سید امجد

قائداعظم یو نیورسٹی…جہاں پائلٹ نہیں ـ’’جہاز‘‘ بنتے ہیں
سید امجد حسین بخاری

’’جس کو حکمت ملی اسے درحقیقت بڑی دولت مل گئی‘‘قرآن پاک کی اس آیت مبارکہ کے سلوگن کے تحت اس یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ تاریخی یونیورسٹی1969ء کو قائم کی گئی۔ اس یونیورسٹی میں حکمت کی تلا ش میں مجھے جانے کا جی چاہا۔ مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی تنومند ، ہٹے کٹے جسم کے مالک ایک کڑیل نوجوان سے مڈبھیڑ ہوئی، بعد میں معلوم ہوا کہ موصوف یہاں پر سیکورٹی کی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔ خوبصورت سبزے نے یونیورسٹی کو گھیرے ہوئے تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس جامعہ سے خزاں کا گزر نہیں ہوا۔چند قدم چلنے کے بعد اسلام آباد کے ٹھنڈے موسم میں سورج کی تپش سے حرارت کا کچھ انتظام کرنے کا ارادہ کیا۔ ابھی گھاس پر نیم دراز ہوا ہی تھا کہ سگریٹ کی چند بچے ہوئے ٹکروں پر نظر پڑی، ایک وقت کو خیال آیا کہ تعلیمی اداروں میں سگریٹ نوشی تو ممنوع ہے تو پھر یہاں سگریٹ کا کیا کام؟ انہی سوچوں میں مگن تھا کہ تین خوبرو طالبات ہاتھوں میں باریک سگریٹ پکڑے بالوں کو جھٹکے دیتے ہوئے لان کی طر ف آتی دکھائی دیں۔ پہلے تو آنکھوں پر یقین نہیں آیا لیکن دو چار دفعہ دونوں ہاتھوں سے آنکھیں مل کر دیکھا تو واقعی وہ سگریٹ کے دھویں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے آرہیں تھیں۔ خیر خواتین کو میں کم و بیش ہی غور سے دیکھتا ہوں، حیرت کے سمندر میں غلطاں مین کیفیٹریا کی جانب چل پڑا۔مجھے اس یونیورسٹی کے بارے میں جاننا تھا، شہر اقتدار کے سینے پر پھولوں کی مانند سمجھی جانے والی یونیورسٹی کچھ عرصے سے میڈیا کی خبروں میں تھی۔ سوچا کچھ معلومات حاصل کر لوں۔ اپنے تجربات سے پہلے اس یونیورسٹی کے بارے میں کچھ معلومات شیئر کروں گا۔19تدریسی عمارتوں اور1700ایکڑ پرپھیلی ہوئی اس یونیورسٹی میں چار فکلٹیز فکلیٹی آ ف نیچرل سائنس، فکلٹی آف بیالوجیکل سائنس، فکلٹی آف سوشل سائنس، فکلٹی آف میڈیسن جبکہ دیگر نو انسٹیوٹس اور کالجز سینٹر فار جینڈر اسٹڈیز، نیشنل انسٹیوٹ فار مطالعہ پاکستان، نیشنل انسٹیوٹ آف سائیکالوجی، نیشنل انسٹیوٹ آف ہسٹریکل اینڈ کلچر ریسرچ، نیشنل انسٹیویٹ آف ایشین سویلائزیشنز اور کمپیوٹر سینٹر قائم ہیں۔اس کے علاوہ پندرہ سے زائد کالجز کا اس یونیورسٹی سے الحاق ہے۔طلبہ کے لئے سات جبکہ طالبات کے لئے تین ہاسٹلز بھی موجود ہیں، اس یونیورسٹی کے ریگولر طلبہ وطالبات کی تعداد 5500ہے۔ ویسے تو اس عظیم یونیورسٹی کو عالمی اور بین الاقوامی سطح پر تدریسی معیار کی وجہ سے ایک ممتاز مقام حاصل ہے مگر گذشتہ چند ماہ سے منشیات فروشی، طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کئے جانے اور طلبہ کے درمیان لسانی بنیادوں پر ہونے والے جھگڑوں نے اسے پردانش گاہ حکمت پر وہ بدنما دھبے لگائے ہیں جو شاید مدتوں علم و عمل کی آب زم زم سے نہلانے کے بعد بھی مٹانا ناممکن ہوگا۔اس دانش گاہ علم وحکمت کی چیخیں اسمبلی میں بھی سنائی دی گئیں مگر پانامہ کے ہنگاموں اور نااہلی کی رسہ کشی میں اس کی چیخیں سسکیوں میں بدلتے بدلتے کہیں گم سی ہوگئیں۔مین کیفیٹریا میں سگریٹ کے بادل اُڑاتے طلبہ وطالبات سے گفتگو کا آغاز کیا اور انہیں سگریٹ نوشی اور منشیات کے استعمال کے خدشات کے بارے میں بتلانے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ قائداعظم یونیورسٹی کو لسانی بنیادوں پر بننے والی کونسلز نے جنگ کا میدان بنا رکھا ہے۔ آئے دِن لسانی تنظیموں کی طرف سے یونیورسٹی پر قبضے کی سوچ نے تعلیمی ماحول کو تباہ کر رکھا ہے۔یونیورسٹی میں لسانی تنظیمیں عرصہ دراز سے عام طلبہ کو زودوکوب کر رہی ہیں جن کی متعدد بار شکایت درج کروانے کے باوجود تاحال کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ منشیات کی سپلائی انہی تنظیموں کی جانب سے اپنے اخراجات چلانے کے لئے کی جا رہی ہے۔ روکنا ہے تو یونیورسٹی میں قبضہ کی سوچ کو روکنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ سندھی طلبہ جنوری کی سرد راتوں میں یونیورسٹی کے باہر فٹ پاتھ پر دس دن تک سوئے رہے۔ یونیورسٹی لسانی بنیادوں پر جھگڑوں کے باعث ایک ہفتے تک بند رہی۔طلبہ وطالبات نے الزام عائد کیا کہ لسانی تنظیمیں یونیورسٹی میں منشیات کے اڈے چلا رہی ہیں جس کی وجہ سے تعلیمی ادارے میں طلبہ کی بہت بڑی تعداد نشے کی لت میں مبتلا ہوچکی ہے۔قائداعظم یونیورسٹی میں لسانی تنظیمیں منشیات فروشوں کے زیرِ سایہ پاکستان مخالف سوچ کو تقویت دے رہی ہیں۔ ہم حکومتی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بات کا سختی سے نوٹس لے کر ان کونسلز کے خلاف کاروائی کی جائے۔ یونیورسٹی میں پرامن ماحول کے لیے ضروری ہے کہ لسانی تنظیموں پر پابندی عائد کی جائے۔ان دنیا و مافیا سے بے خبر طلبہ و طالبات کی گفتگو مجھے ایک ماہ پیچھے لے کر گئی ۔جنوری کے اوائل میں قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ کا اجلاس ڈاکٹر امیر اللہ مروت کی زیر صدارت یونیورسٹی میں ہوا جس میں بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا ممنوعہ اشیاء کی خریدو فروخت کے علاوہ کیمپس میں جوئے کی لت بھی بڑھتی جارہی ہے۔ ان کا کہناتھا کہ کمروں میں جنگلی تقریبات کا انعقاد کیا جاتاہے جہاں پر منشیات اور شراب نوشی آزادی کے ساتھ کی جاتی ہے اور اس حوالے سے کئی بار پولیس کو اطلاع دی اور کارروائی بھی عمل میں لائی گئی لیکن یہ تمام اگلی ہی صبح رہا ہو جاتے ہیں۔ یونیورسٹی کے ایک اہم ذمہ دار نے بتایا کہ یونیورسٹی کے ملازمین بھی اس مکروہ کاروبار میں ملوث ہیں ،200گارڈز کی موجودگی کے باوجود انتظامیہ اسے روکنے میں ناکام ہے۔ انہوں نے دبے الفاظ میں کہا کہ ممکنہ طور پر اس کی پشت پناہی کچھ بااثر افراد کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان سب کے علاوہ کچھ غیر متعلقہ لوگ بھی ہاسٹلز کے کمروں میں رہائش اختیار کیے ہیں ۔یہی نہیں اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب نے بھی منشیات فروشوں اور طلبہ و طالبات میں منشیات کی لت کے سامنے بے بسی کا اظہار کیا تھا۔جبکہ یونیورسٹی کے ڈین وسیم احمد نے انکشاف کیا کہ یونیورسٹی میں نشہ آور اشیاء ہاسٹلز میں براہ راست پہنچا دی جاتی ہیں، یعنی پیزا ڈیلیوری کی طرح فری ہوم ڈیلیوری کی سہولت موجود ہے۔قائداعظم یونیورسٹی کی عمارات، ہاسٹلز، پرفضا لان مجھے بار بار رکنے کا کہہ رہے تھے مگر مجھے چلتے چلتے یہ خبر بھی ملی کہ یونیورسٹی کی دو سو ایکڑ سے زائد اراضی پر قبضہ مافیا کا راج ہے، جس کو سی ڈی اے انتظامیہ چھڑوا سکی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں اس کی گونج سنائی دی تاہم عدالت عالیہ نے نوٹس بھیج کر متعلقہ حکام اور اداروں سے جواب طلب کیا ہے مگر تاحال دو نوں جانب سے ایک طویل خاموشی۔نشے میں دھت طلبہ وطالبات کو دیکھ کر میں دکھی تو ہوا ہوں لیکن امید ابھی باقی ہے۔ تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں میں ابھی بھی اس جامعہ کے مقابلے میں کوئی یونیورسٹی نہیں آسکی ۔ لیکن یہ یونیورسٹی ایک مقابلہ ہار گئی۔ اپنے طلبہ وطالبات کی وجہ سے ملی یکجہتی کا مقابلہ… اخلاقیات کا مقابلہ… مقصد تعلیمی کا مقابلہ… شہر اقتدار کے باسی اگر پانامہ … نااہلی… تیرا چور میرا چور کے جھگڑوں سے نکلے گئے ہوں تو قوم کے مستقبل کی جانب نظر دوڑا لیں ، ورنہ ہمیں تعلیمی اداروں سے پائلٹ نہیں جہاز ملیں گے۔یونیورسٹی سے نکلتے ہی میرے سامنے فیصل مسجد، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی عمارتیں تھیں۔ میں ان قلعہ بند عمارتوں کے مکینوں سے کچھ کہنا چاہتا تھا مگر شاید جلے ہوئے سگریٹ کے دھویں کی طرح میرے خیالات بھی منتشر ہوگئے تھے۔ مین روڈ سے ٹیکسی لی اور فیض آباد کے بس اسٹینڈ پر آگیا کیوں کہ اس شہر میں رہنے کو جی نہیں کر رہا تھا۔

About

View all posts by

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *