8-11-2016

قائد پی ٹی آئی ہم شرمندہ ہیں

تحریر : امیر عبداللہ خان :چیئر مین یونین کونسل چھدرو

قارئین محترم! جیسا کہ آج میانوالی میں پی ٹی آئی کے وہ تمام پرانے نظریاتی اور جنونی ورکروں کے علاوہ پی ٹی آئی اور عمران خان سے محبت کرنے والے لاکھوں لوگ کچھ دنوں سے ایک قرب میں مبتلا ہیں جن کے دلوں اور دماغ میں غصے کا عنصر ہے جو2نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے موقع پر ہونے والی وہ سنگین کوہتائی ہے جس کا اذالہ نہ ہو سکتا ہے نہ ہی ہم کبھی کر پائیں گے کیونکہ 30 ستمبر2016کو رائے ونڈ میں ہونے والے جلسے میں انسانوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوے سمندر میں ہمارے قائد جناب عمران خان نے پانا مہ لیکس کی کرپشن پر وزیر اعظم پاکستان جناب میاں محمد نواز شریف کو چیلنج دیا کہ وہ یا تو اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کریں یا پھر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں ورنہ اسلام آباد میں احتجاج کیلئے پی ٹی آئی 2نومبر کو میدان میں ہو گی ۔
اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ میرا قائد عمران خان اپنے مشن ، قول ، ارادے اور عزم کا پکا ، سچا ایک دیانت دار اور بہادر لیڈر ہے جو بہت بڑے دل کا مالک ہے وہ دوسروں لوگوں کے متعلق ہمیشہ اچھا خیال اور گمان رکھتا ہے وہ خود پاک صاف کھلے دل و دماغ رکھتے ہوئے ہمیشہ یہی سوچتاہے کہ سامنے والا بھی جیسا نظر آ رہا ہے وہ اندر سے بھی ویسا ہی ہو گا ۔ شایداسی وجہ سے کچھ مفاد پرست لوگ اپنے مقاصد کیلئے عمران خان کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ایسے منافقین میرے قائد عمران خان کے حوصلوں کو کبھی پست نہیں کر سکتے نہ ہی میرا قائد چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنے مشن کی راہ میں کوئی رکاوٹ بننے دیتا اس لئے کہ اس کے مقاصد بہت بلند اور عظیم ہیں ۔
2نومبر2016 ؁سے پہلے 31اکتوبر اور یکم نومبرکے ایام میرے قائد عمران خان کی جدو جہد میں انتہائی اہم اور عظیم دن تھے اورپاکستان کے موجودہ فرسودہ اور کرپٹ نظام میں تبدیلی کے خواہش مند ملک بھر کے لاکھوں لوگ اور پارٹی ورکرز نہ صرف اسلام آباد جانے والے راستوں بلکہ اپنے اپنے شہروں دیہاتوں اور قصبوں کے گھروں میں پنجاب حکومت اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی وفاقی حکومت کے حکم پر پولیس کے ظلم و بربریت اور انتقام کا شکار بنے ہوئے تھے ۔
ان ایام میں پنجاب کے تمام راستے مکمل سیل تھے بلکہ صوبہ خیبر پختونخواہ سے پنجاب اور اسلام آباد کے تمام داخلی راستے میدان جنگ کا منظر پیش کر رہے تھے ۔پی ٹی آئی کے تمام نہتے اور پر امن کارکن لاٹھیوں ،ربڑ کی گولیوں اور انسانی زندگیوں کے لیئے جان لیوا زائد المعیاد آنسو گیس کے شیلوں کا خالی ہاتھ مردانہ وار مقابلہ کر رہے تھے اورعمران خان اپنے ان عظیم اور بہادر کارکنوں کی جرائت اور بہادری کی داد دے رہے تھے ۔یہ اُن تمام کارکنوں کیلئے عزت ، وقار اور فخر کے لمحات تھے جو عمران خان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے میدان عمل میں اپنے خون کے قطروں سے ایک مثالی تاریخ رقم کر رہے تھے ۔اگلے روز جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے پانا مہ لیکس پر کاروائی کا آغاز کیا اور پانامہ لیک میں شامل تمام لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کر کے اُن کے خلاف عدالتی کاروائی کا با قائدہ حکم صادر فرما دیا تو میرے قائد عمران خان نے معزز عدالت کا مکمل احترام کرتے ہوئے اپنی بہترین سیاسی حکمت عملی کے طور پر اپنا پر امن احتجاج موخر کرتے ہوئے یوم تشکر منانے کاا علان کر دیا ۔
اسلام آباد کے پریڈ گراونڈ میں ہونے والے جلسے میں انسانی سمندر اور لاکھوں کارکنوں کے سامنے نہ صرف میرے قائد جناب عمران خان و دیگر اعلی پارٹی قیادت نے بلکہ ملک بھر کے تمام پارٹی وکروں کی طرف سے خیبر پختونخواہ کے دلیر ، بہادر اور درویش وزیر اعلیٰ جناب پرویز خان خٹک اور تمام بہادر اور غیور کارکنوں کی خدمات اور جدو جہد کو سلام اور خراج تحسین پیش کیا گیا جو اُن کیلئے واقعی یہ فخر اور خوشی کے لمحات تھے لیکن ان لمحات میں راقم الحروف سمیت میری غیرت مند دھرتی ضلع میانوالی کے وہ لاکھوں کارکن جو عمران خان کے مشن سے وابستہ ہو کر گزشتہ 20سال سے مسلسل جدو جہد کرتے چلے آ رہے تھے اور میرا قائد عمران خان بار ہا اس کا بر ملا اعتراف بھی کرتا چلا آ رہا تھا ہم سب لوگ اُس وقت شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے اپنے چہرے چھپانے کی کوشش کر رہے تھے ۔میانوالی میں درہ تنگ سے لے کر حمید کوٹ ٹبہ مہربان شاہ اور ضلع چکوال ، ضلع خوشاب اور ڈی آئی خان کے پی کے کی سرحد تک پھیلے ہوئے عمران خان کے لاکھوں جانثاروں کی حالت اُس وقت شرمندگی سے غیر تھی اور اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ہم اپنے قائد عمران خان کی آواز پر میانوالی کے ورکر لبیک نہ کر سکے ۔اس ساری جدوجہد میں میانوالی کی پی ٹی آئی جسے عمران خان اپنا بیس کیمپ قرار دیتے ہیں اور ہم سب ورکر اس کو اپنا سیاسی کعبہ تصور کرتے ہیں وہ کہیں نظر نہیں آرہا تھااس کی وجہ میانوالی کی ہماری قیادت اور پارٹی ٹکٹ پریہاں سے منتخب ہونے والے وہ معزز ارکان اسمبلی ہیں جس میں کئی لوگ تو ایسے ہیں کہ اگر اُن کے پاس ہمارا پارٹی ٹکٹ نہ ہوتا تو وہ اپنی یونین کونسل کا چیئر مین منتخب ہونے کے اہل بھی نہیں تھے ۔مگر عمران خان کی جانب سے دیئے گئے ٹکٹ کی بدولت آج وہ سب پارلیمانی مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں ان حضرات نے اپنی اسمبلی کی رکنیت کی آڑ میں میانوالی میں پاکستان تحریک انصاف پر قبضہ کیا ہوا ہے ان لوگوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں جن کے حصول کیلئے اُنہوں نے اپنے اپنے گروپ بنائے ہوئے ہیں یہ لوگ نظریے اور عمران خان سے محبت کی سیاست کرنے کی بجائے اپنی سیاسی دکان چمکانے کے چکروں میں ہیں اور اپنے اپنے دھڑوں اور گروپوں کی سیاست کر ہے ہیں۔
میرے قائد جناب عمران خان کی اصول پسندی اور کمٹمنٹ دیکھئے کہ 2013؁ کے الیکشن میں پارٹی ٹکٹ تقسیم کرتے وقت صرف اپنے اصول پر قائم رہتے ہوئے اپنے خاندان کے عزیز ترین اور قریبی رشتوں کی قربانی تک دے دی لیکن اس کے بدلے میں ہماری قیادت نے اپنے قائد کے ساتھ کیا کیا ۔ ایسے لوگوں نے بلدیاتی الیکشن کی ٹکٹوں کے وقت یا بعد کی صورت حال میںہمیشہ اپنے اپنے گروپوں کو پروموٹ کرنے کی کوشش کی ہے اوربلدیاتی اداروں کی مخصوص نشستوں کے انتخاب کے لیئے بھی پارٹی ٹکٹوں کی صورت حال بھی سب کے سامنے ہے جس کے نتائج ایک بار پھر جلد سامنے آنے والے ہیں ۔ چونکہ میرے قائد عمران خان نے2نومبر کو اسلام آباد پہنچنے کی کال دی ہوئی تھی اور کشیدہ حالات کے پیش نظر انہوں نے31اکتوبر کو ہی اپنے تمام کارکنوں کو فوری طور پر بنی گالہ پہنچنے کا حکم دیا مگر اس وقت میانوالی میں تمام کارکنوں کا کوئی پر سان حال نہیں تھا ۔ ہماری پارٹی کے 3 منتخب ایم پی اے صاحبان تو کارکنوں کو بے یارو مددگار چھوڑ کر خود راتوں کی تاریکی میں بنی گالہ پہنچنے میں اس لئے کامیاب ہو گئے کہ اُن کے ساتھ کوئی کارکن نہیں تھا اور اُنکی خالی گاڑیوں کو کس نے روکنا تھا ۔ بنی گالہ ہائوس میں پہنچ کر بنائی گئی اُن کی سیلفیوں میں اُن کے چہرے پڑھ کر بہت کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔میانوالی کی موجودہ قیادت کی طرف سے کارکنوں کواحتجاج میں شرکت کیلئے لے جانے کے لیئے ٹرانسپورٹ کمیٹی کا ڈول ڈالا گیا اورکارکنوں کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والے لوگ وقت پر خود نظر ہی نہ آئے عین وقت پر کارکنوں کو کہا جانے لگا آپ لوگ بسوں ، ویگنوں ، گاڑیوں یا ٹرین پر چلے جائیں ہم آپ کو کرایہ دے دیں گے ۔سبحان اللہ میانوالی کی قیادت کا یہ کیسا معیار ہے ؟بہت سی باتیں اور تلخ حقائق ایسے بھی ہیں جنہیں راقم الحروف سر عام بیان کر کے پارٹی کی رسوائی نہیں کرنا چاہتا لیکن بے وفائی کی یہ داستان ہم اپنے قائد عمران خان کے سامنے شرمندگی اور ندامت کے ساتھ ضرور بیان کریں گے اس کالم کے توسط سے میں نے صرف یہی کہنا ہے خیبر پختونخواہ سمیت پاکستان بھر کے وہ لوگ واقعی قابل فخر ہیں جنہوں نے اپنے قائد کی پکار پر لبیک کہا اور قربانی دیکر اپنا نام رقم کیا لیکن ہم اپنے قائد کے میعار پر پورا نہیں اُتر سکے اور ہم سے اُنکی جو توقعات وابطہ تھیں اس میں ہم یکسر ناکام ہیں اور اس ناکامی پر اپنے تمام پارٹی ورکروں سے بھی معافی کے طلبگار ہیں میرے قائد محترم جناب عمران خان ہم واقعی آپ کے سامنے شرمندہ ہیں ۔۔۔اے قائد ہم شرمندہ ہیںاور بہت نادم ہیں ! ! !

About

View all posts by

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *