گنج بخشِ فیض عالم مظہرِنورِخدا ناقِصاں راپیرِکامِل کاملاں رارہنما
حضرت سیدعلی بن عثمان ہجویری المعروف داتاگنج بخش رحمۃ اللہ علیہ

my-logo

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل،میانوالی 0333.6828540

خالق کائنات اللہ رب العالمین نے اشرف المخلوقات بنی نوع انسان کی رشدوہدایت اورمقصدتخلیق انسان سے آگاہی کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علہیم السلام کومبعوث فرمایا۔جنہوںنے اپنے اپنے ادوارمیں مخلوق کی ہدایت کافریضہ بخوبی سر انجام دیا۔انسان کوظلمتوں سے نکال کران کے قلوب میں علم ومعرفت کے چراغ روشن کردیئے۔اورپھرقصرِنبوت کی تکمیل کی خاطرخاتم الانبیاء ،امام الانبیائ،فخرالانبیاء ،نبی آخرالزمان،جناب سیدناحضرت محمدمصطفیﷺکومبعوث فرمایا۔چونکہ آقائے دوجہاں سرورکون ومکاںحضرت محمدمصطفیﷺخاتم النبین ہیں آپﷺکے بعدنبوت کاسلسلہ ختم ہوگیااس لئے آقاﷺکے بعدامت کی ہدایت اوررہبری کے لیے اولیاء کرام بھیجے گئے جن کاسلسلہ قیامت تک جاری وساری رہیگا۔اولیاء کرام ؒنے ہردورمیں پیغام حق عام کیااوربھٹکی ہوئی انسانیت کوحق کی راہ دکھائی۔پاکستان کوپوری دنیامیں اسلام کاقلعۂ کہاجاتاہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اس کی وجہ اس سرزمین پربزرگان ملت اولیاء کرام کی تشریف آوری ہے جنہوں نے شبانہ روزدین کی تبلیغ کرکے پاکستان کوقلعہ اسلام بنادیااسی وجہ سے یہاں کے لوگ بزرگان ِ دین اولیاء کرام کی تعلیمات اوران کے نقش قدم پرعمل پیراہیں مسلمانان پاکستان کے دلوں میں اسلام پرمرمٹنے کاشوق شہادت اورجذبہ جہادزیادہ پایاجاتاہے ۔پنجاب کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت سے تسلیم کیاجاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہ سرزمین بزرگان دین اولیاء کرام کامرکزرہی ہے یہاں لوگ مغربی طرزِ تعلیم کے بجائے اولیاء کرام کی تعلیمات پرعمل پیراہیں ْ۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیںنبی کریمﷺکی ظاہری زندگی کے بعداسلام کی تبلیغ وترویج کابیڑاامت مصطفیﷺ،علماء اوراولیاء کرام نے اٹھایا۔خلفاء راشدین سے لیکرموجودہ دورتک اسلام کی خدمات میں صلحاء امت کاکردارنمایاں ہے۔ان پاکیزہ نفوس نے دین ِ اسلام کے فروغ کی خاطرلازوال قربانیاں پیش کیں دین مصطفیﷺکوبلندیوں تک پہنچایابلکہ ہردورکے محدثین ،مبلغین ،اتقیائ،اولیاء ومشائخ عظام نے کفرکے خلاف سینہ سپرہوکربقائے اسلام کی جنگ لڑی تاریخی قربانیاں دیکردین مصطفیﷺکے علم کوبلندفرمایا۔الحمدللہ !آج بھی اسلام کی خوشبودنیامیں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے ۔جس کی وجہ سے یہودوہنوددیگرطاغوتی قوتیں اسلام کی مقبولیت دیکھ کر بوکھلاہٹ کاشکارہیں ۔اسلام کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔ان کی ناپا ک سازشوں کوخاک میں ملانے کے لئے بزرگان دین یہ جنگ لڑرہے ہیں ۔آج جس عظیم ہستی کامیں تذکرہ کرنے جارہاہوں ۔اسے عالم ِ اسلام میں ’’داتاگنج بخش‘‘کے نام سے یادکیاجاتاہے ۔
آپؒ کااسمِ گرامی علی،کنیت ابوالحسن ،والدکانام عثمان ابن علی یابوعلی وطنی نسبت جلابی ثم ہجویری ہے ۔آپؒ کامعروف لقب’’داتاگنج بخش‘‘ہے ۔آپؒ حسنی سیدہیں۔آپؒ کاسلسلۂ نسب آٹھ واسطوں سے سیدناحضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم تک جاملتاہے ۔آپؒ کی ولادت باسعادت تقریباً400ہجری میں افغانستان کے شہرغزنی کے مضافات میں ایک بستی الجلاب میں ہوئی ۔آپ ؒکے مرشد حضرت ابوالفضل محمدبن ختلیؒ ہیں ۔ ان کاسلسلہ طریقت نوواسطوں سے یوں سیدناحضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم سے جاملتاہے ۔آپؒ کاسلسلہ طریقت حضرت ابوالفضل محمدبن حسن ختلیؒ ،حضرت شیخ ابوالحسن حصریؒ،حضرت شیخ ابوبکرشبلیؒ،حضرت شیخ جنیدبغدادیؒ،حضرت شیخ سری سقطیؒ،حضرت شیخ معروف کرخیؒ،حضرت شیخ دائودطائیؒ،حضرت شیخ حبیب عجمیؒ،حضرت شیخ حسن بصریؒ،امیرالمومنین سیدناعلی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتاہے ۔آپؒطریقت میں اپنے آپ کوسلسلہ جنیدیہ کامتبع قراردیتے ہیں ۔آپؒ نے معروف اساتذہ وشیوخ سے تعلیم وتربیت حاصل کی ۔اساتذہ کرام میں ابوالعباس اشقانیؒ اورابوالقاسم القشیریؒ مشائخ صحبت شیخ ابوالقاسم گورگانیؒ ،حضرت شیخ ابواحمدالمظفربن احمدبن حمدانؒ،حضرت شیخ ابوالعباس احمدبن قصابؒ ، شیخ ابوجعفرمحمدبن المصباح الصیدلانیؒ کے نامی گرامیِ سرفہرست ہیں ۔آپؒ نے زندگی کابیشترحصہ تلاش حق کی غرض سے سیاحت میں گزارا۔اکابر اولیاء کرام کی زیارت کی اوران سے فیض حاصل کیا۔مثلاًعراق،شام،بغداد،فارس،قہستان،آذربائیجان،طبرستان ،خوزستان ،کرمان ،طوس، ماورالنہر، ترکستان اورحجازکاسفرکیاصرف خراسان میں آپؒ نے تین سومشائخ سے ملاقات کی ۔آپؒ نے سخت مجاہدے اورریاضتیں بھی کیں ۔اسی طرح آپؒ اکابرین علم وعرفان کی صحبت سے علم اورروحانیت کے اس درجہ کمال کوپہنچے کہ اپنے زمانے کے امام اورآنے والے ادوارکے لئے مخدوم بن گئے ۔علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے آپؒ کومخدوم امم کہاہے ۔
سیّدہجویرمخدوم اُمم مرقدِ اُوپیراسنجرراحرم
آپؒ اپنے پیرومرشدحضرت شیخ ابوالفضل محمدبن حسن ختلیؒ کے حکم پردعوت وارشادکی خاطر431ہجری میں غزنی سے لاہورتشریف لائے ۔آپؒ جب لاہورآئے توبظاہرآپؒ کے پاس ایک مصلیٰ اوروضوکے لئے لوٹاہوگالیکن علم وعمل ،شریعت وطریقت ،حقیقت ومعرفت کے گراں قدرخزینے کچھ اس کثرت سے بانٹے کہ ’’گنج بخش فیض عالم‘‘کالازوال لقب پایا۔آپؒ کی علمی ،فکری اوردینی خدمات کی وجہ سے اقبالؒ نے آپ کوان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیاہے ۔
پاسبان عزت ام الکتاب ازنگاہش خانہ باطل خراب
خاک پنجاب ازدم اُوزندہ گشت صبح ماازمہراُوتابندہ گشت
یعنی آپ قرآن مجیدکی عزت کے محافظ ہیں اورآپ کی نگاہ ولایت سے باطل کاگھرویران ہوگیا۔آپ کے دم قدم سے سرزمین پنجاب میں اسلام زندہ ہوگیا۔آپ کے آفتاب ولایت سے ہماری صبح روشن ہوگئی ۔آپؒ تصوف کے مدونین فن اوراماموں میں سے ہیں ۔اس لئے آپؒ نے سلسلہ جاری نہیں فرمایا۔حضرت عبداللہ المعروف شیخ ہندیؒ اورآپؒ کے اصحاب حضرت ابوسعیدہجویریؒ اورحضرت حمادسرخسی آپؒ کے خلفاء تھے ۔آپؒ کے مزاراقدس سے اکتساب فیض حاصل کرنیوالی ہستیوں میں سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ،حضرت بابافریدالدین مسعودگنج شکررحمۃ اللہ علیہ اورحضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے نام شامل ہیں ۔سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے حضورداتاگنج بخش صاحب ؒمزارشریف پرحاضرہوئے اورچلہ کاٹا۔فراغت کے بعدداتاصاحب رحمۃ اللہ علیہ کافیض عام دیکھاتودل سے پکاراٹھے۔
گنج بخشِ فیض عالم مظہرِنورِخدا ناقِصاں راپیرِکامِل کاملاں رارہنما
آپؒنے متعددکتابیں لکھیں ۔آپؒ کی آخری تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ کے مطالعہ سے ان کی نودیگرتصانیف،دیوان،کتاب فناوبقا،اسرارالخرق والمٔونات، الرعایت حقوق اللہ تعالیٰ،کتاب البیان لاہل العیان، نحوالقلوب،منہاج الدین ،ایمان اورشرح کلام کے نام شامل ہیں ۔آپؒ کی جلالت شان اورعالمانہ تمکنت کی مظہرآپؒ کی تصنیف کردہ دستیاب کتاب’’کشف المحجوب‘‘ہے ۔جسے فارسی زبان میں اسلامی دنیائے تصوف کی پہلی کتاب ہونے کااعزازحاصل ہے ۔یہ کتاب اپنے اندرجامعیت لئے ہوئے ہے اس میں تصوف کے مسائل بھی ہیں اورمتکلمین کے دلائل بھی ۔منطقیوں اورفلسفیوں کی موشگافیاںبھی اورباطل نظریات کی تردیدبھی مسائل شریعت وطریقت کاخزینہ بھی اورحقیقت ومعرفت کاایک بیش بہاگنجینہ بھی ۔اس گنجینہ رشدوہدایت کے بارے میں حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کاارشادہے کہ ’’اگرکسی کاپیرنہ ہوتووہ اس کتاب کامطالعہ کرے تواسے پیرمل جائے گا‘‘۔اس گنجینہ رشدوہدایت کانام ہی موضوعات کی وضاحت کرتاہے ۔اس ضمن میں آپ ؒ خودتحریرفرماتے ہیں۔’’چونکہ یہ کتاب سیدھی راہ بتانے اورعارفانہ کلمات کی تشریح وتوضیح اوربشریت کے حجاب رفع کرنے کی غرض سے لکھی گئی ہے لہذااسے کسی اورنام سے موسوم کرنامناسب نہیں‘‘ یہ کتاب آپؒ ؒ نے اپنے ارادت مندابوسعیدکی التجاء پرلکھی ۔آپؒ تحریرفرماتے ہیں’’اے ابوسعیدمیں نے تیری گزارش کے مطابق تالیف کرنے کی تیاری شروع کردی اوراس کتاب سے تیری مرادکے پوراکرنے کاپختہ ارادہ کرلیا‘‘۔یہ کتاب محض واقعات یاحکایات کامجموعہ نہیں ہے بلکہ 248آیات قرآنیہ ،172احادیث کریمہ ،77عربی اورفاسی اشعارکے ساتھ ساتھ حضرات خلفائے راشدین ،ائمہ اہل بیت،جلیل القدرصحابہ کرام ،تابعین،تبع تابعین،ائمہ متاخرین،متعددامصاروبلادکے مشائخ کے حسین تذکروں کے ساتھ ایمان،علم،فقروغنا،صوفی،رسم وخصلت،خرقہ پوشی،صفوت،ملامت،رضا،حال ومقام،سکروصحو،ایثار،نفس ،ہوا،کرامت،معجزہ،فضیلت ،فناء وبقائ،غیبت وحضور،جمع وتفریق،روح ،معرفت ،توحید،طہارت ،توبہ،نماز،محبت،عشق،زکوٰۃ ،جودوسخا،جوع، حج،صحبت ،متعددآداب واخلاقیات ،شادی ،حال ،وقت،مقام،تمکین،محاضرہ مکاشفہ ،قبض وبسط،انس وہیبت ،قہرولطیف،نفی واثبات،مسامرہ ومحادثہ،شریعت وحقیت ،سماع جیسے اہم موضوعات کااحاطہ کرتی ہوئی لازوال تصنیف ہے ۔ آپؒ خودتحریرفرماتے ہیں ’’اس کتاب سے میرامقصدیہ ہے کہ جس کے پاس یہ کتاب ہواسے دوسری کتابوں کی حاجت نہ رہے ۔یہ کتاب طالب حقیقت کے لئے کافی ہے ‘‘۔عبدالماجددریاآبادی لکھتے ہیں ’’اس کتاب کی حیثیت محض ایک مجموعہ روایات وحکایات نہیں بلکہ ایک مستندمحققانہ تصنیف ہے ‘‘۔یہ کتاب اس دورکے معاشرتی وسماجی احوال پربھی ایک دستاویزکی حیثیت رکھتی ہے ۔آپؒ نے دوران سیاحت عراق،شام،بغداد،فارس،قہستان،آذربائیجان،طبرستان ،خوزستان ،کرمان ،طوس،ماورالنہر،ترکستان ،حجازودیگرعلاقوں سے جومعلومات حاصل کیں ان کوبھی اپنی اس تحقیقی تصنیف کی زینت بنایاہے۔آپؒ پاک وہندکے اکثرشہروں میں بھی تشریف لے گئے اوراس زمانے کی تہذیب وتمدن اوررسم ورواج پربھی کتاب میں روشنی ڈالی ۔آپؒ ہندوستان کے حوالہ سے لکھتے ہیں ۔’’مشہورہے کہ ہندوستان میں کچھ ایسے لوگ ہیں جوجنگل میں جاکرگاتے ہیں اورسُریلی آوازنکالتے ہیں ہرن جب ان کے غنااورلحن کوسنتے ہیں تووہ ان کی طرف آجاتے ہیں اور(شکاری)ان کے گردگھوم کرگاتے رہتے ہیں ۔حتیٰ کہ ہرن گانے کی لذت سے مست ہوکرآنکھیں بندکرکے سوجاتے ہیں اوروہ انہیں پکڑلیتے ہیں‘‘دوسری جگہ اپنامشاہدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’میں نے ہندوستان میں دیکھاکہ زہرقاتل میںایک کیڑاپیداہوتاہے اس کی زندگی اس زہرسے ہے ‘‘۔ترکستان کے حوالے سے لکھتے ہیں ’’میں نے ترکستان میں ایک شہردیکھاجوسرحداسلامی پرہے ۔وہاں ایک پہاڑآتش فشاںتھاجوآگ کے شعلے دے رہاتھااوراس کے پتھروں سے نوشادرجوش مارکرابل رہاتھااوراس آگ میں چوہے تھے جب انہیں اس آگ سے باہرلایاجائے تووہ مرجاتے تھے‘‘۔
بلوچوں کے بارے میں ایک مشاہدہ اس طرح تحریرفرماتے ہیں۔’’اوراس قسم کے مشاہدے مجھے بلوچوں میں بھی ہوئے کہ وہ گدھے اوراونٹ لے کرچلتے……‘‘۔تذکرہ نگاروں کی غالب اکثریت نے آپؒ کاسن وفات465ہجری سے اتفاق کیاہے ۔حضرت سیدعلی ہجویریؒ نے زندگی کے آخری ایام لاہورہی میں گزارے اورچندروزکی علالت کے بعدخانقاہ میں اپنے حجرے میں وفات پائی ۔آپؒ کی نمازہ جنازہ آپؒ کے خلیفہ حضرت شیخ ہندیؒ نے پڑھائی اورآپؒ کویہیں دفن کیاگیاجہاں آج بھی آپؒ کامزارمرجع خلائق ہے ۔آپؒ کا973عظیم الشان سالانہ عرس مبارک 18,19,20صفرالمظفر1438 ہجری بمطابق19.20.21نومبر2016 ؁بروزہفتہ،اتوار،سوموار کوآپؒ کے آستانہ مبارک پرمنعقدہورہاہے ۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں332قابل ذکرمزارات میںسے لاہورمیں 49کراچی میں25اورملتان میں20خانقاہیں ہیں ۔ان سے اربوں روپے سالانہ آمدن ہوتی ہے۔اوران مزارات کی کل آمدن کاتقریباًنصف صرف داتاصاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزاراقدس سے محکمہ اوقاف کوموصول ہوتاہے ۔مگربدانتظامی کایہ عالم ہے کہ آج بھی اگرکوئی زائراپنے جوتے جمع کرواکرحاضری دے تواُس سے فقط حفاظت پاپوش کے 10سے20روپے تک وصول کرلیے جاتے ہیں جبکہ رسمی بورڈبھی آویزاں ہیں کہ ایک روپے سے زیادہ ہرگزادانہ کریں ۔منہ زورٹھیکیدارں کومحکمہ آج تک لگام نہیں دے سکاجس سے زائرین شدیدکرب میں مبتلاہیں۔حکومت وقت پرلازم ہے کہ جس طرح پتنگ بازی پرپابندی لگاکرعوام کے جان ومال کاتحفظ کیاگیاہے ۔اس طرح میلے کی آڑمیں تمام مزارات اولیاء پرایسی خرافات پرپابندی عائدکی جائے تاکہ زائرین ومتوسلین کوحقیقی روحانی آسودگی حاصل ہو۔محکمہ کوچاہیے کہ اولیاء اللہ کے حالات زندگی اوران کی تصانیف کوفی سبیل اللہ عوام الناس تک پہنچایاجائے ۔مخیرحضرات خودبخودمحکمہ سے تعاون کریں گے ۔
داتاعلی ہجویریؒ کے منتخب ارشادات
٭نفس ایک باغی کتاہے ۔کتے کاچمڑاجب تک دباغت اوررنگ نہ کیاجائے ،پاک نہیں ہوتا۔
٭نفس کی مخالفت سب عبادتوں کااصل اورسب مجاہدوں کاکمال ہے ۔
٭علم سے بے پروائی اختیارکرنامحض کفرہے۔ ٭بھیدکوکھول اورنمازکونہ بھول۔
٭فقیرکوچاہیے کہ بادشاہوں کی ملاقات کوسانپ اوراژدھے کی ملاقات کے برابرسمجھے خصوصاًجب ملاقات اپنے نفس کے لئے ہو۔
٭مبتدی کوچاہیے کہ وہ راگ اورسماع سے پرہیزکرے کیونکہ یہ راستہ اس کے لئے بہت مشکل ہے۔
٭دین وشریعت کے پابندلوگوں کوخواہ وہ ناداروغریب کیوں نہ ہوں ،بہ چشم حقارت نہ دیکھ کیونکہ اس سے خداکی حقارت لازم آتی ہے ۔
٭پیغمبرکی بزرگی اوررتبہ کی بلندی صرف معجزہ ہی سے نہیں بلکہ عصمت کی صفائی سے ہے ۔
٭عارف عالم بھی ہوتاہے مگرضروری نہیں کہ عالم بھی عارف ہو۔ ٭بندہ کے لئے سب چیزوں سے زیادہ مشکل خداکی پہچان ہے۔
٭بوڑھوں کوچاہیے کہ وہ جوانوں کاپاس خاطرکریں کیونکہ ان کے گناہ بہت کم ہیں اورجوانوں کوچاہیے کہ بوڑھوں کااحترام کریں کیونکہ وہ ان سے زیادہ عابداورزیادہ تجربہ کارہیں ۔
٭محرموں کوچاہیے کہ وہ ناشائستہ اوامرسے اپنے حواس کوبچائیں اورجوچیزیں شرعاًناجائزہیں ان سے اجتناب کرے ۔
٭فقرکی معرفت (تعلیم اورپہچان)کے لئے سیردنیاسے بہترکوئی ذریعہ نہیں۔
٭دنیاکے ساتھی (ہاتھ،پائوں،آنکھیں)جوبظاہردوست نظرآتے ہیں دراصل تیرے دشمن ہیں ۔
٭دس چیزیں دس چیزوں کوکھاجاتی ہیں۔توبہ گناہ کو،جھوٹ رزق کو،غیبت نیک اعمال کو،غم عمرکو،صدقہ بلائوں کو،غصہ عقل کو،پشیمانی سخاوت کویعنی دے کربعدمیں پچھتانا،تکبرعلم کو،نیکی بدی کو،عدل ظلم کو
٭اولیاء خداکے رحم اورغضب کااظہارکاذریعہ اوراحادیث نبویﷺکی تجدیدکاباعث ہیں ۔ان سے پوری طرح فیض یاب ہو۔
٭مال کی محبت کوعذاب سمجھ کرفاقہ کشوں(اورمستحقوں)پرلٹاتے رہواوریہ سب کچھ اس دن سے پہلے کرجبکہ قبرمیںتجھے کیڑے کھاجائیں ۔
الٰہی !علی ہجویری کوپہلے حمدوشکرکی توفیق عطافرمااورپھرفقرکی دولت عطافرما۔پہلے اسے کدورت سے پاک کر،پھراسرارروحانی ومعنوی اس پرواضح کردے اللہ ر ب العزت میری اس کاوش کوبارگاہِ لم یزل میں قبول فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین ۔

تمھاری بہن کیسی ہے؟

logo-jalti-kitabain
ابن سید

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے میڑک کے انگریزی کے پیپر میں ممتحن صاحب نے کمال کر دیا۔سوال جاذب النظر تھا۔ دلچسپ بھی تھا۔ جناب شاید منٹو سے متاثر تھے۔ شاید منٹو صاحب کا افسانہ ان کا پسندید ہ افسانہ تھا۔مجھے ممتحن کے کردار پر انگلی اٹھانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا، مجھے میٹرک کے طلبہ و طالبات سے بھی کوئی ہمدردی نہیں ہے ۔ میں اس معاشرے کا فرد ہوں جہاں الفاظ کہنے پر پابندی ہے۔ ہاں مجھے اپنی حدود وقیود کا بھی خیال رکھنا ہے۔ مجھے اپنے چہرے پر تقوے کا لبادہ اڑھے رکھنے کا بھی احساس ہے۔ سوسائٹی کے تند وتیز نشتر سہنے کا بھی حوصلہ نہیں میرے اندر۔ میں اس دور کا لکھاری ہوں جہاں پیار کے بول بولنے پر پابندی اور عزتیں اچھالنے کی آزادی ہے۔میں پیپر کے سوال پر قلم اُٹھانے کو سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ میرا خیال نہیں تھا کہ اس پیپر کو زیر بحث لائوں ، اپنی تحریر کو کسی اختلافی موضوع پر لکھنے کی جسارت کروں، مگر گذشتہ روز ہی ایک چینل پر اوپن یونیورسٹی کے ریجنل ڈائریکٹر جناب رسول بخش بہرام صاحب کی منطق سننے کا موقع ملا۔ پروگرام اینکر نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس موضوع پر اوپن یونیورسٹی کا مئوقف جاننے کے لئے ان سے رابطہ کیا جو کہ قابل ستائش تھا۔ علم کے پیاسے لاکھوں نوجوانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے والی جامعہ، دنیا بھر میں اپنا ایک ممتاز مقام رکھنے والی درسگاہ اور اسی عظیم درسگاہ کے امتحانی پرچے میں ایسی نادانی یقین جانئے قابل مذمت ہی نہیں بلکہ قابل سرزنش فعل تھا۔ اس حوالے سے یونیورسٹی کو بروقت مئوقف دینا چاہئے تھا، خیر دیر آید ، درست آید۔چلیں جناب ریجنل ڈائریکٹر صاحب ہی کو سن لیتے ہیں۔ اینکر سوال پوچھتا ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والے سوال کے بارے میں آپ کا کیا مئوقف ہے؟سوال یہ تھا کہ اپنی بہن کے بارے میں مندرجہ ذیل چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مضمون لکھیں(۔ Age،Height،physique،Look،Height ، attitude) انہوں نے (physique )کا مطلب سمجھاتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ تمھاری بہن کی صحت کیسی ہے؟جناب رسول بخش صاحب جہاں تک( Physiqye)کے معانی کا تعلق ہے تو انگریزی لغات کے مطابق اس کے معانی (body, build, figure, frame, anatomy, constitution, shape, form)بنتے ہیں۔ قبلہ ان الفاظ کے معانی ارود میں کرکے دیکھ لیں شاید ہی کوئی بھی مطلب آپ کی جواب سے مطابقت نہیں رکھتا۔قبلہ! آپ تو یہ فرما رہے ہیں کہ بچہ اپنی بڑی بہن سے ڈر رہا ہے۔ خوف زدہ ہے اس لئے اس کو حوصلہ اور ہمت دینے کے لئے یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ وہ بڑی بہن کے بارے میں لکھے۔ حضور والا! منٹو کے افسانے کا مرکزی خیال بھی یہی تھا۔دنیا کے کسی بھی ملک میں آج تک بہن کے بارے میں ایسا سوال نہ پوچھا گیا ہے اور نہ ہی پوچھا جائے گا۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی جانب سے ایسا سوال کس مقصد کی خاطر پوچھا گیا۔ اس کا جواب تلاش کرنے کے لئے کئی مزید سوالات جنم لیتے ہیں۔کوئی بھی معاشرہ ہو بہن کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بہنوں کی تکریم لوگوں کے دلوں میں نقش ہوتی ہے۔بہنیں گھروں کی رونقیں ہوتی ہیں۔جہاں باپ کی شفقت اور ماں کا لاڈ انہیں حوصلہ دیتا ہے وہیں بھائیوں کی شرارتیں ان کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیتی ہیں۔ بھائیوں کے ناز و نخرے خندہ پیشانی کے ساتھ اٹھاتی ہیں۔اوپن یونیورسٹی کی جانب سے چھیڑی گئی بحث کی وجہ سے بہن اور بھائی کے مقدس رشتے کو متنازعہ بنایا گیا ہے۔ بہنوں کے پیار اور محبت کو خوف میں مبتلا کرنے کی جسارت کی گئی ہے۔ بہنیں جو بازار میں اپنی جانب اٹھنے والی نگاہوں سے عزت و تکریم کی حفاطت کرتی تھیں انہیں اپنے بھائیوں سے بھی خود کو بچانا ہوگا ، ہاں بھائی کی تعاقب کرتی نگاہوں سے تحفظ کرنا ہوگا۔ کیا خبر کب بھائی بہن کی (Physique)پر تنقیدی نگاہیں ڈالنا شروع کردے، جی یہ نگاہیں بھائی اپنے مضمون کی تکمیل ہی کے لئے ڈالے گا۔ ہاں بہنوں کی(Look)بھی بھائیوں کے لئے ضروری ہوگی۔بہن کا بھائی اور باقی افراد کے ساتھ(Attitude)کا بھی موازنہ ہوگا۔یہ الفاظ تحریر کرتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں ، میری زبان لرزاں ہے مگر مجھے اس ممتحن کے رویے پر ترس آتا ہے۔ پیارے ممتحن معذرت کے ساتھ مجھے ذرا اپنی بہن کے بارے میں ضرور بتائیے گا۔ وہ دکھنے میں کیسی ہے؟ اس کی چال مورنی جیسی ہے؟ یااس کے بدن میں ہرنی جیسی پھرتی ہے؟ نہیں نہیں یہ بھی دیکھیے وہ بھینس کی طرح سست ہے یا گوریلا کی طرح لمبے لمبے ڈھگ بھرتی ہے، ارے ہاں اس کے قد بھی تو بتائے، جناب ضرورت رشتہ کے لئے نہیں صرف ایک مضمون لکھنا ہے اس مضمون کے بعد مجھے تو محض 20نمبر ملیں گے مگر شاید کوئی نگران یا پیپر مارک کرنے والا ٹھرکی ممتحن اس میں دلچسپی اختیار کرتے ہوئے رشتے کا پیغام ہی بھیج دے۔چلیں بہن کی عمر بھی بتا دیں ۔ کیا اس کی شادی کی عمر گزر چکی ہے؟ کیا اس کے بالوں میں چاندی چھا گئی ہے یا ابھی وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہی ہے؟ارے اس کا رویہ کیسا ہے؟ کھری کھری سناتی ہے یا بس چپ چاپ سب سن لیتی ہے؟ قسم لے لیں مجھے آپ کی بہن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بس ایک مضمون کو مکمل کرنا ہے ، وہی مضمون جو آپ نے میٹرک کے امتحانی پرچے میں پوچھا ہے، وہی مضمون جس سے میرا مستقبل وابستہ ہے ، ہاں جی وہی پرچہ جس کے تمام سوالات کا جواب دینا ضروری ہے، کیوں کہ آپ نے وہاں تو آپشن بھی نہیں دیا کہ کوئی سوال چھوڑا بھی جا سکتا ہے، اگر میرے پاس سوال چھوڑنے کا کوئی آپشن ہوتا تو شاید یہ باتیں آپ سے نہ پوچھتا ۔ آپ کی بہن کے بارے میں آپ سے سوالات نہ کرتا، وہ کیا ہے ناں میری کوئی بہن نہیں ہے اس لئے آپ کی بہن میں دلچسپی لینا میری مجبوری بن گئی ہے اور ہاں ایک اور بات مجھے ریجنل ڈائریکٹر صاحب کا جواب بھی مطمئن نہیں کر سکا ، وہ آپ کی غلطی کے دفاع میں جھوٹ کی تمام حدوں کو پار کر رہے ہیں۔شاید میں اخلاقیات کی پاک و بابرکت حدوں کو پار کردیا ہے۔ شاید میرے الفاظ امتحانی پرچے میں کئے گئے سوال سے زیادہ احمقانہ اور بے حیائی کا مظاہرہ کر رہے تھے، ہر اس بھائی سے معذرت جس کے لئے اس کی بہن عزت و حرمت اور پیار کا نمونہ ہے۔ مگر مجھے تو اوپن یونیورسٹی کا یہ پیپر بنانے والے ممتحن اور ریجنل ڈائریکٹر سے ضرور پوچھنا ہے ۔ ارے بھائی مجھے بتانا ذرا ’’ تمھاری بہن کیسی ہے؟‘‘

About

View all posts by

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *