورمتکلمین کے دلائل بھی ۔منطقیوں اورفلسفیوں کی موشگافیاںبھی اورباطل نظریات کی تردیدبھی مسائل شریعت وطریقت کاخزینہ بھی اورحقیقت ومعرفت کاایک بیش بہاگنجینہ بھی ۔اس گنجینہ رشدوہدایت کے بارے میں حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کاارشادہے کہ ’’اگرکسی کاپیرنہ ہوتووہ اس کتاب کامطالعہ کرے تواسے پیرمل جائے گا‘‘۔اس گنجینہ رشدوہدایت کانام ہی موضوعات کی وضاحت کرتاہے ۔اس ضمن میں آپ ؒ خودتحریرفرماتے ہیں۔’’چونکہ یہ کتاب سیدھی راہ بتانے اورعارفانہ کلمات کی تشریح وتوضیح اوربشریت کے حجاب رفع کرنے کی غرض سے لکھی گئی ہے لہذااسے کسی اورنام سے موسوم کرنامناسب نہیں‘‘ یہ کتاب آپؒ ؒ نے اپنے ارادت مندابوسعیدکی التجاء پرلکھی ۔آپؒ تحریرفرماتے ہیں’’اے ابوسعیدمیں نے تیری گزارش کے مطابق تالیف کرنے کی تیاری شروع کردی اوراس کتاب سے تیری مرادکے پوراکرنے کاپختہ ارادہ کرلیا‘‘۔یہ کتاب محض واقعات یاحکایات کامجموعہ نہیں ہے بلکہ 248آیات قرآنیہ ،172احادیث کریمہ ،77عربی اورفاسی اشعارکے ساتھ ساتھ حضرات خلفائے راشدین ،ائمہ اہل بیت،جلیل القدرصحابہ کرام ،تابعین،تبع تابعین،ائمہ متاخرین،متعددامصاروبلادکے مشائخ کے حسین تذکروں کے ساتھ ایمان،علم،فقروغنا،صوفی،رسم وخصلت،خرقہ پوشی،صفوت،ملامت،رضا،حال ومقام،سکروصحو،ایثار،نفس ،ہوا،کرامت،معجزہ،فضیلت ،فناء وبقائ،غیبت وحضور،جمع وتفریق،روح ،معرفت ،توحید،طہارت ،توبہ،نماز،محبت،عشق،زکوٰۃ ،جودوسخا،جوع، حج،صحبت ،متعددآداب واخلاقیات ،شادی ،حال ،وقت،مقام،تمکین،محاضرہ مکاشفہ ،قبض وبسط،انس وہیبت ،قہرولطیف،نفی واثبات،مسامرہ ومحادثہ،شریعت وحقیت ،سماع جیسے اہم موضوعات کااحاطہ کرتی ہوئی لازوال تصنیف ہے ۔ آپؒ خودتحریرفرماتے ہیں ’’اس کتاب سے میرامقصدیہ ہے کہ جس کے پاس یہ کتاب ہواسے دوسری کتابوں کی حاجت نہ رہے ۔یہ کتاب طالب حقیقت کے لئے کافی ہے ‘‘۔عبدالماجددریاآبادی لکھتے ہیں ’’اس کتاب کی حیثیت محض ایک مجموعہ روایات وحکایات نہیں بلکہ ایک مستندمحققانہ تصنیف ہے ‘‘۔یہ کتاب اس دورکے معاشرتی وسماجی احوال پربھی ایک دستاویزکی حیثیت رکھتی ہے ۔آپؒ نے دوران سیاحت عراق،شام،بغداد،فارس،قہستان،آذربائیجان،طبرستان ،خوزستان ،کرمان ،طوس،ماورالنہر،ترکستان ،حجازودیگرعلاقوں سے جومعلومات حاصل کیں ان کوبھی اپنی اس تحقیقی تصنیف کی زینت بنایاہے۔آپؒ پاک وہندکے اکثرشہروں میں بھی تشریف لے گئے اوراس زمانے کی تہذیب وتمدن اوررسم ورواج پربھی کتاب میں روشنی ڈالی ۔آپؒ ہندوستان کے حوالہ سے لکھتے ہیں ۔’’مشہورہے کہ ہندوستان میں کچھ ایسے لوگ ہیں جوجنگل میں جاکرگاتے ہیں اورسُریلی آوازنکالتے ہیں ہرن جب ان کے غنااورلحن کوسنتے ہیں تووہ ان کی طرف آجاتے ہیں اور(شکاری)ان کے گردگھوم کرگاتے رہتے ہیں ۔حتیٰ کہ ہرن گانے کی لذت سے مست ہوکرآنکھیں بندکرکے سوجاتے ہیں اوروہ انہیں پکڑلیتے ہیں‘‘دوسری جگہ اپنامشاہدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’میں نے ہندوستان میں دیکھاکہ زہرقاتل میںایک کیڑاپیداہوتاہے اس کی زندگی اس زہرسے ہے ‘‘۔ترکستان کے حوالے سے لکھتے ہیں ’’میں نے ترکستان میں ایک شہردیکھاجوسرحداسلامی پرہے ۔وہاں ایک پہاڑآتش فشاںتھاجوآگ کے شعلے دے رہاتھااوراس کے پتھروں سے نوشادرجوش مارکرابل رہاتھااوراس آگ میں چوہے تھے جب انہیں اس آگ سے باہرلایاجائے تووہ مرجاتے تھے‘‘۔
بلوچوں کے بارے میں ایک مشاہدہ اس طرح تحریرفرماتے ہیں۔’’اوراس قسم کے مشاہدے مجھے بلوچوں میں بھی ہوئے کہ وہ گدھے اوراونٹ لے کرچلتے……‘‘۔تذکرہ نگاروں کی غالب اکثریت نے آپؒ کاسن وفات465ہجری سے اتفاق کیاہے ۔حضرت سیدعلی ہجویریؒ نے زندگی کے آخری ایام لاہورہی میں گزارے اورچندروزکی علالت کے بعدخانقاہ میں اپنے حجرے میں وفات پائی ۔آپؒ کی نمازہ جنازہ آپؒ کے خلیفہ حضرت شیخ ہندیؒ نے پڑھائی اورآپؒ کویہیں دفن کیاگیاجہاں آج بھی آپؒ کامزارمرجع خلائق ہے ۔آپؒ کا972عظیم الشان سالانہ عرس مبارک 18,19,20صفرالمظفر1437 ہجری بمطابق01.2.3دسمبر2015 ؁بروزمنگل،بدھ،جمعرات کوآپؒ کے آستانہ مبارک پرمنعقدہورہاہے ۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں332قابل ذکرمزارات میںسے لاہورمیں 49کراچی میں25اورملتان میں20خانقاہیں ہیں ۔ان سے اربوں روپے سالانہ آمدن ہوتی ہے۔اوران مزارات کی کل آمدن کاتقریباًنصف صرف داتاصاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزاراقدس سے محکمہ اوقاف کوموصول ہوتاہے ۔مگربدانتظامی کایہ عالم ہے کہ آج بھی اگرکوئی زائراپنے جوتے جمع کرواکرحاضری دے تواُس سے فقط حفاظت پاپوش کے 10سے20روپے تک وصول کرلیے جاتے ہیں جبکہ رسمی بورڈبھی آویزاں ہیں کہ ایک روپے سے زیادہ ہرگزادانہ کریں ۔منہ زورٹھیکیدارں کومحکمہ آج تک لگام نہیں دے سکاجس سے زائرین شدیدکرب میں مبتلاہیں۔حکومت وقت پرلازم ہے کہ جس طرح پتنگ بازی پرپابندی لگاکرعوام کے جان ومال کاتحفظ کیاگیاہے ۔اس طرح میلے کی آڑمیں تمام مزارات اولیاء پرایسی خرافات پرپابندی عائدکی جائے تاکہ زائرین ومتوسلین کوحقیقی روحانی آسودگی حاصل ہو۔محکمہ کوچاہیے کہ اولیاء اللہ کے حالات زندگی اوران کی تصانیف کوفی سبیل اللہ عوام الناس تک پہنچایاجائے ۔مخیرحضرات خودبخودمحکمہ سے تعاون کریں گے ۔
داتاعلی ہجویریؒ کے منتخب ارشادات
٭نفس ایک باغی کتاہے ۔کتے کاچمڑاجب تک دباغت اوررنگ نہ کیاجائے ،پاک نہیں ہوتا۔
٭نفس کی مخالفت سب عبادتوں کااصل اورسب مجاہدوں کاکمال ہے ۔
٭علم سے بے پروائی اختیارکرنامحض کفرہے۔ ٭بھیدکوکھول اورنمازکونہ بھول۔
٭فقیرکوچاہیے کہ بادشاہوں کی ملاقات کوسانپ اوراژدھے کی ملاقات کے برابرسمجھے خصوصاًجب ملاقات اپنے نفس کے لئے ہو۔
٭مبتدی کوچاہیے کہ وہ راگ اورسماع سے پرہیزکرے کیونکہ یہ راستہ اس کے لئے بہت مشکل ہے۔
٭دین وشریعت کے پابندلوگوں کوخواہ وہ ناداروغریب کیوں نہ ہوں ،بہ چشم حقارت نہ دیکھ کیونکہ اس سے خداکی حقارت لازم آتی ہے ۔
٭پیغمبرکی بزرگی اوررتبہ کی بلندی صرف معجزہ ہی سے نہیں بلکہ عصمت کی صفائی سے ہے ۔
٭عارف عالم بھی ہوتاہے مگرضروری نہیں کہ عالم بھی عارف ہو۔ ٭بندہ کے لئے سب چیزوں سے زیادہ مشکل خداکی پہچان ہے۔
٭بوڑھوں کوچاہیے کہ وہ جوانوں کاپاس خاطرکریں کیونکہ ان کے گناہ بہت کم ہیں اورجوانوں کوچاہیے کہ بوڑھوں کااحترام کریں کیونکہ وہ ان سے زیادہ عابداورزیادہ تجربہ کارہیں ۔
٭محرموں کوچاہیے کہ وہ ناشائستہ اوامرسے اپنے حواس کوبچائیں اورجوچیزیں شرعاًناجائزہیں ان سے اجتناب کرے ۔
٭فقرکی معرفت (تعلیم اورپہچان)کے لئے سیردنیاسے بہترکوئی ذریعہ نہیں۔
٭دنیاکے ساتھی (ہاتھ،پائوں،آنکھیں)جوبظاہردوست نظرآتے ہیں دراصل تیرے دشمن ہیں ۔
٭دس چیزیں دس چیزوں کوکھاجاتی ہیں۔توبہ گناہ کو،جھوٹ رزق کو،غیبت نیک اعمال کو،غم عمرکو،صدقہ بلائوں کو،غصہ عقل کو،پشیمانی سخاوت کویعنی دے کربعدمیں پچھتانا،تکبرعلم کو،نیکی بدی کو،عدل ظلم کو
٭اولیاء خداکے رحم اورغضب کااظہارکاذریعہ اوراحادیث نبویﷺکی تجدیدکاباعث ہیں ۔ان سے پوری طرح فیض یاب ہو۔
٭مال کی محبت کوعذاب سمجھ کرفاقہ کشوں(اورمستحقوں)پرلٹاتے رہواوریہ سب کچھ اس دن سے پہلے کرجبکہ قبرمیںتجھے کیڑے کھاجائیں ۔
الٰہی !علی ہجویری کوپہلے حمدوشکرکی توفیق عطافرمااورپھرفقرکی دولت عطافرما۔پہلے اسے کدورت سے پاک کر،پھراسرارروحانی ومعنوی اس پرواضح کردے اللہ ر ب العزت میری اس کاوش کوبارگاہِ لم یزل میں قبول فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین ۔

مظہراقبال ملک (ملک صاحب)
03055731125
سوچ

حال ہی میں پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دو مراحل گزرچکے ہیں،اور ایک مرحلہ ابھی باقی ہے۔ اس سے پہلے خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی الیکشن ہوچکے ہیں۔بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیادوں پر کرائے جا رہے ہیں۔جن میں اگر ظاہری طور پر دیکھا جائے تو جس صوبے میں جس کی حکومت ہے وہاں وہی پارٹی میدان ماررہی ہے۔جیسے خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی پنجاب میں ن لیگ اور سندھ میں پیپلزپارٹی نے میدان مارا ہے۔اس حساب سے دیکھا جائے تو جس کی لاٹھی اسکی بھینس والا معاملہ ہے۔جو جماعت جیتی اس پر ہارنے والی جماعتوں نے دھاندلی کا الزام لگا دیا۔اسی وجہ سے خیبر پختونخواہ میں مرکزی حکومت نے الیکشن دوبارہ کروائے ۔نتیجہ وہی حکمران جماعت پھر جیت گئی۔لیکن حزب اختلاف نے پھر دھندلی کا الزام لگایا۔یہ سلسلہ اسی طرح سے جاری و ساری ہے۔بلدیاتی انتخابات میں سیاسی گروپوں اور جماعتوں کے درمیان جھگڑے بھی ہوئے،جس میں کئی افراد زخمی اور خاص طورپر خیرپور میں تو بلدیاتی الیکشن میں لڑائی کے دوران تقریباٗگیارہ افراد جان سے ہاتھ د وھوبیٹھے۔یہاں سوچنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے۔کہ ان لوگوں کوکیا ملا ،یا انہیں اگے کچھ ملنے والا تھا۔سوائے اپنی قیمتی جانوں کے ضیاع کے۔میں اکثر الیکشن کی مہم کے دوران سیاسی حریفوں کو یہی بات باورکراتا رہتا ہوں۔کہ الیکشن کے دن لڑائی جھگڑے سے گریز کرناکیوں الیکشن ایک دو یا زیادہ سے زیادہ پانچ دونوں کا ہوتا ہے۔اور آتا ہے اور گزر جاتا ہے۔لیکن ہم نے یا جتنے بھی ہمارے دوسر ے دوست رشتہ دار محلہ دار وغیرہ سب نے اکٹھے رہنا ہے۔اسلیئے دوچار دنوں کے الیکشن کے لئے ہمیں صبر اور انسانیت کے جذبے سے سرشار سوچ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔سوچنے کی بات یہ ہے یہ وہی لوگ ہیں جو ہمیں سالوں پوچھتے نہیں۔اور اکثر تو ہمارے سلام کا جواب دینے سے کتراتے تھے۔اور اچانک ہی یہ لوگ انتے اچھے بن جاتے ہیں جیسے کہ ہمارے گھر کے فرد،لیکن یہ سب کچھ صرف اور صرف الیکشن کے دن تک ہوتا ہے۔اورجیتنے کے بعد یہ پھر اپنی اسی روٹین میں آجاتے ہیں۔اورہمارا پھر وہی حال ہوتا آپ کون والا۔جناب والامیں آپ کو بتاتا چلوں یہ لوگ صرف اور صرف اپنے مفاد کی سیاست کرتے ہیں۔اگر ہم لوگ ایک اچھی سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ذاتی مفاد کوبالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں۔جو صرف الیکشن کے ساتھی نا ہوں بلکہ قومی مفاد کے حامی ہو ں تو اس سے نا صرف ہم خود بہت سے فائدے اٹھا سکتے ہیں۔بلکہ یہ ہمارے قومی مفاد کے لئے بھی بہت ضروری ہے۔ہمیں ایک نئی سوچ اور باکردار لوگوں کو آگے آنے کا موقع دینا چاہیے۔
میں اپنے ضلع میانوالی کی بات کروں تو ہمارے ضلع میں ہمیشہ ذات پات کی بنیاد پر ووٹ دیا جاتا ہے۔جس کیوجہ سے ہم اپنے ضلع میانوالی کی حالت دیکھ سکتے ہیں۔میانوالی ضلع کے وسائل پر میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔کیوں کہ بات ہورہی ہے تو اسی تناظر میں بتاتا چلوں۔میانوالی ضلع وسائل سے مالاضلع ہونے کے باوجود مسائل کا گڑھ سمجھا اور مانا جاتا ہے،اور یہی بات ہے۔میانوالی بجلی پانی گیس کوئلہ معدنیات پیٹرول جیسی کئی نعمتوں سے مالامال ضلع ہونے کے باوجود بیک ورڈ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔اسکی بنیادی وجہ ہمارے اچھی پازیٹو سوچ کا فقدان ہے۔کیوںکہ میانوالی پر چند خاندانو ں کی حکومت ہے۔جنہوں نے ہمیشہ اپنے لئے سوچا اور جو کیا اپنے مفاد کے تحت کیا۔ان میں موجودہ ایم پی اے اور ایم این اے شادی خیل برادران کا بڑا ہاتھ ہے ۔جو صرف اپنے مفاد کے لئے جیتے ہیں۔لیکن ہماری بچاری عوام پھر بھی ہر بار انہی کو سلیکٹ کر لیتی ہے۔کچھ عرصہ قبل سیلاب کی تباہ کاریوں کیوجہ سے میانوالی کی تحصیل عسٰی خیل سخت متاثر ہوئی۔یہاں سب سے بڑا مسئلہ صحت کا بنا ۔کیوں عسیی خیل تحصیل کا سرکاری ہسپتال جو پہلے ہی نا ہونے کے برابر تھا۔سیلاب سے بہت زیادہ برباد ہوا۔وزیراعظم پاکستان نے عسٰی خیل کا دورہ کیا اور پوچھا عوام سے آپ کے لئے کونسی ریلیف کا علان کیا جائے۔چاہیے تو یہ تھا کہ ایم این اے صاحب ہسپتال کا کہتے ،لیکن انہوں نے واٹر سپلائیوں کے بجلی کے بل مانگے۔اسکی بنیادی دو وجوہات تھی۔ایک یہ کہ اول ہسپتال سیلاب کی تباہ کاریوں کیوجہ سے تباہ ہوچکا تھا،دوسری بڑی وجہ جو تھا اس میں بھی سہولتیں نا ہونے کے برابر تھی۔اکثر سیریس مریضوں کو میانوالی لے کر جانا پڑتا ہے۔اور روڈ خراب اور راستہ لمبا ہونے کی وجہ سے مریض راستے میں ہی دم توڑجاتے ہیں۔ہمارے میانوالی کے لیڈران کی سوچ اپنے مفاد سے شروع ہوکر رشتے داروں کے مفاد پر ختم ہوتی ہے۔ یہی حال میں سمجھتا ہوں ہماری پوری قوم کا ہے۔ہر فرد اپنے مفاد کے لئے جیتا ہے۔جس دن ہماری قوم نے اپنے ملک اور قوم لے مفاد کے لئے جینا سیکھ لیا ،وہ دن ہمارے ملک وقوم کے مستقبل کا سنہری دن ہوگا۔اللہ پاک ہمیں قومی مفاد کی سوچ عطا کرے ۔آمین