بین الاقوامی

سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے امریکی سینیٹر جان مکین کی ملاقات

ریاض :سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے امریکی سینیٹر جان مکین نے ملاقات کی ہے ، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے امریکی سینیٹر جان مکین نے ملاقات کی ہے ، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے الیمامہ میں امریکی سینیٹ کے سینئر رکن اور سابق شکست خوردہ صدارتی امیدوار جان مکین نے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔

فلسطینی نوجوان کو مارنے والے اسرائیلی فوجی کو 18 ماہ قید

مقبوضہ بیت المقدس (خبرایجنسیاں ) فلسطینی نوجوان کو مارنے والے اسرائیلی فوجی کو 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔ سارجنٹ ایلور اذاریا نے پچھلے سال نوجوان عبدالفتاح الشریف کو گولی مار کر شہید کردیا تھا۔جج مایا ہیلر کا کہنا ہے کہ جرم کی شدت کی کمی کی وجہ اسرائیلی فوجی کا پہلا جرم ملازمت میں ہونا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک زخمی فلسطینی حملہ آور کو شہید کرنے کے جرم میں ایک اسرائیلی فوجی کو 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔اس اسرائیلی فوجی کے معاملے میں ملک بھر میں رائے منقسم ہے ۔ سارجنٹ ایلور کو گزشتہ برس مارچ میں مقبوضہ غرب اردن میں 21 سالہ نوجوان عبدالفتاح الشریف کو گولی مار کر شہید کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے ۔ ایلور نے فلسطینی شخص کو گولی مارنے سے پہلے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ ایک دوسرے اسرائیلی فوجی کو چاقو مارنے والا عبدالفتاح مارے جانے کا مستحق ہے ۔ اسرائیلی فوجی سربراہان نے ان کے اس اقدام کی مذمت کی تھی لیکن دیگر افراد نے اس کو سراہا تھا۔ اس جرم میں 20 برس تک کی قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے لیکن استغثیٰ نے اذاریا کے لیے تین سے پانچ سال کی سزا کی درخواست کی تھی ، اذاریا کے عہدے میں کمی کرنے کا بھی حکم دیا گیا تاہم جس وقت سزا سنائی جا رہی تھی تو وہ مسکرا رہے تھے ۔ جج مایا ہیلر نے کہا کہ ان کے جرم کی شدت اس وجہ سے کم ہو گئی تھی کہ یہ ان کا پہلا جرم تھا اور یہ ان کی فوجی ملازمت کے درمیان پیش آیا اور یہ کہ اس بارے میں واضح ہدایات نہیں تھیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے تھا۔اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ اذرایا کی معافی کے لیے ہر فیصلے کی حمایت کریں گے ۔عدالت نے اذاریا کا یہ دعویٰ مسترد کر دیا تھا کہ انہیں اس خوف میں گولی چلانی پڑی کہ کہیں عبدالفتاح نے دھماکا خیز جیکٹ نہ پہنی ہو۔

چار ممالک میں قحط 14 لاکھ بچوں کی جان لے سکتا ہے ، یونیسیف

نیویارک: یونیسیف نے کہا ہے کہ چار ممالک میں قحط 14 لاکھ بچوں کی جان لے سکتا ہے ، نائیجیریا، صومالیہ، جنوبی سوڈان اور یمن میں قحط کی وجہ سے ہلاکتوں کا خدشہ ہے ،عالمی برادری فوری اقدامات کرے تاکہ بہت سی زندگیوں کو بچایا جا سکے ۔یونیسیف نے کہا ہے کہ چار ممالک میں قحط 14 لاکھ بچوں کی جان لے سکتا ہے ، نائیجیریا، صومالیہ، جنوبی سوڈان اور یمن میں قحط کی وجہ سے ہلاکتوں کا خدشہ ہے ،عالمی برادری فوری اقدامات کرے تاکہ بہت سی زندگیوں کو بچایا جا سکے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ چار ممالک نائیجیریا، صومالیہ، جنوبی سوڈان اور یمن میں قریب ایک اعشاریہ چار ملین بچے قحط کی وجہ سے ہلاک ہو سکتے ہیں ۔ یونیسیف کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یمن میں چار لاکھ باسٹھ ہزار بچے خوراک کی شدید کمی سے دوچار ہیں ، جب کہ شمال مشرقی نائیجیریا میں بھی قریب ساڑھے چار لاکھ بچے بھوک سے متاثرہ ہیں ۔ قحط سے متعلق تنبیہ کے نظام Fews کے مطابق نائیجیریا کی ریاست بورنو میں گزشتہ برس سے قحط جاری ہے ، جب کہ امدادی اداروں کی ان متاثرہ بچوں تک عدم رسائی سے صورت حال مزید گمبھیر ہو سکتی ہے ۔ یونیسف کے ڈائریکٹر انتھونی لیک نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں فوری اقدامات کریں ، تاکہ بہت سی زندگیوں کو بچایا جا سکے ۔

ڈوبنے والے 74 مہاجرین کی لاشیں لیبیا کے ساحل پر پہنچ گئیں

طرابلس (خبرایجنسیاں) سمندر میں ڈوبنے والے 74 مہاجرین کی لاشیں لیبیا کے ساحل پر پہنچ گئی ہیں، لاشیں اُن مہاجرین کی ہیں جو گزشتہ دو دنوں کے دوران سمندر میں ڈوبے ، جبکہ ہلاک افرادصحارا کے افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے باشندے تھے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یورپ پہنچنے کی کوشش میں سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے 74 مہاجرین کی لاشیں بہہ کر لیبیا کے مغربی شہر زاویہ کے ساحل پر پہنچ گئیں۔ یہ بات ہلال احمر کے ایک اہلکار کی جانب سے منگل کو بتائی گئی ہے ۔ محمد المصراتی کے مطابق پیر کے روز ملنے والی یہ لاشیں اُن مہاجرین کی ہیں جو گزشتہ دو دنوں کے دوران سمندر میں ڈوبے ۔ یہ لاشیں سب صحارا کے افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے باشندوں کی ہیں۔ افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایسے مہاجرین کے لیے لیبیا کا ساحلی علاقہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے جو سمندر پار کر کے یورپ میں داخل ہونے کے خواہشمند ہوں۔

About

View all posts by

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *