بین الاقوامی خبریں

روس بھارت کو2018تک 200 فوجی ہیلی کاپٹر فراہم کرے گا

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک)روس کے ہیلی کاپٹر تیار کرنیوالے سرکاری ادارے کے چیف ایگزیکٹو نے 2018 تک بھارت کو 200 جنگی ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کا اعلان کردیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت اور روس کے درمیان گزشتہ سال اکتوبر میں بھارتی فوج کیلئے 200’’کے اے 226ٹی ‘‘ہیلی کاپٹر تیارکرنے کا معاہدہ ہواتھا۔ کمپنی کے سی ای او کا کہناتھا 200 میں سے 60 ہیلی کاپٹر بھارت پہنچائے جائیں گے جبکہ 140 کو بھارت میں ہی تیار کیا جائے گا۔

افغانستان:گھرپردستی بموں سے حملہ ،بچوں سمیت11ہلاک

کابل(نیوزایجنسیاں)افغانستان میں دستی بموں کے حملے میں بچوں اور خواتین سمیت 11شہری ہلاک ہوگئے۔افغان میڈیا کے مطابق صوبہ لغمان کے ضلع بدپاکھ میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک گھر پر دستی بم پھینکے جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 11افراد ہلاک اور3زخمی ہو گئے ۔ صوبائی گورنر کے ترجمان سرحدی زواک کا کہنا ہے کہ رات کے وقت حملہ آوروں نے بندوقوں اور دستی بموں کے ساتھ ایک گھر پر اس وقت دھاوا بول دیا جب مکین کھانا کھانے میں مصروف تھے ۔ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ قبول نہیں کی۔

امریکا عراق میں تیل پر قبضہ کرنے نہیں آیا، امریکی وزیردفاع

ٹرمپ نے جنوری میں اپنے خطاب میں کہا تھا ہمیں عراق کا تیل رکھ لینا چاہیے بغداد (خبرایجنسیاں) امریکی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ امریکا عراق میں تیل پر قبضہ کرنے نہیں آیا، افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کے بارے میں صدرکو جلد تجویز دونگا جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے جنوری میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ہمیں عراق کا تیل رکھ لینا چاہیے ۔ امریکا کے وزیر دفاع جم میٹس پیر کو عراق کے غیر اعلانیہ دورے پر بغداد پہنچے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکی فوج عراق کے تیل پر قبضہ کرنے کیلئے یہاں نہیں آئی۔ جسکا مقصد امریکی حمایت یافتہ عراقی فورسز کی شدت پسند تنظیم داعش کیخلاف جاری کوششوں کا جائزہ لینا اور اس بارے میں حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرنا ہے ۔ عراق ان ملکوں میں شامل ہے جن کے شہریوں پر صدر ٹرمپ نے عارضی پابندی کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے جنوری میں سی آئی اے کے دفتر کے دورے کے موقع پر خطاب میں کہا تھا کہ ہمیں ان (عراق) کا تیل رکھ لینا چاہیے ۔ انہوں نے یہ بات داعش کی طرف سے عراقی تیل سے حاصل ہونیوالی آمدنی کو روکنے کے تناظر میں کہی تھی ۔ میٹس نے کہا کہ امریکا میں لوگ عموماً تیل اور گیس کیلئے رقم ادا کرتے ہیں اور میرا خیال مستقبل میں بھی ایسا ہی ہو گا۔

سینئر امریکی سینیٹرز نے ٹرمپ کی اہلیت پر سوالات اٹھا دیئے

،  واشنگٹن (خبر ایجنسیاں) ری پبلکن پارٹی کے دو اہم سینیٹرز نے اتوار کو امورِ خارجہ سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیت پر سوال اٹھائے ہیں، جن میں خصوصی طور پر قومی سلامتی کے امور سے نمٹنے کی وائٹ ہائوس کی استعداد اور امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے معاملے پر اقدام لینے سے انکار کا معاملہ شامل ہے ۔ ایریزونا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جان مکین نے ، جنہیں 2008ء میں صدارتی امیدوار کے طور پر شکست کا سامنا رہ چکا ہے ، این بی سی کے میٹ دی پریس پروگرام کو بتایا کہ وہ امور خارجہ کے معاملات کو پرکھنے کی ٹرمپ کی صلاحیت اور متضاد مؤقف اختیار کرنے پر پریشان ہیں۔ بقول اُن کے میرے خیال میں امیگریشن اصلاحات کا آغاز ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے ، وائٹ ہائوس کو فیصلہ سازی میں نظم و ضبط اپنانے کی ضرورت ہے ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت یہی ایک کمی ہے جس سے ہمیں سابقہ ہے ۔ ٹرمپ نے نیٹو اتحاد کے بارے میں اپنے اظہار خیال اور عزم پر یورپی اتحادیوں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے ، حالانکہ نائب صدر مائیک پینس نے ہفتہ کو میونخ میں منعقدہ سلامتی اجلاس کو بتایا کہ امریکا روس کا احتساب لے گا اور نیٹو کی حمایت میں پُرعزم ہے ۔ یورپی سربراہان کے بارے میں مکین نے کہا کہ وہ پہیلیاں بوجھ رہے ہیں اور پریشان ہیں۔ مکین نے امریکی انٹیلی جنس برادری کی جانب سے برآمد کردہ نتائج کی چھان بین کے لیے وسیع تر کانگریس کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے ، جسے روس مسترد کر چکا ہے کہ روس نے نومبر کے انتخابات کے دوران سابقہ امریکی وزیر خارجہ اور ڈیموکریٹ پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کے کمپیوٹر کو ہیک کیا ہے۔

About

View all posts by

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *