سید امجد

قائداعظم یو نیورسٹی…جہاں پائلٹ نہیں ـ’’جہاز‘‘ بنتے ہیں
سید امجد حسین بخاری

’’جس کو حکمت ملی اسے درحقیقت بڑی دولت مل گئی‘‘قرآن پاک کی اس آیت مبارکہ کے سلوگن کے تحت اس یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ تاریخی یونیورسٹی1969ء کو قائم کی گئی۔ اس یونیورسٹی میں حکمت کی تلا ش میں مجھے جانے کا جی چاہا۔ مرکزی دروازے سے داخل ہوتے ہی تنومند ، ہٹے کٹے جسم کے مالک ایک کڑیل نوجوان سے مڈبھیڑ ہوئی، بعد میں معلوم ہوا کہ موصوف یہاں پر سیکورٹی کی ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔ خوبصورت سبزے نے یونیورسٹی کو گھیرے ہوئے تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس جامعہ سے خزاں کا گزر نہیں ہوا۔چند قدم چلنے کے بعد اسلام آباد کے ٹھنڈے موسم میں سورج کی تپش سے حرارت کا کچھ انتظام کرنے کا ارادہ کیا۔ ابھی گھاس پر نیم دراز ہوا ہی تھا کہ سگریٹ کی چند بچے ہوئے ٹکروں پر نظر پڑی، ایک وقت کو خیال آیا کہ تعلیمی اداروں میں سگریٹ نوشی تو ممنوع ہے تو پھر یہاں سگریٹ کا کیا کام؟ انہی سوچوں میں مگن تھا کہ تین خوبرو طالبات ہاتھوں میں باریک سگریٹ پکڑے بالوں کو جھٹکے دیتے ہوئے لان کی طر ف آتی دکھائی دیں۔ پہلے تو آنکھوں پر یقین نہیں آیا لیکن دو چار دفعہ دونوں ہاتھوں سے آنکھیں مل کر دیکھا تو واقعی وہ سگریٹ کے دھویں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے آرہیں تھیں۔ خیر خواتین کو میں کم و بیش ہی غور سے دیکھتا ہوں، حیرت کے سمندر میں غلطاں مین کیفیٹریا کی جانب چل پڑا۔مجھے اس یونیورسٹی کے بارے میں جاننا تھا، شہر اقتدار کے سینے پر پھولوں کی مانند سمجھی جانے والی یونیورسٹی کچھ عرصے سے میڈیا کی خبروں میں تھی۔ سوچا کچھ معلومات حاصل کر لوں۔ اپنے تجربات سے پہلے اس یونیورسٹی کے بارے میں کچھ معلومات شیئر کروں گا۔19تدریسی عمارتوں اور1700ایکڑ پرپھیلی ہوئی اس یونیورسٹی میں چار فکلٹیز فکلیٹی آ ف نیچرل سائنس، فکلٹی آف بیالوجیکل سائنس، فکلٹی آف سوشل سائنس، فکلٹی آف میڈیسن جبکہ دیگر نو انسٹیوٹس اور کالجز سینٹر فار جینڈر اسٹڈیز، نیشنل انسٹیوٹ فار مطالعہ پاکستان، نیشنل انسٹیوٹ آف سائیکالوجی، نیشنل انسٹیوٹ آف ہسٹریکل اینڈ کلچر ریسرچ، نیشنل انسٹیویٹ آف ایشین سویلائزیشنز اور کمپیوٹر سینٹر قائم ہیں۔اس کے علاوہ پندرہ سے زائد کالجز کا اس یونیورسٹی سے الحاق ہے۔طلبہ کے لئے سات جبکہ طالبات کے لئے تین ہاسٹلز بھی موجود ہیں، اس یونیورسٹی کے ریگولر طلبہ وطالبات کی تعداد 5500ہے۔ ویسے تو اس عظیم یونیورسٹی کو عالمی اور بین الاقوامی سطح پر تدریسی معیار کی وجہ سے ایک ممتاز مقام حاصل ہے مگر گذشتہ چند ماہ سے منشیات فروشی، طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کئے جانے اور طلبہ کے درمیان لسانی بنیادوں پر ہونے والے جھگڑوں نے اسے پردانش گاہ حکمت پر وہ بدنما دھبے لگائے ہیں جو شاید مدتوں علم و عمل کی آب زم زم سے نہلانے کے بعد بھی مٹانا ناممکن ہوگا۔اس دانش گاہ علم وحکمت کی چیخیں اسمبلی میں بھی سنائی دی گئیں مگر پانامہ کے ہنگاموں اور نااہلی کی رسہ کشی میں اس کی چیخیں سسکیوں میں بدلتے بدلتے کہیں گم سی ہوگئیں۔مین کیفیٹریا میں سگریٹ کے بادل اُڑاتے طلبہ وطالبات سے گفتگو کا آغاز کیا اور انہیں سگریٹ نوشی اور منشیات کے استعمال کے خدشات کے بارے میں بتلانے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ قائداعظم یونیورسٹی کو لسانی بنیادوں پر بننے والی کونسلز نے جنگ کا میدان بنا رکھا ہے۔ آئے دِن لسانی تنظیموں کی طرف سے یونیورسٹی پر قبضے کی سوچ نے تعلیمی ماحول کو تباہ کر رکھا ہے۔یونیورسٹی میں لسانی تنظیمیں عرصہ دراز سے عام طلبہ کو زودوکوب کر رہی ہیں جن کی متعدد بار شکایت درج کروانے کے باوجود تاحال کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ منشیات کی سپلائی انہی تنظیموں کی جانب سے اپنے اخراجات چلانے کے لئے کی جا رہی ہے۔ روکنا ہے تو یونیورسٹی میں قبضہ کی سوچ کو روکنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ سندھی طلبہ جنوری کی سرد راتوں میں یونیورسٹی کے باہر فٹ پاتھ پر دس دن تک سوئے رہے۔ یونیورسٹی لسانی بنیادوں پر جھگڑوں کے باعث ایک ہفتے تک بند رہی۔طلبہ وطالبات نے الزام عائد کیا کہ لسانی تنظیمیں یونیورسٹی میں منشیات کے اڈے چلا رہی ہیں جس کی وجہ سے تعلیمی ادارے میں طلبہ کی بہت بڑی تعداد نشے کی لت میں مبتلا ہوچکی ہے۔قائداعظم یونیورسٹی میں لسانی تنظیمیں منشیات فروشوں کے زیرِ سایہ پاکستان مخالف سوچ کو تقویت دے رہی ہیں۔ ہم حکومتی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بات کا سختی سے نوٹس لے کر ان کونسلز کے خلاف کاروائی کی جائے۔ یونیورسٹی میں پرامن ماحول کے لیے ضروری ہے کہ لسانی تنظیموں پر پابندی عائد کی جائے۔ان دنیا و مافیا سے بے خبر طلبہ و طالبات کی گفتگو مجھے ایک ماہ پیچھے لے کر گئی ۔جنوری کے اوائل میں قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ کا اجلاس ڈاکٹر امیر اللہ مروت کی زیر صدارت یونیورسٹی میں ہوا جس میں بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا ممنوعہ اشیاء کی خریدو فروخت کے علاوہ کیمپس میں جوئے کی لت بھی بڑھتی جارہی ہے۔ ان کا کہناتھا کہ کمروں میں جنگلی تقریبات کا انعقاد کیا جاتاہے جہاں پر منشیات اور شراب نوشی آزادی کے ساتھ کی جاتی ہے اور اس حوالے سے کئی بار پولیس کو اطلاع دی اور کارروائی بھی عمل میں لائی گئی لیکن یہ تمام اگلی ہی صبح رہا ہو جاتے ہیں۔ یونیورسٹی کے ایک اہم ذمہ دار نے بتایا کہ یونیورسٹی کے ملازمین بھی اس مکروہ کاروبار میں ملوث ہیں ،200گارڈز کی موجودگی کے باوجود انتظامیہ اسے روکنے میں ناکام ہے۔ انہوں نے دبے الفاظ میں کہا کہ ممکنہ طور پر اس کی پشت پناہی کچھ بااثر افراد کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان سب کے علاوہ کچھ غیر متعلقہ لوگ بھی ہاسٹلز کے کمروں میں رہائش اختیار کیے ہیں ۔یہی نہیں اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب نے بھی منشیات فروشوں اور طلبہ و طالبات میں منشیات کی لت کے سامنے بے بسی کا اظہار کیا تھا۔جبکہ یونیورسٹی کے ڈین وسیم احمد نے انکشاف کیا کہ یونیورسٹی میں نشہ آور اشیاء ہاسٹلز میں براہ راست پہنچا دی جاتی ہیں، یعنی پیزا ڈیلیوری کی طرح فری ہوم ڈیلیوری کی سہولت موجود ہے۔قائداعظم یونیورسٹی کی عمارات، ہاسٹلز، پرفضا لان مجھے بار بار رکنے کا کہہ رہے تھے مگر مجھے چلتے چلتے یہ خبر بھی ملی کہ یونیورسٹی کی دو سو ایکڑ سے زائد اراضی پر قبضہ مافیا کا راج ہے، جس کو سی ڈی اے انتظامیہ چھڑوا سکی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں اس کی گونج سنائی دی تاہم عدالت عالیہ نے نوٹس بھیج کر متعلقہ حکام اور اداروں سے جواب طلب کیا ہے مگر تاحال دو نوں جانب سے ایک طویل خاموشی۔نشے میں دھت طلبہ وطالبات کو دیکھ کر میں دکھی تو ہوا ہوں لیکن امید ابھی باقی ہے۔ تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں میں ابھی بھی اس جامعہ کے مقابلے میں کوئی یونیورسٹی نہیں آسکی ۔ لیکن یہ یونیورسٹی ایک مقابلہ ہار گئی۔ اپنے طلبہ وطالبات کی وجہ سے ملی یکجہتی کا مقابلہ… اخلاقیات کا مقابلہ… مقصد تعلیمی کا مقابلہ… شہر اقتدار کے باسی اگر پانامہ … نااہلی… تیرا چور میرا چور کے جھگڑوں سے نکلے گئے ہوں تو قوم کے مستقبل کی جانب نظر دوڑا لیں ، ورنہ ہمیں تعلیمی اداروں سے پائلٹ نہیں جہاز ملیں گے۔یونیورسٹی سے نکلتے ہی میرے سامنے فیصل مسجد، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی عمارتیں تھیں۔ میں ان قلعہ بند عمارتوں کے مکینوں سے کچھ کہنا چاہتا تھا مگر شاید جلے ہوئے سگریٹ کے دھویں کی طرح میرے خیالات بھی منتشر ہوگئے تھے۔ مین روڈ سے ٹیکسی لی اور فیض آباد کے بس اسٹینڈ پر آگیا کیوں کہ اس شہر میں رہنے کو جی نہیں کر رہا تھا۔

یہ سب کیوں اور کیسے ہوا؟

جمعرات کو ہونے والے دھماکے میں 88 افراد شہید جبکہ 300سے زائد زخمی ہوئے۔ان زخمیوں میں سے 50کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔گزشتہ 5دنوں میں یہ آٹھواں دھماکہ ہے۔سیہون شریف میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر ہونے والے دھماکے میں بہت بڑا جانی نقصان ہوا۔یہ دھماکہ دہشت گردوں کی بزدلی کا ثبوت ہے۔چند دنوں میں دھماکو ں کی لہر پورے پاکستان میں پھیل گئی ہے۔لاہور،کوئٹہ ،پشاور اور مہمند ایجنسی کے بعد اب دہشت گردوں نے لعل شہباز قلندر کے دربار کو نشانہ بنایا۔بتایا جارہا ہے کہ چاروں صوبوں میں دہشت گردی کی پلاننگ تین مہینوں سے پہلے ہی کی گئی تھی۔لیکن طے پایا تھا کہ فروری میں نشانہ بنایا جائے گا۔اس سے پہلے لاہور میں دہشت گردوں نے ہڑتالی کیمپ کے دوران دھماکہ کیا۔جس میں بہت قیمتی جانی نقصان ہوا۔ پولیس افسران سمیت 13افراد شہید جبکہ 70افراد زخمی ہوئے۔چیئرنگ کراس پر ہونے والے دھماکے میں ملوث خود کش بمبار کا اہم سہولت کار پکڑلیا گیا ہے۔یہ نیٹ ورک افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں کرتا ہے اور جب کہ لاہور بم دھماکے میں بھی یہی نیٹ ورک ملوث ہے۔بتایا جارہا ہے کہ اس حملے کی تیاری افغانستان میں کی گئی تھی۔سہولت کار کے بیان کے مطابق انہیں پولیس کو نشانہ بنانے کو کہا گیا تھا اور یہ کام عصر سے پہلے ختم کرنے کو کہا گیا تھا۔13فروری کو پولیس والے موجود تھے جس سے کے بعد خود کش بمبار کے سہولت کار انوارالحق نے اسے وہاں چھوڑ دیا۔اس کی تیاری پہلے ہی کی جا چکی تھی۔خودکش بمبار کے سہولت کار نے اپنے اعترافی بیان پر مبنی ویڈیو میں کہا ہے کہ ان کا تعلق کالعدم جماعت الاحرار سے ہے۔انوار الحق کا کہنا تھا کہ بیس پچیس دن پہلے اسے خود کش جیکٹ دی گئی تھی، جو پشاور سے لاہور ایک ٹرک کے ذریعے پہنچائی گئی۔دہشت گرد آسانی سے بزدلانہ وار کرنے میں کیسے کامیاب ہوگئے؟اس کی بھی وجوہات ہیں۔
ایک طرف تو سکیورٹی فورسز پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ لاہور میں حساس اداروں کی وارننگ کے باوجو د سکیورٹی کیوں نہیں فراہم کی گئی۔ یہ بڑاسوالیہ نشان ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی کی ناقص صورتحال کی وجہ سے دہشت گرد آسانی سے لوگوں کا خون بہانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔آج اگر حکومت لعل شہباز قلندر درگاہ کو سکیورٹی فراہم کرتی تو شاید اتنا نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔
آپ دیکھیں کہ ملک کے اعلی حکام کو جتنی سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے، جتنی سکیورٹی وزیروں کو فراہم کی جاتی ہے ،اتنی سکیورٹی عوام کو کیوں نہیں فراہم کی جاتی۔۔۔لعل شہباز قلندر میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ موجود تھے ،لیکن سکیورٹی کے لیے تین ،چار پولیس سپاہی موجود تھے۔مجھے بتائیں کہ اب یہ تین چار لوگ کیا کرتے یہ سکیورٹی نہ ہونے کے برابر ہے۔اگر کوئی وزیراعظم ہوتا تو سکیورٹی اہلکار کی تعداد تو دور کی بات آپ گاڑیاںہی گنتے رہ جاتے اور پولیس اہلکار کی تعداد سینکڑوں ہوتی۔قیمتی جانوں کی مذمت تو عام آدمی بھی کرتا ہے ۔مذمت کے ساتھ ساتھ آپ سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں تو عوام کے لیے فائدہ ہے۔قیمتی جانوں کے ضیاع کا دوسرا بڑا سبب زخمیوں کو بروقت طبی سہولیات نہ ملنا ہے۔میں دیکھ رہا تھا کہ جب لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکہ ہوا تو لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے پیاروں کو ہسپتال پہنچایا۔ہسپتال بھی درگاہ سے کئی کلومیٹرز کے فاصلے پر تھے۔ایمبولینسز بھی تاخیرسے پہنچے۔اب آپ پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال دیکھیں تو آپ کو انتہائی افسوس ہوگا۔قیمتی جانوں کے ضیاع کی اور وجہ انہیں بروقت طبی سہولیات نہ ملنا ہے۔مزار کے قریب قریب کوئی ہسپتال نہیں تھا جس کی وجہ سے اموات میں اضافہ ہوگیا۔زخمیوں نے قریب کوئی ہسپتال نہ ملنے کی وجہ سے پہلے ہی جانیں گنوا دیں۔حکومت کو اپنی فکر چھوڑ کر عوام کی فکر بھی کرنی چاہیے۔
ان سفاک دہشت گردوں میں جہاں قوم کو قیمتی جانوں کے ضیاع کا نقصان اٹھانا پڑا تو وہیںدھماکوں کا مقصد پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں نہ کروانے کی سازش بھی ہو سکتی ہے۔غیر ملکی پہلے ہی پاکستان میں نہ کھیلنے کا جواب دے چکے ہیں۔لیکن پاکستانی پر عظم ہیں کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہی کروایا جائے تاکہ ہمارے ویران میدان آباد ہو سکیں۔اگر پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہوگی اگر فائنل پاکستان میں نہیں ہوتا تو یہ پاکستان کی ناکامی ہوگی۔اور دوسرے ممالک خاص طور پر بھارت پر اچھا تاثر نہیں جائے گا کیونکہ وہ پہلے ہی چاہتے ہیں کہ پاکستان کے میدان ہمیشہ ویران ہی رہیں۔اور وہ کسی صورت پاکستان کو ترقی کے راستے پر نہیں دیکھ سکتے۔ان دھماکوں کی وجہ سے پاکستان کو بہت بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ملک پر نظر دہرائیں تو آپ دیکھیں گے کہ نہ ہمارے پارک محفوظ ہیں نہ ہماری مسجدیں محفوظ ہیں نہ ہمارے دربار محفوظ ہیں۔جس جگہ لوگوں کی تھوڑی سی تعداد زیادہ اکٹھی ہو جائے وہاں دھماکہ ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
دھماکہ ہوتا ہے تو ہمارے اعلی حکام صرف مذمت کرتے ہیں۔چند بیانات جاری ہوتے ہیں پھر چپ ہوجاتے ہیں۔لیکن سوال ہے کہ کیا ہم مذمت ہی کرتے رہیں گے؟اگر حکومت سکیورٹی فراہم کرتی تو شاید قیمتی جانوں کے ضیاع کا نقصان نہ اٹھانا پڑتا،اتنے لوگ جانیں نہ گنواتے۔طبی سہولیات نہیں ہے۔سکیورٹی نہیں ہے۔ہسپتال نہیں ہے۔اگر ہسپتال موجود ہیں تو ان میں سہولیات موجود نہیں ہے۔سارا بوجھ غریب عوام پر کیوں آتا ہے۔غریب عوام آخر جائے تو کہاں جائے۔نقصان ہمیشہ غریب عوام کو ہی اٹھانا پڑتاہے۔جب کہ ہمارے وزراء کا کام ٹی وہ پر آنا پریس کانفرنس کرنا اور چلے جانا۔اگر سچے دل سے ان تمام دھماکوں کی صاف شفاف تحقیقات کی جائیں تو مزید پیش رف سامنے آ سکتی ہے۔سہولت کار سے اس دھماکے کے متعلق اہم معلومات مل گئی ہے۔آزاد اور شفاف تحقیقات کرکے ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔یہ بڑی اچھی بات ہے کہ اس حملے کے بعد پاکستانی فوج سمیت رینجرز اور پولیس حرکت میں آ گئی ہے اور چوبیس گھنٹے میں سو سے زائددہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیے۔اس طرح دہشت گردی کے خلاف مزید کارروائیاں جاری ہیں۔

تیرا چور مردہ باد…میرا چور زندہ باد

7
سید امجد حسین بخاری

پانامہ لیکس کے بعد سات ماہ تک یوں خاموشی چھائی رہی گویا حرمت کے ماہ ہوںاور ان میں قتال جائز نہ ہو۔ پھر اچانک حالات نے پینترا تبدیل کیا۔ حکومت پر بجلیاں گرانے کے لئے خیبر پختونخواہ ایک جمع غفیر اسلام آباد میں جمع کرنے کااعلان کیا گیا۔ پنجاب سے عوام کو کیوں نہیں لایا گیا؟ کیوں پنجاب کی ساری قیادت کو بنی گالہ کے محل میں بند کرکے رکھ دیا گیا اور کارکنان کو ٹھٹھرتی شاموں میں سردی اور مچھروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا؟ ان سوالات پر بہت سی تحریریں لکھی جا چکی ہیں اور بعد ازاں میڈیا کی جانب سے بھی سوالات اُٹھائے گئے۔ خیبر پختونخواہ کے صوابی انٹر چینج سے بغاوت کے نعرے بلند ہوتے ہوئے صوبائیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی تو دوسری جانب اسلام آباد کی سڑکوں پر پکڑے جانے کے خوف سے گنڈا پوری شہد کے ڈیلر ز کی دوڑیں بھی میڈیا نے لائیو چلائیں۔ شیخ صاحب کے ناراض بیگمات والے شکوے بھی سننے کو ملے اور کسی سرکس بوائے کی طرح راولپنڈی کی گلیوں میں ان کا تماشا بھی دیکھا گیا۔چلیں اس سارے محل وقوع اور حدو اربعہ سے آپ کو متعارف کیا کرانا آپ تو واقف ہیں کیسے تحریک انصاف کے جیالے جنگلی سورئوں کا شکار ہوتے ہوتے بچے اور کیسے اسلام آباد میں کارکن ڈنڈے کھاتے رہے اور قائدین میڈیا ٹاک میں مصروف رہے۔ ان سارے حالات اور معمولات سے آپ بخوبی واقف ہوں گے۔میڈیا نے آپ کو پل پل سے باخبر رکھا۔ اب آتے ہیں اصل معاملے کی طرف تحریک انصاف کا یک نکاتی ایجنڈا تھا تلاشی دویا استعفیٰ دو۔ یعنی خود کو احتساب کے لئے پیش کرو یا وازارت اعظمیٰ سے استعفیٰ دیں۔جی بالکل جائز مطالبہ تھا۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم کو بالکل ایسا ہی کرنا چاہئے کیوں کہ آئین پاکستان کی رو سے وہ جواب دہ ہیں۔ مگر احتساب کیا وزیر اعظم کا ہی ہونا چاہئے؟وزیر اعظم کا تو پانامہ میں سرے سے نام ہی نہیں۔ آف شور کمپنی تو جناب عمران خان صاحب کی بھی ہے۔ نام تو ان کا بھی پانامہ لیکس میں آیا، بڑا پن تو یہ تھا کہ اپنے آپ کو خان صاحب سب سے پہلے احتساب کے لئے پیش کرتے اور بعد ازاں اپنے جماعت کے ذمہ داران سے بھی کہتے کہ آپ بھی اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کرو اور اس کے بعد ہی وزیراعظم کے پاس احتساب کے لئے جاتے۔مگر معذرت کے ساتھ جس تیزی سے پی ٹی آئی کا عوامی مقبولیت کا گراف تیزی سے گر رہا ہے اس کو سہارا دینے کے لئے خان صاحب نے پانامہ کا ہنگامہ برپا کیا۔اس دوران عدالت عالیہ نے میدان میں آکر خان صاحب کی عزت بچانے کے لئے موقع فراہم کیا ۔ جس کے بعد خان صاحب نے یوم تشکر منانے کا اعلان کیا۔ ان کے دونوں جانب کھڑے احباب جو یوم تشکر منا رہے تھے وہ بھی قرض کے کروڑوں روپے ڈکار کر معافی حاصل کر چکے ہیں۔جبکہ دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے پانامہ سکینڈل میں ملوث شریف خاندان کے نو افراد سمیت چار سو پچاس افراد کو نامزد کیا اور مئوقف اختیار کیا کہ نہ صرف عدالت پانامہ سکینڈل میں ملوث افراد سے تفتیش کرے بلکہ ان افسران، سیاستدانوں اور افراد کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے جنہوں نے کروڑوں روپے معاف کرائے اور اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا۔قوم کے پیسوں پر جنہوں نے لوٹ مار کی ان سب کا احتسا ب ضروری ہے اور سراج الحق نے میڈیا کے سامنے خود کو احتساب کے لئے پیش کیا۔ یہ امر جہاں ایک طرف قابل ستائش ہے وہیں دوسری طرف اپوزیشن اور حکومت دونوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے اگر سپریم کورٹ عمران خان کی درخواست پر وزیراعظم کے خلاف فیصلہ سناتی ہے تو یقینا اسے سراج الحق کی درخواست کا فیصلہ سناتے ہوئے پانامہ سکینڈل کے تمام ملزمان کو کٹھرے میں لانے کا اعلان کرنا ہوگا۔ دوسری جانب تحریک انصاف اور ن لیگ دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف درخواستیں جمع کرا دی ہیں جس کا مطلب ہر رکشے کے پیچھے ایک مخصوص مصرعے کی شکل میں نکلے گا ’’ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تمھیں بھی لے ڈوبیں گے ‘‘ ۔لیکن حالات و واقعات سے لگ رہا ہے کہ ایک بار پھر فرینڈلی اپوزیشن کا کردار دیکھنے کو ملے گا اور ’’اتفاق میں برکت‘‘ والا محاورہ صادق آئے گا یعنی ’’آدھا تیرا آدھا میرا‘‘۔ مگر سب سے مشکل امتحان سپریم کورٹ کا ہوگا کہ وہ عوام کی امیدوں پر کتنا پورا اترتی ہے، تحریک انصاف کے ٹائیگرز کا یوم تشکر کسی کام آئے گا یا مسلم لیگ کے شیروں کی کچھار سلامت رہے گی۔ مگر عدلیہ کو عوام کے سامنے اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لئے تمام سیاست دانوںکا بلاتفریق احتساب کرنا ہوگا۔ جب احتساب کا نعرہ بلند ہو ہی گیا ہے تو لگے ہاتھوں قوم کی لوٹی دولت کا حساب تو لے ہی لینا چاہئے، کس نے کب اور کیوں قرضے معاف کرائے اس کی خبر بھی عوام کو ہو ہی جانی چاہئے، سوئس اکائونٹس کے اکائونٹ بھی کھول لینے چاہیں۔ یہ سب سیاسی انتقام کے لئے نہیں ملک کی بقاء کے لئے ضروری ہے۔خان صاحب قوم آپ سے یہ توقع کر رہی ہے کہ آپ صرف وزیراعظم کا احتساب نہ کریں بلکہ خود کو بھی اور اپنے رفقاء کو بھی احتساب کے لئے عدالت کے سامنے پیش کریں۔ اگر آپ کا اور آپ کی پارٹی کا دامن صاف ہے تو احتساب کرنے میں کیا حرج ہے۔ آپ اور آپ کی پارٹی کی بقاء اور عوامی مقبولیت آسمانوں کو چھو لے گی اگر آپ نے اپنے محاسبے کے لئے خود کو عدالت کے روبرو پیش کیا۔باقی اپوزیشن کی جماعتیں بھی اسی وجہ سے آپ کے ساتھ شامل نہیں کیوں کہ انہیں ڈر ہے کہ نواز شریف کے احتساب کے دوران کہیں ان کی داستانیں نہ کھل جائیں۔اگر کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے تو باقی سیاست دان کون سے دودھ سے دھلے ہوئے ہیں۔ کون سا گنگا جل ہے جس سے نہا کر وہ پاک و صاف قرار دئیے جارہے ہیں۔ خان صاحب !آپ بھی ن لیگ مخالفت سیاست ترک کرکے سب کے احتساب کا مطالبہ کریں۔ جب سب کا احتساب ہوگا تو ملک ترقی کی جانب گامزن ہوگا، عدالت کا وقار بحال ہوگا۔ قوم کے حقیقی ہیرو اور نجات دہند ہ بن کر سامنے آئیں گے۔اگر آپ بھی بقول سراج الحق ’’تیرا چور مردہ باد…میرا چور زندہ باد‘‘ کی پالیسی اختیار کریں گے تو یقین جانئے پاکستانی قوم سوشل میڈیااور الیکٹرانک میڈیا کی وجہ سے تیزی سے باشعور ہو رہی ہے، اس قوم کے نوجوان بھی اپنے ملک کی بہتری کے لئے سوچتے ہیں۔ انہیں اب کھوکھلے نعرے، نام نہاد دھرنے، ہوائی اعلانات، سیاسی شعبدے بازیاں اور یوم تشکر جیسی باتیں متاثر نہیں کریں گے۔ ان کے لئے حکومت اور اپوزیشن سبھی برابر ہوں گے اور جو نوجوان آپ کو تھرڈ آپشن سمجھ کر پلکوں پر بٹھا رہے ہیں ان کے لئے بھی فورتھ آپشن کی گنجائش نکل آئی گی۔

گنج بخشِ فیض عالم مظہرِنورِخدا ناقِصاں راپیرِکامِل کاملاں رارہنما
حضرت سیدعلی بن عثمان ہجویری المعروف داتاگنج بخش رحمۃ اللہ علیہ

my-logo

حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل،میانوالی 0333.6828540

خالق کائنات اللہ رب العالمین نے اشرف المخلوقات بنی نوع انسان کی رشدوہدایت اورمقصدتخلیق انسان سے آگاہی کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام علہیم السلام کومبعوث فرمایا۔جنہوںنے اپنے اپنے ادوارمیں مخلوق کی ہدایت کافریضہ بخوبی سر انجام دیا۔انسان کوظلمتوں سے نکال کران کے قلوب میں علم ومعرفت کے چراغ روشن کردیئے۔اورپھرقصرِنبوت کی تکمیل کی خاطرخاتم الانبیاء ،امام الانبیائ،فخرالانبیاء ،نبی آخرالزمان،جناب سیدناحضرت محمدمصطفیﷺکومبعوث فرمایا۔چونکہ آقائے دوجہاں سرورکون ومکاںحضرت محمدمصطفیﷺخاتم النبین ہیں آپﷺکے بعدنبوت کاسلسلہ ختم ہوگیااس لئے آقاﷺکے بعدامت کی ہدایت اوررہبری کے لیے اولیاء کرام بھیجے گئے جن کاسلسلہ قیامت تک جاری وساری رہیگا۔اولیاء کرام ؒنے ہردورمیں پیغام حق عام کیااوربھٹکی ہوئی انسانیت کوحق کی راہ دکھائی۔پاکستان کوپوری دنیامیں اسلام کاقلعۂ کہاجاتاہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اس کی وجہ اس سرزمین پربزرگان ملت اولیاء کرام کی تشریف آوری ہے جنہوں نے شبانہ روزدین کی تبلیغ کرکے پاکستان کوقلعہ اسلام بنادیااسی وجہ سے یہاں کے لوگ بزرگان ِ دین اولیاء کرام کی تعلیمات اوران کے نقش قدم پرعمل پیراہیں مسلمانان پاکستان کے دلوں میں اسلام پرمرمٹنے کاشوق شہادت اورجذبہ جہادزیادہ پایاجاتاہے ۔پنجاب کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت سے تسلیم کیاجاتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ یہ سرزمین بزرگان دین اولیاء کرام کامرکزرہی ہے یہاں لوگ مغربی طرزِ تعلیم کے بجائے اولیاء کرام کی تعلیمات پرعمل پیراہیں ْ۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیںنبی کریمﷺکی ظاہری زندگی کے بعداسلام کی تبلیغ وترویج کابیڑاامت مصطفیﷺ،علماء اوراولیاء کرام نے اٹھایا۔خلفاء راشدین سے لیکرموجودہ دورتک اسلام کی خدمات میں صلحاء امت کاکردارنمایاں ہے۔ان پاکیزہ نفوس نے دین ِ اسلام کے فروغ کی خاطرلازوال قربانیاں پیش کیں دین مصطفیﷺکوبلندیوں تک پہنچایابلکہ ہردورکے محدثین ،مبلغین ،اتقیائ،اولیاء ومشائخ عظام نے کفرکے خلاف سینہ سپرہوکربقائے اسلام کی جنگ لڑی تاریخی قربانیاں دیکردین مصطفیﷺکے علم کوبلندفرمایا۔الحمدللہ !آج بھی اسلام کی خوشبودنیامیں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے ۔جس کی وجہ سے یہودوہنوددیگرطاغوتی قوتیں اسلام کی مقبولیت دیکھ کر بوکھلاہٹ کاشکارہیں ۔اسلام کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔ان کی ناپا ک سازشوں کوخاک میں ملانے کے لئے بزرگان دین یہ جنگ لڑرہے ہیں ۔آج جس عظیم ہستی کامیں تذکرہ کرنے جارہاہوں ۔اسے عالم ِ اسلام میں ’’داتاگنج بخش‘‘کے نام سے یادکیاجاتاہے ۔
آپؒ کااسمِ گرامی علی،کنیت ابوالحسن ،والدکانام عثمان ابن علی یابوعلی وطنی نسبت جلابی ثم ہجویری ہے ۔آپؒ کامعروف لقب’’داتاگنج بخش‘‘ہے ۔آپؒ حسنی سیدہیں۔آپؒ کاسلسلۂ نسب آٹھ واسطوں سے سیدناحضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم تک جاملتاہے ۔آپؒ کی ولادت باسعادت تقریباً400ہجری میں افغانستان کے شہرغزنی کے مضافات میں ایک بستی الجلاب میں ہوئی ۔آپ ؒکے مرشد حضرت ابوالفضل محمدبن ختلیؒ ہیں ۔ ان کاسلسلہ طریقت نوواسطوں سے یوں سیدناحضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم سے جاملتاہے ۔آپؒ کاسلسلہ طریقت حضرت ابوالفضل محمدبن حسن ختلیؒ ،حضرت شیخ ابوالحسن حصریؒ،حضرت شیخ ابوبکرشبلیؒ،حضرت شیخ جنیدبغدادیؒ،حضرت شیخ سری سقطیؒ،حضرت شیخ معروف کرخیؒ،حضرت شیخ دائودطائیؒ،حضرت شیخ حبیب عجمیؒ،حضرت شیخ حسن بصریؒ،امیرالمومنین سیدناعلی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتاہے ۔آپؒطریقت میں اپنے آپ کوسلسلہ جنیدیہ کامتبع قراردیتے ہیں ۔آپؒ نے معروف اساتذہ وشیوخ سے تعلیم وتربیت حاصل کی ۔اساتذہ کرام میں ابوالعباس اشقانیؒ اورابوالقاسم القشیریؒ مشائخ صحبت شیخ ابوالقاسم گورگانیؒ ،حضرت شیخ ابواحمدالمظفربن احمدبن حمدانؒ،حضرت شیخ ابوالعباس احمدبن قصابؒ ، شیخ ابوجعفرمحمدبن المصباح الصیدلانیؒ کے نامی گرامیِ سرفہرست ہیں ۔آپؒ نے زندگی کابیشترحصہ تلاش حق کی غرض سے سیاحت میں گزارا۔اکابر اولیاء کرام کی زیارت کی اوران سے فیض حاصل کیا۔مثلاًعراق،شام،بغداد،فارس،قہستان،آذربائیجان،طبرستان ،خوزستان ،کرمان ،طوس، ماورالنہر، ترکستان اورحجازکاسفرکیاصرف خراسان میں آپؒ نے تین سومشائخ سے ملاقات کی ۔آپؒ نے سخت مجاہدے اورریاضتیں بھی کیں ۔اسی طرح آپؒ اکابرین علم وعرفان کی صحبت سے علم اورروحانیت کے اس درجہ کمال کوپہنچے کہ اپنے زمانے کے امام اورآنے والے ادوارکے لئے مخدوم بن گئے ۔علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے آپؒ کومخدوم امم کہاہے ۔
سیّدہجویرمخدوم اُمم مرقدِ اُوپیراسنجرراحرم
آپؒ اپنے پیرومرشدحضرت شیخ ابوالفضل محمدبن حسن ختلیؒ کے حکم پردعوت وارشادکی خاطر431ہجری میں غزنی سے لاہورتشریف لائے ۔آپؒ جب لاہورآئے توبظاہرآپؒ کے پاس ایک مصلیٰ اوروضوکے لئے لوٹاہوگالیکن علم وعمل ،شریعت وطریقت ،حقیقت ومعرفت کے گراں قدرخزینے کچھ اس کثرت سے بانٹے کہ ’’گنج بخش فیض عالم‘‘کالازوال لقب پایا۔آپؒ کی علمی ،فکری اوردینی خدمات کی وجہ سے اقبالؒ نے آپ کوان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیاہے ۔
پاسبان عزت ام الکتاب ازنگاہش خانہ باطل خراب
خاک پنجاب ازدم اُوزندہ گشت صبح ماازمہراُوتابندہ گشت
یعنی آپ قرآن مجیدکی عزت کے محافظ ہیں اورآپ کی نگاہ ولایت سے باطل کاگھرویران ہوگیا۔آپ کے دم قدم سے سرزمین پنجاب میں اسلام زندہ ہوگیا۔آپ کے آفتاب ولایت سے ہماری صبح روشن ہوگئی ۔آپؒ تصوف کے مدونین فن اوراماموں میں سے ہیں ۔اس لئے آپؒ نے سلسلہ جاری نہیں فرمایا۔حضرت عبداللہ المعروف شیخ ہندیؒ اورآپؒ کے اصحاب حضرت ابوسعیدہجویریؒ اورحضرت حمادسرخسی آپؒ کے خلفاء تھے ۔آپؒ کے مزاراقدس سے اکتساب فیض حاصل کرنیوالی ہستیوں میں سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ،حضرت بابافریدالدین مسعودگنج شکررحمۃ اللہ علیہ اورحضرت مجددالف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے نام شامل ہیں ۔سلطان الہندحضرت خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے حضورداتاگنج بخش صاحب ؒمزارشریف پرحاضرہوئے اورچلہ کاٹا۔فراغت کے بعدداتاصاحب رحمۃ اللہ علیہ کافیض عام دیکھاتودل سے پکاراٹھے۔
گنج بخشِ فیض عالم مظہرِنورِخدا ناقِصاں راپیرِکامِل کاملاں رارہنما
آپؒنے متعددکتابیں لکھیں ۔آپؒ کی آخری تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ کے مطالعہ سے ان کی نودیگرتصانیف،دیوان،کتاب فناوبقا،اسرارالخرق والمٔونات، الرعایت حقوق اللہ تعالیٰ،کتاب البیان لاہل العیان، نحوالقلوب،منہاج الدین ،ایمان اورشرح کلام کے نام شامل ہیں ۔آپؒ کی جلالت شان اورعالمانہ تمکنت کی مظہرآپؒ کی تصنیف کردہ دستیاب کتاب’’کشف المحجوب‘‘ہے ۔جسے فارسی زبان میں اسلامی دنیائے تصوف کی پہلی کتاب ہونے کااعزازحاصل ہے ۔یہ کتاب اپنے اندرجامعیت لئے ہوئے ہے اس میں تصوف کے مسائل بھی ہیں اورمتکلمین کے دلائل بھی ۔منطقیوں اورفلسفیوں کی موشگافیاںبھی اورباطل نظریات کی تردیدبھی مسائل شریعت وطریقت کاخزینہ بھی اورحقیقت ومعرفت کاایک بیش بہاگنجینہ بھی ۔اس گنجینہ رشدوہدایت کے بارے میں حضرت نظام الدین اولیاء ؒ کاارشادہے کہ ’’اگرکسی کاپیرنہ ہوتووہ اس کتاب کامطالعہ کرے تواسے پیرمل جائے گا‘‘۔اس گنجینہ رشدوہدایت کانام ہی موضوعات کی وضاحت کرتاہے ۔اس ضمن میں آپ ؒ خودتحریرفرماتے ہیں۔’’چونکہ یہ کتاب سیدھی راہ بتانے اورعارفانہ کلمات کی تشریح وتوضیح اوربشریت کے حجاب رفع کرنے کی غرض سے لکھی گئی ہے لہذااسے کسی اورنام سے موسوم کرنامناسب نہیں‘‘ یہ کتاب آپؒ ؒ نے اپنے ارادت مندابوسعیدکی التجاء پرلکھی ۔آپؒ تحریرفرماتے ہیں’’اے ابوسعیدمیں نے تیری گزارش کے مطابق تالیف کرنے کی تیاری شروع کردی اوراس کتاب سے تیری مرادکے پوراکرنے کاپختہ ارادہ کرلیا‘‘۔یہ کتاب محض واقعات یاحکایات کامجموعہ نہیں ہے بلکہ 248آیات قرآنیہ ،172احادیث کریمہ ،77عربی اورفاسی اشعارکے ساتھ ساتھ حضرات خلفائے راشدین ،ائمہ اہل بیت،جلیل القدرصحابہ کرام ،تابعین،تبع تابعین،ائمہ متاخرین،متعددامصاروبلادکے مشائخ کے حسین تذکروں کے ساتھ ایمان،علم،فقروغنا،صوفی،رسم وخصلت،خرقہ پوشی،صفوت،ملامت،رضا،حال ومقام،سکروصحو،ایثار،نفس ،ہوا،کرامت،معجزہ،فضیلت ،فناء وبقائ،غیبت وحضور،جمع وتفریق،روح ،معرفت ،توحید،طہارت ،توبہ،نماز،محبت،عشق،زکوٰۃ ،جودوسخا،جوع، حج،صحبت ،متعددآداب واخلاقیات ،شادی ،حال ،وقت،مقام،تمکین،محاضرہ مکاشفہ ،قبض وبسط،انس وہیبت ،قہرولطیف،نفی واثبات،مسامرہ ومحادثہ،شریعت وحقیت ،سماع جیسے اہم موضوعات کااحاطہ کرتی ہوئی لازوال تصنیف ہے ۔ آپؒ خودتحریرفرماتے ہیں ’’اس کتاب سے میرامقصدیہ ہے کہ جس کے پاس یہ کتاب ہواسے دوسری کتابوں کی حاجت نہ رہے ۔یہ کتاب طالب حقیقت کے لئے کافی ہے ‘‘۔عبدالماجددریاآبادی لکھتے ہیں ’’اس کتاب کی حیثیت محض ایک مجموعہ روایات وحکایات نہیں بلکہ ایک مستندمحققانہ تصنیف ہے ‘‘۔یہ کتاب اس دورکے معاشرتی وسماجی احوال پربھی ایک دستاویزکی حیثیت رکھتی ہے ۔آپؒ نے دوران سیاحت عراق،شام،بغداد،فارس،قہستان،آذربائیجان،طبرستان ،خوزستان ،کرمان ،طوس،ماورالنہر،ترکستان ،حجازودیگرعلاقوں سے جومعلومات حاصل کیں ان کوبھی اپنی اس تحقیقی تصنیف کی زینت بنایاہے۔آپؒ پاک وہندکے اکثرشہروں میں بھی تشریف لے گئے اوراس زمانے کی تہذیب وتمدن اوررسم ورواج پربھی کتاب میں روشنی ڈالی ۔آپؒ ہندوستان کے حوالہ سے لکھتے ہیں ۔’’مشہورہے کہ ہندوستان میں کچھ ایسے لوگ ہیں جوجنگل میں جاکرگاتے ہیں اورسُریلی آوازنکالتے ہیں ہرن جب ان کے غنااورلحن کوسنتے ہیں تووہ ان کی طرف آجاتے ہیں اور(شکاری)ان کے گردگھوم کرگاتے رہتے ہیں ۔حتیٰ کہ ہرن گانے کی لذت سے مست ہوکرآنکھیں بندکرکے سوجاتے ہیں اوروہ انہیں پکڑلیتے ہیں‘‘دوسری جگہ اپنامشاہدہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’میں نے ہندوستان میں دیکھاکہ زہرقاتل میںایک کیڑاپیداہوتاہے اس کی زندگی اس زہرسے ہے ‘‘۔ترکستان کے حوالے سے لکھتے ہیں ’’میں نے ترکستان میں ایک شہردیکھاجوسرحداسلامی پرہے ۔وہاں ایک پہاڑآتش فشاںتھاجوآگ کے شعلے دے رہاتھااوراس کے پتھروں سے نوشادرجوش مارکرابل رہاتھااوراس آگ میں چوہے تھے جب انہیں اس آگ سے باہرلایاجائے تووہ مرجاتے تھے‘‘۔
بلوچوں کے بارے میں ایک مشاہدہ اس طرح تحریرفرماتے ہیں۔’’اوراس قسم کے مشاہدے مجھے بلوچوں میں بھی ہوئے کہ وہ گدھے اوراونٹ لے کرچلتے……‘‘۔تذکرہ نگاروں کی غالب اکثریت نے آپؒ کاسن وفات465ہجری سے اتفاق کیاہے ۔حضرت سیدعلی ہجویریؒ نے زندگی کے آخری ایام لاہورہی میں گزارے اورچندروزکی علالت کے بعدخانقاہ میں اپنے حجرے میں وفات پائی ۔آپؒ کی نمازہ جنازہ آپؒ کے خلیفہ حضرت شیخ ہندیؒ نے پڑھائی اورآپؒ کویہیں دفن کیاگیاجہاں آج بھی آپؒ کامزارمرجع خلائق ہے ۔آپؒ کا973عظیم الشان سالانہ عرس مبارک 18,19,20صفرالمظفر1438 ہجری بمطابق19.20.21نومبر2016 ؁بروزہفتہ،اتوار،سوموار کوآپؒ کے آستانہ مبارک پرمنعقدہورہاہے ۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں332قابل ذکرمزارات میںسے لاہورمیں 49کراچی میں25اورملتان میں20خانقاہیں ہیں ۔ان سے اربوں روپے سالانہ آمدن ہوتی ہے۔اوران مزارات کی کل آمدن کاتقریباًنصف صرف داتاصاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مزاراقدس سے محکمہ اوقاف کوموصول ہوتاہے ۔مگربدانتظامی کایہ عالم ہے کہ آج بھی اگرکوئی زائراپنے جوتے جمع کرواکرحاضری دے تواُس سے فقط حفاظت پاپوش کے 10سے20روپے تک وصول کرلیے جاتے ہیں جبکہ رسمی بورڈبھی آویزاں ہیں کہ ایک روپے سے زیادہ ہرگزادانہ کریں ۔منہ زورٹھیکیدارں کومحکمہ آج تک لگام نہیں دے سکاجس سے زائرین شدیدکرب میں مبتلاہیں۔حکومت وقت پرلازم ہے کہ جس طرح پتنگ بازی پرپابندی لگاکرعوام کے جان ومال کاتحفظ کیاگیاہے ۔اس طرح میلے کی آڑمیں تمام مزارات اولیاء پرایسی خرافات پرپابندی عائدکی جائے تاکہ زائرین ومتوسلین کوحقیقی روحانی آسودگی حاصل ہو۔محکمہ کوچاہیے کہ اولیاء اللہ کے حالات زندگی اوران کی تصانیف کوفی سبیل اللہ عوام الناس تک پہنچایاجائے ۔مخیرحضرات خودبخودمحکمہ سے تعاون کریں گے ۔
داتاعلی ہجویریؒ کے منتخب ارشادات
٭نفس ایک باغی کتاہے ۔کتے کاچمڑاجب تک دباغت اوررنگ نہ کیاجائے ،پاک نہیں ہوتا۔
٭نفس کی مخالفت سب عبادتوں کااصل اورسب مجاہدوں کاکمال ہے ۔
٭علم سے بے پروائی اختیارکرنامحض کفرہے۔ ٭بھیدکوکھول اورنمازکونہ بھول۔
٭فقیرکوچاہیے کہ بادشاہوں کی ملاقات کوسانپ اوراژدھے کی ملاقات کے برابرسمجھے خصوصاًجب ملاقات اپنے نفس کے لئے ہو۔
٭مبتدی کوچاہیے کہ وہ راگ اورسماع سے پرہیزکرے کیونکہ یہ راستہ اس کے لئے بہت مشکل ہے۔
٭دین وشریعت کے پابندلوگوں کوخواہ وہ ناداروغریب کیوں نہ ہوں ،بہ چشم حقارت نہ دیکھ کیونکہ اس سے خداکی حقارت لازم آتی ہے ۔
٭پیغمبرکی بزرگی اوررتبہ کی بلندی صرف معجزہ ہی سے نہیں بلکہ عصمت کی صفائی سے ہے ۔
٭عارف عالم بھی ہوتاہے مگرضروری نہیں کہ عالم بھی عارف ہو۔ ٭بندہ کے لئے سب چیزوں سے زیادہ مشکل خداکی پہچان ہے۔
٭بوڑھوں کوچاہیے کہ وہ جوانوں کاپاس خاطرکریں کیونکہ ان کے گناہ بہت کم ہیں اورجوانوں کوچاہیے کہ بوڑھوں کااحترام کریں کیونکہ وہ ان سے زیادہ عابداورزیادہ تجربہ کارہیں ۔
٭محرموں کوچاہیے کہ وہ ناشائستہ اوامرسے اپنے حواس کوبچائیں اورجوچیزیں شرعاًناجائزہیں ان سے اجتناب کرے ۔
٭فقرکی معرفت (تعلیم اورپہچان)کے لئے سیردنیاسے بہترکوئی ذریعہ نہیں۔
٭دنیاکے ساتھی (ہاتھ،پائوں،آنکھیں)جوبظاہردوست نظرآتے ہیں دراصل تیرے دشمن ہیں ۔
٭دس چیزیں دس چیزوں کوکھاجاتی ہیں۔توبہ گناہ کو،جھوٹ رزق کو،غیبت نیک اعمال کو،غم عمرکو،صدقہ بلائوں کو،غصہ عقل کو،پشیمانی سخاوت کویعنی دے کربعدمیں پچھتانا،تکبرعلم کو،نیکی بدی کو،عدل ظلم کو
٭اولیاء خداکے رحم اورغضب کااظہارکاذریعہ اوراحادیث نبویﷺکی تجدیدکاباعث ہیں ۔ان سے پوری طرح فیض یاب ہو۔
٭مال کی محبت کوعذاب سمجھ کرفاقہ کشوں(اورمستحقوں)پرلٹاتے رہواوریہ سب کچھ اس دن سے پہلے کرجبکہ قبرمیںتجھے کیڑے کھاجائیں ۔
الٰہی !علی ہجویری کوپہلے حمدوشکرکی توفیق عطافرمااورپھرفقرکی دولت عطافرما۔پہلے اسے کدورت سے پاک کر،پھراسرارروحانی ومعنوی اس پرواضح کردے اللہ ر ب العزت میری اس کاوش کوبارگاہِ لم یزل میں قبول فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین ۔

تمھاری بہن کیسی ہے؟

logo-jalti-kitabain
ابن سید

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے میڑک کے انگریزی کے پیپر میں ممتحن صاحب نے کمال کر دیا۔سوال جاذب النظر تھا۔ دلچسپ بھی تھا۔ جناب شاید منٹو سے متاثر تھے۔ شاید منٹو صاحب کا افسانہ ان کا پسندید ہ افسانہ تھا۔مجھے ممتحن کے کردار پر انگلی اٹھانے کا کوئی حق نہیں پہنچتا، مجھے میٹرک کے طلبہ و طالبات سے بھی کوئی ہمدردی نہیں ہے ۔ میں اس معاشرے کا فرد ہوں جہاں الفاظ کہنے پر پابندی ہے۔ ہاں مجھے اپنی حدود وقیود کا بھی خیال رکھنا ہے۔ مجھے اپنے چہرے پر تقوے کا لبادہ اڑھے رکھنے کا بھی احساس ہے۔ سوسائٹی کے تند وتیز نشتر سہنے کا بھی حوصلہ نہیں میرے اندر۔ میں اس دور کا لکھاری ہوں جہاں پیار کے بول بولنے پر پابندی اور عزتیں اچھالنے کی آزادی ہے۔میں پیپر کے سوال پر قلم اُٹھانے کو سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ میرا خیال نہیں تھا کہ اس پیپر کو زیر بحث لائوں ، اپنی تحریر کو کسی اختلافی موضوع پر لکھنے کی جسارت کروں، مگر گذشتہ روز ہی ایک چینل پر اوپن یونیورسٹی کے ریجنل ڈائریکٹر جناب رسول بخش بہرام صاحب کی منطق سننے کا موقع ملا۔ پروگرام اینکر نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس موضوع پر اوپن یونیورسٹی کا مئوقف جاننے کے لئے ان سے رابطہ کیا جو کہ قابل ستائش تھا۔ علم کے پیاسے لاکھوں نوجوانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے والی جامعہ، دنیا بھر میں اپنا ایک ممتاز مقام رکھنے والی درسگاہ اور اسی عظیم درسگاہ کے امتحانی پرچے میں ایسی نادانی یقین جانئے قابل مذمت ہی نہیں بلکہ قابل سرزنش فعل تھا۔ اس حوالے سے یونیورسٹی کو بروقت مئوقف دینا چاہئے تھا، خیر دیر آید ، درست آید۔چلیں جناب ریجنل ڈائریکٹر صاحب ہی کو سن لیتے ہیں۔ اینکر سوال پوچھتا ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والے سوال کے بارے میں آپ کا کیا مئوقف ہے؟سوال یہ تھا کہ اپنی بہن کے بارے میں مندرجہ ذیل چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مضمون لکھیں(۔ Age،Height،physique،Look،Height ، attitude) انہوں نے (physique )کا مطلب سمجھاتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ تمھاری بہن کی صحت کیسی ہے؟جناب رسول بخش صاحب جہاں تک( Physiqye)کے معانی کا تعلق ہے تو انگریزی لغات کے مطابق اس کے معانی (body, build, figure, frame, anatomy, constitution, shape, form)بنتے ہیں۔ قبلہ ان الفاظ کے معانی ارود میں کرکے دیکھ لیں شاید ہی کوئی بھی مطلب آپ کی جواب سے مطابقت نہیں رکھتا۔قبلہ! آپ تو یہ فرما رہے ہیں کہ بچہ اپنی بڑی بہن سے ڈر رہا ہے۔ خوف زدہ ہے اس لئے اس کو حوصلہ اور ہمت دینے کے لئے یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ وہ بڑی بہن کے بارے میں لکھے۔ حضور والا! منٹو کے افسانے کا مرکزی خیال بھی یہی تھا۔دنیا کے کسی بھی ملک میں آج تک بہن کے بارے میں ایسا سوال نہ پوچھا گیا ہے اور نہ ہی پوچھا جائے گا۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی جانب سے ایسا سوال کس مقصد کی خاطر پوچھا گیا۔ اس کا جواب تلاش کرنے کے لئے کئی مزید سوالات جنم لیتے ہیں۔کوئی بھی معاشرہ ہو بہن کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بہنوں کی تکریم لوگوں کے دلوں میں نقش ہوتی ہے۔بہنیں گھروں کی رونقیں ہوتی ہیں۔جہاں باپ کی شفقت اور ماں کا لاڈ انہیں حوصلہ دیتا ہے وہیں بھائیوں کی شرارتیں ان کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیتی ہیں۔ بھائیوں کے ناز و نخرے خندہ پیشانی کے ساتھ اٹھاتی ہیں۔اوپن یونیورسٹی کی جانب سے چھیڑی گئی بحث کی وجہ سے بہن اور بھائی کے مقدس رشتے کو متنازعہ بنایا گیا ہے۔ بہنوں کے پیار اور محبت کو خوف میں مبتلا کرنے کی جسارت کی گئی ہے۔ بہنیں جو بازار میں اپنی جانب اٹھنے والی نگاہوں سے عزت و تکریم کی حفاطت کرتی تھیں انہیں اپنے بھائیوں سے بھی خود کو بچانا ہوگا ، ہاں بھائی کی تعاقب کرتی نگاہوں سے تحفظ کرنا ہوگا۔ کیا خبر کب بھائی بہن کی (Physique)پر تنقیدی نگاہیں ڈالنا شروع کردے، جی یہ نگاہیں بھائی اپنے مضمون کی تکمیل ہی کے لئے ڈالے گا۔ ہاں بہنوں کی(Look)بھی بھائیوں کے لئے ضروری ہوگی۔بہن کا بھائی اور باقی افراد کے ساتھ(Attitude)کا بھی موازنہ ہوگا۔یہ الفاظ تحریر کرتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں ، میری زبان لرزاں ہے مگر مجھے اس ممتحن کے رویے پر ترس آتا ہے۔ پیارے ممتحن معذرت کے ساتھ مجھے ذرا اپنی بہن کے بارے میں ضرور بتائیے گا۔ وہ دکھنے میں کیسی ہے؟ اس کی چال مورنی جیسی ہے؟ یااس کے بدن میں ہرنی جیسی پھرتی ہے؟ نہیں نہیں یہ بھی دیکھیے وہ بھینس کی طرح سست ہے یا گوریلا کی طرح لمبے لمبے ڈھگ بھرتی ہے، ارے ہاں اس کے قد بھی تو بتائے، جناب ضرورت رشتہ کے لئے نہیں صرف ایک مضمون لکھنا ہے اس مضمون کے بعد مجھے تو محض 20نمبر ملیں گے مگر شاید کوئی نگران یا پیپر مارک کرنے والا ٹھرکی ممتحن اس میں دلچسپی اختیار کرتے ہوئے رشتے کا پیغام ہی بھیج دے۔چلیں بہن کی عمر بھی بتا دیں ۔ کیا اس کی شادی کی عمر گزر چکی ہے؟ کیا اس کے بالوں میں چاندی چھا گئی ہے یا ابھی وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہی ہے؟ارے اس کا رویہ کیسا ہے؟ کھری کھری سناتی ہے یا بس چپ چاپ سب سن لیتی ہے؟ قسم لے لیں مجھے آپ کی بہن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بس ایک مضمون کو مکمل کرنا ہے ، وہی مضمون جو آپ نے میٹرک کے امتحانی پرچے میں پوچھا ہے، وہی مضمون جس سے میرا مستقبل وابستہ ہے ، ہاں جی وہی پرچہ جس کے تمام سوالات کا جواب دینا ضروری ہے، کیوں کہ آپ نے وہاں تو آپشن بھی نہیں دیا کہ کوئی سوال چھوڑا بھی جا سکتا ہے، اگر میرے پاس سوال چھوڑنے کا کوئی آپشن ہوتا تو شاید یہ باتیں آپ سے نہ پوچھتا ۔ آپ کی بہن کے بارے میں آپ سے سوالات نہ کرتا، وہ کیا ہے ناں میری کوئی بہن نہیں ہے اس لئے آپ کی بہن میں دلچسپی لینا میری مجبوری بن گئی ہے اور ہاں ایک اور بات مجھے ریجنل ڈائریکٹر صاحب کا جواب بھی مطمئن نہیں کر سکا ، وہ آپ کی غلطی کے دفاع میں جھوٹ کی تمام حدوں کو پار کر رہے ہیں۔شاید میں اخلاقیات کی پاک و بابرکت حدوں کو پار کردیا ہے۔ شاید میرے الفاظ امتحانی پرچے میں کئے گئے سوال سے زیادہ احمقانہ اور بے حیائی کا مظاہرہ کر رہے تھے، ہر اس بھائی سے معذرت جس کے لئے اس کی بہن عزت و حرمت اور پیار کا نمونہ ہے۔ مگر مجھے تو اوپن یونیورسٹی کا یہ پیپر بنانے والے ممتحن اور ریجنل ڈائریکٹر سے ضرور پوچھنا ہے ۔ ارے بھائی مجھے بتانا ذرا ’’ تمھاری بہن کیسی ہے؟‘‘

Colum MP Khan

پشتو ڈرامے اورفلمیں ، نئی نسل کے لئے زہرقاتل

ایم پی خان

new6-1mp-khan

ایک زمانہ تھاجب پی ٹی وی پر اردواورمقامی زبانوں میں معیاری پروگرام پیش کئے جاتے تھے ۔ان کی نشریات میں ڈراموں، موسیقی اورحالات حاضرہ کے پروگراموں میں معیارکاخیال رکھاجاتاتھا۔اسکے علاوہ دینی ، معاشی ، معاشرتی اورسیاسی موضوعات پر سیرحاصل بحث کی جاتی تھی ۔ ان پروگراموں کی سب سے اہم خوبی یہ تھی کہ معیاری زبان بولنے کاخاص خیال رکھاجاتاتھا اورزبان کے ساتھ ساتھ اٹھنے بیٹھنے اورافعال وکردارمیں تہذیب، روایات اوراخلاق کاخاص خیال رکھاجاتاتھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی چینلوں میں اضافہ ہوتاگیا اورپاکستان میںبے شمارٹی وی چینل شروع ہوئے۔جن کااب یہ حال ہے کہ اخلاقی پستی اورکمینہ پن نقطہ عروج پرہے۔انتہائی گھٹیاقسم کی زبان فروغ پارہی ہے اورایسے فحش،بیہودہ اورغیراخلاقی پروگرام پیش کئے جاتے ہیں کہ دیکھنے والے شرم سے زمین میںگڑجاتے ہیں۔نجی ٹی وی چینلز اورسی ڈیز سنٹروں کو مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ جس طرح چاہے، ڈرامے اورٹیلی فلمزبنائے۔پھرانکے ڈرامے اورٹیلی فلمز کی سی ڈیز میں بازاروں میں کھلے عام فروخت ہوتی ہیں۔جو نئی نسل کے لئے بربادی کاسامان کررہے ہیں۔ایسے گھٹیالوگ اس انڈسٹری کے لئے کام کررہے ہیں ،جن کامعاشرے میں کوئی اخلاقی کردارنہیں ہے۔اپنی ثقافت کے نام پر مغرب کے بیہودہ ثقافت کو عام کیا جارہا ہے۔ حیا، پاکدامنی ، پردہ اورغیرت پشتون ثقافت کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ اسی طرح پشتون قوم اپنی ، بہادری،مہمان نوازی اورجذبہ ہمدردی اورخیرخواہی کی وجہ سے پوری دنیامیں مشہورہے اوریہی تمام خوبیاں بالکل اسلام کے اصولوں کے مطابق ہیں۔لیکن بدقسمتی سے میڈیاکے ذریعے انکی غلط تصویرکشی کی جاتی ہے۔اس شعبے میں ماسوائے چندکے، اکثریت ایسے کم ظرف اورغیرتہذیب یافتہ افرادکی ہے، جواپنامذہب، ثقافت ، روایات اوراقدارکو بالائے طاق رکھ کر پیسہ کمانے کی خاطر مسلم سماج میں ایسی بیہودگی اورفحاشی پھیلارہے ہیں ، جس کاکسی اسلامی ریاست میں تصورکرنابھی محال ہے۔یہ لوگ ایسے ڈرامے اورفلمیں بناتے ہیں، جن میں غیرمعیاری موسیقی، گھٹیازبان اورقابل اعتراض مکالمے استعما ل ہوتے ہیں۔پشتون ثقافت کے دشمن اپنی ماں بہن کو ایسے روپ میں پیش کرتے ہیںکہ گمان تک نہیں ہوتاکہ یہ مسلمان خواتین ہیں اورمشرقی معاشرے کے پروردہ ہیں۔اسکے علاوہ کافی عمررسیدہ مردحضرات میک اپ کرکے نوجوانوں کے کرداراداکرتے ہیں اورایسے بیہودہ مناظرپیش کرتے ہیں، جوکبھی ہماری تہذیب اورثقافت کاحصہ نہیں رہے ہیں۔مردوں کااس قدر بے باک ہوجانااورخواتین کے ساتھ بے باک کھلے مقامات میں اچھلنا اور ناچناکبھی پشتون قوم کی ثقافت نہیں رہی ہے۔ایک مسلمان قوم اور اورپھرپشتون قوم کی نمائندگی کرنے والے دنیاکوہماراکونساچہرہ دکھارہے ہیں۔ٹیلی وژن اورسی ڈی ڈراموں میں جوپشتوزبان میں ڈرامے اورفلمیں پیش کی جاتی ہیں،کیاوہ پشتون قوم کے منہ پرطمانچے کے مترادف نہ ہے۔پشتون قوم تودورکی بات ہے بلکہ کسی مسلمان اورتہذیب یافتہ قوم کے مرد اورخواتین کا اس قدرسرعام بازاروں اورپبلک مقامات میں ایسے لباس میں اچھلنااورناچنا، جس سے عریانیت اوربرہنگی ظاہرہو، کاتصوربھی ناممکن ہے۔ ایسے فحش اورغیراخلاقی پروگرام ہمارے معاشرے کے لئے ناسورسے کم نہیں ، جو نئی نسل کی ذہنیت کو بربادکرنے کاسب سے بڑاسبب ہے۔ اسکے علاوہ ان پروگراموں میں جوکہانیاں پیش کی جاتی ہیں اوربیہودگی اوربے حیائی کے جومناظرپیش کئے جاتے ہیں ،جوکوئی بھی حیادارانسان اپنی فیملی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا۔اب سوچنایہ ہے کہ کیاہمارادین اورمذہب ایسی چیزوں کی اجازت دیتاہے اوریہ ہماری ثقافت، تہذیب اورروایات کاآئینہ دارہوسکتی ہیں۔ہرگزنہیں بلکہ یہ معاشرے کے وہی گھٹیالوگ ہیں، جن کی زندگی کامقصدصرف اورصرف پیسہ کماناہے اورپیسہ کے لئے ان لوگوں نے اپنامذہب، اپناکردار، اپناتشخص اورسب سے بڑھ کر اپنی غیرت کو دائوپرلگایاہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی ذمہ داری ہماری قوم کی ہے، جو اس گھناونے اورقبیح قسم کے دھندے کے خلاف آوازاٹھائے۔کم ازکم ایسے میڈیاکابائیکاٹ توکرے، جوفحاشی اوربیہودگی پھیلارہاہے۔اسکے علاوہ حکومت وقت کی بھی ذمہ داری ہے کہ ایسے تمام لوگ،جوایسے پروگرام بناتے ہیں اورجومرداورخواتین ایسے پروگراموں میں اداکاری کے جوہردکھارہی ہیں، انکے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ایسے تمام ٹیلی وژن اورپرائیویٹ کمپنیوں پر پابندی لگائی جائے، جو غیرمعیاری پروگرام بناکر نئی نسل کوتباہ کرنے کے درپے ہیں۔ملک میں صرف ایسی معیاری فلمیں، سٹیج اورٹی وی ڈرامے بنانے کی اجازت ہو، جن میں بامقصد اورسبق کہانیاں ہوںاورجوہماری نوجوان نسل کو تعمیری اورتخلیقی سرگرمیوں کی طرف مائل کرے اورانکی بہترین اخلاقی تربیت کاذریعہ بن سکے۔

استاذالعلماء شیخ الحدیث مفتی محمدجنیدرضاخان قادری

mufti-junaid-raza-khan-qadri
ناظم اعلیٰ جامعہ انوارالحدیث حنفیہ غوثیہ شیل پمپ دائودخیل 0307.5674646
شاعرمشرق مفکرپاکستان ڈاکٹرمحمد اقبالؒ
ڈاکٹر اقبال کے والد محترم شیخ نور محمد کی پیدائش سے پھلے ان کے والدین کے یہاں دس لڑکے یکے بعد دیگرے پیدا ہو کر فوت ہو گئے ،اس لیے شیخ نور محمد کے پیدا ہونے سے پھلے اور بعد میں ان کے والدین نے وہ تمام رسوم ادا کی ،جن کو صرف جہالت اور ضعیف الاعتقادی اور بے اولاد والدین کی ایک خاص اضطرابی کیفیت سے تعبیر کیا جاتا ہے شیخ نور محمد کی پیدائش پر انکی ناک چھید دی گئی ؛اور اس میں ایک چھوٹی سی نتھ پہنا دی گئی؛گویا اپنے زعم میں قدرت کے سامنے لڑکے کو لڑکی بنا کر پیش کیا گیا۔بیان کیا جاتا ہے ،کہ لڑکپن میں کئی سال تک شیخ نور محمد اس نتھ کو پہنے پھرتے رہے ؛ اسی رعایت سے ان کا عرف نتھو پڑ گیا ۔
شیخ نورمحمد کے پاس رہنے کیلئے قدیم وضع کا ذاتی مکان تھا،زرعی املاک سرے سے وہ رکھتے ہی نھیں تھے،ڈاکٹر اقبال کی شان قلندریت اور درویش صفتی پرباپ کی شان فقر بھی اثر اندازہوئی جسے اقبال خودکہتے ہیں وہ دراصل قصرو ایوان میںنہیں غریب گھر کے ماحول میں ہی نشوونما پاتی ہے
ڈاکٹر اقبال کے والد زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے،لیکن وہ مذہبی علوم سے بڑا شغف رکھتے تھے،اور علماء و صوفیاء کی محافل سے ہمیشہ استفادہ کرتے رہتے اس شوق اور شغف کی بدولت ڈاکٹر صاحب کے والد میں علمی ذوق پیدا ہو گیا تھا۔جہاںکہیں ذکر رسول پاکﷺ کی محفل آراستہ ہوتی تو شیخ نور محمد اس محفل میں بڑے شوق و عقیدت کے ساتھ شریک ہوتے۔
ڈاکٹر محمد اقبال کا جب بھی کوئی نیا مجموعہ منظر عام پر آتا تو سعادت مند بیٹے کی زبان سے پیغام حق سن کر بارگاہ خداوندی میں وہ سجدہ شکر بجا لاتے اعر جذب و معرفت کے مضامین خاص طور پر مثنوی اور اسرار خودی پڑھ کر بے چین ہوجاتے یہاں تک کہ زارو قطار رونے لگ جاتے۔یہ آنسو شکر کے آنسو تھے اور محبت کے بھی۔آخری عمر میں یہ ان کی کیفیت اور زیادہ بڑھ گئی تھی۔یہاں ایک خاص بات ذکر کرتا چلوں قادری فیضان کی یہ علامت ہے کہ رقت طاری ہو انھکیں بھنے لگ جائیں ۔اسی فیضان کا اثر تھا جس نے علامہ اقبال قادری کے قلم میں اتنی تاثیر پیدا کر دی جس سے سوئی ہوئی امت کے نوجوانوں میں انقلاب بپا ہوگیا ۔یہ عشق رسول ﷺ کا ورثہ علامہ اقبال کو اپنے گھرہی سے ملا تھا۔ڈاکٹر اقبال کو خوش قسمتی سے صالح ،قناعت پسند،اور درویش مزاج باپ کا سایہ شفقت اور بے انتھاء شفیق اور پاک سیرت ماں کی آغوش میسر آئی ،دیندار ی اور رسول پاک سردار دو عالم ،سید البشر کی محبت تو اقبال کو گھٹی میں پڑی تھی۔
آپکے والد شیخ نور محمد نے لمبی عمر پائی ڈاکٹر اقبال صاحب کے انتقال سے آٹھ سال قبل ۱۷ اگست ۱۹۳۰ء کو سیالکوٹ میں ان کا انتقال ہوا اور وہیں دفن ہوئے۔
شیخ نورمحمد خوش قسمت تھے کہ ان کی زندگی میں ہی انکے نامور فرزند محمد اقبال کو عالمی شہرت حاصل ہوئی

8-11-2016

قائد پی ٹی آئی ہم شرمندہ ہیں

تحریر : امیر عبداللہ خان :چیئر مین یونین کونسل چھدرو

قارئین محترم! جیسا کہ آج میانوالی میں پی ٹی آئی کے وہ تمام پرانے نظریاتی اور جنونی ورکروں کے علاوہ پی ٹی آئی اور عمران خان سے محبت کرنے والے لاکھوں لوگ کچھ دنوں سے ایک قرب میں مبتلا ہیں جن کے دلوں اور دماغ میں غصے کا عنصر ہے جو2نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے موقع پر ہونے والی وہ سنگین کوہتائی ہے جس کا اذالہ نہ ہو سکتا ہے نہ ہی ہم کبھی کر پائیں گے کیونکہ 30 ستمبر2016کو رائے ونڈ میں ہونے والے جلسے میں انسانوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوے سمندر میں ہمارے قائد جناب عمران خان نے پانا مہ لیکس کی کرپشن پر وزیر اعظم پاکستان جناب میاں محمد نواز شریف کو چیلنج دیا کہ وہ یا تو اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کریں یا پھر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں ورنہ اسلام آباد میں احتجاج کیلئے پی ٹی آئی 2نومبر کو میدان میں ہو گی ۔
اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ میرا قائد عمران خان اپنے مشن ، قول ، ارادے اور عزم کا پکا ، سچا ایک دیانت دار اور بہادر لیڈر ہے جو بہت بڑے دل کا مالک ہے وہ دوسروں لوگوں کے متعلق ہمیشہ اچھا خیال اور گمان رکھتا ہے وہ خود پاک صاف کھلے دل و دماغ رکھتے ہوئے ہمیشہ یہی سوچتاہے کہ سامنے والا بھی جیسا نظر آ رہا ہے وہ اندر سے بھی ویسا ہی ہو گا ۔ شایداسی وجہ سے کچھ مفاد پرست لوگ اپنے مقاصد کیلئے عمران خان کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ایسے منافقین میرے قائد عمران خان کے حوصلوں کو کبھی پست نہیں کر سکتے نہ ہی میرا قائد چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنے مشن کی راہ میں کوئی رکاوٹ بننے دیتا اس لئے کہ اس کے مقاصد بہت بلند اور عظیم ہیں ۔
2نومبر2016 ؁سے پہلے 31اکتوبر اور یکم نومبرکے ایام میرے قائد عمران خان کی جدو جہد میں انتہائی اہم اور عظیم دن تھے اورپاکستان کے موجودہ فرسودہ اور کرپٹ نظام میں تبدیلی کے خواہش مند ملک بھر کے لاکھوں لوگ اور پارٹی ورکرز نہ صرف اسلام آباد جانے والے راستوں بلکہ اپنے اپنے شہروں دیہاتوں اور قصبوں کے گھروں میں پنجاب حکومت اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی وفاقی حکومت کے حکم پر پولیس کے ظلم و بربریت اور انتقام کا شکار بنے ہوئے تھے ۔
ان ایام میں پنجاب کے تمام راستے مکمل سیل تھے بلکہ صوبہ خیبر پختونخواہ سے پنجاب اور اسلام آباد کے تمام داخلی راستے میدان جنگ کا منظر پیش کر رہے تھے ۔پی ٹی آئی کے تمام نہتے اور پر امن کارکن لاٹھیوں ،ربڑ کی گولیوں اور انسانی زندگیوں کے لیئے جان لیوا زائد المعیاد آنسو گیس کے شیلوں کا خالی ہاتھ مردانہ وار مقابلہ کر رہے تھے اورعمران خان اپنے ان عظیم اور بہادر کارکنوں کی جرائت اور بہادری کی داد دے رہے تھے ۔یہ اُن تمام کارکنوں کیلئے عزت ، وقار اور فخر کے لمحات تھے جو عمران خان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے میدان عمل میں اپنے خون کے قطروں سے ایک مثالی تاریخ رقم کر رہے تھے ۔اگلے روز جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے پانا مہ لیکس پر کاروائی کا آغاز کیا اور پانامہ لیک میں شامل تمام لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کر کے اُن کے خلاف عدالتی کاروائی کا با قائدہ حکم صادر فرما دیا تو میرے قائد عمران خان نے معزز عدالت کا مکمل احترام کرتے ہوئے اپنی بہترین سیاسی حکمت عملی کے طور پر اپنا پر امن احتجاج موخر کرتے ہوئے یوم تشکر منانے کاا علان کر دیا ۔
اسلام آباد کے پریڈ گراونڈ میں ہونے والے جلسے میں انسانی سمندر اور لاکھوں کارکنوں کے سامنے نہ صرف میرے قائد جناب عمران خان و دیگر اعلی پارٹی قیادت نے بلکہ ملک بھر کے تمام پارٹی وکروں کی طرف سے خیبر پختونخواہ کے دلیر ، بہادر اور درویش وزیر اعلیٰ جناب پرویز خان خٹک اور تمام بہادر اور غیور کارکنوں کی خدمات اور جدو جہد کو سلام اور خراج تحسین پیش کیا گیا جو اُن کیلئے واقعی یہ فخر اور خوشی کے لمحات تھے لیکن ان لمحات میں راقم الحروف سمیت میری غیرت مند دھرتی ضلع میانوالی کے وہ لاکھوں کارکن جو عمران خان کے مشن سے وابستہ ہو کر گزشتہ 20سال سے مسلسل جدو جہد کرتے چلے آ رہے تھے اور میرا قائد عمران خان بار ہا اس کا بر ملا اعتراف بھی کرتا چلا آ رہا تھا ہم سب لوگ اُس وقت شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے اپنے چہرے چھپانے کی کوشش کر رہے تھے ۔میانوالی میں درہ تنگ سے لے کر حمید کوٹ ٹبہ مہربان شاہ اور ضلع چکوال ، ضلع خوشاب اور ڈی آئی خان کے پی کے کی سرحد تک پھیلے ہوئے عمران خان کے لاکھوں جانثاروں کی حالت اُس وقت شرمندگی سے غیر تھی اور اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ہم اپنے قائد عمران خان کی آواز پر میانوالی کے ورکر لبیک نہ کر سکے ۔اس ساری جدوجہد میں میانوالی کی پی ٹی آئی جسے عمران خان اپنا بیس کیمپ قرار دیتے ہیں اور ہم سب ورکر اس کو اپنا سیاسی کعبہ تصور کرتے ہیں وہ کہیں نظر نہیں آرہا تھااس کی وجہ میانوالی کی ہماری قیادت اور پارٹی ٹکٹ پریہاں سے منتخب ہونے والے وہ معزز ارکان اسمبلی ہیں جس میں کئی لوگ تو ایسے ہیں کہ اگر اُن کے پاس ہمارا پارٹی ٹکٹ نہ ہوتا تو وہ اپنی یونین کونسل کا چیئر مین منتخب ہونے کے اہل بھی نہیں تھے ۔مگر عمران خان کی جانب سے دیئے گئے ٹکٹ کی بدولت آج وہ سب پارلیمانی مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں ان حضرات نے اپنی اسمبلی کی رکنیت کی آڑ میں میانوالی میں پاکستان تحریک انصاف پر قبضہ کیا ہوا ہے ان لوگوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں جن کے حصول کیلئے اُنہوں نے اپنے اپنے گروپ بنائے ہوئے ہیں یہ لوگ نظریے اور عمران خان سے محبت کی سیاست کرنے کی بجائے اپنی سیاسی دکان چمکانے کے چکروں میں ہیں اور اپنے اپنے دھڑوں اور گروپوں کی سیاست کر ہے ہیں۔
میرے قائد جناب عمران خان کی اصول پسندی اور کمٹمنٹ دیکھئے کہ 2013؁ کے الیکشن میں پارٹی ٹکٹ تقسیم کرتے وقت صرف اپنے اصول پر قائم رہتے ہوئے اپنے خاندان کے عزیز ترین اور قریبی رشتوں کی قربانی تک دے دی لیکن اس کے بدلے میں ہماری قیادت نے اپنے قائد کے ساتھ کیا کیا ۔ ایسے لوگوں نے بلدیاتی الیکشن کی ٹکٹوں کے وقت یا بعد کی صورت حال میںہمیشہ اپنے اپنے گروپوں کو پروموٹ کرنے کی کوشش کی ہے اوربلدیاتی اداروں کی مخصوص نشستوں کے انتخاب کے لیئے بھی پارٹی ٹکٹوں کی صورت حال بھی سب کے سامنے ہے جس کے نتائج ایک بار پھر جلد سامنے آنے والے ہیں ۔ چونکہ میرے قائد عمران خان نے2نومبر کو اسلام آباد پہنچنے کی کال دی ہوئی تھی اور کشیدہ حالات کے پیش نظر انہوں نے31اکتوبر کو ہی اپنے تمام کارکنوں کو فوری طور پر بنی گالہ پہنچنے کا حکم دیا مگر اس وقت میانوالی میں تمام کارکنوں کا کوئی پر سان حال نہیں تھا ۔ ہماری پارٹی کے 3 منتخب ایم پی اے صاحبان تو کارکنوں کو بے یارو مددگار چھوڑ کر خود راتوں کی تاریکی میں بنی گالہ پہنچنے میں اس لئے کامیاب ہو گئے کہ اُن کے ساتھ کوئی کارکن نہیں تھا اور اُنکی خالی گاڑیوں کو کس نے روکنا تھا ۔ بنی گالہ ہائوس میں پہنچ کر بنائی گئی اُن کی سیلفیوں میں اُن کے چہرے پڑھ کر بہت کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔میانوالی کی موجودہ قیادت کی طرف سے کارکنوں کواحتجاج میں شرکت کیلئے لے جانے کے لیئے ٹرانسپورٹ کمیٹی کا ڈول ڈالا گیا اورکارکنوں کو ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والے لوگ وقت پر خود نظر ہی نہ آئے عین وقت پر کارکنوں کو کہا جانے لگا آپ لوگ بسوں ، ویگنوں ، گاڑیوں یا ٹرین پر چلے جائیں ہم آپ کو کرایہ دے دیں گے ۔سبحان اللہ میانوالی کی قیادت کا یہ کیسا معیار ہے ؟بہت سی باتیں اور تلخ حقائق ایسے بھی ہیں جنہیں راقم الحروف سر عام بیان کر کے پارٹی کی رسوائی نہیں کرنا چاہتا لیکن بے وفائی کی یہ داستان ہم اپنے قائد عمران خان کے سامنے شرمندگی اور ندامت کے ساتھ ضرور بیان کریں گے اس کالم کے توسط سے میں نے صرف یہی کہنا ہے خیبر پختونخواہ سمیت پاکستان بھر کے وہ لوگ واقعی قابل فخر ہیں جنہوں نے اپنے قائد کی پکار پر لبیک کہا اور قربانی دیکر اپنا نام رقم کیا لیکن ہم اپنے قائد کے میعار پر پورا نہیں اُتر سکے اور ہم سے اُنکی جو توقعات وابطہ تھیں اس میں ہم یکسر ناکام ہیں اور اس ناکامی پر اپنے تمام پارٹی ورکروں سے بھی معافی کے طلبگار ہیں میرے قائد محترم جناب عمران خان ہم واقعی آپ کے سامنے شرمندہ ہیں ۔۔۔اے قائد ہم شرمندہ ہیںاور بہت نادم ہیں ! ! !