سپورٹس

شہریار خان کی پلیئرز پر مہربانی,میچ فکسنگ کی دھندلی تصویر واضح ہونے لگی

 راولپنڈی( اسپورٹس رپورٹر) پی سی بی چیئرمین شہریار خان کی ’’مہربانی ‘‘ سے میچ فکسنگ کی دھندلی تصویر ’’واضح‘‘ ہونے لگی ۔گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے چیئر مین پی سی بی شہریار خان نے شرجیل خان اور خالد لطیف کو معصوم قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں کھلاڑیوں کو معلوم نہیں تھا کہ جس شخص سے ملاقات کر رہے ہیں وہ بکی ہے یا ان کا پرستار۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کا پہلا ایونٹ کامیاب رہا جس کے بعد بکیز سرگرم ہوگئے ۔ میچ فکسنگ پوری دنیا میں ہوتی ہے ۔ بھارت ،بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت جہاں بھی ٹی ٹوئنٹی میچز ہوتے ہیں وہاں سٹے بازآجاتے ہیں۔دونوں کھلاڑیوں کو چارج شیٹ دے دی ہے اور اب ان کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ایک سوال پرشہریار خان نے بتایا کہ یوسف نامی بکی ناصر جمشید کے ذریعے شرجیل خان اور خالد لطیف تک پہنچا ۔ بورڈٖ کے اینٹی کرپشن یونٹ کو کھلاڑیوں کی مشکوک ملاقاتوں کا علم ہوگیا ۔اس لئے فوری طور پر انہیں وطن واپس بھیج دیا گیااور بعد میں کھلاڑیوں نے بھی اپنی غلطی تسلیم کی۔ انہوں نے کہا کہ بکی براہ راست رابطہ نہیں کرتے ، وہ رشتہ داروں یا سابق کھلاڑیوں کے ذریعے اپنے ہدف حاصل کرتے ہیں تاہم بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کو باقاعدگی سے انگلش اور اردو میں لیکچرز دئیے جاتے ہیں تاکہ وہ کرپشن سے دور رہیں۔شہریار خان نے اجلاس کو بتایا کہ کھلاڑیوں کی مشکوک افراد سے ملاقاتوں کے بعد شرجیل خان پر کڑی نظر رکھی اور میچ کے بعد ان کیخلاف کارروائی کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ خالد لطیف تو پی ایس ایل میں میچ ہی نہیں کھیل سکے اورفاسٹ بالر محمد عرفان نے بکی کی بات سنی ان سنی کردی تھی مگر ان میں سے کسی نے بھی اینٹی کرپشن یونٹ کو بروقت اطلا ع نہیں دی ۔اس معاملے سے متعلق خالد لطیف اور شرجیل خان اعتراف بھی کرچکے ہیں مگر کھلاڑیوں کا اصرار ہے کہ وہ میچ فکسنگ میں ملوث نہیں ہیں ۔ شہریار خان کا مزید کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کا دبئی میں ریکارڈ کیا گیا بیان آفیشل نہیں تھا ۔ دونوں کھلاڑیوں کے پرانے بیان اور لاہور میں ریکارڈ کئے گئے بیان میں کافی فرق ہے ۔انہوں نے کہا کہ دونوں کھلاڑیوں کو چارج شیٹ دی گئی ہے جس کا جواب انہیں دو ہفتوں میں دینا ہے ۔ دونوں کا حتمی موقف سامنے آنے کے بعد کیس کی سماعت کیلئے ٹریبونل قائم کریں گے جو معاملے کی مزید تحقیقات کرے گا۔چیئر مین بورڈ نے واضح کیا کہ اگر جرم ثابت ہو گیا تو ان کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی لگے گی ۔ اس موقع پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے برہمی کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ آپ کے علم میں پہلے سے یہ معاملہ تھا تو اقدامات کیوں نہیں کئے گئے ۔ آئی سی سی سے پی سی بی نے خود رابطہ کیا تو میڈیامیں چلنے والی خبروں کی تردید کیوں نہیں کی گئی۔ ماضی میں بھی اس حوالے سے ملک کی بدنامی ہوئی اور اگر تب بدعنوان کھلاڑیوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جا تا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے ۔ انہوں نے ہدایت کی کہ میچ فکسنگ ا سکینڈل کی شفاف تحقیقات کرکے ملوث کھلاڑیوں کو سخت سزا دی جائے تاکہ کھیل سے یہ ناسور ہمیشہ کیلئے ختم ہو سکے اور اگر دونوں کھلاڑی ملوث نہیں ہیں تو ان کا دفاع کیا جائے ۔یاد رہے کہ کرکٹ بورڈ کے حکام پہلے کہہ رہے تھے کہ ان کے پاس میچ فکسنگ کے ٹھوس شواہد موجود ہیں مگرشہریار خان نے یہ کہہ کر غبارے سے ہوا نکال دی ہے کہ کھلاڑیوں نے صرف بکی سے ملاقات کی تھی اور ایسا انجانے میں ہوا تھا۔

About

View all posts by

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *